یہاں ٹیکس اور موت بر حق ہے
13 اپریل 2018

مشہور امریکی صدر بینجامین فرینکلن نے کہا تھا کہ اس ملک میں موت اور ٹیکس کے علاوہ کچھ بھی یقینی نہیں ہے ان کی یہ بات امریکہ سے زیادہ پاکستان پر لاگو ہوتی ہے جہاں اس وقت عوام مجموعی طور پر 50 سے زیادہ قسم کے ٹیکس ادا کر رہے ہیں۔ پاکستان میں ٹیکسوں کی شرح دنیا کی بلند ترین سطح پر ہے جہاں ایک لٹر پٹرول پر 45 روپے ٹیکس اور موبائل فون ریچارج پر 29 فیصد ٹیکس دینا پڑتا ہے ۔ ان ڈائریکٹ ٹیکس کا نظام یہ ہے کہ براہ راست زیادہ آمدنی والے شہریوں پر ٹیکس کی بجائے اندھا دھند ٹیکس لگا کر عوام کا جینا مشکل کر دیا گیا ہے ۔
مشہور امریکی مفکر لائی سینڈر سپونر نے کہا تھا کہ اگر عوام کی رضا مندی کے بغیر ٹیکس یا تاوان لگانے کو راہزنی کا نام نہ دیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ڈاکوؤں کا کوئی طاقتور گروہ اگر اپنے آپ کو حکمران ہونے کا دعوٰی کر دے تو کیا ان کی ساری ڈکیتیاں قانوناً جائز قرار پائیں گی؟ اس سوال کا جواب آج بھی دور دور تک نہیں مل رہا۔
گزشتہ ہفتے لاہور میں ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں بھاری ٹیکسوں کے خلاف مال روڈ پر پراپرٹی ڈیلرز کا دھرنا حکومت نے ناکام بنا دیا۔ انقلاب کی ناکام کوشش ہمیشہ بغاوت قرار پاتی ہے لہٰذا پراپرٹی ڈیلروں کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ پولیس نے ان پر لاٹھی چارج کیا اور گرفتاریاں ہوئیں۔ مظاہرین کے ساتھ موقع پر مذاکرات کی نوبت ہی نہیں آئی بلکہ گرفتار افراد کو عدالتوں سے اپنی ضمانتیں کروانے کے بعد رہائی نصیب ہوئی۔ احتجاج کو ہمیشہ کمزوروں کا ہتھیار کہا جاتا ہے اور اگر کمزوروں سے آواز کا حق بھی چھین لیا جائے تو ایک جمہوری طرز حکومت میں اس کا بڑا غلط تاثر ابھرتا ہے ۔
ریئل اسٹیٹ کے شعبے کے سلگتے مسائل پر بحریہ ٹاؤن پراپرٹی ڈیلرز ایسوسی ایشن کے صدر اور پراپرٹی انوسٹمنٹ اینڈ ہاؤ سنگ کے ایکسپرٹ محترم مظفر علی ہاشمی کے ساتھ ایک غیر رسمی گفتگو میں ہمیں اس اہم ترین شعبہ کے ان گنت مسائل کا اندازہ ہوا جو مجموعی طور پر ملکی معیشت کی ترقی میں رکاوٹ کا باعث بن رہے ہیں۔ پراپرٹی کی خرید و فروخت پر عائد ٹیکسوں کی شرح میں ہر سال اضافہ ہو جاتا ہے ۔ 2016ء میں پراپرٹی مارکیٹ اپنے عروج پر تھی مگر موجودہ حکومت نے پراپرٹی ڈیلرز پر 10 فیصد ٹیکس متعارف کروا کر مارکیٹ کو کساد بازاری کی طرف دھکیل دیا۔ مظفر ہاشمی صاحب کہتے ہیں کہ پراپرٹی ڈیلر service provide ہیں اور دنیا میں کہیں بھی خدمات کے شعبے پر ٹیکس نہیں ہوتا۔ دوسری بات یہ ہے کہ مذکورہ ٹیکس کا تعین خالصتاً سرکاری عمل کاروں کی صوابدید پر چھوڑا گیا ہے جس سے بدعنوانی کے راستے کھل جاتے ہیں۔ گزشتہ دوسال سے مارکیٹ slump کا شکار ہے ۔ اس غیر صحت مند فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پراپرٹی مارکیٹ میں منڈی کے رجحان کے دو بہت بڑے نقصان ہوئے ہیں۔ پہلے نمبر پر یہ ہے کہ اوورسیز پاکستانیز کی بھیجی گئی ترسیلات زر Remittances میں کمی آچکی ہے اور پاکستان میں آنے والے فارن ڈائریکٹ انوسٹمنٹ (FDI) میں گراؤٹ کا عمل جاری ہے ۔ مظفر ہاشمی کہتے ہیں کہ اگر بات یہاں تک ہو تو پھر بھی گوارا ہو جائے الٹا اثر یہ ہوا ہے کہ پاکستانی سرمایہ کار ملک کے اندر پراپرٹی مارکیٹ میں سرمایہ کاری کی بجائے دبئی کا رخ کرتے ہیں اور قومی سرمائے کا فرار یعنی (flight of capital)کا عمل تیز ہوا ہے ۔ (ایک اندازے کے مطابق گزشتہ ایک سال کے عرصے میں پاکستانیوں نے دبئی میں 35 بلین ڈالر کی جائیدادیں خریدی ہیں)۔
مظفر ہاشمی اب بھی موجودہ حکومت سے امید لگائے بیٹھے ہیں کہ اس شعبے کی بحالی کے لیے حکومت اقدامات کر سکتی ہے ۔ دوسال پہلے FBR کے عائد کردہ ٹیکسز کے علاوہ ڈی سی ٹیکس ، ٹی ایم اے ٹیکس ، سوسائٹی فیس اور مختلف نوعیت کے ایک درجن کے قریب ٹیکسوں کے بعد ایک عام پلاٹ کی لاگت میں 7 سے 8 لاکھ روپے کا اضافہ ہو جاتا ہے جو نہایت بلاجواز ہے ۔ اگر ان ٹیکسوں کو Rationalise کر دیا جائے تو پاکستانی سرمایہ کی دبئی مارکیٹ میں فراری کا عمل رک جائے گا اور سمندر پار پاکستانی اپنے ملک میں سرمایہ کاری کو ترجیح دیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک تکلیف دہ پہلو ہے کہ پراپرٹی سے وابستہ افراد کے دوسال سے چولہے ٹھنڈے پڑے ہوئے ہیں کیونکہ خرید و فروخت کاعمل بری طرح متاثر ہوا ہے ۔
ملک میں ہاؤسنگ کی ضروریات بڑھتی ہوئی آبادی کی وجہ سے بڑھ رہی ہیں لیکن نئی رہائشی سکیموں میں اُس حساب سے اضافہ نہیں ہو رہا۔ اپنا مکان ہر فرد کی بنیادی ضرورت ہے اور ہمارا شعبہ اس میں عوام کو سروس مہیا کر کے حکومت کے ہاتھ مضبوط کرتا ہے مگر حکومت ہم پر ناجائز ٹیکس لگاتی ہے ۔
مثال کے طور پر LDA میں نئی کالونیاں رجسٹر کروانے کے لیے ہمیں محصولات ادا کرنے پڑتے ہیں۔
اس کے باوجود وہاں فول پروف گارنٹی نہیں ہے کہ ان سکیموں میں عوام کا سرمایہ کس حد تک محفوظ ہے ۔ LDA عام طور پر اس وقت حرکت میں آتا ہے جب شہری لُٹ چکے ہوتے ہیں۔ عوام کے مفادات کے تحفظ کے لیے حکومت کو proactive بنیاد پر سسٹم لانا ہو گا۔
مظفر ہاشمی سمجھتے ہیں کہ اگر پراپرٹی مارکیٹ میں زوال آتا ہے تو وہ صرف اس شعبے تک محدود نہیں رہتا بلکہ ہاؤسنگ سیکٹر میں انڈسٹری کے 19 شعبے ہیں جو براہ راست متاثر ہوتے ہیں جن میں مین پاور، سریا، بجری، سٹیل، شیشہ، سیمنٹ، ٹائیل، سینٹری، بجلی، لکڑی، انٹیریئر پینٹ اور دیگر شعبے مل کر قومی معیشت کا ایک cycle بناتے ہیں جس کی ترقی کی رفتار کلی طو رپر پراپرٹی کی خرید و فروخت سے وابستہ ہے ۔ لہٰذا ہمارا چیلنج ہے کہ ہم اس شعبے میں ایک pioneer یا ہراول دستے کا کام کر رہے ہیں اور اگر ہم ڈوبتے ہیں تو ہمارے ساتھ تعمیرات سے متعلق 19 صنعتوں کی پوری قطار ڈوب جاتی ہے ۔ یہ سارے سٹیک ہولڈر ریل گاڑی کے ڈبوں کی مانند ہیں جن کا انجن ریئل اسٹیٹ ہے ۔
مظفر ہاشمی تمام سیاسی وابستگیوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اپنی رائے پر قائم ہیں کہ پاکستان میں ہاؤسنگ کے شعبے میں بحریہ ٹاؤن کے ملک ریاض حسین نے تاریخی کردار ادا کرتے ہوئے ملک کے سب سے بڑے ہاؤسنگ ادارے کی بنیاد رکھی ہے ۔ انہوں نے چیف ایگزیکٹو علی ریاض ملک اور بحریہ کے کنٹری ہیڈ شاہد محمود قریشی (ڈائریکٹر مارکیٹنگ) کی خدمات کو سراہا جنہوں نے خوابوں کو حقیقت کا رنگ دیا ہے ۔
حکومت کی متعارف کردہ نئی ٹیکس ایمنسٹی سکیم کے بارے میں انہوں نے ملے جلے خیالات کا اظہار کیا ہے ۔ اس میں ایک فیصد ٹیکس کی بات کی گئی ہے ۔ دوسرا اس میں ٹیکس کی شرح کو مارکیٹ ریٹ کے ساتھ Tie کیا گیا ہے اور حکومت کو یہ اختیار حاصل ہے کہ اگر ٹیکس بچانے کے لیے مذکورہ جائیداد کی دستاویزی قیمت کم دکھائی جاتی ہے تو حکومت کو یہ جائیداد دوگنا قیمت پر خریدنے کا اختیار حاصل ہو گا۔
مظفر ہاشمی کی گفتگو کا لب لباب یہ ہے کہ ٹیکس چوری روکنے کا ایک ہی طریقہ ہے اور وہ یہ ہے کہ آپ ٹیکس کی شرح کم کر دیں۔ اس سلسلے میں گزشتہ سال ان کی ملاقات وزیر خزانہ اسحق ڈار سے ہوئی تھی۔ حال ہی میں وہ اپنے وفد کے ہمراہ وزیر مملکت برائے رانا افضل، سپیشل ایڈوائزر ٹو ریونیو ہارون اختر اور چیئرمین ایف بی آر سے بھی ملاقات کر چکے ہیں اور حکومت کی طرف سے پراپرٹی سیکٹر کے لیے کسی معجزے کے منتظر ہیں۔
پراپرٹی شعبے کے مسائل اپنی جگہ مگر یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ ٹیکسوں کی شرح میں ہونے والے سارے اضافے کا حتمی بوجھ آخر کار End User پر ہی پڑتا ہے جو کہ عوام ہیں جنہیں اپنا گھر بنانے کے لیے عمر بھر کی بچت خرچ کرنا ہوتی ہے اور وہ پہلے ہی ٹیکسوں کے سنگین بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔


ای پیپر