پاکستان کی خواہش افغانستان میں امن
13 اپریل 2020 2020-04-13

پاکستان کا ماننا ہے کہ طالبان کا افغانستان کے مستقبل میں ایک اہم کردار ہے۔ طالبان صرف ایک عسکری قوت نہیں بلکہ ایک سیاسی تنظیم بھی ہے جس کا اثر ورسوخ جنوبی افغانستان میں ایک حقیقت ہے۔ پاکستان نے 90 کی دہائی میں طالبان کی حکومت کو تسلیم کیا تھا۔ پاکستان کے لئے افغانستان میں امن اس لئے بھی ضروری ہے کیوںکہ جنگی صورت حال کا براہ راست اثر پاکستان پر پڑتا ہے۔

افغانستان بھی طالبان سے سیاسی مذاکرات کا حامی ہے اور پاکستان کی طرح اس کا ماننا ہے کہ طالبان سے بات چیت کی جائے لیکن افغان حکومت چاہتی ہے کہ طالبان اس کو ایک جائز حکومت تسلیم کرے۔ یہ انتہائی ضروری ہے کہ دونوں فریق ایک دوسرے کو تسلیم کریں کیونکہ اس کہ بغیر امن قائم نہیں ہو سکتا۔ افغان حکومت اور طالبان کی قطر میں ملاقات کی خبریں رونما ہوئی تھیں لیکن اسی وقت طالبان نے بیان جاری کیا کہ جب تک امریکی فوج افغانستان میں تعینات ہے وہ کسی مذاکرات کا حصہ نہیں بنیں گے۔امریکا بھی طالبان سے سیاسی مذاکرات کرنے کیلئے تیار ہے لیکن تین شرائط رکھتا ہے۔ اول یہ کہ طالبان اپنی جارہانہ پالیسی کو ترک کرے۔ ثانیاً، طالبان افغانستان کے آئین کو تسلیم کرے اور تیسری شرط یہ کہ طالبان القائدہ اور دوسری بین الاقوامی دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ اپنے تعلقات ترک کر دے۔

امریکا ثالث کا کردار ادا کر کے افغان حکومت اور طالبان کے درمیان دیرپا امن کا خواہشمند ہے۔ طالبان نے اس خواہش کا بھی اظہار کیا تھا کہ وہ امریکا سے براہ راست مذاکرات کرنا چاہتا ہے لیکن امریکا نے یہ کہہ کر اس تجویز کو مسترد کر دیا کہ مذاکرات میں افغان حکومت کا شامل ہونا ضروری ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر سارے فریق مذاکرات کے لئے تیار ہیں تو پھر رکاوٹ کہاں لاحق ہے؟

افغانستان میں امن کیلئے ضروری ہے کہ پاکستان ، افغانستان اور امریکا امن قائم کرنے کے لئے ایک متفقہ رائے پیدا کریں جس کی بنیاد آئین، جمہوریت اورافغانستان میں بسنے والے مختلف لسانی گروہوں کے درمیان سلامتی اور استحکام ہو۔ تینوں ممالک امن کے خواہشمند ہیں اور طالبان سے مذاکرات اور سیاسی حل چاہتے ہیں۔

طالبان نے قیدیوں کے تبادلے کے منصوبے پر عمل درآمد میں تاخیر کو بنیاد بناتے ہوئے افغان حکام سے اس سلسلے میں ہونے والی بات چیت کا سلسلہ جاری رکھنے سے انکار کر دیا ہے۔ امن معاہدے کے مطابق افغان حکومت نے طالبان کے پانچ ہزار قیدیوں کو رہا کرنا ہے۔ بدلے میں طالبان بھی ایک ہزار افغان قیدی رہا کریں گے۔

افغان طالبان نے اپنی تکنیکی ٹیم کو کابل بھی بھیجا تا کہ وہ اپنے قیدیوں کی شناخت کر سکے لیکن افغان حکومت کے رویے کے سبب طالبان کا کہنا ہے کہ بدقسمتی سے رہائی کے عمل میں مختلف وجوہات کو بنیاد بنا کر تاخیر کی جا رہی ہے۔اس لیے ان کی تکنیکی ٹیم اس ہفتے شروع ہونے والی بے ثمر ملاقاتوں میں شرکت نہیں کرے گی۔ افغانستان کی جیلوں میں دس ہزار طالبان قید ہیں۔

افغان حکومت کا کہنا ہے کہ تاخیر کی بنیادی وجہ افغان طالبان کا یہ اصرار ہے کہ رہا کیے جانے والے قیدیوں کی پہلی ٹکڑی میں ان کے 15 سینئر کمانڈر شامل ہونے چاہیئں۔یہ بات چیت انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس کی سربراہی میں ہو رہی تھی اور ریڈ کراس کے مطابق ان مذاکرات میں دونوں اطراف سے قیدیوں کی رہائی ہی مرکزی نکتہ تھا۔طالبان نے اس بات چیت کے لیے ایک بڑی مذاکراتی ٹیم بھیجنی تھی لیکن کورونا وائرس کی وجہ سے صرف تین رکنی ٹیم مذاکرات کے لیے کابل بھیجی گئی۔

اگرچہ امریکہ نے طالبان سے معاہدے کے مطابق گذشتہ ماہ سے اپنی افواج کا انخلا شروع کر دیا ہے۔ تاہم صدر اشرف عنی اور ان کے سیاسی حریف عبداللہ عبداللہ کے درمیان مختلف امور پر اتفاق رائے نہ ہونے کی وجہ سے قیدیوں کے تبادلے سے متعلق مذاکرات سست روی کا شکار ہوئے۔

امریکی صدر ٹرمپ نے کابل انتظامیہ کو دھمکی دی ہے کہ جس طرح دوحہ معاہدے میں طے ہوا تھا وہ طالبان کیساتھ بات چیت کر کے سمجھوتہ کریں ورنہ وہ افغانستان میں موجود تمام امریکی فوج فوراً واپس بلا لیں گے۔ قطر معاہدہ صدر ٹرمپ کے تین سالہ دور اقتدار کی سب سے بڑی فارن پالیسی کامیابی قرار دیا گیا تھا اسلئے وہ کسی صورت اسے ناکام ہوتا نہیں دیکھ سکتے۔ کابل انتظامیہ کے لیڈر اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ کے درمیان شدید اختلافات کے باعث افغانیوں کی متحدہ حکومت قائم کر نے میں رکاوٹ پیدا ہو رہی ہے۔ انہوں نے طالبان کیساتھ مذاکرات کیلئے جو ٹیم تیار کی تھی اسے طالبان نے یہ کہہ کر مسترد کر دیا تھا کہ اس میں افغان سوسائٹی کے تمام طبقوں کی نما ئند گی نہیں ہے ۔

امریکی وزیر خارجہ نے کابل انتظامیہ پر واضح کر دیا تھا کہ اگر انہوں نے قطر کے امن معاہدے پر پوری طرح عمل نہیں کیا تو امر یکہ نہ صرف پوری فوج افغانستان سے نکال کر اس کی سکیورٹی ختم کر سکتا ہے بلکہ ان کو دی جانیوالی ایک ارب ڈالر کی امداد بھی بند کر دی جائیگی۔ معاہدے کے مطابق کابل انتظامیہ اور طالبان کے درمیان 10 مارچ سے مذاکرات کا آغاز ہونا تھا لیکن ایسا نہیں ہواتھا۔ افغان حکومت کی جانب سے قیدیوں کی رہائی میں تاخیر پر طالبان نے افغان حکومت سے مذاکرات ختم کرنے کا اعلا ن کردیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ افغانستان سے امریکی افواج کا انخلاء اور نائن الیون کے بعد سے جاری اس اٹھارہ سالہ جنگ کا خاتمہ چاہتے ہیں لیکن افغان حکام اور کچھ امریکی سکیورٹی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ امریکی افواج کا انخلاء افغانستان کو ایک مرتبہ پھر سرد جنگ میں دھکیل سکتا ہے۔ ممکنہ طور پر ایک ایسا سیٹ اپ بن سکتا ہے جہاں افغان طالبان ایک مرتبہ پھر حکومت میں آجائیں اور ‘اسلامک اسٹیٹ‘ جیسی دہشت گرد تنظیم اس ملک میں پناہ حاصل کرے۔

سب سے خطرنا ک بات یہ ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے افغانستان کے رہنماؤں افغان صدر اشرف غنی اور سابق چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ کے مابین متوازی حکومت کی تشکیل سازی میں عدم اتفاق پر ایک ارب ڈالر کی امداد میں کمی کا فیصلہ کرلیا۔ امریکا نے مزید دھمکی دی ہے کہ اگر ان میں اتفاق نہ ہوا تو ہر قسم کے تعاون میں کمی کردی جائے گی۔امداد میں کٹوتی کا فیصلہ امریکی سیکریٹری خارجہ مائیک پومپیو نے کابل کے غیر متوقع دورہ کے بعد کیا۔اس دورے میں انہوں نے افغان صدر اشرف غنی اور سابق چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ سے ملاقات کیں تھیں۔ مائیک پومپیو دنوں کے درمیان سیاسی تنازع دور کرنے میں ناکام رہے۔ان کا کہنا تھا کہ امریکا دونوں افغان قائدین کے رویے سے مایوس ہوا اور اس طرح امریکا اور افغانستان کے تعلقات کو نقصان پہنچے گا۔ افغان رہنماؤں کا رویہ دراصل امن عمل میں جان دینے والے اہلکاروں کی توہین ہے۔


ای پیپر