جو ڈر گیا وہ بچ گیا
13 اپریل 2020 2020-04-13

پاکستان میں چھبیس فروری کو کورونا کا پہلا کیس کراچی میں سامنے آیا۔ اس کے بعد لاہور میں بیرون ملک سے آئے ڈی ایچ اے کے رہائشی میں کورونا وائرس کی تصدیق ہو گئی۔ کچھ دن بعد لاہور گلبرگ میں سابق سینٹر گلزار مرحوم کی بہن میں کوروناوائرس کی تصدیق ہوئی۔ میرا آفس بھی چونکہ گلبرک میں واقع ہے اس لیے میں نے احتیاطی تدابیر اختیار کرنا شروع کر دیں۔ جو دوست احباب ملنے کے لیے آتے، سلام کرتے اور فوراً سے ہاتھ آگے بڑھاتے۔ میں سینے پر ہاتھ رکھ کر سلام کا جواب دیتا۔ حسب معمول کچھ لوگوں کو یہ بات ناگوار گزری اور کچھ معاملے کی نزاکت کو سمجھ کریہ کہہ کر معذرت کرتے کہ معاف کیجیے گا میں بھول گیا تھا کہ کورونا آیا ہوا ہے۔

ایک دن اسی طرح ایک دوست ملنے کے لیے آئے۔ دور سے ہی ہاتھ جیب سے نکالا اور سلام لینے کے

لیے میری طرف گولی کی رفتار سے آگے بڑھے۔ میں نے دور سے ہی ان کی نیت بھانپ لی۔ میرے دماغ نے روشنی کی رفتار سے کام کیا اور میں نے دور سے ہی انھیں ہاتھ بمع بازو ہوا میں لہرا باآواز بلند وعلیکم اسلام کہہ دیا۔ میرا رسپانس دیکھ کر ان کی رفتار ذرا دھیمی ہوئی۔ وعلیکم اسلام کہنے کے بعد میں نے صوفے کی جانب بیٹھنے کے لیے اشارہ کر دیا۔ جناب کو پہلے تھوڑی حیرت ہوئی، پھر سوالیہ نشان والامنہ بنایا، ماتھے پر ہلکا سا شکن آیا، نیم حیران و شرمندہ ہوئے، ماتھے پر سلوٹیں بنا کر ہلکا سا مسکرائے اور صوفے پر بیٹھ گئے۔

بیٹھتے ہی جناب نے فرمایا کہ ‘‘میاں صاحب آپ ڈر گئے ہیں’’۔ میں نے کہا احتیاط بہتر ہے۔ کورونا ایک حقیت ہے۔ اگر احتیاط نہ کی تو معاملہ بگڑ سکتا ہے۔ کہنے لگے کہ آپ تو مجھ سے ایسے مل رہے ہیں کہ جیسے مجھے کورونا ہو گیا ہو۔ میں نے کہا مجھے معلوم ہے کہ آپ کو کورونا نہیں ہے۔ آپ سے اس طرح ملنے کا مقصد یہ ہے کہ آپ بھی جب دوسروں سے ملیں تو اسی طرح ملیں۔ تا کہ لوگوں میں آگاہی پیدا ہو سکے۔ اگر آپ یہ رویہ اختیار کریں گے تو آپ کے اردگرد بیٹھے لوگ بھی آپ کو دیکھ کر یہ طریقہ استعمال کریں گے۔

آپ کی بیوی اور بچے جب آپ کو اس طرح ملتے دیکھیں گے تو وہ بھی اسے اپنائیں گے۔کہنے لگے کہ میاں صاحب کچھ نہیں ہوتا۔ یہ کورونا ورونا کچھ نہیں ہے۔ حکومت نے فنڈ لینے ہیں۔ اس لیے ڈرا رہی ہے۔ لوگ ڈریں گے تو ہی فنڈ ملے گا نا۔ ویسے بھی جو ڈر گیا وہ مر گیا۔ میں نے کہا کہ اٹلی میں بھی عوام کا یہی موقف تھا کہ کچھ نہیں ہوتا۔ حکومت جو کہہ رہی ہے سب فضول ہے۔ آج وہاں کے حالات آپ کے سامنے ہیں۔ آپ کچھ دن انتظار کریں پھر آپ کو اندازہ ہو گا کہ میں درست کہہ رہا ہوں۔

میں نے کہا دنیا کورونا کے بعد بدل جائے گی۔ مورخ اگر زندہ رہا تو وہ دنیا کو دو حصوں میں تقسیم کرے گا۔ کورونا سے پہلے کی دنیا اور کورونا کے بعد کی دنیا۔ ہمارا رہن سہن، میل ملاقاتیں، کاروبار کے انداز نیز کہ زندگی کے تمام پہلوئوں میں کورونا کی جھلک نظر آئے گی۔

وہ حیرت سے میری طرف دیکھ رہے تھے۔ میں نے کہا کہ آپ نے کبھی تصور کیا تھا کہ جدید ترین ٹیکنالوجی اور جدید سائنسی آلات اور لامحدود وسائل کے حامل ملک ایک عام آنکھ سے نہ نظر آنے والے وائرس کی بدولت گھٹنوں پر آ جائیں گے۔ پوری دنیا نے ایک ہی وقت میں اتنی تباہی شاید پہلے نہیں دیکھی ہو گی۔ بلاشبہ ماضی میں آنے والے وائرس بھی کروڑوں زندگیاں نگل گئے تھے لیکن اس وقت دنیا گلوبل ویلج نہیں تھی۔ ایک ملک سے دوسرے ملک سفر اتنا آسان نہیں تھا۔ ورلڈ ٹورزم کا وجود نہ ہونے کے برابر تھا۔ اگر یورپ میں کوئی بیماری پھیل جاتی تھی تو آمدورفت کے محدود ذرائع ہونے کے باعث وہ ایشیا تک نہیں پہنچ پاتی تھی۔ اور دوسرے براعظم تک یہ خبر آتے آتے مہینوں یا سالوں بھی لگ جاتے تھے۔ لیکن آج کے دور میں حالات بالکل الٹ چکے ہیں۔ خبر اور بیماری منٹوں میں ایک براعظم سے دوسرے براعظم تک پھیلتی ہے۔ کورونا کے حالات آپ کے سامنے ہیں۔

یاد رکھیے کہ ڈر جانا بھی اللہ کی عطا کی گئی نعمتوں میں سے ایک ہے۔ اللہ جس سے خوش ہوتا ہے اسے صحیح وقت پر ڈر جانے کی توفیق دے دیتا ہے۔ ڈر جانا بزدلی نہیں بلکہ بہادری ہے۔ یہ نعمت خداوندی ہے۔ یہ پروردگار کی عنایت ہے۔ یہ کامیابی کی کنجی ہے۔ آپ انسانی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیجیے انسان جب بھی صحیح وقت پر ڈرا ہے وہ ناقابل شکست ہوا ہے۔ جو لوگ ڈرنے کی وقت شیخی بگاڑتے ہیں وہ ناقابل تلافی نقصان اٹھاتے ہیں۔ آپ اگر کاروبار میں بھی صحیح وقت پر نقصان سے نہیں ڈریں گے تو ڈوب جائیں گے۔ یہ ڈرنا بزدلی نہیں بہادری ہے۔ وہ مجھے بغور سن رہے تھے۔

میں نے کہا اگر آپ کے دل میں درد شروع ہو جائے۔ سانس لینا مشکل ہو جائے تو آپ کیا کریں گے۔ کہنے لگے فوراً ہسپتال جائوں گا۔ میں نے کہا کہ آپ سینے میں درد سے ڈر گئے۔ آپ تو بہادر آدمی ہیں۔ نہ جائیں ہسپتال۔ درد خود ہی ٹھیک ہو جائے گا۔ کہنے لگے یہ تو سراسر بیوقوفی ہے۔ میں نے عرض کیا آپ نے بالکل صحیح فرمایا۔ اسی طرح کورونا سے بچنے کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار نہ کرنا بھی بیوقوفی ہے۔ اللہ کے نبی نے فرمایا ہے کہ جس علاقے میں وبا پھیل جائے وہاں داخل مت ہو اور نہ وہاں سے نکلو۔ اللہ نے قرآن میں انسان کو بیماریوں اور وباؤں سے ڈرایا ہے۔ دراصل اللہ چاہتا ہے کہ انسان ڈر جائے۔ کیونکہ جو ڈر گیا وہ بچ گیا۔


ای پیپر