پاکستان کا مطلب کیا لاالہ الا اللہ
13 اگست 2018 2018-08-13

پاکستا ن کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ یہ فقرہ دینے والے سیالکوٹ کے مشہور ، مقبول شاعر اصغر سودائی ہیں اس نعرہ کا پس منظر یوں ہے کہ جب مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کی سر گرمیاں شروع ہوچکی تھی اورطلباء شہر اور ضلع بھر میں گاؤ ں گاؤں کا دورہ کرکے پاکستان کا پیغام پہنچار ہے تھے تو ان میں جناب اصغر سودائی اور خواجہ طفیل بھی شامل تھے یہ دونوں بہتر ین مقرر تھے اوریہ خلوص نیت اور سچی لگن سے طلباء نوجوانوں اورعوام میں بیداری اورآزادی کے حصول کی تڑپ پیدا کررہے تھے ان کی اس عہد آفرین جدوجہد کو ہندو طلباء انتہائی تعصب کی نگاہ سے دیکھتے تھے چنانچہ ہندو ان کے جلسوں کو ناکام بنانے کی کوشش کرتے رہتے اور ان کامذا ق اڑاتے ایک بار سیالکوٹ کے موچی دروازے رام تلائی کے میدان میں طلباء کاایک جلسہ منعقد ہوا سامعین میں کثیر تعداد سکولوں اور کالجزکے مسلمان طلباء اوران کے چند ہندو دوستوں کی تھی جناب اصغر سودائی اپنی تقریر میں واضح کررہے تھے کہ آزادی کا سورج اب طلوع ہونے والا ہے ۔سامر اجی حکومت اب بفضل رب العزت ختم ہوجائے گی اور انشاء اللہ تعالی پاکستان بن کے رہے گا اس پر ایک ہندو لڑ کے نے محض شرارت کے طور پر سوال کیا کہ پاکستا ن کا مطلب کیا ہوگا اس پر جناب اصغر سودائی پکار اٹھے ’’ لاالہ الا اللہ ‘‘ یعنی پاکستان کے معرض وجو د میں آنے کامطلب یہ ہے کہ اس پاک سر زمین پر اللہ کے قانون یا قرآن وسنت کی حکومت ہوگی اس جواب پراعتراض کرنے والا ہندو طالب علم سن کر حیران رہ گیا اور اسکو مزید کچھ کہنے کی جرات نہ ہوسکی اورمسلمان طلباء کی آنکھوں میں جوش و مسرت کی ایک چمک پیدا ہوئی اوررام تلائی کا میدان نعرہ تکبیر سے گونج اٹھا ’’ پاکستان کامطلب کیا ‘‘ جناب اصغر سودائی کی تقریر کے بعد جلسہ برخاست ہوگیا لیکن جلسہ میں ہندو لڑکے کے سوال اوراپنے بے ساختہ جواب کی ہلکی آنچ جناب اصغر سودائی کے ذہن میں سلگتی رہی آپ ایک نعرہ گو شاعر بھی تھے چنانچہ چند دن بعد آپ ایک جلسہ میں اس نعرہ پر مشتمل ایک طویل نظم سنانے کے لیے جلو ہ افروز ہوئے جسکے چند اشعار آپکی نظر کیئے دیتے ہیں۔ پاکستان کا مطلب کیا ، قرآں سے ہے اس کی بنا ،ایمان سے ہے نشو و نما ، پاکستان ہے ملک خدا ،پوچھے اگر دنیا تو بتا ، پاکستان کا مطلب کیا لاالہ الا اللہ ۔پنجابی ہو یا کہ پٹھان ،مل جانا شر ط ایمان ایک ہی جسم ہیں ایک ہی جان ،ایک رسو لؐ اور ایک خدا، پاکستان کا مطلب کیا لاالہ الا اللہ ۔ بہت کم شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو تاریخ کے دھارے کو قابل ذکر انداز کی طرف موڑدیتی ہیں وہ افراد بہت کم ہوتے ہیں جو دنیا کا نقشہ بدل دیتے ہیں ایسا تو شاید ہی کوئی ہو جسے ایک قومی ریاست تخلیق کرنے کا اعزاز حاصل ہو ا ہوقائداعظم ؒ نے یہ تینوں کام کردکھائے ہندوستان میں کانگریس اوردیگر ہندو جماعتیں کسی صورت یہ نہیں چاہتی تھیں کہ مسلمان آزاد ہوں آسانی سے صبح و شام اپنے لیے رزق کا بند و بست کرسکیں اورہندوؤں کے شکنجہ سو د سے نجات حاصل کرسکیں ان کا پختہ یقین تھا اگر مسلمان آزاد ہوگئے اورہندوستان تقسیم ہوگیا تو مسلمان اپنے خطہ زمین کو دن رات کی محنت سے جنت بنا لیں گے اور مسلمان علاقوں میں علم کا اجالا ہوگا ہندو کا خیال تھا کہ پورے ہندوستان کی زمین صرف ان کی ملکیت ہے ۔ ان کی ذات بہت اونچی ہے جب سے مسلمان ہندوستا ن میں آئے ہیں تو انہوں نے پورے ملک کو پلید کردیا ہے یہ لوگ مسلمان تو ہمار ے کا م کا ج و خدمت وغیر ہ کے لیے آئے تھے اوراب یہ ہمار ے برابر اور ہم پلہ ہوتے جارہے ہیں یہ بات ہندوؤ ں کو بہت ناگوار معلوم ہوتی تھی انہیںیہ اندیشہ تھا کہ اگر ہندوستان کے مسلما ن آزاد ہوگئے تو ہندؤں کے لیے ادب و احترام کے تقاضو ں کو ملحوظ خاطر نہیں رکھ سکیں گے اور اپنے نفع و نقصان میں خود کفیل ہوجائیں گے اگر ہندوستان کی تقسیم ہوجاتی ہے توہمار ے دریا ؤں کا پانی ان کے قبضے میں چلا جائے گا یہ غلہ خود ہی اگا ئیں گے ان میں کام کرنے کی صلاحیت بھی زیادہ ہے اب تو یہ لکڑ ی کی طرح سو کھے رہتے ہیں پھر یہ خوشحال ہوجائیں گے اب تو مسلمان کی زبان نرم اوردیھمی ہے ان کے آزاد ہونے پر یہ آداب ہمارے لیے ختم ہوجائیں گے ہندوؤں کے مسلمانوں پر ظلم وستم ہوتے رہے اور مسلما ن برداشت کرتے رہے مسلمانوں کیلئے ترقی کے راستے روک لیے گئے مسلمان علاقوں میں تعلیم کے دروازے بند کرنے کی کوششیں جاری رہیں اور نہ ہی تعلیمی ادار ے قائم ہونے دیئے گئے اسلیے اللہ پاک نے مسلمانوں کی قسمت بدلنے کیلئے قائد اعظم علیہ الرحمہ کو یہ توفیق بخشی اور پاکستان معرض وجود میں آیا اور مسلماں آزاد ہوئے یہ فقط قائد اعظمؒ کی کوشش اور اللہ پاک کے خاص فضل سے ممکن ہوا ۔قارئین کرام یہ ہے پاکستان کی تاریخ جو ہمارے اکابرین کی خدمات اور قربانیوں سے بھری پڑی ہے اور ایک موجودہ پاکستان ہے ۔مو جو دہ دور کے سیاستدان اور حکمر ان صرف مفاد پر ست خود غرض جرائم پیشہ اورلالچی قسم کے لو گ سیاست دان بن رہے ہیں نا جائز طریقہ سے پیسہ کما کر بیرون ملک بنکوں میں جمع کر نے میں لگے ہیں حلا ل وحرام کی تمیز ختم ہوچکی ہے پاکستان اور پاکستانی عوام پر کیا گذر رہی ہے ان کو اس سے کوئی دلچسپی نہیں یہ صرف اور صرف اپنے حال ومال میں مست ہیں ۔موجو دہ سیاست دانو ں اور حکمرانوں کو تحریک پاکستان کی قدر ہے اور نہ اس کے ساتھ کوئی تعلق ان لوگوں کو بنا بنا یا پاکستان مل گیا ہے یہ سب پاکستان بننے کے بعد کی پیداوار ہیں ان کے نزدیک پاکستان ’’ مال مفت دل بے رحم ‘‘ والی بات ہے اور یہی لوگ پاکستان میں اسلامی قانون کی راہ میں بہت بڑی رکاوٹ کاباعث بنے ہوئے ہیں ۔ پاکستان میں جس کی لاٹھی اسکی بھینس والی سیاست چل رہی ہے ۔ اللہ پاک عوام اور باالخصوص ہمارے حکمرانوں کو اپنے قائدین کی محنت کی قدر اور اسکی حفاظت کرنے کی توفیق بخشے۔


ای پیپر