برا وقت آنے والا ہے؟
13 اپریل 2020 2020-04-13

شاہی فرمان جاری ہوا کہ برا وقت آنے والا ہے، کس پر؟ فرمایا مخالفین پر، سیانوں نے کہا برا وقت آنے والا نہیں آگیا ہے، مخالفین تو برا وقت دیکھ ہی رہے بلکہ بھگت رہے ہیں اب تو اپنوں کی باری ہے بھگتیں گے یا نہیں دیکھنا ہوگا۔ مخالفین تو روز اول سے برے وقت کے شکنجے میں ہیں۔ برے حالوں میں ہیں جو حال مخالفین کا اس دور میں ہوا کبھی نہیں ہوا تھا۔ ’’ہر روز روز بد ہے ہر شب شب عذاب‘‘ کیسے کیسے سر بلند سرنگوں ہوگئے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور، کل تک نواز شریف اور زرداری کی شان میں قصیدہ گوئی کرنے والوں نے پٹڑی بدل لی، شاہ کے مصاحب بلکہ ترجمان بن گئے۔ دھمکیوں سے مرعوب ہوئے یا لالچ سے جھکے ہاں میں ہاں ملانے ہی میں تحفظ کی راہ پائی اور ترجمانی کا منصب سنبھالا، مگر برا وقت آتے دیر کہاں لگتی ہے، کہہ کر نہیں آتا چینی اسکینڈل نے چولیں ہلا دیں، عوام کو صرف چینی کی قیمتوں میں اضافہ پر 85 ارب زائد دینے پڑے ملز مالکان کی جیبوں میں 76 ارب گئے اس پر بھی ھل من مزید کے نعرے، محسن احسان نے کہا تھا۔

محسن اس باغ کی حرمت کا خدا حافظ ہو

جس کے رکھوالے ہی پھل پھول چرانے لگ جائیں

شوگر مافیا نے سبسڈی کے 3 ارب ہڑپ کرنے کے ساتھ ساتھ چینی 55 سے 77 بلکہ 85 روپے کر کے عوام کی جیبوں پر کھربوں کا ڈاکہ ڈالا۔ شور شرابہ ہوا تو وزیر اعظم نے حسب عادت ڈانٹ پلائی’’ نہیں چھوڑوں گا ملوث افراد جیل کی ہوا کھائیں گے‘‘۔ تحقیقات کے لیے کمیشن بنا دیا گیا۔ واجد ضیاء (زباں پہ بارے خدایا یہ کس کا نام آیا، پانامہ کیس کے زخم ہرے ہوگئے) کی سربراہی میں تحقیقات ہوئی، انہوں نے 80 شوگر ملوں میں 9 کا انتخاب کیا، آڈٹ کیا اور رپورٹ پیش کردی، کرونا کا دور دورہ رپورٹ بقول شیخ صاحب پنڈی وال دب سکتی تھی لیکن ایک ٹی وی اینکر نے لیک کردی۔ رپورٹ اس دعوے کے ساتھ منظر عام پر لانی پڑی کہ وزیر اعظم نے رپورٹ پبلک کر کے ایک اور وعدہ پورا کردیا۔ غالب یاد آگئے۔ ’’تیرے وعدے پر جئے ہم تو یہ جان جھوٹ جانا کہ خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا‘‘ رپورٹ میں دس نام بے نقاب، سارے اپنے ساتھی، رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ فائدہ جہانگیر ترین کی شوگر ملز کو ہوا 22 فیصد یعنی 56 کروڑ ملے جنوبی صوبے کے نام پر ن لیگ کو لات مار کر آنے والے خسرو بختیار کے بھائی کو 46 کروڑ ہاتھ آ ئے۔ مونس الٰہی، چوہدری منیر اور ن لیگ کے غلام دستگیر کی شوگر ملز کو بھی کروڑوں کا فائدہ ہوا، بتایا گیا کہ آٹا، چینی بحران کے ذمہ دار وفاق، پنجاب اور خیبر پختونخوا کی حکومتیں ہیں۔ سپریم کورٹ کے فاضل چیف جسٹس نے کہا بڑے لوگ ملک کو نقصا ن پہنچا رہے ہیں۔ برا وقت آن پہنچا، اپنے ہی شکنجے میں پھنس رہے ہیں۔ وزیر اعظم نے رپورٹ منظر عام پر آنے سے پہلے کئی بار کہا ذمہ دار سزا سے نہیں بچ جائیں گے۔ پیسہ بنانے والوں کو نہیں چھوڑوں گا۔ پیسوں کا ذکر کیا کھربوں بنانے والے منظر عام پر آئے کیا ، کرپشن کے خلاف جہاد؟ کیا یہی جہاد ہے کہ بندے کو ٹاسک فورس کے چیئرمین کے عہدے سے ہٹا دیا۔ جہانگیر ترین نے کہا میں کسی ٹاسک فورس کا چیئرمین تھا ہی نہیں بھلا ہو شہزاد گل کا

انہوں نے فورا گرہ لگائی چیئرمین تھے ہٹا دیے گئے، خبر کے فوراً بعد تردید حکومت کا یہی طرہ امتیاز، خسرو بختیار کو ادھر سے اٹھا کر ادھر بٹھا دیا۔ وزارت قائم تنخواہ، مراعات سلامت، عہدہ برقرار، پنڈی والے شیخ صاحب نے (جن کا منہ کا ذائقہ خراب رہتا ہے) کہا 25 اپریل کو رپورٹ کی تفصیلات ملنے پر کارروائی ہوسکتی ہے۔ کیا ہوگا؟ کچھ نہیں ہوگا؟ پلائو کھائیں گے احباب فاتحہ ہوگا، اربوں کھربوں روپے ہضم کرنے کے بعد تو فاتحہ ہی ہوسکتا ہے، شاہد خاقان عباسی نے تو وزیر اعلیٰ پنجاب کے نام کا بھی عندیہ دیا، رپورٹ میں تو نام نہیں، نہیں ہے تو بس ٹھیک ہے، وسیم اکرم پلس کا نام آنا بھی نہیں چاہیے۔ اللہ کی شان جہانگیر ترین کو بھی شکایات پیدا ہونے لگیں۔ ٹی وی انٹرویو میں احسانات یاد دلائے۔ یاد ہے دو تین انتخابات میں ایک ایک نشست ہی مل رہی تھی۔ 2018ء میں سب الیکٹیبلز کو لے کر آئے اور مرکز اور پنجاب میں حکومتیں بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ اعظم خان نے نا اہل قرار دیے جانے کے بعد سرکاری معاملات میں مداخلت بند کرانے کی کوشش کی اس پر تعلقات کشیدہ ہوئے۔ کہا اعظم خان نے دشمنی نکالی، نا اہل ہوتے ہوئے بھی صاحب کے قریب ترین، واقف کار تو ڈپٹی وزیر اعظم کہنے لگے تھے، کیا اعلیٰ ترین قسمت پائی سب پر دست شفقت پھر بھی ایک لابی مخالف، قسم کھائی کہ اسد عمر کو وزارت خزانہ سے ہٹانے میں میرا ہاتھ نہیں تھا۔ لابی نے یقین نہ کیا کہا ہاتھ کی ضرورت نہیں پڑی سر کے اشارے نے کام کردیا ہوگا ،کچھ بھی ہے بعد از مرگ واویلا فضول، ’’داغ مٹتے نہیں مٹانے سے‘‘ سردار جی امرتسر سے خصوصی ویزا لے کر میلہ چراغاں دیکھنے لاہور آئے تھے۔ ایک جگہ تازہ جلیبیاں تلی جا رہی تھیں گائوں دیہات کے منچلوں کا ہجوم سردار جی کے منہ میں پانی بھر آیا، سوچا امرتسر کے ہال بازارکے منہ پھٹ حلوائی سرنجیت سنگھ کی جلیبیوں کا رنگ تو ایسا نہیں ہوتا، دو تین کلو جلیبیاں اپنی’’ بھلی لوک ‘‘کے لیے لے جائیں خوش ہوجائے گی، لوگوں کو ادھر ادھر ہٹاتے آگے بڑھے تو ایک لاہوریے کا ہاتھ پڑنے سے پگڑی گر گئی، پگڑی کیا گری سردار جی کا سارا دھرم بھرشٹ ہوگیا، بابا گرو نانک کو کیا جواب دیں گے کہ جلیبیوں کے لالچ میں دھرم گنوا بیٹھے۔ جلیبیوں کی خریداری اور اہلیہ کے خوشی سے تمتماتے گالوں پر لعنت بھیجتے ہوئے واپس روانہ ہوگئے۔ امرتسر پہنچے تو یاروں بیلیوں نے پوچھا سردار جی میلہ کیسا رہا، جلے بھنے لہجہ میں بولے۔ ’’میلہ کی سی پگ لاون دا بہانہ سی‘‘ (میلہ کیا تھا پگڑی اتارنے کا بہانہ تھا) کیا سمجھے، جہانگیر ترین کے نزدیک 56 کروڑ کی کیا اہمیت وہ اب تک یاری دوستی میں کئی 56 کروڑ قربان کر چکے بس یاروں نے پگ اتارنی تھی سو اتار دی، اب شیخ صاحب جیسے بھی آنکھیں دکھانے لگے کہ 25 اپریل کو کمیشن کی رپورٹ پر کارروائی نہ کی تو حکومت کے لیے مسائل پیدا ہوجائیں گے۔ مسائل پہلے کیا کم ہیں۔ وزیر مشیر معاون خصوصی مسائل ہی مسائل اور اب تو بکل میں گھسے چوروں کا بھی انکشاف ہوگیا ہے۔ اس سے برا وقت اور کیا ہوگا، کوئی سمجھائے کہ برا وقت آنے والا نہیں آگیا ہے۔ پارٹی پر برا وقت ایک دوسرے کے مخالف گروپ، پارٹیاں اسی طرح تباہ ہوتی ہیں، ملک پر پہلے ہی برا وقت آیا ہوا ہے، کرونا وائرس کا عذاب عظیم لاک ڈائون سے معیشت تباہ، زر مبادلہ میں کمی، اسٹاک ایکسچینج روز کریش، سیانوں نے کہا برا وقت تو ملک پر 18 ماہ قبل ہی آگیا تھا۔ اب تک برا وقت ہی چل رہا ہے۔ مصیبت ہماری تمہاری ہے یارو۔ عوام پر برا وقت آن پڑا ہے سو بھگت رہے ہیں۔ جانے کس کی نظر کھا گئی، ایک ن لیگی نے کہا ہماری بد دعا لگی ہے، اسے چھوڑیں بد دعائوں کا توڑ گھر میں موجود ہے۔ یہ سوچیں کہ اب کیا ہوگا، برا وقت ٹالنے کے لیے کیا کیا جائے گا۔ چینی، آٹا اسکینڈل سے کھربوں ہضم ہونے والی رقم تو واپس آنے سے رہی، پہلے 18 ماہ میں ایک دھیلا واپس نہیں آیا۔ اپنوں سے کیا ملے گا۔ کھیل ختم پیسہ ہضم، بس مبارکباد دیجیے کہ کرپشن کے خلاف جہاد جاری ہے۔ اسلم گورداسپوری کا کہنا سچ ہے کہ

یہ کیا غضب ہے کہ مدتوں سے خزاں ہی گلشن میں خیمہ زن ہے

جو موسم گل کا کارواں تھا وہ کارواں کیوں رکا ہواہے

کوئی تبدیلی نہیں دور دور تک نہیں، لوگ اپنے راستے تبدیل کر کے سارے رابطے توڑ کر اقتدار میں شامل ہوئے ایک ہی ہلے میں 56 کروڑ اور 46 کروڑ کمائے تبدیل ہو کر اربوں کھربوں پتی بن گئے۔ ملک اور نظام میں اس سے بڑی تبدیلی اور کیا ہوگی، جہاں تک فاقہ کش اور بھوکے عوام کا تعلق ہے وہ 73 سالوں سے اللہ تعالیٰ سے 56 کروڑ کی چوتھائی کی دعائیں کر رہے ہیں، انہیں اب تک 56 روپے نہیں ملے۔


ای پیپر