مقدما ت کا التوا ختم کرنے کیلئے ہرممکن اقدام کر رہے ہیں: چیف جسٹس
13 اپریل 2019 (17:37) 2019-04-13

اسلام آباد: چیف جسٹس پاکستان آصف سعید کھوسہ نے کہا ہے کہ مقدما ت کا التوا ختم کرنے کیلئے ہرممکن اقدام کر رہے ہیں،فوری اورسستے انصاف کی فراہمی عدلیہ کی ذمے داری ہے۔

چیف جسٹس پاکستان آصف سعید کھوسہ نے جوڈیشل اکیڈمی میں فوری انصاف کی فراہمی سے متعلق کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جج بننے سے پہلے20سال بطوروکیل خدمات انجام دے چکاہوں،ماڈل کورٹس مشن کے تحت قائم کی گئی تھیں،پولیس کو مقدمے کی فوری تحقیقات کر کے چالان پیش کرنا چاہیے،پاکستان کی عدلیہ کے3 ہزار ججز نے گزشتہ سال 34لاکھ مقدمات کے فیصلے کیے،ماڈل کورٹ کا مقصد التوا کاباعث بننے والی رکاوٹوں کو دور کرنا ہے،ماڈل کورٹس کے قیام کا مقصد فوری اور سستے انصاف کی فراہمی تھا،امریکااوربرطانیہ کی سپریم کورٹ سال میں 100مقدمات کے فیصلے کرتی ہیں،برطانیہ اور دیگر ملکوں میں مقدمے کے فیصلوں کیلئے وقت مقرر کیاجاتاہے۔

چیف جسٹس پاکستان آصف سعید کھوسہ نے مزید کہا کہ فوری انصاف کیلیے مقدمات کی رپورٹس کو پیش کرنا ضروری ہے ،کیمیکل ایگزامینراور فرانزک اتھارٹیزکی رپورٹس کو مقررہ مدت پرپیش کرنے کو یقینی بنانا ہوگا،بدقسمتی سے انصاف کا شعبہ پارلیمنٹ کی ترجیحات میں نہیں،ملک میں آدھی سے زیادہ آبادی منقولہ جائیداد رکھتی ہے،ماڈل کورٹس میں ملزموں کو بروقت پیش کرنے کیلئے محکمہ صحت کا تعاون بھی درکارہوگا ،مقدمات کی دستاویزات کیلیے مختلف اداروں کوجگہ جگہ فیسیں دینی پڑتی ہیں ،انسداد دہشتگردی ایکٹ سمجھنے کیلیے قانون میں تعارف موجود ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سپریم کورٹ نے ایک سال میں 26ہزار مقدمات کے فیصلے کیے،فوری اورسستے انصاف کی فراہمی عدلیہ کی ذمے داری ہے،ماڈل کورٹس کاتجربہ آئین کےآرٹیکل37ڈی پر عملدرآمد کرنا ہے،جب سے جج بنا ہوں،میرا مقصد فوری انصاف کی فراہمی رہا ہے،جوڈیشل پالیسی کے تحت مقدموں کیلیے وقت مقرر کیاجائیگا،قیدیوں کو لانیوالی پولیس وینز کا باقاعدہ انتظام کیاجانا چاہیے ،ماڈل کورٹس کا قیام ایک مشن کے تحت کیا گیا، مقدما ت کا التوا ختم کرنے کیلیے ہرممکن اقدام کر رہے ہیں۔


ای پیپر