تنگ آمد ، بجنگ آمد
13 اپریل 2019 2019-04-13

ایک طرف تو وزیرِخاجہ شاہ محمود قریشی کے مطابق مصدقہ اطلاعات ہیں کہ بھارتی وزرِاعظم نریندرمودی نے بھارتی فوج کو پاکستان پر حملہ کرنے کی اجازت دے دی ہے اور فوج نے پاکستان کے اندر مخصوص ٹارگیٹس کو نشانہ بنانے کی پلاننگ بھی کر لی ہے جبکہ دوسری طرف کنٹینر پر چڑھی تحریکِ انصاف اپوزیشن کو متواتر للکار رہی ہے۔ محترم وزیرِاعظم اپنے ہر خطاب میں اپوزیشن پر کرپشن کے الزامات لگاتے ہوئے متواترکہتے رہتے ہیں کہ کسی کرپٹ کو نہیں چھوڑوں گاجس سے حکومت اور اپوزیشن میں دوریاں بڑھتی جا رہی ہیں ۔ ایسے مخدوش حالات میں زندہ قومیں سیسہ پلائی دیوار بن جاتی ہیں لیکن تحریکِ انصاف اپنے ہی ہاتھوں نفرت ونفاق کے ایسے بیج بو رہی ہے جس کا انجام ملک وقوم کے لیے نہ حکومت کے لیے۔ یہ بجا کہ کرپشن کا ناسور وطنِ عزیز کی رَگ رَگ میں سما چکا لیکن اِس کا حل نفرتوں کو ہوا دینا تو نہیں۔ یہ کام تفتیشی اداروں کا ہے یا پھر ہماری عدالتوں کاجو پہلے سے کہیں زیادہ متحرک اور اِس ناسور پر قابو پانے کے لیے ہمہ وقت فعال ہیں۔ اِن میں نَیب جیسا ادارہ بھی شامل ہے جو جانبداری کا الزام لگنے کے باوجود انتہائی متحرک ہے۔ ایسے میں چور چور اور ڈاکو ڈاکو کا شور مچا کر نفرتوں کو بڑھانے کی کیا ضرورت ہے۔

وزیرِاعظم سمیت ہر کہ ومہ شور مچاتا ہوا کہ کسی کو این آر او نہیں ملے گا۔ سوال مگر یہ کہ این آر او مانگا کس نے ہے اور دینے کی طاقت کس میں۔ جہاں تک ہمارے علم میں ہے این آر او دینے کا اختیار وزیرِاعظم کے پاس ہے نہ اُن کے حواریوں کے پاس۔ پھر جو ’’ سودا ‘‘اُن کی دُکان پر موجود ہی نہیں، اُس کا شور کیوں؟۔ این آراو آمرِ مطلق اور ہمہ مقتدر پرویز مشرف نے ایک ڈیل کے تحت پیپلزپارٹی کے ساتھ کیا جسے عدلیہ بحالی کے بعد سپریم کورٹ نے ’’پھڑکا‘‘ کے رکھ دیا۔ اب پاکستان میں نہ تو مارشل لاء ہے اور نہ ہی کوئی آمر جو این آر او کر سکے۔ ہمارے کپتان صاحب ’’ایویں خوامخواہ‘‘ اپنے آپ کو آمرِمطلق بنا کر پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

دوسری بات یہ کہ اپوزیشن بار بار کہہ رہی ہے کہ این آر او مانگا کس نے ہے؟۔ تحریکِ انصاف کے حلقوں کی جانب سے تو ابھی تک اِس کا جواب نہیں آیا البتہ لال حویلی والے ’’لال بجھکڑ‘‘ نے ضرور کہا کہ اُس نے میاں شہبازشریف کو این آر او مانگتے دیکھا۔ وہ بھی یہ بتانے سے قاصر کہ میاں شہبازشریف کس سے این آر او مانگ رہے تھے۔دروغ بَر گردنِ راوی جب شیخ رشید سے اُس کے قریبی حلقوں نے ’’اَندرکھاتے‘‘ یہی سوال کیا تو اُس کا جواب تھا کہ اُس کا فال نکالنے والا ’’خبری طوطا‘‘ یہ خبر لایا ہے۔ جب پوچھا گیا کہ میاں صاحب کس سے این آر او کی بھیک مانگ رہے تھے تو شیخ رشید نے فرمایا کہ اُس کا طوطاصرف سُن سکتا ہے، دیکھ نہیں سکتا۔ یہ لال حویلی والا بھی بڑی خاصے کی شے ہے۔ اُس کے اپنے

پاس تو تانگے کی سواریاں بھی نہیں پھر بھی وہ ’’بقلم خود‘‘ ایک سیاسی جماعت کا سربراہ اور اپنی کاسہ لیسیوں کے زور پر آٹھ مرتبہ وفاقی وزیر بننے والا۔ ہم ہمیشہ اُسے ’’جماں جنج نال‘‘ سمجھتے رہے اور سمجھتے ہیں کیونکہ اُسے اپنی ’’بندوق‘‘ تاننے کے لیے ہمیشہ کسی نہ کسی کا کندھا درکار ہوتا ہے۔ کائیاں وہ ایسا کہ عمران خاں جیسے شخص کو اپنے دام میں لے آیا اور جس کو خاں صاحب اپنا چپراسی تک رکھنے کو تیار نہ تھے، اب وہ اُن کے قریب تَر اور وفاقی وزیر ریلوے۔ پرویزمشرف کے دَور میں ہونے والے انتخابات میں اُس نے اِس وعدے پر راولپنڈی کی قومی اسمبلی کی 2 نشستوں سے الیکشن لڑا کہ وہ نشستیں جیت کر میاں نوازشریف کے قدموں میں رکھ دے گا لیکن الیکشن جیت کر وہ پرویزمشرف کے قدموں میں آن گرا۔

پاکستانی سیاست میں شیخ رشید کا کردار ہمیشہ زیرِبحث رہے گا۔ وہ اپنی بدزبانی اور بدکلامی میں مشہور تو تھے ہی لیکن اب وہ گلی کے غنڈوں جیسی زبان بھی استعمال کرنے لگے ہیں۔ اُنہوں نے بلاول بھٹو زرداری کو ’’بِلّورانی‘‘ کہہ کر مخاطب کیا جس پر پیپلزپارٹی کے ایک معروف رَہنماء نے کہا کہ شیخ رشید اپنی زبان پر کنٹرول کریں۔ اگر جیالوں کو جوش آگیا تو اُس کے سَر پر وِگ رہے گی نہ جسم پر کپڑے۔ 30 ستمبر 1916ء کو جب تحریکِ انصاف کی ریلی نے جاتی اُمرا جانے کا قصد کیا تو یہ شیخ رشید ہی تھے جو جلتی پر تیل ڈالتے رہے۔ اُنہوں نے کپتان کو مخاطب کرکے کہا کہ وہ صرف حکم دیں ہم جاتی اُمرا کی اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے لیکن کپتان نے سُنی اَن سنی کر دی اور جاتی اُمرا تک جانے کی بجائے اڈا پلاٹ پر ہی اپنا احتجاج ریکارڈ کروا کے واپس آگئے۔ اڈہ پلاٹ پر شیخ رشید کی تقریر غلاظتوں کا منبع تھی۔ اُنہوں نے کہا ’’یہ مجمع اگر پیشاب کر دے تو جاتی اُمرا میں سیلاب آجائے‘‘۔ اڈہ پلاٹ پر اُن کے انکشافات انتہائی نامعقول۔ کہا کہ میاں نوازشریف بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کے ایجنٹ ہیں، ممئی حملوں کے بعد اجمل قصاب کی اطلاع بھی میاں صاحب نے ہی بھارت کو دی اور بھارتی وزیرِاعظم نریندرمودی نے میاں صاحب ہی کی خواہش پر سرجیکل سٹرائیک کی تاکہ 30 ستمبر کو اڈہ پلاٹ پر کیے جانے والے احتجاج کو سبوتاژ کیا جا سکے۔ ایسے نامعقول بیانات صرف شیخ رشید ہی دے سکتے ہیں، اور کوئی نہیں۔ آج محترم وزیرِاعظم عمران خاں کو نہ تو کوئی ’’را‘‘ کا ایجنٹ کہتا ہے اور نہ ہی ’’مودی کا یار‘‘۔ حالانکہ وہ بار بار امن کی خواہش کا اظہار بھی کرتے ہیں اور بھارت کے ساتھ مذاکرات پر بھی زور دیتے ہیں لیکن بھارت کی طرف سے کبھی مثبت جواب نہیں آیا۔ اب تو اُنہوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ نریندرمودی کے بھارتی انتخابات جیتنے پر تو کشمیر پر پیش رفت ممکن ہے، کانگرس کے جیتنے پر نہیں۔ مودی کی پاکستان اور اسلام دشمنی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں پھر بھی

میر کیا سادہ ہیں بیمار ہوئے جس کے سبب

اُسی عطار کے لڑکے سے دوا لیتے ہیں

اِس تمہید کا مقصد یہ ہے کہ جب کپتان کی جیب میں شیخ رشید، فوادچودھری اور بقول مظہر برلاس ’’عالم چنّا‘‘ جیسے کھوٹے سِکّے ہوں گے تو قوم خیر کی اُمید کیسے رکھ سکتی ہے۔ صرف یہ اصحاب ہی کیایہاں تو آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔ ایسے رَہنماؤں کی موجودگی میں صرف یہی دعا ہی کی جا سکتی ہے کہ اللہ تعالےٰ اِس ملک پر رحم فرمائے۔ ہمیں یہ بھی یقین کہ کپتان کے غصّے، نفرت اور غیرپارلیمانی الفاظ کے استعمال میں بھی ایسے ہی لوگوں کا ہاتھ ہے کیونکہ

کند ہم جنس با ہم جنس پرواز

کبوتر با کبوتر ، باز با باز

جب قومی رَہنماؤں کا یہ عالم ہو کہ قومی سیاست ذاتی نفرت اور مخاصمت میں ڈھل جائے اور اقتدار کی جنگ سر چڑھ کر بولنے لگے تو دشمن کے لیے اِس سے سنہری موقع اور کوئی نہیں ہوتا۔ بدقسمتی سے پاکستان میں یہی کچھ ہو رہا ہے اور اب تنگ آمد ، بجنگ آمد کے مصداق اپوزیشن جماعتیں بھی اکٹھی ہو رہی ہیں۔ مولانا فضل الرحمٰن ایک دفعہ پھر متحرک ہو چکے۔ اُنہوں نے میاں نوازشریف اور آصف زرداری سے ملاقات بھی کر لی۔ شنید ہے کہ اپوزیشن جماعتیں رمضان شریف کے بعد بھرپور احتجاج کے لیے پَر تول رہی ہیں۔ اگر اپوزیشن جماعتیں باہم شیروشکر ہو کر سڑکوں پر نکل آئیں تو تحریکِ انصاف کی حکومت کے لیے اُن کا مقابلہ کرنا ناممکن ہو جائے گا۔ خطرہ ہے تو صرف یہ کہ ایسی صورت میں کہیں جمہوری کتاب ایک دفعہ پھر بند نہ ہوجائے۔ سلگتا ہوا سوال یہ کہ قصور کس کا؟؟۔

سبھی جانتے ہیں کہ عام انتخابات کے فوراََ بعد مولانا فضل الرحمٰن نے پیپلزپارٹی اور نوازلیگ کے اکابرین سے بار بار کہاکہ دھاندلی زدہ الیکشن کے بعد پارلیمنٹ میں آنے کی بجائے سڑکوں کا رُخ کیا جائے لیکن ’’جمہوری نیّا‘‘ کو ڈگمگاتا ہوا دیکھ کر پیپلزپارٹی اور نوازلیگ نے پارلیمنٹ کا پلیٹ فارم ہی بہتر جانا۔ اِسی لیے ایم ایم اے کو بھی طوہاََ وکرہاََ پارلیمنٹ میں آنا پڑا۔ دونوں بڑی اپوزیشن جماعتوں (نوازلیگ اور پیپلزپارٹی) نے یہی بہتر جانا کہ تحریکِ انصاف کو موقع دیا جائے تاکہ ڈھول کا پول کھل جائے۔ پھر وہی ہوا جو اپوزیشن نے سوچ رکھا تھا۔ تحریکِ انصاف کے 8 جماعتی اتحاد نے پہلے 100دنوں میں ہی ثابت کردیا کہ ’’اِن تِلوں میں تیل نہیں‘‘۔ کپتان کے دعوے اور وعدے ہَوا ہوئے اور بالآخر اُنہیں کہنا پڑا کہ جو یوٹرن نہیں لیتا، وہ بڑا لیڈر نہیں بن سکتا۔ اب ہمارے ہاں یو ٹرن کو قانونی حیثیت حاصل ہو چکی۔ سوال یہ ہے کہ جس ’’ریاستِ مدینہ‘‘ کی بنیادیں یو ٹرن پر اُٹھائی جا رہی ہیں، وہ کیسی ہوگی اور اُس میں کیسا اسلام ہوگا۔ دیکھتے ہیں کہ نئے پاکستان کے دعویدار کون سی نئی ریاست تشکیل دیتے ہیں۔ فی الحال تو ہم اپنے رَہنماؤں سے دست بستہ یہی گزارش کر سکتے ہیں کہ خُدارا! پہلے باہم مل کر اپنے ازلی ابدی دشمن بھارت سے نپٹ لیں پھر جو جی میں آئے، کریں۔


ای پیپر