قوتِ اخوتِ عوام

13 اگست 2018

میر معید

آج سے 71 سال پہلے برصغیر کے مسلمانوں کو آزادی کی نعمت خود مختار اسلامی مملکت پاکستان کی شکل میں ملی۔ کل پاکستان کے پندھرویں پارلیمنٹ نے حلف اٹھایا۔ یہ بدترین جمہوریت ہے اور آزادی کی بدترین شکل میں قا ئم ہے۔ لیکن ملک خداداد پاکستان کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں ہے۔ بدترین جمہوریت اس لیے کہ ہمارے ملک میں کسی قابل زکر جماعت میں جمہوریت نام کی کوئی فاختہ نہیں ہے یہاں موروثیت اور شخصیت پرستی کے گہرے سائے ہیں جو مزید گہرے ہوگئے ہیں۔ یہ سیاستدان جمہوریت سے ماورا کچھ دیگر قوتوں سے گلے شکوے کرتے ہیں لیکن کبھی اپنی چارپائی کے نیچے "ڈانگ" نہیں پھیرتے۔ کسی بھی مہذب ملک میں سیاسی جماعت ایک عوامی جمہوری ادارہ ہوتی ہے جو کسی شخص کے نام کا ترکہ نہیں ہوتی جو اس کی اولاد کو ملے اور پھر اس کی اولاد کو۔ بلکہ سیاسی جماعتوں کے اندر جتنی مضبوط جمہوری اقدار ہوں گی ملک جمہوریت کا اتناہی مضبوط قلعہ ہوگا۔ عوام کے تمام طبقات امیر و غریب یکساں طور پر سیاسی جماعتوں سے وابستگی کا اظہار کریں گے سیاسی عمل میں عوام کی شمولیت دیدنی ہوگی اور نتیجہ یہ ہوگا کہ ملک کے طول و عرض سے عوام کے اصل نمائندے منتخب ہو پائیں گے اور دنیا کی مضبوط جمہوریتوں کی طرح پاکستان کی سیاسی جماعتوں میں بھی جمہوریت کا بول بالا ہوگا اور موروثیت یا پھر شخصیت پرستی کے سیاہ بادل چھٹ جائیں گے تب جا کر ہی عوام کی خود مختاری کا بول بالا ہوگا استبدادیت دم توڑ جائے گی اور حقیقی آزادی و خود مختاری عوام کا نصیب ٹہرے گی۔ 
اس کے علاوہ اگر سیاستدان اداروں سے گلے کرنے کی بجائے کرپشن کی روش چھوڑ دیں اور عوام کی خدمت کا راستہ اپنائیں گے تو اداروں کی موجودہ قیادت جو کہ کرپٹ سیاستدان کو برداشت کررہے ہیں اور تالے آزمائی کا راستہ ترک کرچکے ہیں عوام کے مینڈیٹ کے احترام میں بخوشی مزید چند قدم اور پیچھے ہٹتے دکھائی دیں گے۔ نئی پارلیمنٹ میں کچھ باتیں نئی ہیں۔ ایک ایسا وزیر اعظم بنا ہے جس نے کرپشن کے خلاف 22 سال جدوجہد کی ہے۔ اگرچے اس کی پارٹی میں بھی جمہوریت نام کو ہے اور کرپٹ ایلکٹ ایبلز کی پیوندکاری بھی کی گئی لیکن حقیقتا اندھوں میں کانا راجہ ہے۔ اس کے دامن پر کرپشن کا کوئی داغ نہیں۔ بلکہ کرپشن کے خلاف جدوجہد ، نمل یونیورسٹی اور شوکت خانم جیسے شاندار کارناموں سے عوام کے دلوں میں اپنی جگہ بناتا ہوا یہاں تک پہنچا ہے۔ یو ٹرن کا شہنشاہ ہے اور حقیقت یہ بھی ہے کہ اس کا ہر یو ٹرن اسے اقتدار کے قریب ترین کرتا رہا ہے لیکن اب دیکھنا یہ ہے کہ رویتی غیر روائتی حربوں کے مرکب سے مسند اقتدار پر برجمان عمران خان عوام کو بدحال مقروض معیشت ، اقربا پروری ، بدترین شہری زندگی سے آزادی دلوانے میں کسقدر کامیاب ہوتا ہے لیکن دوسری جانب اپوزیشن بنچوں پر بھی ملکی سیاست کی بڑی نامور شخصیات پہلی مرتبہ براجمان ہوئی ہیں اس میں سرفہرست شہباز شریف ، سابق صدر آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری ہیں۔ اگر اپوزیشن نے حکومت کو عوامی خدمت کے راستے پر رکھنے کی جمہوری کوشش کی اور پارلیمان کے اندر رہتے ہوئے تنقید کی۔ احتجاج کا آئینی طریقہ اپنایا جس کا مقصد حکومت کو اپنے تجربے کی بنیاد پر عوام کی فلاح کے راستوں سے روکنا اور ملکی ترقی کے راستے پر گامزن رکھنا ہوا تو آیندہ حکومت جو بھی بنائے ملک میں جمہوری روایات پروان چڑھیں گی ملک میں مضبوط اور خود مختار پارلیمان کا سفر آگے بڑھے گا۔ لیکن اگر ان موروثیت پسندانہ اور شخصیت پرستی پر یقین رکھنے والی دونوں جماعتوں نے پارلیمان کا احترام کرنے کی بجائے سڑکوں پر احتجاج کو اپنایا اور حکومت کے راستے میں رکاوٹیں رکھیں تو کمزور جمہوریت کمزور تر ہوگی۔ لیکن اگر پارلیمنٹ کو یہ بڑی شخصیات رونق بخشتے رہے جو کہ زرداری اور بلاول سے بڑی امید ہے تو پھر تمام سیاسی اور غیر سیاسی قوتوں کا رخ پارلیمان کی طرف رہے گا اور لامحلہ پارلیمنٹ ہی تمام تر سرگرمیوں کا مرکز رہے گی ناکہ سڑکوں پر احتجاج بمقابلہ پریس کانفرنس کا غیر جمہوری کھیل چلے گا اور نتیجے کے طور پر عوام کے پانچ سال ضائع ہو جائیں گے۔ 
71 سالوں سے یہ سفر ایک بے ڈھنگے پھووڑ معاشرے میں اسی طرح جاری ہے۔ زمہ دار محض سیاستدان نہیں عوام بھی ہیں بلکہ عوام کی زمہ داری زیادہ ہے۔ میڈیا اور خاص کر سوشل میڈیا نے عوام تک معلومات کی رسائی ممکن بنائی ہے لیکن عوام اپنے حقوق و فرائض کے بارے میں معلومات کی اس سونامی سے کیا فائدہ اٹھا رہے ہیں؟۔ کیا ہم نے محنت کرنے کو اپنا شعار بنا لیا ہے؟ ، کیا تعلیم ہماری اولین ترجیح بن گئی ہے ؟، کیا ہم نے اپنے علاقوں کو صاف ستھرا رکھنے کا عزم کیا ہے؟ ، کیا ہمارے شہریوں نے دوسرے شہریوں کے لیے زحمت بننے کا دردناک عمل چھوڑ دیا ہے ؟، کیا پاکستان کے عوام نے ٹریفک کے بہتر اصول اپنائے ہیں؟ ، کیا بدعنوان کرپٹ سیاستدانوں سے تنگ عوام نے خود کرپشن اور بدعنوانی کی روش کو چھوڑنا شروع کر دیا ہے؟ ، کیا ہماری قوم نے حفظان صحت کے اصول اپنائے ہیں؟ ، کیا جو کھیلوں کے میدان میسر ہیں انھیں استعمال کیا جارہا ہے ؟ اور سب سے بڑھ کر کیا ہم نے غریب کی عزت کرنا اس کو عزت دار شہری سمجھنا اس کی عزت نفس کے ساتھ نہ کھیلنے کو شعار بنایا ہے ؟؟ اگر اس سب کا جواب نہیں ہے تو یاد رکھیں 71 سالوں میں ہمارے پیارے وطن میں آزادی کی شکل بگاڑنے میں اس پاک وطن کی تاریخ کے بدنام ترین کرداروں کی طرح خود ہر وہ شہری بھی خو د کو زمہ دار سجھے جو آزادی کا مطلب سمجھنے سے قاصر ہے اور خود آزاد معاشرے کے لیے بدنما داغ ہے۔ 
بلے شیر تیر کی بحث سے نکلیں اور عملی طور پر اپنے گلی محلے کی بہتری کے لیے کچھ کرنے کا عزم کریں۔ جب آپ سے کوئی سیاسی بحث کرے تو اس سے سوال کریں کہ وہ ملک کے لیے خود کتنا بدلا ہے کتنا فعال ہے لیکن یہ سوال پوچھنے سے پہلے آپ کو اپنے آپ کو بدلنا ہوگا۔ کیونکہ ملک کے حالات کو بدلنا ہے تو خود کو بدلو۔ آزادی منانے سے نہیں زمہ داری اٹھانے سے یعنی قوت اخوت عوام سے پاک سر زمین کا نظام درست ہوگا۔ 

مزیدخبریں