’’جنگِ ستمبر کی یادیں‘‘: الطاف حسن قریشی

13 اپریل 2018

فرخ سہیل گوئندی

الطاف حسن قریشی کا نام پاکستان کی صحافتی تاریخ میں ایک بے حد نمایاں اور سرفہرست مقام رکھتا ہے۔وہ پاکستان میں اپنے نقطہ نظر کی صحافت کے امام ہیں۔ ان کا قلم پاکستان کی ہمعصر تاریخ کو تسلسل سے ضبط تحریر کررہا ہے۔ انہوں نے اپنے علم، شعور اور فکر کوصحافت کے میدان میں اپنے مخصوص انداز میں Contribute کرکے ایک خاص مقام حاصل کیا۔ اُن کی تازہ تصنیف ’’جنگِ ستمبر کی یادیں ‘‘ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ اس کتاب کو جُمہوری پبلیکیشنز ۳۶۳۱۴۱۴۰۔۰۴۲ نے شائع کیا۔ ’’جنگِ ستمبر کی یادیں ‘‘ ایک ایسے موضوع پر ہے جس کو پاکستان کی ہمعصر تاریخ کا ایک اہم باب قرار دیا جاتا ہے، جب پاکستانی قوم کا باہمی اتحاد ایک مثال کے طور پر ثابت ہوا۔ الطاف حسن قریشی ایک صحافی کی حیثیت سے اس جنگ کے عینی شاہد ہیں۔ انہیں دورانِ جنگ تقریباً سب ہی محاذوں پر دشمن کے سامنے افواجِ پاکستان کے سینہ سپر ہو جانے کے حیرت انگیز واقعات براہِ راست سننے کا موقع ملا۔ انہوں نے اُن متعدد رِیٹائرڈ فوجی افسروں سے ملاقاتیں کیں جنہوں نے جنگِ ستمبر میں حصہ لیا تھا یا اْن کے بزرگوں نے عظیم الشان کارنامے سرانجام دئیے تھے اور پھر اُن کی روداد قلم بند کی ۔ انہوں نے بیان کیا ہے کہ جنگِ ستمبر کے پس پردہ محرکات کیا تھے، اْن کی جڑیں تاریخ میں کہاں تک پھیلی ہوئی ہیں اور ہمارے مستقبل پر اْن کے کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ تاریخ سے جڑی ہوئی یہ طویل داستان انہوں نے مختلف کتابوں کے مطالعے اور تحقیق سے مرتب کی ہے جو ہمارے لیے سوچ بچار کے مختلف پہلو رکھتی ہے۔
جنگِ ستمبر 1965ء نے برصغیر پر جو اثرات مرتب کیے، ان کو آج بھی سرحد کے دونوں اطراف آسانی سے دیکھا جاسکتا ہے۔ اس جنگ نے جہاں دونوں ممالک کی اندرونی سیاست پر اثرات مرتب کیے، وہیں اس جنگ کے اثرات پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں اہم موڑ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان دونوں ریاستوں کا ایٹمی طاقت بننا ، اس کے بیج 1965ء کی جنگ سے ہی خطے میں پھیل گئے تھے۔ الطاف حسن قریشی نے ان سترہ دنوں کے واقعات وحالات کو کتابی شکل دے کر آج کی نسل پر درحقیقت احسان کیا ہے۔ اس کے مطالعے کے بعد آج کی نئی نسل بھی اس اہم تاریخی دنوں کے متعلق جان سکے گی جس نے ہماری ہمعصر تاریخ کا رخ موڑ دیا۔ یہ ایک دلچسپ اور معلوماتی کتاب ہے جسے الطاف حسن قریشی کے اندازِ بیان نے منفرد بنا دیا ہے۔ اس کتاب کا ہرصفحہ اورباب دلچسپی سے بھرپور ہے۔ کتاب کے مطالعہ سے اُن ایام کے حالات وواقعات آپ کی نگاہوں میں یوں پھرنے لگتے ہیں جیسے کسی فلم کو دیکھنے کا تجربہ ہورہا ہو۔ اس کتاب کا ایک باب ’’سرگودھا، شاہینوں کا شہر‘‘ میرے لیے تو بہت ہی دلچسپی کا باعث رہا، جب پاکستان ایئرفورس کے ہوابازوں نے بھارتی طیاروں کے خلاف سرگودھا کی فضاؤں میں دفاع کرتے ہوئے عالمی ریکارڈ قائم کیا۔ تب سرگودھا چند ہزار نفوس کا شہر تھا۔ اکثریت آبادی جنگ کے خوف کے سبب عارضی طور پر سرگودھا سے ہجرت کرگئی تھی۔ میں نے نہایت کمسنی میں بھارتی حملہ آوروں اور پاکستان کی مسلح افواج کی توپوں کے دہانوں سے نکلنے والے گولوں کی دل دہلا دینے والی آوازوں کو سنا۔ جب اینٹی ایئرکرافٹ توپیں اور آسمان پر ہوائی جہاز گولیوں کی بوچھاڑ کرتے تو دل دہل جاتے۔ سرگودھا کی گلیاں سنسان تھیں۔ ہمارے محلے میں ہمارے سمیت تین گھر ہی تھے جنہوں نے جنگ کے خوف سے عارضی ہجرت سے انکار کیا۔ میں نے اپنے بچپن میں سرگودھا میں 1965ء کی جنگ دیکھی جب سارا شہر خالی ہوگیا۔ ستر اسّی ہزار کی آبادی کے اس شہر میں جنگ ستمبر 1965ء میں شاید دس بیس ہزار لوگ رہ گئے۔ دشمن کے طیاروں کی بمباری اور زمین سے اینٹی ایئرکرافٹ توپوں کی تڑتڑاہٹ، رونگٹے ہی کھڑے نہیں ہوتے تھے بلکہ دل دہل جاتا تھا، بموں، جہازوں کی گھن گرج اور اینٹی ایئرکرافٹ توپوں کی تڑتڑاہٹ سے۔ سرگودھا میں ہمارا 23-Aبلاک سارا خالی ہوچکا تھا،سوائے ایک ہمارے گھر اور ایک اور اہلِ محلہ کے۔ حملے سے پہلے سائرن بجتا اور ہماری والدہ ہمیں Lشکل میں کھودی گئی خندق میں لے جاتیں۔ ہمارے کانوں میں روئی ڈال دی جاتی، مگر دھماکوں کی آوازیں خندق کے اندر کانوں میں ٹھونسی گئی روئی کو چیرتے ہوئے داخل ہوجاتیں۔ اور ان آوازوں پر خندق میں موجود کنکھجورے اور حشرات الارض بھی باہر نکل کر گھومنے لگتے۔
اسی جنگ کا عظیم ہیرو، ایم ایم عالم جس نے سرگودھا کی فضاؤں میں پاکستان کا دفاع کرتے ہوئے فضائی جنگ کا عالمی ریکارڈ قائم کیا، ان کا ذکر اس کتاب میں بھی ہے، وہ ملک کے تمام لوگوں کی طرح میرے بھی ہیرو ٹھہرے۔ اس جنگ کی شدت، بھارتی حملہ آوروں اور پاکستان کے شاہینوں کی طرف سے مقابلہ کرنے کے مناظر مرتے دم تک میری آنکھوں کے سامنے رہیں گے۔ اب ’’جنگِ ستمبر کی یادیں ‘‘ کی اشاعت کے بعد وہ مناظر اور یادگار دن دوبارہ میری آنکھوں میں امڈ آئے ہیں۔ اس طرح یہ کتاب پاکستان کے یادگار اور تاریخی ایام کو صفحات پر محفوظ کرنے میں اہم ترین کارنامہ ہے، جسے پاکستان کے سینئر ترین صحافی جناب الطاف حسن قریشی نے سرانجام دیا ہے۔
الطاف حسن قریشی کی ان تحریروں میں وہ حقیقی فضا پائی جاتی ہے جو آج بھی ہمارے اندر ایک نئی اُمنگ اور ایک نیا عزم پیدا کرتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’وہ فضاتین روح پرور کیفیات کا مرقع تھی: ہماری افواج کا عظیم جذبۂ جہاد، فوج اور عوام کے مابین اعتماد کے گہرے رشتے اور قومی یک جہتی کے ناقابلِ فراموش مناظر۔ انہوں نے اِس یک جہتی نے اپنے سے چار پانچ گنا بڑے دشمن کے ناپاک ارادے حسرت میں بدل دئیے تھے۔ تب قابلِ رشک ملکی یک جہتی، دفاعِ وطن کی ایک روشن علامت اور ایک حیات افروز استعارہ تخلیق ہوا۔ ہم اِسی زندہ علامت کو بروئے کار لاکر ایک نئے شعور سے اپنا مستقبل محفوظ بنا سکتے ہیں‘‘۔

مزیدخبریں