انڈین گسٹاپو فورس : این آئی اے
13 اپریل 2018

یہاں اس امر کا ذکر از بس ضروری ہے کہ بھارت کا تحقیقاتی ادارہ نیشنل انویسٹی گیشن (NIA) مودی دور میں جہاں ایک طرف حزب اختلاف کی آواز کو کچلنے کے لیے مذموم کردار ادا کر رہا ہے وہاں دوسری طرف یہ ادارہ آر ایس ایس کی حمایت یافتہ بھارتی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے ہندو توا کے ایجنڈے کے تحت اسلام بیزار اور مسلم دشمن سرگرمیوں میں بھی پیش پیش ہے۔ ایک طرف یہ تحقیقاتی ادارہ بالخصوص ہر اس مسلم دینی سکالر کی کردار کشی کے لیے میڈیا کو بطور ہتھیار استعمال کرتا ہے اور دوسری طرف اس کی بھرپور کوشش ہوتی ہے کہ مسلم سکالرز کے لیے بھارت کی زمین تنگ کر دی جائے اور انہیں اس حد تک مجبور کیا جائے کہ وہ بھارت کو چھوڑ کر کسی دوسرے مسلم ملک میں پناہ لے لیں۔ حقائق سے آگاہ حلقے جانتے ہیں کہ بین الاقوامی شہرت یافتہ بھارتی مسلم سکالر ڈاکٹر ذاکر نائیک کی عالم اسلام، مغرب کے حقیقت پسند مسیحی حلقوں اور بھارت میں سچ کی تلاش میں سرگرداں ہندو نوجوانوں کے حلقے میں انہیں لائق رشک مقبولیت حاصل تھی۔ بھارت کے جس شہر میں بھی وہ خطاب کے لیے پہنچتے لاکھوں سامعین اُمڈ آتے۔ یہ امر دلچسپ ہے کہ ان میں ہزاروں دیگر مذاہب ہندو مت، جین مت، بدھ مت، عیسائیت اور یہودیت سے تعلق رکھنے والے سامعین ہوتے ہیں۔ ممبئی جہاں ٹھاکرے فیملی کی دہشت گردانہ ، انسانیت دشمن تخریبی سرگرمیاں اور مسلمانوں کی خوں آشامی کی داستانیں زبان زد عام ہیں، اس شہر میں بھی جب ڈاکٹر ذاکر نائیک کاکوئی اجتماع ہوتا ہے تو لاکھوں مسلمانوں کے علاوہ ہزاروں دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے حقائق اور امن و سکون کے متلاشی سامعین کے ٹھٹ کے ٹھٹ لگ جاتے ہیں۔ مودی سرکار اور اس کے مرغ دست آموز کا کردار ادا کرنے والی نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی نے ڈاکٹر ذاکر نائیک کے گرد گھیرا تنگ کرنے کا پلان بنایا اور ان کے ٹی وی اور علمی تحقیقاتی ادارے پر فارن فنڈڈ کے بے بنیاد، لغو ، بیہودہ اور جھوٹے الزامات عائد کیے۔ انہیں بجرنگ دَل، سیو سینا، وشوا ہندو پریشد اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے غنڈہ عناصر نے سیکڑوں بار قتل کی دھمکیاں دیتے ہوئے بھارت چھوڑ دینے کا مطالبہ کیا۔ ایک طویل عرصہ تک انہوں نے ان دھمکیوں اور گیدڑ بھبھکیوں کا بہادری، دلیری، دلاوری، شجاعت، جواں مردی اور اعلیٰ حوصلگی کے ساتھ مقابلہ کیا۔ مودی سرکار نے ان کی آواز دبانے کے لیے نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی اور دوسرے اداروں کے ذریعے ڈاکٹر ذاکر نائیک کے پیس ٹی وی پر فرقہ واریت پھیلانے کا الزام لگا کر اُسے بند کر دیا۔ حالانکہ ڈاکٹر ذاکر نائیک عالمی سطح پر بین الادیان ہم آہنگی کا ایک استعارہ تصور کیے جاتے ہیں۔ بعد ازاں ریاستی مشینری نے انہیں لائق نفریں الزامات میں حراست میں لینے اور پابند سلاسل کرنے کی بھی ناکام کوشش کی لیکن بھارت کے 35 کروڑ مسلمانوں کے رد عمل سے خائف ہو کر انہیں اپنی اس کوشش سے باز رہنا پڑا لیکن سرکاری اور ریاستی وسائل کا دباؤ ڈال کر انہیں ملک بدر کر دیا۔ تب سے انہیں کئی مسلم ممالک کی طرف سے دعوت دی گئی کہ وہ ان کے ہاں تشریف لے آئیں۔ ان دنوں وہ ملائیشیا میں ہیں۔ بھارتی حکومت اور اس کے سکیورٹی ادارے نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی اس پر بھی آتش زیر پا رہی اور ہے ۔ ایک خبر کے مطابق مذکورہ ایجنسی نے انٹر پول کو بھارتی حکومت کی جانب سے درخواست دی کہ ڈاکٹر ذاکر نائیک کو بھارتی حکومت کے حوالے کیا جائے۔ لیکن 17 دسمبر 2017ء کو انٹرپول نے شہرہ آفاق دینی سکالر ڈاکٹر ذاکر نائیک کے ریڈ وارنٹ جاری کرنے کی بھارتی درخواست اس بنا پر مسترد کر دی کہ ان کے خلاف شواہد ناکافی ہیں۔ واضح رہے کہ نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی نے 26 اکتوبر 2017ء کو یہ درخواست انٹر پول کے مجاز حکام کو دی تھی۔
یہ امر پیش نظر رہے کہ 2 7 اکتوبر2017ء کو عالمی شہرت یافتہ سکالر ڈاکٹر ذاکر نائیک کے خلاف نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی کے حکام نے ممبئی کی ایک عدالت میں چارج شیٹ دائر کی تھی، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ ڈاکٹر ذاکر نائیک نے ’’نفرت انگیز تقاریر‘‘ کے ذریعے نوجوانوں کو دہشت گردی پراکسایا اور معاشرے میں مختلف برادریوں کے درمیان اختلافات پیدا کیے۔ 2016ء میں بنگلا دیش کے ایک ریستوران پر حملے میں ملوث افراد نے گرفتاری کے بعد مبینہ طور پر ڈاکٹر ذاکر نائیک کی تقاریر سے متاثر ہونے کا بیان دیا تھا۔ اس بیان کو جواز بنا کر بھارت کی نیشنل کرائم ایجنسی نے ڈاکٹر ذاکر نائیک کے ادارے اسلامک ریسرچ فاؤنڈیشن ( آئی آر ایف) کو غیر قانونی قرار دے کر اس کے اثاثے منجمد کر دیئے تھے۔ نومبر 2016ء میں بھارت کی کاؤنٹر ٹیررازم ایجنسی نے شہرت یافتہ اسلامی سکالر پر انڈین پینل کورٹ کے تحت مختلف مقدمات قائم کیے تھے۔ ادھر انڈین نیشنل سکیورٹی ایجنسی کی جانب سے تحقیقات کے نام پر یہ بے بنیاد پراپیگنڈا بھی کیا گیا کہ ڈاکٹر ذاکر نائیک کی تقاریر سے متعدد بار نسلی فسادات کو بھی ہوا ملی جس نے امن عامہ کی صورت حال کو سنگین بنا دیا۔ اسی پر بس نہیں بھارت کے انفورسمنٹ ڈائریکٹر نے ڈاکٹر ذاکر نائیک کے قریبی ساتھی عامر گزدار کے خلاف منی لانڈرنگ کا مقدمہ بھی دائر کر رکھا ہے جس میں ڈاکٹر صاحب کو بھی ملزم ٹھہرایا گیا ہے۔ یہ وہ سنگین اور امتیازی اقدامات تھے، جن کے باعث ڈاکٹر ذاکر نائیک کو جولائی 2015ء میں بھارت چھوڑ کر بیرون ملک پناہ لینی پڑی۔
13 اپریل 2018ء کو شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق ثبوتوں کی عدم موجودگی کے باوجود 2006ء میں ہونے والے حملوں میں پکڑے گئے نو مسلمانوں کی رہائی کی مخالفت اسی ایجنسی نے کی تھی۔ یاد رہے کہ 2006ء میں ریاست مہاراشٹر میں ہونے والے بم حملے کا الزام ان بے گناہ مسلمانوں پر عائد کیا گیا تھا۔ بتایا گیا تھا کہ ان حملوں میں 25 افراد ہلاک جبکہ 100 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ 2016ء میں مقدمے کی سماعت کرنے والی عدالت میں یہ ثابت ہو چکا تھا کہ گرفتار مسلمانوں کا سر ے سے بم حملے سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ یہ بات نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی نے خود مقدمے کی سماعت کے دوران عدالت کو بتائی تھی لیکن 13 اپریل 2018ء کو 180ڈگری کی قلابازی کھاتے ہوئے این آئی اے نے یہ مؤقف اپنایا کہ ’’موجودہ ثبوت کے ہوتے ہوئے ملزمان کو رہا نہیں کیا جا سکتا۔ دوسری طرف بھارت ہی کے دیگر تحقیقاتی اداروں نے ان بم حملوں میں ہندو انتہا پسند تنظیموں کے ملوث ہونے کا امکان ظاہر کیا تھا۔
ستم بالائے ستم یہ کہ مذکورہ ایجنسی اور اس کے اہلکاروں نے اپنے آپ کو ریاست کا تابع ادارہ بنانے کی بجائے آر ایس ایس کی ایک ذیلی سرکاری تنظیم کا روپ دے دیا ہے۔ اس کا جیتا جاگتا ثبوت یہ ہے کہ جب جنوبی ریاست کیرالہ میں نچلی ذاتوں سے تعلق رکھنے والی سیکڑوں لڑکیوں نے مسلمان لڑکوں کو اپنا جیون ساتھی چننے کے لیے مسلم علماء کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا تویہ کوئی اچنبھے کی بات نہیں تھی۔ بھارت میں ذات پات کی جکڑ بندی سے تنگ آئے ہندو نوجوان بھی باعزت زندگی گزارنے کے لیے ہندو مت کے علاوہ راستے تلاش کر رہے ہیں۔ جب جنوبی کیرالہ کی 86 ہندو لڑکیوں نے اپنا رفیق حیات مسلم نوجوانوں کو بنا لیا تو قبول اسلام کے بعد یہ ناممکن تھا کہ وہ اپنے اس فیصلے کی تنسیخ کرتیں۔ صاف ظاہر ہے کہ مسلمان ہونے کے بعد وہ ہندوؤں سے کسی بھی طور شادی کرنے کی روا دار نہ تھیں۔ آر ایس ایس اس پر آگ بگولا ہوئی۔ انتہا پسند ہندو تنظیموں نے جنوبی کیرالہ کی 86 لڑکیوں کے اسلام قبول کرنے کے رضا کارانہ فیصلے کو ’’طالبان کے اثرات‘‘ اور ’’مالی مدد‘‘ کا نتیجہ قرار دیا۔ یہ بے سرو پا الزام بھی لگایا گیا کہ ہندو لڑکیوں کو مسلمان بنانے کے لیے عراقی طالبان پیسہ پھینک رہے ہیں۔ انہوں نے دہائی دینا شروع کی کہ ’’یہ محبت کی شادی نہیں بلکہ جہادی شادی ہے، ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے‘‘۔ آر ایس ایس نے دباؤ ڈالا تو مذکورہ ایجنسی نے ہندولڑکیوں کے قبول اسلام اور مسلمانوں سے شادی کے کوائف جمع کرنا شروع کیے۔ ایجنسی نے کم از کم 86 لڑکیوں کو اُن کے گھروں سے اُٹھانے کے بعد نامعلوم مقامات پر بند کمروں میں گھنٹوں تفتیش کی مگر بجز مایوسی کے اُن کے ہاتھ کچھ نہ لگا۔ اس کے باوجود مسلمان لڑکیوں کو اُٹھانے اور پوچھ گچھ کرنے کے واقعات آئی این اے نے جاری رکھے۔ یہ تو کسی کو بتانے کی ضرورت نہیں کہ 61 برس قبل آر ایس ایس ہی نے بھارتیہ جنتا پارٹی کی بنیاد رکھی تھی۔
اندریں حالات اپوزیشن کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ اس ایجنسی کے پر تشدد کردار کو بے نقاب کیا جائے کیونکہ اب اس ادارے کو مودی سرکار سیاسی حریفوں اور اختلاف رائے رکھنے والے شہریوں کو ہراساں، سراسیما، خوفزدہ اور دبانے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔


ای پیپر