ریاست شہری سہولیات فراہم کرنے کی ذمہ دار ہے
13 اپریل 2018

سندھ میں متوسط طبقے کی نئی پارٹی ’’ تبدیلی پسند پارٹی‘‘ کے قیام پر میڈیا خواہ سیاسی حلقوں بحث جاری ہے ۔ بڑے زمینداروں (بھوتاروں ) کے خلاف نعرے پر قائم ہونے والی پارٹی کا دعویٰ ہے وہ صوبے میں پرانی سیاسی گروہ بندی کا متبادل بننے جارہی ہے ۔ دوسری جانب بلاول بھٹو زرداری نے صوبے کے مختلف اضلاع کے دورے شروع کردیئے ہیں۔ سندھ کے اخبارات خاص طور پر قومی شناختی کارڈ جاری کرنے والے ادارے نادرا کو تنقید کا نشانہ بنائے ہوئے ہیں۔ اخبارات کے مطابق یہ ادارہ سندھ میں غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کو بڑے پیمانے پر کارڈ جاری کر رہا ہے ۔ جنہیں ووٹ کا حق بھی مل رہا ہے اور پاکستان کی شہریت بھی۔ اخبارات کی نظر میں یہ معاملہ ملک اور خاص طور پر سندھ کے لئے نقصان دہ ہے ۔ اس پر سندھ کے مختلف اخبارات نے اداریے لکھے ہیں۔ بعض شہروں میں نادرا کے اس اقدام کے خلاف احتجاجی مظاہرے بھی ہوئے ہیں۔ سندھ کے اخبارات کا اداریوں کے حوالے سے رواں ہفتے زیادہ تر فوکس شہری مسائل رہے ہیں۔
روزنامہ کاوش ’’ واٹر کمیشن کے احکامات پر عمل کون کرائے گا؟‘‘ کے عنوان سے لکھتا ہے کہ ملک بھر کے عوام کی طرح سندھ کے عوام بھی ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ ٹیکس اس لئے ادا کیا جاتا ہے کہ عوام اپنی آمدنی کا ایک مقرر حصہ ریاست کو ادا کرتا ہے اور اس کے عوض ریاست شہریوں کو سہولیات فراہم کرنے کی ذمہ دار ہوجاتی ہے ۔ عوام سے براہ راست اور بالواسطہ ٹیکس وصول کئے جاتے ہیں۔ یہ ٹیکس ہر چیز اور مصنوعات کی قیمت میں شامل ہوتے ہیں۔ اس کے جواب میں شہریوں کو کیا سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں؟ اس کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ باقی سہولیات ت چھوڑیں، سندھ کے عوام کو پینے کا صاف پانی بھی میسر نہیں۔ عدلیہ کی جانب سے قائم کردہ واٹر کمیشن کے واضح احکامات کے باوجود عوام کو صاف پانی کی فراہمی اور پینے کے پانی میں سیوریج کی ملاوٹ کو روکنے کو یقنی نہیں بنایا جاسکا ہے ۔ واٹر کمیشن کے احکامات کو کسی حساب میں نہیں لیا جارہا ہے ۔ عدالتی احکامات پر عمل درآمد کے حوالے سے گزشتہ روز ایک خبر شایع ہوئی ہے ۔ خبر کے مطابق لاڑکانہ شہر سمیت ضلع کے 80مقامات پر فراہم کیا جانے والا پانی انسانی استعمال کے قابل نہیں۔ زیر زمین پانی میں سنکھیا اور بیکٹیریا کی موجودگی کے باوجود لوگ یہ مضر صحت پانی پی رہے ہیں۔ عدالتی احکامات کے باوجود رائیس کینال میں سیوریج کا پانی بند نہیں کیا گیا ہے ۔ کیا یہ عمل توہین عدالت نہیں؟
یہی صورت حال تھوڑے بہت فرق کے ساتھ صوبے کے باقی اضلاع میں بھی ہے ۔ وہاں پر بھی عدالتی احکامات پر صحیح عمل نہیں کیا جارہا ہے ۔ اگر عمل ہو بھی رہا ہے تو صرف فائلوں میں، سرزمین پر صورت حال میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ یہ تمام معاملہ گورننس کا ہے ۔ اداروں کی مجموعی کارکردگی ہی گورننس کا پروفائل تشکیل دیتی ہے ۔ لیکن سندھ اداروں کا قبرستان بن چکا ہے ۔ جب صورتحال یہ ہو کہ لوگوں کو پینے کا پانی تک نہ ملے جو کہ ان کا آئینی حق ہے ، اس کارکردگی کے ساتھ حکومت کا کیسے پروفائل بنے گا؟ یہ امر نا قابل فہم ہے کہ عوام سے ٹیکس تو لیا جائے ، لیکن جواباً ان کو وہ سہولیات جن کی آئین میں ضمانت دی گئی ہے مہیا نہ کی جائیں، اس صورت حال میں وصول کیا جانے والا ٹیکس ’’ جگا ٹیکس‘‘ سے کس طرح سے مختلف ہے ؟
پینے کے لئے صاف پانی کے بجائے گندے پانی کی فراہمی سے کئی مسائل اور امراض جنم لیتے ہیں۔ منتظمین عوام کو صرف پینے کے صاف پانی کے حق سے محروم نہیں کرتے، بلکہ اس پانی کے استعمال سے جو امراض جنم لیتے ہیں عوام کو ان کے علاج کی سہولت بھی میسر نہیں۔جب انسانوں کو غلاظت بھرا پانی پلانے کا جبر کیا جائے اس سے بڑھ کر اور کیا جرم ہو سکتا ہے ؟ بنیادی سہولیات کی فراہمی حکمرانوں کی اولیت ہی نہیں رہی۔ اس کو مجرمانہ غفلت اور انتظامی غیر سنجیدگی کہہ کر نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ یہ ایک بہت بڑی نااہلی ہے ۔ ایک ایسا مکینزم بنانے کی ضرورت ہے تاکہ واٹر کمیشن کے احکامات پر پورے طور پر عمل درآمد ہو سکے۔
’’پارکس اور کھیل کے میدانوں پر سے قبضے ہٹانے کا فیصلہ‘‘ کے عنوان سے روزنامہ سندھ ایکسپریس لکھتا ہے کہ عوام کی تفریح اور جسمانی سرگرمیوں کے لئے دنیا بھر میں پارکس اور کھیل کے میدان ضروری ہوتے ہیں اور حکوت ان اہم مقامات کی موجودگی کو یقینی بناتی ہے ۔ لیکن ہمارے پاس ان اہم مقامات پر مافیا کا راج ہے ۔ اگر ملک بھر میں سروے کیا جائے تو پتا چلے گا کہ ہزاروں پارک اور کھیل کے میدان بلڈر مافیا کے قبضے میں ہیں۔ یہ زمین یا فروخت کردی گئی ہے یا پھر اس پر پلازے تعمیر کردیئے گئے ہیں۔ ہمارے بچوں کو نہ سیر وتفریح مل سکتی ہے اور نہ ہی جسمانی سرگرمی کے لئے میدان۔ لہٰذا ہم صحت مند معاشرے کے بجائے بیمار معاشرے کی تعمیر میں لگے ہوئے ہیں۔
گزشتہ روز سپریم کورٹ کی کراچی رجسٹری میں کراچی شہر کے اندر پارکوں، کھیل کے میدانوں پر قبضے اور سیاسی جماعتوں کے دفاتر قائم کرنے اور دیگر شہروں میں اس طرح کی زمینوں پر قبضے کے خلاف سماعت ہوئی۔ سپریم کورٹ نے کراچی میں تمام پارکوں اور کھیل کے میدانوں پر سے تجاوزات ہٹانے اور کشمیر روڈ پر شادی ہالز سمیت غیر قانونی تعمیرات گرانے کا حکم دیا۔ سپریم کورٹ نے انتظامیہ کو ہدایت کی سوئمنگ پول، ٹینس کورٹ، سکیٹنگ رنگ کو چھوڑ کر باقی تمام تعمیرات ہٹائی جائیں۔ جسٹس گلزار احمد نے حکم دیا کہ پی ای سی اے کے نوخیز گراؤنڈ میں ابھی تک بعض سیاسی جماعتوں کے دفاتر موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شہر میں پارکوں اور میدانوں کو اصل حالت میں بحال کیا جائے۔ یہ ایک مستحسن قدم ہے کہ کراچی جیسے اہم شہر میں سیرو تفریح اور کھیل کے میدانوں کی بحالی کے لئے عدالت نے فیصلہ دیا ہے ۔ ہمارے ہاں سرکاری پارکوں اور کھیل کے میدانوں کے لئے مختص جو بھی زمین ہے ، وہاں بااثر افراد یا قبضہ مافیا کا قبضہ ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ بچے گلیوں اور سڑکوں پر کھیلتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ جبکہ پارک اور میدان بچوں کی بنیادی ضرورت اور حق ہے ۔ پارک بغیر قبضے کے ہونے چاہئیں تاکہ لوگ اپنے بچوں کے ساتھ آزادی سے گھوم پھر سکیں۔ یہ مرحلہ صرف کراچی تک ہی محدود نہیں ہونا چاہئے بلکہ سندھ بھر میں ان احکامات کو نافذ کرنے کی ضرورت ہے ۔ اور اس کے ساتھ ساتھ بلاامتیاز اور مؤثر طریقے سے عمل درآمد کرنے کی بھی ضرورت ہے ۔


ای پیپر