تھوڑی سی توجہ
13 اپریل 2019 2019-04-13

یہ درست ہے کہ موجودہ حکومت ابھی تک لوگوں کو مشکل حالات سے نجات دلانے میں کامیاب نہیں ہو سکی مگر اسے اقتدار میں آئے دن ہی کتنے ہوئے ہیں لہٰذا حزب اختلاف کا شور مچانا اور اسے ناکام کہنا جائز نہیں پھر اسے سوچنا چاہیے کہ وہ اپنے دور میں عوامی مفاد سے متعلق اہداف حاصل کر سکی تھی نہیں وہ معاشی صورت حال کو مستحکم نہیں کر سکی مہنگائی، نا انصافی اور مافیا خوف پر بھی قابو نہیں پا سکی جس کی بناء پر آج عمران خان کو پریشان ہونا پڑ رہا ہے مگر وہ جو کرنا چاہ رہا ہے اس کی راہ میں بھی رکاوٹیں حائل کی جا رہی ہیں اس میں اس کے ہی بعض رفقائے کار کا بڑا ہاتھ ہے کیونکہ وہ کسی انقلاب یا تبدیلی کے حق میں نہیں وہ غریبوں کو غریب مظلوموں کو مظلوم اور بے بسوں کو بے بس دیکھنے کے خواہاں تھے اور ہیں لہٰذا وہ کپتان کو آگے نہیں بڑھنے دے رہے اور شاید وہ اسے ڈرا رہے ہیں کہ اگر یہ نظام بدل گیا تو ایک طوفان کھڑا ہو جائے گا جس کا متحمل نہیں ہوا جا سکتا جبکہ اس منظر جس نے مایوسی و بے چینی کو انتہاؤں تک پہنچا دیا ہے کو تبدیل کر دیا جاتا ہے تو ملک کے اندر ایک ٹھہراؤ آ سکتا ہے تمام شعبہ ہائے حیات بہ احسن طریق اپنے معاملات نمٹانے میں مصروف ہو جائیں گے مگر نہیں ایک خاص طبقہ ایسا نہیں چاہتا وہ معیشت اور انتظامی امور پر قابض رہنا چاہتا ہے کہ اسے عوام کی برتری یا عوامی حکومت کسی طور بھی قبول نہیں لہٰذا اب جو افراتفری پھیلی دکھائی دے رہی ہے صرف اور صرف اسی کی وجہ سے ہے کیونکہ مجھے پورا یقین ہے کہ عمران خان اس دھرتی اور اس کے باسیوں کے لیے کچھ بڑے کام کرنے کا ارادہ رکھتا ہے وہ انصاف، مساوات اور رواداری پرمبنی معاشرے کی تشکیل چاہتا ہے اسے ذاتی اغراض میں ذرہ بھر دلچسپی نہیں مگر وہ جو لوگوں کو محکوم دیکھنے کے عادی ہو چکے ہیں فکر مند ہیں اور غیر محسوس انداز سے اسے اُلجھانے کے عمل سے دوچار کر رہے ہیں اور وہ اس میں لجھتے چلے جا رہے ہیں۔۔۔ مسئلہ یہ ہے کہ وہ عوامی رائے کو ضروری خیال نہیں کرتے اور قریبی ساتھیوں پر تنقید کیے ہوئے ہیں وہ خواجہ جمشید امام ایسے دور اندیش ، عوام دوست، ذہین و فطین سماج کی نفسیات کا ادراک رکھنے والے دیرینہ اور پر خلوص کارکن کو اگر موقع فراہم کریں تو بیک وقت معیشت و معاشرت میں ایک خوشگوار ابھار کو جنم دے سکتے ہیں مگر افسوس ایسے نابغۂ روزگارذہن کو نظر انداز کیا جا رہا ہے یہی وجہ ہے کہ سربراہ حکومت کی پیشانی تر رہتی ہے اور وہ سر جھکائے نظر آتے ہیں انہیں چاہیے کہ وہ فی الفور اپنے مشیروں میں میں خواجہ جمشید امام کی طرح کے سو برس آگے دیکھنے والوں کو شامل کریں میرا دعویٰ ہے کہ یہ حکومت عوام کو در پیش مسائل سے چھٹکارا دلانے میں کامیاب ہو جائے گی بصورت دیگر حالات بگڑتے چلے جائیں گے اور پھر جیسا کہ کچھ تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ جہاں وزیر تبدیل ہوں گے وہاں وزیراعظم کو بھی بدل دیا جائے گا۔۔۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ اگر ایسا ہوتا ہے تو ایک بار پھر عوام اسی دلدل میں دھنس جائیں گے جہاں سے وہ نکلے تھے لہٰذا کوئی میرے کپتان کو بتا دے سمجھا دے کہ وہ ضد کے بجائے منطق اور حقائق کو پیش نظر رکھے سیاست اور سیاسی سوجھ بوجھ صورت حال کے مطابق بدلتے رہتے ہیں ان سے انحراف ممکن نہیں جو ایسا کرتا ہے عوام اس سے اپنا رخ پھیر لیتے ہیں کیونکہ وہ ایسے مسائل میں گھر جاتے ہیں جو ان کی زندگیوں کے لیے خطرہ بن جاتے ہیں اور کیا اس وقت لوگوں کے دل کی دھڑکنیں واضح نہیں گنی جا سکتیں ، ان کے چہروں پر پھیلی سانسوں کی مالا ٹوٹنے کے خوف کی زردی نہیں دیکھی جا رہی ہر سمت آہ و بکا ہے میں یہاں پھر عرض کیے دیتا ہوں وزیراعظم پاکستان عمران خان کو چاہیے کہ وہ تھانہ کلچر کو جنگی بنیادوں پر بدلنے کی کوشش کر یں اور یہ قطعی مشکل نہیں یہی پولیس ہو گی اور یہی لوگ ہوں گے جو مل کر قانون کی حکمرانی کے لیے جدوجہد کر رہے ہوں گے مگر ضرورت ہے بردباری کی حوصلے کی اور سب سے بڑھ کر اصلاح کے جذبے کی پھر ہم سب دیکھیں گے کہ قطاریں کیسے لگتی ہیں اور کیسے لوگ اپنے فرائض کی ادائی کر رہے ہیں۔۔۔؟ ابھی تک اس پہلو پر توجہ ہی نہیں دی گئی محض گونگلوؤں سے مٹی جھاڑی گئی ہے حکمران طبقے کو معلوم ہے کہ اگر پولیس اصلاحات ہو جاتی ہیں تو پھر وہ خود ان کی زد میں آتا ہے ان کی شاہی زندگی پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں لہٰذا اب تک کی حکمرانوں نے ایسا کچھ نہیں کیا جو ان کے مفادات سے متصادم ہو۔۔۔ وہ تو اس پولیس کو اپنی ذات کے تحفظ کے لیے بروئے کار لاتے رہے ہیں مخالفین کو جھکانے اور رلانے کے لیے ان پر جھوٹے مقدمات قائم کرواتے رہے ہیں لہٰذا پولیس بھی منہ زور ہوتی چلی گئی کیونکہ اسے پوچھنے والا کوئی نہیں ہوتا تھا۔۔۔ ؟

بہرحال سچ یہ ہے کہ آج جب عوام کی حالت قابل رحم ہے تو اس میں موجودہ حکومت کلی خود سے ذمہ دار نہیں۔۔۔ پچھلے حکمرانوں نے آنے والے وقت کے لیے بچایا کچھ نہیں وہ قرضے لیتے رہے زندگی کے پہیے کو رواں رکھنے کے لیے مگر مستقلاً ایسے منصوبے نہ بنائے جا سکے جو ان قرضوں کو اتارنے میں معاون ثابت ہوتے ہاں وہ پراجیکٹس ضرور شروع کیے گئے جو ان کو فائدہ پہنچاتے اور ان کے فائدے کے ساتھ لوگوں کی ایک قلیل تعداد کو بھی فائدہ پہنچ جاتا۔۔۔ اگر وہ اداروں کو مضبوط کرتے اور انصاف کو عام سہل اور مفت کرتے تو وہ عارضی تکالیف بھی برداشت کر لیتے اس وقت اب جب انہیں (عوام) کو بتایا جا رہا ہے کہ وہ صبر کریں حکومت انہیں وقتی ریلیف دینے کے بجائے طویل المدتی ریلیف دینے جا رہی ہے تو وہ یہ بات ماننے کو تیار نہیں اس میں ان کا قصور نہیں ہر حکمران نے ان کے اعتمادکو ٹھیس پہنچائی ہے ۔ پی ٹی آئی کی قیادت نے بھی ان سے کہا کہ جب وہ اقتدار میں آئے گی تو غربت و افلاس کا نشان تک نہیں ملے گا بدعنوان افراد کو پکڑ کر جیلوں میں ڈال دیا جائے گا اور ان سے قومی دولت کی برآمد کرائی جائے گی وغیرہ وغیرہ مگر اب سب اس کے برعکس ہو رہا ہے یہ جو منظر پے موجود ہے ایک دکھاوا ہے بدعنوانی عناصر اسی طرح متحرک ہیں جس طرح پہلے تھے حکومت کی گرفت کسی بھی سویلین ادارے پر نہیں مافیاز من مرضی کر رہے ہیں اور سینہ زور غریب عوام کو خوف زدہ کر رہے ہیں لہٰذا انہیں یقین نہیں آ رہا کہ حکومت ان کے لیے کچھ کر سکے گی؟ اس صورت میں وزیراعظم پاکستان کو چاہیے کہ وہ عوامی ہمدردیاں حاصل کرنے کے لیے ایک ایسے تھنک ٹینک اور عوامی نمائندوں کے گروپ جو واقعتا عوام کے مسائل میں دلچسپی رکھتی ہوں کی تشکیل کریں وگرنہ ان کے خلاف احتجاجی آوازوں کا بلند ہونا یقینی ہے اُدھر جن سیاسی جماعتوں کا حکومت مخالف اتحاد ہونے جا رہا ہے عام آدمی کی ہمدردی بھی اسے حاصل ہونے کا امکان ہے لہٰذا وزیراعظم عمران خان صورت حال پر نگاہ رکھتے ہوئے پیش بندی کریں جو لوگ اور جو عناصر انہیں عوامی فلاحی منصوبوں سے بیزار کر رہے ہیں اور روایتی طرز حکومت کی جانب لے جانا چاہتے ہیں اس میں وہ ایک حد تک کامیاب بھی ہو چکے ہیں وسے فی الفور کنارہ کشی اختیار کر لیں اور انہیں بتا دیں کہ وہ عوامی اعتماد کو بحال کرنے کی کوشش نہیں کرتے تو انہیں ان کی (عمران خان) آشیر باد نہیں ملے گی اس کا نتیجہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ملک صدارتی نظام کی طرف بڑھ سکتا ہے اور وہ دیکھتے رہ جائیں گے۔۔۔!

حرف آخر یہ کہ عمران خان کے لیے اب بھی وقت ہے کہ وہ اپنے طرز حکومت میں تبدیلی لے آئیں نالائق مشیروں اور وزیروں سے اپنا دامن چھڑالیں کہ جنہوں نے ان کی مقبولیت جو آسمان کی بلندیوں کو چھو رہی تھی کو پستیوں کی طرف دھکیل دیا ہے کیونکہ انہوں نے وہی کیا جو پہلے ہوتا آیا تھا جبکہ عوام کچھ اچھوتا اور نیا چاہتے تھے لہٰذا انہیں چند ماہ میں اپنی ساکھ بحال کرنا ہو گی تا کہ اضطرابی کیفیت کا خاتمہ ہو سکے!


ای پیپر