پوپ کا شکوہ
13 اپریل 2020 2020-04-13

بابل کے بادشاہ نمرود کی ایک حقیر مچھر کے ہاتھوں اذیت ناک اور سبق آموز موت تاریخ کا حصہ ہے،دنیا کو آج اس سے بھی چھوٹے جرثومہ کا سامنا ہے، اسکی وہشت اتنی کہ پورے گلشن کا کاروبار بند ہے، جہاز لنگر انداز ہیں،ساحل سمندر انسانوں کی راہ تک رہے ہیں،بازارسنسان، گلیاں ویران، عبادت گاہیں خالی ہیں، تفریح گاہیں سیاحوں کی منتظر،فطری طور پر اخوت، محبت، ہمدردی،ایثار کا جذبہ رکھنے والا مٹی کا باواخود اپنے جیسے انسانوں ہی سے خوفزدہ ہے،بڑے ائرپورٹ جہازوں سے اٹے پڑے ہیں،حالات نے انکے پر کاٹ دیئے ،وہ ماہرین جو آنے والے سیاسی حالات، موسم کا پتہ دیتے تھے گم سم ہیں، سارے معاشی اندازے غلط ہوگئے،میلوں مار کرنے والے میزائیل خول میں بند ہیں، غیر محفوظ ہاتھوں میں ایٹمی آلات اس وقت موضوع بحث نہیں۔آدھی خلقت کو کمروں میں بند رہنے کا فرمان جاری ہوا ہے، خود غرضی، بے بسی کا عجیب عالم ہے، ان تمام غیر اخلاقی آزادیوں کا جو علم ایک عرصہ سے بلند تھا، سرنگوں ہے، زندگی سے پیار بے ساختہ سجدوں پر مجبور کر رہاہے، خدایا یہ کیسی ہولناکی ہے ،اس کے اثرات جانوروں پر بھی محسوس کئے جاسکتے ہیں، مخمل کے بستر پر محو استراحت کتے، بلیاں خوراک کی تلاش میں سرگرداں ہیں، نجانے اب کیوں ان کے حقوق سے صرف نظر کیا جا رہا ہے۔

جنگلی جانوروںکو البتہ صاف ستھری فضاء میں سانس لینے کا موقع میسر ضرور آیا ہے جس کو فانی انسان نے اپنے مفادات کے لئے آلودہ کردیا تھا،کھلا صاف آسمان، چمکتے ستارے،اجلے پہاڑ قدرت کا نشان ہیں جس نے ہر شہ میں توازن رکھا ہے۔

اس ناگہانی آفت پر ویٹی کن سٹی میں سوالات کے جواب میں پوپ فرانسس بھی شکوہ کناںتھے،وہ آج کے انسان ہی کو موردالزام قرار دیتے ہیں،اور اس صورت حال کوــ’’قدرت کا رد عمل‘‘ جانتے ہیں،ان کے خیال میںانسان نے قدرت کی عطا کردہ چیزوں کی قدر نہیں کی، یہ تو معلوم نہیں کہ کرونا قدرت کا غصہ ہے یا نہیں لیکن حالات بتاتے ہیں’’فطرت کا ردعمل ‘‘ہے، ہم انسانوں نے دنیا کا ماحول تباہ و برباد کر دیا، ان کا مطالبہ ہے فطرت کے ماحول کو بچایا جائے،اس کے قوانین کو سمجھنا لازم ہے۔

ایک زمانہ تھا جب پاپائیت ریاستوں میں پوپ کو شاہی اختیارات حاصل تھے،ان کا حکم قانون کا درجہ رکھتاتھا، اہل مغرب نے اس سے ایسی نجات پائی کہ مادر پدر آزاد ہوگئے ، دنیا کا کوئی بھی مذہب کبھی بھی اخلاقیات سے خالی نہیں رہا، عیسائیت کی بائبل میں تحریف کے باوجود اخلاقی اقدار کو مرکزی حیثیت آج بھی حاصل ہے،ہمسایوں سے اچھا سلوک،غیر قانونی کاروبار میں عدم شمولیت،دشمنوں سے محبت،اچھے اور برے میں تمیز،ضرورت مندوں کی مدد کرنا،تشدد سے نفرت،جھوٹ نہ بولنا، جانوروں کے حقوق قابل ذکر ہیں اس کے باوجود، گذشتہ چند دہائیوں سے ظلم اور جبر کو روا رکھنے میں جو عالمی استعمار پیش پیش رہا، قابل ذکر عیسائی ریاستیں بھی اس کے شانہ بشانہ تھیں، اس وقت بھی دنیا کی بڑی دولت کا حصہ چند ساہوکاروں کے ہاتھ میں ہے۔، بھوک، ننگ، افلاس دنیا کے سلگتے عنوانات ہیں، آج کے میڈیا نے سب عیاں کر دیا ہے ،کشمیر، فلسطین، برما میں انسان اپنی آزادی کی بھیک مانگ رہے ہیں۔

انسان میں اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ اخلاقی حس ایک فطری جذبہ ہے،یہ ہی اسے اچھے ،برے کا فرق بتاتا ہے،انفرادی طور پر یہ کم وبیش ہو سکتا ہے۔ لیکن تاریخ انسانی میں کبھی کوئی دورایسا نہیںگذراکہ جھوٹ، فریب، دھوکہ ،ظلم، بد عہدی، خیانت، ناانصافی کو پسند کیا گیا ہو، ہمیشہ، سچائی، فیاضی، ہمدردی، عدل و انصاف ہی کو ہر سماج میں قدر کی نگاہ سے دیکھا گیا ہے، انسانی اخلاقیات ایک عالم گیر اٹل حقیقت ہے، جسے ہر دور کاانسان مانتا چلا آرہا ہے اس سے رو گردانی ہی انفردی، اجتماعی بگاڑ پیدا کرنے کا سبب بنتی ہے

محترم! پوپ بھی فطرت کے خلاف انسانی کارستانی کا نوحہ پڑھ رہے ہیں،ایک مذہبی پیشواء کی حیثیت سے یہ عالمی سطح پر اپنا الگ مقام رکھتے ہیں، کیا ہی اچھا ہوتا اگروہ ان غیر فطری عوامل پر ہمیشہ سے صدائے احتجاج بلند کرتے رہتے، اقوام متحدہ کی قراداد کے نتیجہ میں جب مشرقی تیموربطور عیسائی یاست وجود میں آرہی تھی تو پوپ کشمیر اور فلسطین کے لئے اپنا وزن ان مظلومین کے پلڑے میں ڈالتے ، جن کی قانونی ،سفارتی ، اخلاقی اعتبار سے حیثیت یکساں تھی، تو انھیں شائد آج اس صورت حال کوقدرت کے غصہ سے تعبیر نہ کرنا پڑتا۔

قادر مطلق نے ہر عہد کے انسان کی راہنمائی کا اہتمام کر رکھا ہے،قرآن کو دیگر مذہبی لٹریچر میں یہ امتیاز حاصل ہے کہ یہ بے ترتیب نہیں،نازل کردہ ہستی نے اس کی حفاظت کا کام انسان پر نہیں چھوڑا، اس نے انسانی فطرت کے مطابق زندگی گزارنے کے قوانین وضع کئے ہیں، مفسرین نے آسانی کے لئے انکو تین حصوں میں منقسم کیا ہے جنکو انسانی اخلاقی وجود،کھانے پینے کے ضابطے،بدن،اور اخلاقیات کی طہارت کا نام دیا ہے، انکے خیال میںدین کا مقصد تذکیہ ہے، اور اللہ تعالیٰ کو اپنی جنت کے لئے اخلاقی، روحانی،مادی اعتبار سے پاکیزہ نفوس ہی مطلوب ہیں،جن اخلاقیات کا تذکرہ کیا گیا ہے، ان کے لئے کوئی پر تشدد قوت نافزہ بھی فی الوقت نہیں ہے لیکن خوف خدا،آخرت میں جواب دہی،باز پرس کا احساس،اور ابدی مستقبل کی خرابی کا اندیشہ ہی انسان کو راہ است پر رکھنے کے لئے کافی ہے۔ باقی معاملات یوم حساب پر اٹھا رکھے ہیں

آج کا طاقتور حکمران اسکی سرزمین پر اسکا نما ئندہ خیال کرنے کی بجائے خود کو مطلق العنان حاکم وقت سمجھ بیٹھا ہے،ناانصافی، جبر، بربریت،پر مبنی یہ نظام خودفطری قوانین کے خلاف گواہی دے رہا ہے۔حد سے گذر جانے والوں کو سزا دینا بھی اللہ کی سنت ہے، آخری کتاب میں سزا یافتہ اقوام کا قصہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے محفوظ کرلیا گیا ہے ،سزا کا ذکرسورہ روم میں ان الفاظ میں ملتاہے ’’لوگوں کی بداعمالیوں کے باعث دنیا میں تباہی پھیل گئی تاکہ لوگوں کو انکی بعض بداعمالیوں کا مزا چکھائے،شائد وہ برے کاموں سے باز آجائیں‘‘ ۔

پوپ سمیت تمام انسانیت کی راہنمائی کا سامان قران حکیم میں موجود ہے،محسن انسانیتؐ نے عبادات، اخلاقیات، معاملات میں توازن رکھنے کاایسا فطری حکم دیا ہے، جس میں پوری انسانیت کے لئے راحت ہی راحت ہے ،دیکھنا ہے کہ اس آزمائش سے نکلنے کے بعد دینا کے فرمارواں اور باسی خود کو فطری قوانین کے سانچے میں ڈالتے ہیں ،یا بغاوت پر اترانے کی حماقت پر قائم رہنے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔


ای پیپر