بحث صدارتی یا پارلیمانی نظام کی
13 اپریل 2019 2019-04-13

برطانوی تسلط سے آزادی حاصل کر لینے کے بعد امریکہ کی 13 ریاستوں کے نمائندوں نے 1779 ء اور اس کے دس سال بعد 1789ء میں فلا ڈیلفیا میں منعقدہ قومی سطح کے دو نمائندہ کنونشنز کے ذریعے طے کیا اُن کے نو آزاد جمہوری ملک کا آئین صدارتی اور وفاقی ہو گا۔۔۔ تب سے اب تک وہی ایک نظام اور اس کی بنیادوں پر فروغ پانے والی جدید دور کی سب سے خوشحال ، سب سے طاقتور اور دنیا کے کونے کونے میں اثر و رسوخ رکھنے والی ریاست اپنی کامیابی کے جوہر دکھا رہی ہے۔۔۔ اس دوران میں اس آئین کے اندر کئی ترمیمات کی گئیں لیکن آئین میں طے کیے جانے والے طریق کار کے تحت یعنی اراکین کانگریس کی دو تہائی اکثریت کے اتفاق رائے کے ساتھ کسی غیر آئینی طاقت کے دباؤ کے نتیجے میں نہیں۔۔۔ نئے ادارے مثلاً نیشنل سکیورٹی کونسل اور ہوم لینڈ سکیورٹی بھی متعارف کرائے گئے جو آئینی حدود کے اندر رہ کر اپنی اپنی کارکردگی دکھا رہے ہیں۔۔۔ ان 240 برسوں کی مدت میں ریاست ہائے متحدہ امریکہ کا جغرافیائی حجم پھیل کر کہیں سے کہیں چلا گیا ہے اور جن 13 ریاستوں کے اتحاد کے ساتھ اس ملک نے اپنی زندگی کا آغاز کیا تھا اُن کی تعداد بڑھ کر 52 یعنی روز اول کے مقابلے میں چار گنا ہو چکی ہے۔۔۔ اس دوران میں اس ملک کو کئی چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑا جس میں 19 ویں صدی کے وسط میں خانہ جنگی کو خاص اہمیت حاصل ہے۔۔۔ اندیشہ تھا ٹوٹ جائے گا۔۔۔ مگر اس ملک نے اپنے ایک مقبول ترین منتخب صدر ابراہام لنکن کی جان کی قربانی تو دے دی لیکن اپنے آئینی ڈھانچے اور صدارتی و وفاقی نظام حکومت پر آنچ نہ آنے دی۔۔۔ 1789ء میں ریاست فلا ڈیلفیا میں منعقد ہونے والے جس کنونشن کے شرکاء نے آئینی ڈھانچے کو آخری شکل دی انہیں Founding Fathers یعنی بانیان امریکہ کا نام دیا جاتا ہے۔۔۔ آج بھی اگر اس ملک میں آئین کی کسی شق کی تشریح پر کوئی تنازع اُٹھ کھڑا ہو خواہ کانگرس کے اندر یا اعلیٰ تر عدالتوں کے سامنے تو پہلا سوال یہ پوچھا جاتا ہے جن بانیان ریاست نے اس دفعہ کو شامل کیا تھا، ان کے ذہنوں میں اس کی کیا تشریح پائی جاتی تھی اور وہ اس سے کیا مراد لیتے تھے۔۔۔ وہیں سے روشنی حاصل کرنے کے بعد بات آگے چلتی ہے اور زیر بحث دفعہ کے اصولی اور اطلاقی معنی کا تعین کیا جاتا ہے۔۔۔ امریکہ کی تقریباً ہر یونیورسٹی ، ہر تھنک ٹینک ادارے، کانگریس کے دونوں ایوانوں کے اندر اور سپریم کورٹ کے سامنے یہاں تک کہ اخبارات و جرائد میں مختلف مواقع پر زور دار آئینی مباحث اُٹھائے جاتے ہیں۔۔۔ کئی ایک پر فیصلہ ہو جاتا ہے اتفاق رائے وجود میں آجاتا ہے ، کئی پر نہیں مگر وہ کتاب آئین جس کے اند رامریکہ کے صدارتی و وفاقی نظم مملکت کے بنیادی خدو خال طے کیے گئے ہیں۔۔۔ ہمیشہ غیر متنازع رہتی ہے۔۔۔ یہ سوال بھی شاید کم کسی جانب سے اٹھایا گیا ہو چونکہ ہمارے آباء و اجداد کے اصل ملک برطانیہ میں پارلیمانی جمہوری نظام رائج ہے ہم نے اس کی جگہ صدارتی ڈھانچہ کھڑا کر کے بہت بڑی غلطی تو نہیں کی اور کیا ہمیں اپنی اصل کی جانب لوٹ نہیں جانا چاہیے۔۔۔ ایسی بحث اگروہاں کبھی ہوئی ہے تو اسے اکیڈمک سے زیادہ وقعت کبھی نہیں دی گئی اور کسی بھی جانب سے امریکہ کے صدارتی نظام کو پارلیمانی میں تبدیل کرنے کی کوئی تحریک پیدا ہوئی نہ کسی نے امریکی کتاب دستور کو جو قوم کی متفق علیہ دستاویز سمجھی جاتی ہے اس لحاظ سے متنازع بنانے کی جسارت کی ہے۔۔۔ وہاں کی فوج کو دنیا کے ہر جمہوری ملک کی طرح ایک ماتحت ادارے کا درجہ حاصل ہے لہٰذا امریکی عسکری اداروں کے کسی خفیہ یا ظاہری گوشے کی جانب سے آئین مملکت کی اصابت اور حرمت کا سوال نہیں اٹھایا جاتا۔۔۔ وہاں پر حکومت اور نظام کا جو تسلسل پایا جاتا ہے اسے بھی اس ریاست کی بے پناہ کامیابیوں کی اہم وجوہ میں سے ایک قرار دیا جاتا ہے۔۔۔ سیدھے الفاظ میں اس کا مطلب یہ ہے کہ جب قومیں آگے بڑھنے کی خاطر باقاعدہ سوچ سمجھ کر کسی ایک لائحہ عمل پر اتفاق رائے حاصل کر لیتی ہیں اور اس سے متفق علیہ دستاویز قرار دے کر اپنی زندگی کا آغاز کرتی ہیں تو پھر ان کا کام منزل کی جانب گامزن رہنا ہوتا ہے، پیچھے مڑ کر دیکھنا نہیں۔۔۔ امریکیوں نے طے کر لیا کہ وہ صدارتی جمہوری نظام حکومت کو حرز جاں بنائیں گے ، اس کے بعد کسی دوسری رائے نے ان کی نیندیں حرام نہیں کیں۔۔۔ اس طرح جنم لینے والی قومی ہم آہنگی سے بھرپور فائدہ اٹھایا اور بلا وجہ تنازعات کھڑے کر کے اپنے دستور عمل پر حرف نہیں آنے دیا۔۔۔ فکر و عمل کی اس یکسوئی نے انہیں کامیابی کی منازل طے کرنے میں بہت مدد دی۔

اسی طرح مملکت برطانیہ نے جسے پارلیمانی جمہوریتوں کی ماں قرار دیا جاتا ہے ،1215ء میں کاغذ کے ایک ٹکڑے پر میگنا کارٹا نامی ایک شاہی فرمان کے ذریعے جس میں بادشاہ نے اپنے کچھ اختیارات مقامی نوابوں کو منتقل کر دیے تھے اپنے آئینی سفر کا آغاز کیاجو رفتہ رفتہ کئی منازل طے کرتا ہوا موجودہ عہد کے مثالی پارلیمانی جمہوری نظام کی شکل اختیار کر گیا ہے ، اس کا سب سے بڑا معجزہ یہ ہے کہ غیر تحریری ہے اور اس پر

مستزاد یہ کہ برطانیہ کے پارلیمانی جمہوری نظام کو اپنی Colonial تاریخ کی وجہ سے جتنے دھچکے کھانے پڑے ہیں یہ نظام غیر تحریر ی ہونے کے باوجود وقت کے ہچکولے برداشت کرتا رہا ہے۔۔۔ چیلنجوں سے نبرد آزما ہوتا رہا ہے۔۔۔ پارلیمانی کا پارلیمانی رہا اور اس کے جمہوری چہرے پر آنچ نہ آنے دی گئی۔۔۔ وہاں بھی یہ نکتہ اٹھایا جا سکتا تھا کہ ہمارے کوکھ سے جنم لینے والی ایک ریاست یعنی امریکہ میں پارلیمانی کی جگہ صدارتی نظام اختیار کرکے ترقی اور کامیابی کی شاہراہوں پر ہم سے کہیں آگے نکل گیا ہے ، کیوں نہ ہم بھی اس کی مثال کی پیروی کریں اور صدارتی نظام کو اپنا کر کامیابی کی منازل طے کریں مگر اس طرح کے سوالات برطانیہ میں پیدا ہونے ہی نہیں دیئے گئے اور اگر کسی نے اس نکتے پر بحث کرنے کی کوشش کی تو اسے غیر سنجیدہ سمجھ کر نظر انداز کر دیا گیا۔۔۔ امریکہ میں خواہ کتنی چمک دمک پائی جاتی ہو، برطانیہ والوں کو اپنے اصل نظام کی حقانیت پر یقین ہے اور ان کا کمال ملاحظہ کیجیے کہ اپنے دستور کو غیر تحریری شکل میں رکھنے کے باوجود اس کی پارلیمانی اصل اور نقل میں کوئی فرق نہیں آنے دیا۔۔۔ نتیجہ یہ ہے کہ دنیا کے کئی ممالک نے جن میں امریکہ کا ہمسایہ کینیڈا ، دور دراز کے آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ اور برصغیر میں پاکستان بھارت سمیت سری لنکا و نیپال وغیرہ شامل ہیں ، اُس کے غیر تحریری نظام کو تحریری شکلوں میں دے کر اپنائے ہوئے ہیں۔۔۔ دوسرے الفاظ میں برطانیہ کا آئین کسی تحریری مسودے سے عاری ہونے کے باوجود قوم کو اتنا عزیز ہے کہ اس نے اس کی کسی شق کی کھلم کھلا خلاف ورزی کو ہمیشہ قومی گناہ شمار کیا ہے۔۔۔ قومی اتفاق رائے کی حرمت کو برقرا ررکھا ہے۔۔۔ اسے تبدیل کر کے صدارتی یا کسی اور نظام میں بدلنے کے بارے میں سوچا بھی نہیں۔۔۔ایک کامیاب جمہوری ملک کے طور پر برطانیہ کی ساکھ پوری آن بان کے ساتھ قائم ہے۔۔۔ کم و بیش یہی صورت حال ہمارے ہمسایہ ملک بھارت کی ہے جس نے اگست 1947ء کی اسی شب جس میں ہم آزاد ہوئے تھے ، اپنے سفر زندگی کا آغاز کیا تھا۔۔۔26 جنوری 1952ء کو اس ملک کی دستور ساز اسمبلی نے پارلیمانی وفاقی طرز حکومت پر مبنی آئین تیار کر کے نافذ کر دیا، تب سے اب تک پوری قوت اور سطوت کے ساتھ جاری و ساری ہے۔۔۔ اس دوران میں 70 کی دہائی میں اندرا گاندھی نے ایمرجنسی لگا کر اپنے آئین کو تقریباً معطل کر کے رکھ دیا مگر اُسے منہ کی کھانا پڑی اور اتنی بڑی انتخابی شکست سے دو چار ہوئیں کہ اس کی مثال ڈھونڈنا مشکل ہے۔۔۔ ان کی جماعت کانگریس اس کے بعد بھی برسر اقتدار آئی مگر آئین سے چھیڑ چھاڑ کے گناہ کی پاداش میں کانگریس کو دوبارہ پہلے والا عروج نصیب نہ ہو سکا۔۔۔ کہا جاتا ہے اور یہ رائے بھارت کے اندرثقہ مبصرین کی ہے اور باہر بھی کہ پاکستان نے تو آئین توڑنے کا مزہ ملک کے دو لخت ہونے کے نتیجے میں چکھ لیا۔۔۔ مگر بھارت میں ایک مرتبہ بھی ایسا ہو جاتا تو آج کا بھارت ایک یا دو نہیں کئی منقسم یا منتشر ریاستوں کی شکل میں بٹ گیا ہوتا۔۔۔ اُس کا اتحاد خاک میں مل چکا ہوتا۔۔۔ ان تمام چیلنجوں سے عہدہ بر آ ہونے کے باوجود بھارت میں آج تک کسی بھی سنجیدہ طبقے کی جانب سے سوال نہیں اٹھایا گیا کہ ملک کے پارلیمانی نظام حکومت کو بدل کر صدارتی کو اپنا لیا جائے۔۔۔ وہاں کا پارلیمانی نظام قوم کے بنیادی سیاسی عقیدے کی حیثیت رکھتا ہے۔۔۔ کوئی سنجیدہ حلقہ اس کے ساتھ چھیڑ خانی کو مناسب نہیں سمجھتا۔۔۔

پاکستان کا باوا آدم مگر نرالہ ہے ۔۔۔ یہاں کے منتخب عوامی نمائندوں کو تین مرتبہ 1954ء، 1956ء اور 1973ء میں آئین مملکت کی تدوین اور تشکیل کا موقع ملا ، ہر بار پارلیمانی وفاقی نظام کے حق میں فیصلہ دیا گیا۔۔۔ پاکستان کو اسلامی جمہوری ریاست ہونے کا امتیاز ملا لیکن ہر مرتبہ کسی طالع آزما نے اسے پاؤں کی ٹھوکر سے اڑا کر اس کی جگہ من مرضی کا صدارتی نظام لانے کی سعی لاحاصل کی ۔۔۔ قوم کے اتفاق رائے کو نہ صرف نظر انداز کیا بلکہ اسے بوٹوں کی نوک پر رکھ کر حقارت کے ساتھ کچل دینے کوشش کی ۔۔۔ یہاں یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ ملک ہمارا طالع آزماؤں کی اسی روش کی بنیاد پر دو ٹکڑے ہو گیا۔۔۔ اس کے باوجود سمجھ میں نہیں آتا کہ ہماری مقتدر قوتیں قوم کے 1973ء کے متفق علیہ پارلیمانی آئینی نظام کو بدل کر اس کی جگہ مرضی کا اور اپنے آمرانہ مزاج کا آئینہ دار صدارتی نظام کیوں لانا چاہتی ہیں۔۔۔ مسلسل آگے کی جانب قدم رکھنے کے بجائے ہم نے پیچھے کی جانب دیکھنے کی روش کیوں اپنا رکھی ہے؟ واضح رہے موجودہ 1973ء کے پارلیمانی وفاقی آئینی ڈھانچے کو قوم کا بھرپور اتفاق رائے حاصل ہے مگر کچھ خفیہ گوشوں کی جانب سے جو اپنے آپ کو بہت طاقتور سمجھتے ہیں (اور ہیں بھی لیکن عوامی مینڈیٹ سے محروم ہیں) ایک بار پھر یہ بحث چھیڑ دی گئی ہے کہ پارلیمانی کی جگہ صدارتی نظام لے آیا جائے۔۔۔ جو طاقتور عناصر ملک کا آئینی ڈھانچہ تبدیل کر کے رکھ دینا چاہتے ہیں اُن کے اندر اتنی جرأت ہرگز نہیں پائی جاتی کہ کھل کر سامنے آئیں اور اپنے نظریات کا اظہار کریں کیونکہ اُن کی کوئی نمائندہ حیثیت نہیں۔۔۔ اس لیے میڈیا کے چند نمائندوں کے ذریعے دن رات اپنے خیالات پھیلانے پر لگے ہوئے ہیں۔۔۔ خوبیاں اور خامیاں دونوں نظاموں کے اندر پائی جاتی ہیں لیکن پاکستان کے اندر وہ عناصر جو صدارتی نظام کے قائل ہیں۔۔۔ ان کی غالب اکثریت اس کی آڑ میں خفیف طریقے کے ساتھ آمریت مسلط کرنے کی خواہش اور ارادہ رکھتی ہے دوم اگر آپ قوم کو اسی بحث میں الجھائے رکھیں گے اور اسے آج پارلیمان کل صدارتی کے جھنجھٹ میں پھنسائے رکھیں گے تو خلفشار ختم ہونے کا نام نہیں لے گا۔۔۔ منزل کھوٹی ہوتی جائے گی اور ہم نظاموں کی گرداب سے باہر نہ نکل پائیں گے۔۔۔ 1971ء میں پاکستان کا اتحاد ایسی بحثوں اور اقدامات کی نذر ہو گیا مگر یار لوگوں کو پروا نہیں ۔۔۔ ایوب، ضیاء الحق اور پرویز مشرف نے بزور طاقت صدارتی نظام مسلط کرنے کی کوششیں کیں ، ناکام رہے۔۔۔ لیکن صبر ان کے وارثین اس کے باوجود نہیں آ رہا۔۔۔ یہ لوگ ڈنڈے کے زور پر حکومت کرنے کے عادی رہے ہیں ، اب اسی ایک ڈنڈے کی طاقت کے بل بوتے پر نظم مملکت کا تیا پانچہ کر کے رکھ دینے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔۔۔ یہ سلسلہ اور اسی طرح کے مباحث اگر جاری رہے تو پاکستان کے افراد قوم نہ صرف ذہنی یکسوئی سے محروم ہو جائیں گے نشان منزل کھو دیں گے بلکہ آئینی ڈھانچوں کے اندر بار بار تبدیلی کی وجہ سے دنیا کی نظروں میں پازیچۂ اطفال بنا کر رکھ دیئے جائیں گے۔۔۔ ذہنی انتشار کو جو فروغ ملے گا سو علیحدہ ۔۔۔ حکومتوں اور اہل دانش کا کرنے کا یہ کام نہیں کہ ان کی توجہ ہر دم آگے بڑھتے رہنے کی بجائے پیچھے کی طرف لگی رہے۔۔۔ پاکستان کو اس وقت سب سے زیادہ ضرورت نقشۂ عالم پر اپنے آزاد اور خود مختار وجود کو تسلیم کرانا ہے،معاشی خود کفالت حاصل کرنی ہے ، عام آدمی کی زندگیوں کو اقتصادی خوشحالی سے روشناس کرانا ہے نہ کہ ہمارا وزیر خزانہ کشکول پکڑ کر ملک ملک بھیک مانگتا پھرے اور پیچھے بیٹھے اُن کے کارخانہ حکومت کی مشینری کو چابی بھرنے والے عناصر نے پارلیمانی کی جگہ صدارتی نظام لانے کی بحث چھیڑ رکھی ہو ۔۔۔ یہ روش ، یہ طرز عمل ملک کو کس گڑھے میں لے جا کر پھنک دے گا اس کا اندازہ لگانا چنداں مشکل نہیں مگر کون ہے جو آگے بڑھ کر ان کی زبانوں کو لگام دے اور قوم کی توجہات کو در پیش اصل مسائل کے حل پر مبذول کرے۔


ای پیپر