پرتشدد احتجاج کسی صورت جائز نہیں، رسول اللہﷺ نے بھی لوگوں کو تکلیف دینے سے منع کیا: علامہ طاہر اشرفی
سورس:   فوٹو: بشکریہ ٹوئٹر
13 اپریل 2021 (18:15) 2021-04-13

لاہور: وزیراعظم پاکستان عمران خان کے معاون خصوصی برائے مذہبی بھائی چارہ اور پاکستان علماءکونسل کے چیئرمین مولانا طاہر اشرفی نے کہا ہے کہ پرامن احتجاج ہر کسی کا حق ہے لیکن تشدد کو کسی بھی طرح جائز قرار نہیں دیا جا سکتا، ہم ناموس رسالت اور عقیدہ ختم نبوت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چوکیدار ہیں لیکن نبی کریمﷺ نے بھی لوگوں کو تکلیف دینے سے منع کیا ہے۔ 

تفصیلات کے مطابق نجی خبر رساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے علامہ طاہر اشرفی نے کہا کہ تشدد کسی بھی طرح سے ہو، کسی بھی طرز کا ہو اور کوئی بھی کرے، اس کو کیسے جائز کہا جا سکتا ہے، مذہبی جماعت کے احتجاج کے دوران جس پولیس والے کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا وہ بھی تو رسول اللہ ﷺ کا امتی ہے، پرامن احتجاج ہر کسی کا حق ہے اور کرنا بھی چاہئے لیکن تشدد کوئی بھی کرے، اس کا تعلق کسی بھی جماعت یا گروہ سے ہو، اسے جائز قرار نہیں دیا جا سکتا، موجود حکومت نے ناموس رسالت ﷺ اور عقیدہ ختم نبوت کے اوپر موقف واضح ہے اور وزیراعظم عمران خان نے اقوام متحدہ میں جا کر جس طرح مسئلہ اٹھایا اور اسلامک فوبیا پر بات کی ہے، میں سمجھتا ہوں کہ پوری دنیا پر واضح ہے۔ 

ان کا کہنا تھا کہ ہم سب رسول ﷺ کے امتی ہیں اور آپ کی ناموس و عزت پر قربان ہونا سعادت سمجھتے ہیں لیکن گزشتہ دو روز سے جو کچھ ہم دیکھ رہے ہیں، میں ملک کے تمام سیاسی اور مذہبی لوگوں سے بطور پاکستانی اور چیئرمین علماءکونسل یہ گزارش کر سکتا ہوں کہ اس مسئلے کا حل تشدد نہیں، احتجاج کے باعث کتنے لوگوں کی جانیں خطرے میں ہیں، کئی عورتیں اور بچے راستوں میں پھنسے ہوئے ہیں، حکومت کا خیال ہے کہ بات چیت کے ذریعے مسائل کو حل کیا جاتا ہے لیکن مجھے دکھ کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ جو کچھ ہم دیکھ رہے ہیں، وہ درست نہیں، تشدد کے دوران بہرحال ایک پاکستانی کا خون ہی بہہ رہا ہے، نبی کریمﷺ نے بھی لوگوں کو تکلیف دینے سے منع کیا ہے۔ 

علامہ طاہر اشرفی نے کہا کہ جہاں تک ناموس رسالت اور عقیدہ ختم نبوت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی، تو الحمد اللہ ہم اس کے چوکیدار ہیں، اگر ہمارا جذبہ اس معاملے پر زیادہ نہیں تو کسی سے کم بھی نہیں ہے، کیا وزیراعظم نے فرانس میں ہونے والے معاملے کی مذمت نہیں کی؟ پاکستان کا موقف اس حوالے سے بھرپور ہے اور ہم اس سے پیچھے نہیں ہٹے ہیں، جو بھی نبی کریم صلی اللہ علی وآلہ وسلم کی توہین کرے گا یا عقیدہ ختم نبوت پر حملہ آور ہونے کی کوشش کرے گا تو ہم اس کی مذمت بھی کریں گے اور جو ممکن ہوا کریں گے لیکن تشدد کسی صورت بھی درست قرار نہیں دیا جا سکتا۔ 

(بشکریہ: نیو نیوز)


ای پیپر