کھیل زور شور سے جاری ہے۔۔۔!
13 اپریل 2018 2018-04-13

بڑے قومی اخبارات میں ’’جنوبی پنجاب صوبہ محاذ‘‘ کی طرف سے پورے صفحے کا اشتہار چھپا ہے ۔ اس اشتہار میں جہاں صوبہ جنوبی پنجاب کے قیام کے حق میں کچھ نعرے ، سلوگن اور مختصر جملے درج ہیں وہاں جنوبی پنجاب کے شہروں اور قصبات میں موجودقدیم مساجد ، مزارات اور قلعوں پر مشتمل تاریخی عمارات کے مشابہ خاکے دے کر اس اشتہار کو پُر کشش بنانے کی کوشش بھی کی گئی ہے ۔ لگتا ہے کہ اشتہار میں رنگوں کے انتخاب اور اُس میں دئیے گئے سلوگن ، نعروں یا یک فقری عبارات کے چناؤ میں بڑی محنت کی گئی ہے لیکن اشتہار میں سب سے اہم چیز 8 سیاسی شخصیات کی فوٹو یا تصاویر ہیں جن کے ناموں کے ساتھ جنوبی پنجاب صوبہ محاذ (تحریک) کے مختلف عہدے لکھے ہوئے ہیں۔ ان میں جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کے چئیرمین میر بلخ شیر مزاری کے ساتھ صدر مخدوم خسرو بختیار ،شریک چئیرمین سردار نصر اللہ دریشک ،جنرل سیکریٹری طاہر بشیر چیمہ ، سینئیر نائب صدر بابر سلطان بخاری، اور نائب صدور رانا قاسم نون ، چوہدری سمیع اللہ اور طاہر اقبال چوہدری کی تصاویر دی گئی ہیں۔ میر بلخ شیر مزاری کے علاوہ باقی 7 وہی پارلیمنٹیرین ہیں جنہوں نے ایک دن قبل مسلم لیگ ن سے علیحدگی اور قومی اسمبلی اور پنجاب صوبائی اسمبلی کی نشستوں سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا تھا۔ میر بلخ شیخ مزاری بزرگ سیاست دان ہیں جنہیں اپریل 1993ء میں صدر غلام اسحاق خان مرحوم نے جب میاں محمد نواز شریف کی حکومت کو بر طرف کیا تھا تو نگران وزیر اعظم مقرر کیا تھا۔ تاہم سپریم کورٹ نے صدر غلام اسحاق خان مرحوم کے فیصلے کو غیر آئینی قرار دے کر مسترد کر دیا تو میاں محمد نواز شریف نے دوبارہ وزارتِ عظمیٰ کا منصب سنبھال لیا۔ اس طرح میر بلخ شیر مزاری بمشکل ایک ماہ سے بھی کم عرصے کیلئے نگران وزیر اعظم کے عہدے پر براجمان رہ سکے لیکن نگران وزیر اعظم کا سابقہ بہر کیف اُن کے نام کے ساتھ ضرور جُڑ گیا اور صرف اتنا ہی نہیں یہ بھی کہ انہیں یہ عہدہ میاں محمد نواز شریف کی حکومت کو بر طرف کر کے سونپا گیا تھا۔

جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کے اخبارات میں چھپنے والے جہازی سائز (پورے صفحے پر مشتمل ) اشتہار کی تفصیل بیان کرنے کا مقصد ا س اشتہار کی دوبارہ تشہیر نہیں بلکہ اس کا مقصد اس امر کا جائزہ لینا ہے کہ ایک دن قبل جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے 9 پارلیمنٹرین کی مسلم لیگ ن سے علیحدگی اور قومی و صوبائی اسمبلیوں کی نشستوں سے مستعفی ہونے کے اعلان کے فوراً بعد جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کہاں سے آن ٹپک پڑا اور اُس کی تشہیر کیلئے اتنا بڑا اشتہار دینے کی ضرورت کیوں پڑ گئی۔ اتنی عجلت میں اس اشتہار کا چھپنا بہر کیف بڑا معنی خیز ہے ۔ اس کا یہ مطلب لیا جا سکتا ہے کہ کچھ عرصہ قبل بلوچستان میں مسلم لیگ ن کے وزیر اعلیٰ سردار ثناء اللہ زہری کے خلاف عدمِ اعتماد کی تحریک کامیابی سے ہمکنار کر کے مسلم لیگ ن کی توڑ پھوڑ کا جو کھیل شروع کیا گیا تھا اور جس کی تجدید بعد میں سینٹ کے ممبران اور چےئرمین سینیٹ کے انتخابات کے دوران کی گئی وہ ختم نہیں ہوا وہ بدستور جاری ہی نہیں ہے بلکہ زیادہ زور شور سے جاری ہے اور آگے چل کر اس کھیل کا دائرہ کار اور بھی پھیل سکتا ہے اور کئی ارکانِ اسمبلی وہ پارلیمنٹ مسلم لیگ ن سے علیحدگی اختیار کر سکتے ہیں۔ خیر جو کچھ ہو گا وہ وقت کے ساتھ سامنے آتا رہے گا اس وقت جو صورتحال برسرِزمین موجود ہے اُس کا ہی جائزہ لیتے ہیں۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ مسلم لیگ ن کے تاحیات قائد میاں محمد نواز شریف، اُن کی صاحبزادی محترمہ مریم نواز اور دیگر مسلم لیگی قائدین جنہیں میاں محمد نواز شریف کی قربت حاصل ہے انہوں نے جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے ارکانِ قومی و صوبائی اسمبلی کی مسلم لیگ ن سے علیحدگی اور قومی و صوبائی اسمبلی کی نشستوں سے مستعفی ہونے کو زیادہ اہمیت نہیں د ی ہے ۔ میاں محمد نواز شریف کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ ن لیگ کو چھوڑ کر جانے والے کبھی پارٹی کا حصہ تھے ہی نہیں ۔ ایسے لوگ کبھی آمر کے ساتھ مل جاتے ہیں اور جب جمہوریت آتی ہے تو سیاسی جماعتوں میں شامل ہوجاتے ہیں۔ یہ ہماری نظر میں تھے اور یقین ہے کہ پارٹی چھوڑ کر جانے والوں کو کہیں جگہ نہیں ملے گی۔ ان لوگوں پر ضرور کچھ وارد ہوا ہے ۔ سینیٹ انتخابات سے پہلے جیسے بلوچستان میں اچانک ایک پارٹی وارد ہوئی ہے ایسے ہی پیر کو کچھ لوگوں کے دلوں میں جنوبی پنجاب صوبے کی محبت جاگ اُٹھی ہے ۔ میری صدارت کیلئے بھی ان لوگوں نے ووٹ نہیں دیا تھا۔ جنوبی پنجاب کے لوگ مسلم لیگ ن سے اتنے ہی مطمئن ہیں جتنے سنٹرل اور اَپر پنجاب کے لوگ اور وہ آئندہ انتخابات میں شیر کے نشان کو ہی ووٹ دیں گے۔

میاں محمد نواز شریف کے ان خیالات کو رد نہیں کیا جاسکتا وہ وہ مسلم لیگ ن کے تاحیات قائد ہی نہیں ہیں ملک کے تین بار وزیر اعظم بھی رہے ہیں۔ وہ ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کے رہنما ہیں اور عوام سے اُن کا رابطہ ہے ۔ وہ رابطہ عوام مہم پر آئے روز مختلف مقامات پر جلسوں جن میں عدیم المثال حاضری ہوتی ہے خطاب کرتے رہتے ہیں لہٰذا اُن کا تجزیہ اور اُن کے خیالات اہمیت رکھتے ہیں لیکن قابلِ غور بات یہ ہے کہ مسلم لیگ ن کے خلاف چند ماہ قبل جو کھیل شروع ہوا اُس کے کیا نتائج سامنے آئے ہیں ، کیا پچھلے چند ماہ میں مسلم لیگ ن کو حقیقی نقصان نہیں پہنچا ہے ؟ کیا بلوچستان میں اس کی حکومت ختم ہونے کے بعد سینیٹ کے انتخابات میں بلوچستان سے مسلم لیگ ن کو بے نیل و مرام نہیں ہونے دیا گیا ہے ؟ پھر سینیٹ کے چئیرمین کے انتخاب میں تو انتہا ہی ہو گئی ۔ سینیٹ میں سب سے بڑی جماعت ہونے کے باوجود مسلم لیگ ن سینیٹ کے چئیرمین یا ڈپٹی چےئرمین کے عہدوں پر اپنے اُمیدوار منتخب کروانے میں کامیاب نہ ہو سکی۔ اس کے مقابلے میں پیپلز پارٹی پارلیمینٹرین کے چئیرمین جناب آصف علی زرداری نے بڑی آسانی اور کامیابی کے ساتھ اپنے حمایت یافتہ اور نامزد کردہ اُمیدواروں جناب صادق سنجرانی کو بطورِ چئیرمین سینیٹ اور سلیم مانڈی والا کو بطور ڈپٹی چئیرمین سینیٹ منتخب کرنے کروانے کا مرحلہ مکمل کیا۔ سینیٹ کے چئیرمین اور ڈپٹی چئیرمین کے عہدوں پر انتخاب میں ناکامی میں مسلم لیگ ن کی اپنی قیادت کا بھی بڑا عمل دخل ہے ۔ مسلم لیگ ن آخری وقت تک چئیرمین کے عہدے کیلئے اپنے اُمیدوار کے نام کا اعلان ہی نہیں کرسکی بالکل آخری وقت میں راجہ ظفر الحق کو چےئر مین سینیٹ کے عہدے کے انتخاب کیلئے بطورِ اُمیدوار نامزد کیا گیا تو بھی بددلی کے ساتھ جس کا نتیجہ یہی سامنے آنا تھا کہ راجہ صاحب محترم ناکامی سے دوچار ہوئے۔ یہ ساری تفصیل بیان کرنے کا مقصد صرف اتنا ہے کہ مسلم لیگ ن کو اپنے خلاف مختلف دیدہ اور نا دیدہ قوتوں کی طرف سے جاری کھیل کو ناکام اور غیر مؤثر بنانے کے لیے حقیقت پسندانہ رویہ اپنانا ہو گا ورنہ مسلم لیگ ن کی توڑ پھوڑ بڑھتی جائے گی۔

یہ درست ہے کہ میاں محمد نواز شریف کا جارحانہ انداز اور بیانیہ مسلم لیگ ن کو عوامی سطح پر تقویت دینے کا سبب بنا ہے ۔ وہ رابطہ عوام مہم کے تحت جہاں بھی عوامی جلسوں سے خطاب کرنے کیلئے گئے ہیں وہاں انہیں زبردست پذیرائی ملی ہے لیکن اتنا کچھ کافی نہیں ہے اس سے بڑھ کر مسلم لیگ ن کی اپنی صفوں میں اتحاد و یکجہتی کی فضا کو قائم رکھنا بھی ضروری ہے ۔ سینئیر قیادت جن میں چوہدری نثار علی خان بھی شامل ہیں اُن کے جائز شکووں کو دور کیا جانا چاہیے یہ کہہ دینا کہ میاں محمد نواز شریف چوہدری نثار علی خان کو کسی صورت میں برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں یا چوہدری نثار علی خان کے بارے میں یہ سمجھ لینا کہ اُن کے پارٹی چھوڑنے سے مسلم لیگ ن کو کچھ فرق نہیں پڑے گا حقیقت پسندانہ اور منصفانہ اندازِ فکر نہیں ہے ۔ چوہدری نثار علی خان کے بارے میں میڈیا میں یہ ڈس انفارمیشن پھیلانا کہ وہ مسلم لیگ ن کو چھوڑ کر تحریکِ انصاف میں شامل ہو رہے ہیں یہ بھی کوئی مناسب بات نہیں ہے ۔ چوہدری نثار علی خان کو بھی چاہیے کہ وہ آئے روز کے گلے شکوے کرنے کی بجائے مل بیٹھ کراپنے تحفظات دور کریں۔ چوہدری صاحب محترم کو پتہ ہونا چاہیے کہ عزت اور وقعت اپنے گھر میں اور اپنے لوگوں میں ہی حاصل ہوتی ہے ۔ خانہ بدوشی کی صورت میں آدمی بے گھر ہو جاتا ہے چوہدری نثار علی خان جیسی باوقار اور باحمیت شخصیت سے یہ توقع نہیں کہ وہ نیا ٹھکانہ اپنے لیے تلاش کریں گے اور نہ ہی اُن سے اس طرح کے بیانات کی توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ کہیں کہ میاں برداران کے اُن کے اوپر احسانات کے مقابلے میں اُن کے میاں برادران پر احسانات کا پلڑا بھاری ہے ۔

آخر میں ایک بڑے قومی معاصر میں ملتان کی ڈیٹ لائن سے چھپنے والی خبر کا حوالہ دیا جاتا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ 35 ارکانِ پارلیمنٹ جنوبی پنجاب صوبہ محاذ میں شمولیت کے لیے پَر تول رہے ہیں جس کا براہِ راست نقصان مسلم لیگ ن کو اور بلواسطہ فائدہ پاکستان پیپلز پارٹی کو پہنچے گا اس لیے کہ جنوبی پنجاب کے لیے علیحدہ صوبے کے قیام کے مطالبے پر پیپلز پارٹی اور جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کا مؤقف یکساں ہے ۔ مسلم لیگ ن کی اعلیٰ قیادت کو اس بارے میں ضرور سوچنا چاہیے کہ کل کلاں پیپلز پارٹی جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کے کندھوں پر چڑ کر اُن کو کتنا نقصان پہنچا سکتی ہے ۔


ای پیپر