وزارت عظمیٰ کی منحوس ،تاحیات نااہل کرسی
13 اپریل 2018

نااہل نواز شریف کے ساتھ تاحیات کا سابقہ بھی جڑ چکا ہے اور ہم پر یہ راز روز روشن کی طرح عیاں ہو چکا ہے کہ پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ صرف اور صرف یہ منحوس وزارت عظمیٰ کی کرسی ہی ہے۔ کوئی شخص نہیں بلکہ نااہل یہ نگوڑ ماری ، منحوس وزارت عظمیٰ کی کرسی ہے۔اس کرسی کے ارد گرد نحوست کے سائے چھائے ہوئے ہیں ، شیطانی طاقتیں ، مغربی استعمار ، یہود و ہنود اس کیخلاف مسلسل سازش میں مصروف ہیں اور شاید وطن عزیز کی روحانی طاقتیں جنہوں نے جنگوں میں دشمنوں کے طیاروں کو فضاؤں میں دم سے پکڑ کر آسمان کے دور کونوں میں جھٹک دیا تھا وہ بھی اس کرسی سے ناراض ہو چکی ہیں۔ وطن عزیز میں بھی ہر ذی شعور ، عقل مند اور دور اندیش شہری اس کرسی سے مایوس ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز ہونے والا ہمیشہ عوام کے مینڈیٹ کی تذلیل کرتا آیا ہے۔ پاکستانی جاہل عوام قیمے والے نان ، نوکریاں ، موٹر سائیکلیں لے کر اپنی چھوٹی سی عقل کے ذریعے کسی کو منتخب کرتی ہیں لیکن وائے نحوست کہ جوں ہی وہ وزارت عظمیٰ کی منحوس کرسی پر تشریف رکھتا ہے وہ چشم زدن میں دنیا کا سب سے کرپٹ شخص بن جاتا ہے ، جیسے جیسے اس کے پانچ سالہ دورِ وزارت عظمیٰ کا وقت گزرنے لگتا ہے وہ مختلف الزامات میں گھرنے لگتا ہے۔پہلا حملہ اس پر کرپشن کا ہوتا ہے لیکن خدانخواستہ وہ اس الزام سے بچ جائے یا ڈھیٹ کی طرح عوامی مینڈیٹ کی گردان کرتا ہوا ، کرسی سے چپکا رہے تو اگلے ہتھیار کے طور پر اس کے خاندان کی بداخلاقیاں پورے ملک کے ہر کونے کھدرے میں پھیلنے لگتی ہیں ، ملک بھر کی دیواریں اس منحوس عہدے پر فائز شخص کو غدار قرار دینا شروع کر دیتی ہیں۔ لیکن اگر اپنے تئیں منتخب وزیر اعظم پھر بھی باز نہ آئے اور عوامی مینڈیٹ کے ڈھکوسلے پر یقین کامل رکھ کر بیٹھا رہے تو پھر اس کائنات کا سب سے خطرناک ہتھیار اس کیخلاف استعمال کیا جاتا ہے۔ جی ہاں مذہب کی شان میں گستاخی ۔ اسی کرسی کی نحوست سے ملک بھر کے گلی کوچوں سے عوام نکل کر اس ’’مذہب کی توہین‘‘ کے خلاف احتجاج کرتے ہیں۔ یہ اسی کرسی کی نحوست ہے کہ نت نئے وار اس کے دور اقتدار میں جاری رہتے ہیں اور بفرض محال وہ اس جھوٹے مذہبی الزام سے بھی بچ جائے تو پھر اس کے نصیب میں تختہ دار ہوتا ہے یا پھر جلا وطنی ۔ بلاشبہ یہ وزارت عظمیٰ کی کرسی کی نحوست ہی ہے جو اس ملک کی ترقی کے پہیے کو چلنے نہیں دے رہی ۔ اس کرسی کو پاکستان سے نکال کر کہیں سمندر برد کر دینا چاہیے ، کسی آتش نمرود میں جلا دینا چاہیے اور پھر اس کی خاک کو ہوا کو اڑا دینا چاہیے یا اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے رقیبوں کی کسی تقریب میں ایندھن بنا کر دیگ پکا لینی چاہیے۔
پاکستان کو بنے ہوئے ستر سال ہو چکے ہیں۔اس سارے وقت میں پاکستان پر بالترتیب جنرل ایوب خان ، جنرل یحییٰ خان ، جنرل ضیاء الحق اور جنرل پرویز مشرف نے حکومت کی ۔ جنرل ایوب خان کے مارشل لاء کا دورانیہ 11 سال رہا جبکہ انہوں نے اپنے دور اقتدار میں پاکستان کو 1965ء کی جنگ تحفہ میں دی ۔جنرل یحییٰ خان کا دور اقتدار 2 سال رہا اور انہوں نے پاکستان کو 1971ء کی جنگ تحفہ میں دی ، ملک دو لخت کیا اور ان کے ٹائیگر نیازی نے پلٹن میدان میں 19ہزار فوجیوں سمیت 90ہزار قیدی انڈیا کی حفاظت میں چھوڑے ،اپنا پستول انڈیا کے سپرد کر کے واپس پدھار ے۔ پھر موقع ملا مرد جنرل ضیاء الحق کو ان کے دور اقتدار کا دورانیہ 10 سال رہا اور انہوں نے انڈیا کے ساتھ جنگ کو تو ٹالے رکھا لیکن امریکہ کے ڈالروں کی مدد سے اس پورے خطے کو جہاد کا تحفہ دیا جس کے نتائج ہم آج تک بھگت رہے ہیں ۔ پھر کسی سے نہ ’’ڈرنے وڑنے‘‘ والے اب تک کے آخری جنرل پرویز مشرف کی باری آئی جن کے دور اقتدار کا دورانیہ 8 سال رہا اور انہوں نے اپنی جرنیلی کے دور میں پاکستان کو کارگل کی شکل میں ایک تمغہ عنایت فرمایا۔ پاکستان کی ستر سالہ تاریخ میں 31 سال پاکستان میں آمریت رہی ۔ لیکن آپ پاکستان میں آمریت کی کرسی کی مضبوطی کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ ان تمام جنگوں ، پاکستان کی بدبختی ، عوام کی بدحالی کے باوجود ان جنرلوں کا ’’کلا‘‘ مضبوط رہا اوران کے اقتدار کی کرسی خوش بخت رہی ۔ جنرل ایوب خان باعزت زندگی گزارنے کے بعد اسلام آباد کے ایک پرسکون گھر میں خالق حقیقی سے جاملے اور انہیں پورے فوجی اعزاز کے ساتھ نوازا گیا۔ جنرل یحییٰ خان نے پاکستان کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کے بعد پر سکون زندگی گزاری ،راولپنڈی میں فوت اور فوجی اعزازت کے ساتھ سپرد خاک ہوئے۔ جنرل ضیاء الحق فضائی حادثے کا شکار ہوئے اور فوجی اعزازات کے ساتھ قبر میں جا سوئے۔ جنرل پرویز مشرف بھی پورے فوجی اعزاز کے ساتھ دبئی کے کلبوں میں کمر درد کے باوجود کمر لچکانے میں مصروف ہیں اور قرین قیاس ہے کہ آپ بھی شاندار زندگی گزارنے کے بعد فوجی اعزاز کے ساتھ زمین میں جائیں گے۔
آمریت کے دور کے تحفے ہم آج تک بھگت رہے ہیں ۔70میں سے 39کٹھن نام نہاد جمہوری برس پانے کے باوجود پاکستان کے کرپٹ وزراء اعظموں نے ہمیں کسی جنگ میں نہیں دھکیلا ، پاکستان کا ایٹمی پروگرام شروع کرنے والا ایک منتخب وزیر اعظم اور دھماکے کرنے والا تاحیات نااہل نواز شریف ٹھہرا ۔ اسی ملک میں وزارت عظمیٰ کی منحوس کرسی کی کرامات بھی ملاحظہ فرمائیں۔ لیاقت علی خان کو قائد اعظم محمد علی جناح ؒ کی طرف سے وزیر اعظم مقرر کیا گیا جو 1951ء میں قتل ہوئے ، خواجہ ناظم الدین کو دو سال بعد اسمبلی تحلیل کر کے گھر بھیج دیا گیا ، محمد علی بوگرہ سے پستول تان کر استعفیٰ لیا گیا ،ایک سال بعد چوہدری محمد علی کو بلا کر بٹھایا گیا اور پھرزبردستی استعفیٰ لے کر نکال دیا گیا۔حسین شہید سہروری ایک سال بعد ہی عزت بچا کر نکلے جبکہ ابراہیم اسماعیل چندریگر دو ماہ تک ہی وزارت عظمیٰ کی کرسی کی اذیت برداشت کر سکے اور پھر ان سے استعفیٰ لے لیا گیا۔ فیروز خان نون کو آئے ایک سال ہی ہوا تھا کہ جنرل ایوب خان نے ان کا دھڑن تختہ کر دیا ۔1973ء میں ذوالفقار علی بھٹو وزیر اعظم کی منحوس ، کرسی پر براجمان ہوئے ، وہاں سے سیدھا پھانسی کے پھندے تک پہنچے اور دنیا سے رخصت ہوئے ۔جنرل ضیاء الحق نے جونیجو کو تین سال بمشکل اس منصب پر برداشت کیا اور پھر آٹھویں ترمیم کے بعد عہدے سے ہٹا دیا۔ محترمہ بینظیر بھٹو 1988ء میں مسلم دنیا کی پہلی خاتون وزیر اعظم بنیں اور دو بار عوام کے ووٹوں سے وزیر اعظم بننے کے باوجود ایک بار بھی وزارت عظمیٰ کی مدت پوری نہ کر سکیں اور آخر کار قتل کر دی گئیں۔، ظفر اللہ جمالی سے استعفیٰ لیا گیا ، شوکت عزیز سے استعفیٰ لیا گیا ، یوسف رضا گیلانی کو عدالتی برطرف کر دیا گیا ۔ آج ایک بار پھر اسی منحوس کرسی نے نااہل نواز شریف کو تاحیات نااہل کروا دیا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے ایک آل پاکستان بابا کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ پنکی ، نورانی ، نیلی پیلی روحانی روشنیوں کا حالہ بنایا جائے ۔ سب پیر اور بابے اکٹھے ہو کر ایک ہی بار فیصلہ کر لیں کہ اس نگوڑ ماری ، منحوس وزارت عظمیٰ کی کرسی سے ایک ہی بار پاکستان کی اور عوام کی جان چھڑا دی جائے اور ملک میں امن و آشتی کے دور کا آغاز ہو سکے۔ آمین


ای پیپر