’’ ملتانی رس بھرے آم : بڑے دل والا قاری محمد عبداللہ ۔۔۔‘‘
13 اپریل 2018 2018-04-13

گاڑی کی رفتار تیز تر ہوتی چلی گئی ۔۔۔ میں وعدہ خلافی سے ڈرتا ہوں لیکن ’’تھوڑی بہت لیٹ‘‘ اب ہمارا قومی مزاج ہے لیکن چار لوگوں میں میں نے یہ خوبی دیکھی اور حیرت زدہ ہوا ۔۔۔ عطاء الحق قاسمی، اُن کے ہاں لیٹ ہو جانے کا تصور بھی نہیں ۔۔۔ میری کتاب ’’بونا نہیں بیوقوف‘‘ کی تقریب رونمائی تھی الحمراء ہال لاہور میں ۔۔۔ میں ٹریفک میں پھنس گیا (میں شہباز شریف کو اس لیے پسند کرتا ہوں کہ اب لاہور میں اُس طرح کا ٹریفک جام نہیں ہوتا جو چند سال پہلے تک معمول کی بات تھی) تقریب ساڑھے تین بجے ہونا قرار پائی تھی اور میں ساڑھے تین بجے جناح ہسپتال کے اشارے پر کھڑا ایک بڑی عمر کی ’’نرس‘‘ کو گھور رہا تھا، پلیز کسی اور طرف اپنا خیال نہ لے جائیے گا ۔۔۔ میں سمجھتا ہوں کہ پولیس والوں، نرسنگ سٹاف اور ائیر ہوسٹس کو سمارٹ ہی ہونا چاہئے ۔۔۔ ورنہ ۔۔۔؟! موٹے پیٹ والا پُلسیا ۔۔۔ بد مزاج نرس اور مردانہ آواز والی ائیر ہوسٹس ۔۔۔؟ توبہ توبہ بچے میرا یہ کالم نہ پڑھیں ۔۔۔؟!ایک دم سے اشارے پر ایک کار رُکی تو میری نظر اُس میں بیٹھی خاتون پر پڑی ۔۔۔ ارے واہ ۔۔۔؟ ’’موصوفہ سگریٹ پی رہی تھیں‘‘ ۔۔۔ سگریٹ سے مجھے یکدم یاد آیا کہ اپنے عطاء الحق قاسمی بھی کہیں الحمراء ہال میں کھڑے سگریٹ نہ پی رہے ہوں کہ جنہوں نے میری کتاب کی تقریب رونمائی کی صدارت کرنا تھی ۔۔۔؟! میں نے اشارہ کھلتے ہی گاڑی کی رفتار مزید تیز کر ڈالی ۔۔۔ خیر جیسے تیسے گاڑی پارک کی اور جلدی میں گاڑی کی چابی بھی گاڑی میں رہ گئی اور وہ لاک ہو گئی ۔۔۔ یہ ایک الگ ’’درد ناک‘‘ کہانی ہے ۔۔۔ پھر سناؤں گا ۔۔۔ سامنے الحمراء ادبی بیٹھک کی سیڑھیوں پر حسن عباسی، احمد عدنان طارق، عطاء الحق قاسمی اور ’’وہ‘‘ کھڑے قہقہے لگا رہے تھے ۔۔۔ کیونکہ ’’سنا ہے ’’وہ‘‘ اور دوسرے بیسیوں دوست ایک گھنٹہ سے وہاں کھڑے میرے منتظر تھے اور میں ’’جناح ہسپتال کے اشارے پر گاڑی میں بیٹھا نرس‘‘ کی Smartness پر غور کر رہا تھا ۔۔۔ ’’جی ۔۔۔ آپ نے کیا فرمایا‘‘ ۔۔۔؟! ’’شرمندگی‘‘ ۔۔۔ جی جی ۔۔۔ ہوئی تھی ’’شرمندگی‘‘ لیکن یہ مذاق بھی خوب رہا، خوب ہنسی مذاق قہقہے چلے اور دو گھنٹے کی میرے اعزاز میں ہونے والی یہ تقریب قہقہوں کی بارش بن گئی ۔۔۔ عطاء صاحب نے میرے ’’خلاف‘‘ جو مضمون پڑھا وہ اخبارات میں چھپا، کتابوں میں چھپا اور میری پہچان بن گیا ۔۔۔ یہ محبت والے لوگ ہیں ۔۔۔ جن سے مجھے بھی محبت ہے ۔۔۔ ان محبت والوں میں قاری محمد عبداللہ بھی شامل ہو چکا ہے ۔۔۔ یہ ڈیڑھ پسلی کا ’’لڑکا‘‘ (پلیز لڑکے بُرا مت منانا) ۔۔۔ مجھے تاریخ اسلامی میں ایک آدھ ایسے ’’محدث‘‘ یاد آتے ہیں جن کے بارے میں بیان ہے کہ وہ کم عمری میں ہی عالم کے درجہ پر اپنی ذہانت، یادداشت وغیرہ کے باعث فائز ہوئے ۔۔۔ سولہ سال کی عمر تھی کہ کئی بڑے تقریب میں کسی علمی موضوع پر گفتگو فرما رہے تھے کہ چڑیا کے دو بچے آ گئے ۔۔۔ اُن کے ساتھ کھیل میں لگ گئے ۔۔۔ لوگ مسکرا دئیے ۔۔۔ تو جب احساس ہوا کہ میں تو عالم فاضل لوگوں سے مخاطب تھا ۔۔۔ خود ہی تھوڑا مسکرائے اور بولے ۔۔۔ ’’حاضرین مجلس میں عمر کے اس حصے میں ہوں جہاں ایک بچہ تو بہر حال میرے اندر موجود ہے ناں‘‘ ۔۔۔؟جب میں نے چار سال پہلے قاری محمد عبداللہ کو دیکھا تو لگا کہ کچھ کمی کمزوری تو ہو گی موصوف میں؟ ۔۔۔ لیکن جب ہم رخصت ہو رہے تھے شہر ملتان سے تو میری رائے تھی کہ یہ ’’کم سن‘‘ تو Matric ہے اور ڈیڑھ پسلی کے اندر اس کے سینے میں ’’بہت بڑا دل ہے‘‘ ۔۔۔ میں جب کسی سے دوستی کرتا ہوں تو میں اُس کی ظاہری خوبصورتی، رہن سہن، لباس، پوشاک، تعلیم و اسناد، گاڑی، بس، ٹرک، سکوٹر نہیں دیکھتا ۔۔۔ مجھے تو اُس کے دل سے سروکار ہوتا ہے کیونکہ میری دادی اماں ایک پنجابی محاورہ بولا کرتی تھیں ۔۔۔
’’سر وڈے سرداراں دے‘‘
’’پیر وڈے گنواراں دے‘‘
میں جب غلطی کر چکتا ہوں تو مجھے احساس ہوتا ہے مگر مجبور ہوں ۔۔۔ ’’پلیز اپنے پاؤں پر غور نہ کریں‘‘ ۔۔۔ اب یہ ’’محاورے‘‘ اپنی افادیت کھو چکے ہیں شاید ۔۔۔؟! کیونکہ بڑے بڑے گنوار ہم پر حکومت کر گئے اور بڑے بڑے سروں والے ۔۔۔؟! بس باقی آپ خود سمجھدار ہیں ۔۔۔ ویسے بھی پلیز میری باتوں پر ’’غور‘‘ نہ کیا کریں ۔۔۔ اپریل میں ’’ آم ‘‘ درختوں پر لٹک رہے ہیں، شدید گرمی ہے اور یہ پھلوں کا بادشاہ ۔۔۔ ’’واہ‘‘ تین سال میں نے زندگی کے اس ’’بادشاہ‘‘ کے دیس میں ہی گزارے اور حیرت زدہ ہوا کہ مرزا غالب دہلی آگرہ لکھنؤ کے گرد ہی گھومتا رہا ۔۔۔ کاش اُس کا بھی ’’سر‘‘ بڑا ہوتا اور اُسے پتا چلتا کہ قدر دان تو ملتان شہر میں بیٹھے ہیں۔۔۔ وہ وہاں ’’دہلی آگرہ‘‘ میں ہی بادشاہوں کے ترانے پڑھ رہا ہے اور وظیفہ لیے موج منا رہا ہے۔ اوپر سے مرزا غالب کا پسندیدہ ’’پھلوں کا بادشاہ‘‘ بھی تو ملتان کے ارد گرد ہی رہنے پر مجبور ہے اور وافر مقدار میں ہے ۔۔۔ حکومتیں سال دو سال بعد گر جاتی ہیں ۔۔۔ یہ بادشاہ سدا اپنی بادشاہی پر فخر کرتا ہے کرتا رہے گا ۔۔۔ امرود، سیب، انار جیسے شان میں بڑے پھل بھی جب ’’ آم ‘‘ کی آمد آمد ہوتی ہے تو ۔۔۔ سب سر جھکا لیتے ہیں ۔۔۔ ہماری برطانیہ میں زیر تعلیم ایک کزن ہمارے ساتھ محض اس لیے جوانی کے ایام میں ہر دم رابطہ میں رہیں جب ہمارا ملتان ماموں کے ہاں آنا جانا تھا اور آموں کے باغ کے درمیان اُن کی رہائش تھی ۔۔۔شوگر کا مریض بھی ۔۔۔ ڈاکٹر سے جھوٹ بول کے گھر والوں سے چھپ کے ۔۔۔ آم ضرور کھاتا ہے اور مر جانے کو آم کے بغیر گزاری زندگی پر ترجیح دیتا ہے۔ شکر کریں وہ سادہ لوگوں کا دور تھا اگر آج جیسے لاہور کے نوسر باز اُس دور میں بھی ہوتے تو ممکن ہے کوئی میٹرک فیل شاعر بننے کا شوقین ۔۔۔ مرزا غالب کو لنگڑے آم کی دس پیٹیاں، دوسہری آم کی چار پیٹیاں اور دو سندھڑی آم دے کر غالب سے پورا دیوان ہتھیا لیتا ۔۔۔ اور ’’اتنی بڑی‘‘ شاعری کسی لاہور کے نوسر باز ’’طیفہ لاہورےئے‘‘ کے نام سے دنیا میں جانی جاتی، مشہور ہوتی اور اردو ادب ’’لنگڑے آم ‘‘ کے ہاتھوں لٹ چکا ہوتا ۔۔۔ ویسے آپ کو اِک ’’شرم کی بات‘‘ بتاؤں تیرہ سال ہو گئے ہم نے آم اپنی جیب سے خرید کر نہیں کھائے، ملتان والے دوست ہم پر آم نچھاور کرتے رہتے ہیں ۔۔۔ بات قاری محمد عبداللہ کے دل کے حوالے سے ہو رہی تھی۔ قاری محمد عبداللہ کو جب میں پہلی دفعہ مل کے تقریب کے اختتام پر ملتان سے نکلنے لگا تو قاری محمد عبداللہ نے حافظ عبدالودود کا ’’سوہن حلوہ‘‘ تھماتے ہوئے محبت سے پوچھا ۔۔۔ ’’حافظ بھائی مجھے کوئی نصیحت کرتے جائیں‘‘ ۔۔۔؟ (یہ بات کرتے ہوئے قاری محمد عبداللہ سچی مچی سنجیدہ تھا اور بالکل بھی وہ شرارت کے موڈ میں نہ تھا) البتہ ’’میری ہنسی نکل گئی ۔۔۔ جسے ابھی خود نصیحتوں کی ضرورت ہے یہ بھولا بادشاہ قاری محمد عبداللہ اُس سے نصیحت طلب کر رہا ہے ۔۔۔؟! خیر میں نے بھی ہمت کر کے نصیحت کر ڈالی ۔۔۔ آپ بھی ملاحظہ کریں (آپ بھی اس نصیحت سے فائدہ اُٹھا سکتے ہیں؟) ۔۔۔’’پیارے قاری محمد عبداللہ ۔۔۔ اس شہر میں اِک شجر سایہ دار ہے‘‘ ۔۔۔؟ ( قاری محمد عبداللہ نے ایک منٹ کے لیے سوچا ہو گا ۔۔۔ کسی آم کے درخت کی طرف اشارہ کرے گا ؟! ہمہ تن رہا) ۔۔۔؟!وہ ہے سلیم ناز آف نوائے وقت ۔۔۔ یہ شخص بھی تیری طرح محبت کرنے والا ہے ۔۔۔ ہماری طرح شرمیلا پن اس میں بھی موجود ہے ۔۔۔ انا اور ضد تو علم والوں کے ہاں وافر مقدار میں ہوتی ہے ۔۔۔؟؟!!!’’بس بس میں سمجھ گیا‘‘ ۔۔۔ ’’بس بس حافظ بھائی میں سمجھ گیا‘‘ ۔۔۔ آج بھی میں اور حافظ شفیق الرحمن ملتان ہی جا رہے تھے گاڑی کی رفتار میں نے اس لیے تیز کر دی ۔۔۔ مزید تیز کر دی کہ عطاء الحق قاسمی کے بعد جس شخص کو وقت پر آنے، وقت پر پہنچنے، وقت پر تقریبات کا آغاز کرنے کا جنون ہے ۔۔۔ ہاں ہاں ۔۔۔ وقت پر اچھا شعر فٹ کرنے کا ملکہ حاصل ہے وہ ہمارا بڑا بھائی ۔۔۔ حافظ شفیق الرحمن ہے ۔۔۔حافظ صاحب ۔۔۔ بس کوشش کریں گرچہ میں تیز رفتاری سے ڈرتا ہوں کہ ہم ساڑھے دس تک ملتان میں ہونے والے رائیٹرز کنونشن میں پہنچ جائیں ۔۔۔ جہاں آپ کا بھائی قاری محمد عبداللہ شہر ملتان کی خاص الخاص ہستیوں کے ساتھ آپ کا اور میرا منتظر ہے ۔۔۔؟!ڈاکٹر سعید اقبال سعدی کا قطعہ ملاحظہ کریں ۔۔۔
کہا بیوی نے جل کر رات کو ’’ڈسٹرب‘‘ ہونے پر
کبھی اِک رات تو مجھ کو ذرا آرام کرنے دیں
چلے جاتے ہیں جب کوئی بلانے رات کو آئے
’’کسی بیمار کو تو آپ اپنی موت مرنے دیں؟‘‘


ای پیپر