یوم آزادی، مولوی اور اہل قلم
13 اگست 2018 2018-08-13

سنسکرت کے عظیم مفکر شاعر اور دانشور بھرتری ہری لکھتے ہیں :
”کنول کی نازک ڈنڈی (شاخ) سے ہاتھی کو باندھا جاسکتا ہے ہیرے کو سرسوں کے پھول کی پتی سے بیندھا جاسکتا ہے اور شہد کی ایک بوند سے کھارے سمندر کو میٹھا کیا جاسکتا ہے لیکن ”مردِناداں“ کو میٹھی باتوں سے رام کر لینا سعی لاحاصل ہے۔“
حکیم الامت علامہ محمداقبالؒ نے ان خیالات کو دومصرعوں میں یوں ترجمہ کیا ہے اور یہ شعر زبان زدِ عام ہے:
پھول کی پتی سے کٹ سکتا ہے ہیرے کا جگر
مردِ ناداں پر کلامِ نرم ونازک بے اثر
وطن عزیز پاکستان جس روز معرض وجود میں آیا اس دن کو منانا محبِ وطن پاکستانیوں کے خون میں شامل ہے 14اگست کو ہم سب یوم آزادی مناتے ہیں۔ نظام میں اگر خرابیاں ہیں تو یہ قصور کسی اور کے سر نہیں تھوپا جاسکتا۔ اس میں کوتاہیاں بھی ہماری اپنی ہیں۔
مولانا فضل الرحمن جن کے ”حلوے مانڈے“ ختم ہوئے ہیں اور وہ جو ابھی تک اپنی شکست کے صدمے سے باہر نہیں نکلے اگر یوم آزادی نہ بھی منائیں تو اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟ ان جیسے نام نہاد رہنمائے قوم اگر پاک وطن اور پاک فوج کے خلاف زہراگل رہے ہیں تو ان سے کوئی تو پوچھے کہ کل تک آپ اسی ملک کے خزانے سے مراعات سے لطف اندزو ہورہے تھے ہرحکومت میں شامل ہوکر عیش وآرام کی زندگی گزاررہے تھے اب اچانک آپ کو ”آزادی وطن“ کا دن منانا بھی اچھا نہیں لگ رہا۔ بھرتری ہری نے ایسے ہی افراد کو مردِ ناداں قرار دیا ہے۔ بلاول نے بروقت مولوی کے بیان سے لاتعلقی کا اظہار کرکے بہت اچھا کیا ہے۔ میاں شہباز شریف اور سراج الحق کو بھی ایسے بیانات داغنے والوں سے دور رہنا چاہیے۔ ایسے افراد کے لیے بھرتری ہری کی یہ سطریں ملاحظہ ہوں۔
چاہے قوم قصرِ مذلت میں گرے
اعلیٰ صفات مٹی میں مل جائیں
انسانیت پہاڑ سے گر کر چکنا چور ہوجائے
خاندانی وقارتباہ ہوجائے
اور اپنے پرائے چولھے میں پڑیں
لیکن انہیں صرف دولت سے غرض ہے
جس کے بغیر قومی وقار خاندانی وجاہت
علم وہنر عزیزواقارب ایک تنکے کی طرح حقیر ہیں۔“
یوم آزادی ہربرس منایا جاتا ہے۔ سرکاری سطح پر ادبی ثقافتی تقریبات بھی منعقد ہوتی ہیں سیاستدان ہی نہیں ہرمکتبہ فکر کے لوگ اس جشن کو اپنے اپنے انداز میں مناتے ہیں۔ اہل قلم بھی ادبی تقریبات منعقد کرتے ہیں۔ گزشتہ دنوں ریڈیوپاکستان نے یوم آزادی کی مناسبت سے قومی مشاعرہ منعقد کیا۔ عفت علوی خود بھی شاعر ہیں۔ریڈیوسے بطور پروڈیوسر وابستہ ہیں۔ امجد اسلام امجد ،نجیب احمد، باقی احمدپوری، منفعت عباس رضوی ، ڈاکٹر صغرا صدف، ناصر بشیر، رابعہ رحمن اور دیگر شعراءاس محفل مشاعرہ میں شریک ہوئے، ایک زمانے میں پاکستان ٹیلی ویژن بھی یوم آزادی کا مشاعرہ منعقدہ کرتا تھا مگر اب ادب پی ٹی وی پر شجر ممنوعہ کی علامت بن چکا ہے کوئی ادبی پروگرام یا تخلیقی سرگرمیوں پر مبنی پروگرام نہیں ہوتا۔ امجد اسلام امجد کہنے لگے ریڈیوپاکستان کے مشاعرے کا چیک تو پھر بھی قدرے تاخیر سے شعرا تک پہنچ جاتا ہے مگر ٹیلیویژن نے پچھلے سال کے پروگراموں کے چیک نہیں دیئے غالباً انہیں کسی میوزم میں سجانے کے لیے محفوظ کردیا گیا ہے “۔ باقی احمد پوری نے کہا : البتہ سیاسی وابستگی رکھنے والے اینکرز خواتین وحضرات کو لاکھوں روپے کی ادائیگی کی جاتی ہے صرف شاعروں ادیبوں کو پروگراموں میں مدعو کرنے کے بعد بھی چیک نہیں دیئے جاتے۔ ہم نے کہا: ”ادب اور ادیب سے پچھلی حکومت کو اتنی ہی دلچسپی تھی کہ اہل قلم کانفرنس پر وزیراعظم نے اہل قلم کے لیے ایک خطیر رقم کا اعلان کیا جس پر عرفان صدیقی اور ان کی وزارت ”سانپ“ بن کر بیٹھ گئی“۔
وہ رقم اکادمی ادبیات پاکستان کو ملتی تو ادیبوں شاعروں کی فلاح پر خرچ ہوتی۔ ابھی کچھ روز قبل صدر مملکت کی طرف سے ادیبوں شاعروں کے لیے خصوصی فنڈز کا اعلان بھی ہوا مگر ہماری ایک مستحق شاعرہ کی امداد کے لیے دی گئی درخواست اکادمی ادبیات پاکستان نے یہ کہہ کر ٹھکرادی کہ اس کا شعری مجموعہ شائع نہیں ہوا لہٰذا اسے امداد نہیں دی جاسکتی۔ یہی حال پنجاب رائٹرز ویلفیئر فنڈز کا ہے، پتہ نہیں اس کمیٹی میں کون لوگ ہیں اور یہ رقم کہاں خرچ کی جاتی ہے۔؟؟
اب نئی حکومت سے اہل قلم کو بہت سی توقعات ہیں ایک تو علمی ادبی ثقافتی اداروں میں میرٹ پر تقرریاں ہونی چاہئیں دوسرا اہل قلم کی عزت نفس کا خیال رکھتے ہوئے مستحق ادیبوں شاعروں کی امداد ہونی چاہیے۔ اگر چودھری فواد وزیراطلاعات ،ثقافت بنتے ہیں تو وہ اس سلسلے میں خصوصی توجہ فرمائیں۔ نئے گورنر چودھری محمد سرور بھی اہل قلم سے محبت کرنے والے ہیں وہ گورنر بن جائیں تو ایک بار پھر گورنر ہاﺅس میں ادبی گہما گہمی دکھائی دینے کی توقع ہے۔ یوم آزادی کے ضلعی سرکاری مشاعروں میں بھی مقامی شعرا کو نظرانداز کرنے کی خبریں ہیں۔ خبرچھپی ہے کہ شیخوپورہ کے شعراءیوم جشن آزادی کے مشاعرے پر احتجاج صرف اس لیے کررہے ہیں کہ مقامی شعراءکو اس مشاعرے میں نظرانداز کیا گیا ہے شیخوپورہ کی تمام ادبی تنظیمیں اس پر احتجاج کررہی ہیں۔ شاعر ادیب بھی اس معاشرے کا حصہ ہیں۔ سرکاری ٹی وی ہو یا آرٹس کونسلوں اور ضلعی انتظامیہ کی ادبی تقریبات اور مشاعرے، ان میں سبھی کو میرٹ کے مطابق مدعو کیا جائے تو کسی کو شکایت پیدا نہ ہو۔ تحریک انصاف کی حکومت میں بھی اگر انصاف کی حکومت نہ دکھائی دی تو پھر ”تبدیلی“ مذاق بن کر رہ جائے گی عمران خان کو اہل ادب کا بھی خیال رکھنا ہوگا۔ بھرتری ہری کی ایک مختصر نظم پر ختم کرتے ہیں جس میں انہوں نے ادب اور موسیقی کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔
”جو انسان ادب اور موسیقی وغیرہ سے محروم ہے
وہ فی الحقیقت ایک حیوان ہے
گواس کے سینگ اور دُم نہیں
اور وہ گھاس کھائے بغیر زندہ رہتا ہے۔


ای پیپر