فرنگی مدنیت کی فتوحات
13 اپریل 2019 2019-04-13

چلیے ایک قضیہ تو حل ہوا۔ بڑی لے دے رہی۔ گھوٹکی سے دو ہندو لڑکیوں کا قبولِ اسلام کے بعد مسلمان لڑکوں سے نکاح ہو گیا۔ سرحد کے آرپار گرما گرمی شروع ہو گئی۔ اِدھر این جی اوز کی تشویش، اُدھر بھارتی وزیرخارجہ کی تفتیش۔ ہر ممکنہ کوشش رہی کہ لڑکیاں کم عمر ثابت ہو جائیں۔ نہ ہو سکیں۔ طبی ٹیسٹ بھی ہو گئے۔ یہاں تک کہا کہ لڑکیاں نفسیاتی عارضے سٹاک ہوم سنڈروم میں مبتلا ہیں جس میں قیدی، اپنے صیاد (قید کرنے والے) کی محبت میں گرفتار ہو جاتا ہے۔ تاہم تمام تر احتیاط بھری تحقیقات کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ نے فیصلہ سنا دیا کہ لڑکیاں اپنی آزاد مرضی سے (لڑکیوں کے بیان کے مطابق اسلامی تعلیمات سے متاثر ہو کر) مسلمان ہوئی ہیں، لہٰذا انہیں ان کے شوہروں کے پاس بھیج دیا جائے۔ رہا سٹاک ہوم سنڈروم، تو اصلاً ہماری حکومتیں 2001ء سے آج تک امریکہ سے محبت کے نفسیاتی عارضے میں مبتلا ہیں جس نے ہمیں سیاسی، معاشی قید میں جکڑ رکھا ہے۔ حال یہ ہے کہ ’گوشے میں قفس کے مجھے آرام بہت ہے‘ کی ذہنی کیفیت میں مبتلا، اب رہائی ملے گی تو مر جائیں گے، والا حال ہو چکا ہے۔ افغانستان آزاد ہونے کو ہے۔ امریکہ اس جنگ کے شکنجے سے نکل بھاگنے کو بے قرار ہے۔ اس کے چلے جانے کے تصور سے ہی ہماری جان پر بنی ہوئی ہے۔ چلیے ابھی تو نیٹو سپلائی بھی جاری ہے۔ ہم اپنے صیاد کی کچھ نہ کچھ خدمت کر رہے ہیں۔ ڈالروں سے مٹھی گرم ہو رہی ہے۔ یہ چلے گئے تو ہمارا کیا بنے گا! اسی کا نام سٹاک ہوم سنڈروم ہے! ادھر سرحد پار افغانستان کا منظر دیکھیں تو ایک حیرت کدہ ہے۔ 18 سالہ جنگ سے طالبان برآمد ہوئے ہیں تازہ دم، سرخرو! ایک طرف مذاکرات کی میز سجی ہے، دوسری جانب جنگ جاری ہے۔ بگرام ایئربیس پر (کابل سے نزدیک) 4 امریکی طالبان نے مار دیئے۔ سرحدی چیک پوسٹ پر 20 افغان فوجی ہلاک، 8 زخمی، 8 لاپتا۔ چیک پوسٹ پر قبضہ کر لیا۔ سمنگان میں افغان سپاہی، دو ساتھیوں کو نشانہ بنا کر طالبان سے جا ملا۔ سرپل میں بھی فوجی اڈے پر حملہ کر کے 5 اہلکار ہلاک کر دیئے۔ افغانستان کے بڑے حصے پر ان کا حکم چلتا ہے۔ اپنے حدودِکار و اقتدار میں اسلامی نظام چل رہا ہے۔ امن و امان قائم کر رکھا ہے۔ 18 سالہ جنگ میں پسِ پردہ حکومتی ڈھانچہ (Shadow حکومت) چلتی رہی کسی نہ کسی صورت۔ امیر، شوریٰ، عدلیہ، عسکری کمیشن، عسکری اور عوامی امور کی نگرانی کرتے رہے۔ شدید ترین حالات میں بھی استقامت کے ساتھ صوبائی، ضلعی نظام درپردہ موجود تو رہا۔ سو ملا عمرؒ نے جو کہا تھا کہ ’امریکہ اور اس کے اتحادی جان لیں کہ امارتِ اسلامیہ ایسا نظام نہیں کہ اس کا امیر، سابق بادشاہ ظاہر شاہ کی طرح روم چلا جائے گا اور فوج تمہارے سامنے ہتھیار ڈال دے گی۔ یہ جہاد کے منظم محاذ ہیں۔ اگر تم شہروں اور دارالحکومت پر قابض ہو گئے اور اسلامی حکومت گرا دو گے تو مجاہدین دیہاتوں، پہاڑوں میں چلے جائیں گے۔ پھر تم کیا کرو گے؟ کمیونسٹوں کی طرح مارے جاؤ گے؟‘ سو ملا عمرؒ روم تو نہ گئے، پامردی سے جنگ لڑتے رہے۔ امریکی بیسز کے قریب جنگ رواں کر کے بیٹھے دن رات قرآن پڑھتے، معین وقت پر اللہ کے ہاں سکون سے جا سوئے! بات پوری ہو گئی۔ کمیونسٹ روس والا حشر آج امریکہ کا ہے۔ آخر ہوا کیا؟ بش نے کہا تھا: ’دنیا میں کوئی جگہ ایسی نہیں جہاں تم چھپو اور ہم تمہیں ڈھونڈ نہ سکیں‘۔ سو بڑھک کا انجام دیکھئے! ملا عمرؒ نے اپنی قوم اور مجاہدین سے کہا تھا: ’اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اللہ کے لئے امریکہ اور ایک چیونٹی دونوں برابر ہیں‘۔ سو ’سمٹ کر پہاڑ ان کی ہیبت سے رائی‘ تو ہوئے! ایک ہم ہیں کہ ہر ایک سے دبنے کے لئے ادھار کھائے بیٹھے ہیں۔ شعبان کا مہینہ، ہمیں ہماری اسلامیت لوٹانے، یاد دلانے چل رہا ہے، ماہِ رمضان کی تیاری کا مہینہ۔ ہمارا حال یہ ہے کہ بھارت کے خلاف اللہ نے کامیابی ہماری جھولی میں ڈال دی۔ مگر ہماری ہندونوازی کی خُو کم نہ ہوئی۔ بین المذاہب ہم آہنگی کے نام پر اس کے بعد وفاقی وزارتِ مذہبی امور کے زیراہتمام اسلام آباد آرٹ کونسل میں ہندو مذہبی رقص کا رنگ برنگا منظر سٹیج پر دھرا ہے۔ ہم نے تو کبھی ہندو، عیسائی اقلیتوں کو مذہبی ہم آہنگی کے لئے عیدالفطر، عیدالاضحی مناتے نہیں دیکھا۔ عجب مناظر رہتے ہیں کہ آئے روز اکثریت، اقلیتوں کے دن مناتی ہلکان ہوئی رہتی ہے۔ تحریف شدہ شرک آلود ادیان میں ہم اپنی توحیدی وحدت کیونکر کھو سکتے ہیں؟ کہاں ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبروں کی وراثت کے امین، خاتم الانبیاء، امام الانبیاء کی امت اور کہاں صیادوں کا مسلط کردہ وحدتِ ادیان کا فلسفہ! کہاں شفاف کوثروتسنیم کے پانیوں سے دھلی تہذیب، (روح الامین، جبرئیلؑ کی لائی ہوئی) اور کہاں ڈارون کے توہمات کے جنگلوں سے برآمد شدہ مغربی سیکولرازم۔ چہرہ روشن اندرون چنگیز سے تاریک تر۔ یا گائے کے تقدس پر انسانی خون ارزاں کرنے والی بھارتی سیکولرازم میں اپنی شناخت گھبرا کر گم

کر دینے کے فلسفے بگھارنا! بھارت کی طرف سے ہمیں یوں بھی سنگین خطرات وخدشات لاحق ہیں۔ اس تناظر میں ملکی یک جہتی اتفاق و اتحاد، دشمن کے مقابل۔ اور اللہ کے حضور عجزونیاز دونوں لازم ہیں۔ نیز جلد یا بدیر افغانستان میں طالبان کو آنا ہی ہے۔ زمینی حقائق اور آسمانی حقائق (احادیث باب الفتن)یہی بتاتے ہیں۔ امریکہ سات سمندر پار لوٹ ہی جائے گا۔ ہمسائے بدلے نہیں جا سکتے۔ سو مشرقی ہمسائے سے چوکس رہنا اور مغربی ہمسائے سے تلافئ مافات کی سعی کرنا۔ وہ کشادہ دل، وسیع الظرف، بااصول اور ایمان سے مالامال ہیں۔ بھارت کے مقابل ہماری پشت پناہی کا ایک مضبوط عنصر ہیں۔ خارجہ پالیسی سدا امریکہ دوستی کے گرد گھومتی دائروں کے لاحاصل سفر میں مبتلا رہے گی یا ہم صبح کے بھولے شام گھر لوٹنے کی ضرورت محسوس کرتے ہیں؟ ۔

ہمارا حال تو یہ ہے کہ ایک طرف ریاست مدینہ کا عنوان دیتے ہیں اپنے طرزِ حکمرانی کو، دوسری طرف 12 اپریل سے نیشنل کونسل آف آرفس اسلام آباد میں دو روزہ میوزک میلہ، شعبان میں ہونے چلا ہے۔ قبل ازیں کوکا کولا کی تشہیری مہمات کے تحت بڑے شہروں میں راگ رنگ میلے ٹھیلوں کے پے در پے اہتمام (ایک ڈوبتی معیشت جو سودی جان لیوا قرضوں کی بیساکھیوں پر کھڑی ہے) ملکی چیلنجز سے کلیتاً بے نیاز، بابر بہ عیش کوش کے مناظر دکھاتے ہیں۔ نوجوان نسل کو تعلیم، محنت، سنجیدہ علمی سرگرمیوں سے دور ہر وقت ہاؤ ہو (کھیل یا رقص و سرود) میں مبتلا کئے رکھنے کے مسلسل سامان ہیں۔ امتحانوں میں نقل، بوٹی مافیا، گرتے تعلیمی معیار کا سامنا ہے۔ عیش کوش نوجوان لڑکے لڑکیاں فارم ہاؤسز اور ہوٹلوں میں ڈانس پارٹیوں اور منشیات میں دھت پائے جا رہے ہیں۔ (آئے دن کی خبریں) لڑکیاں، لڑکے ماڈلنگ میں آسان پیسہ، سستی شہرت تلاش کرتے پھرتے ہیں۔ حال ہی میں کراچی سے ماڈلنگ کے لئے لاہور آئی لڑکی کو تین لڑکے تشویشناک حالت میں ہسپتال چھوڑ کر فرار ہو گئے۔ یہ ہے آزادئ نسواں اور ترقئ نسواں کی آخری منزل۔ ایک رنگساز کی آزاد بیٹی جو شہر شہر تنہا گھومتی (کھانا گرم کرنے اور موزہ ڈھونڈ کر دینے کے بندھنوں سے آزاد کی گئی) سہانے خواب دیکھتی آوارہ لڑکوں اور منشیات کی بھینٹ چڑھ گئی۔ نوجوانوں کا کوئی پرسانِ حال نہیں۔ حرص و ہوس کے بازار گرم ہیں۔ خاندان اجڑ رہے ہیں۔ حکومت سیاسی رسہ کشی، کھینچاتانی سے فرصت نہیں پا رہی کہ پلٹ کر دیکھے۔ ’تبدیلی‘ کے عنوان سے تعمیر تو کیا ہوگی، تجاوزات کے نام پر شہر شہر کھنڈرات تیار ہیں۔ اسلام آباد بھی کئی جگہ جنگ زدہ علاقے کا نقشہ پیش کر رہا ہے! مسلم ممالک میں معاشرتی انتشار بویا جا رہا ہے ترقی آزادی کے نام پر جو معاشروں کو دیمک بن کر چاٹ رہا ہے۔ اندر سے کھوکھلا کر رہا ہے۔ اردو نیوز جدہ کی خبر ہے کہ سعودی عرب میں گزشتہ 18 ماہ میں ایک لاکھ 9 ہزار علیحدگیاں، شادی شدہ جوڑوں میں واقع ہوئی ہیں۔ خودسری، نافرمانی اور دیوانی شاپنگ کے شوق کا شاخسانہ۔ قوم نے ڈھونڈ لی فلاح کی راہ!نتیجتاً اب مغربی ممالک کی طرح ہمارے ممالک بھی نفسیاتی امراض اور ڈپریشن کی آماجگاہ بن چکے ہیں۔ کچھ تو سوچئے! کچھ تو کیجئے !

بے کاری و عریانی و مے خواری و افلاس

کیا کم ہیں فرنگی مدنیت کے فتوحات


ای پیپر