جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کے نام پر لیگی اراکین کی بغاوت
13 اپریل 2018

پنجاب پر 36 سالہ شریف برادران کا دور اقتدار دم توڑ رہا ہے اس بار نہ تو کوئی مشرف ہے اور نہ ہی کسی ممبر کو دباؤ کا سامنا ہے جنوبی پنجاب کے معروف لکھاری جناب میاں غفار کے بقول مسلم لیگ ن کو توہین رسالت کے قانون میں تبدیلی کی کوشش لے ڈوبی مگر ابھی انہیں اس کا ادراک نہیں یہ چاند الیکشن میں چڑھے گا کیونکہ جنوبی پنجاب میں اس کا شدید رد عمل پایا جاتا ہے اچانک سامنے آنے والے جنوبی صوبہ محاذ کے نام پر رد عمل بھی اسی سلسلے کی اہم کڑی ہے جس کے آتھ ارکان نے جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کے نام سے نئی پارٹی بنا لی ہے نواز شریف کا کہنا ہے کہ جو ہمیں چھوڑ کر چلے گئے وہ ہمارے تھے ہی نہیں ان اراکین میں خسرو بختیار ،اصغر علی شاہ ،طاہر اقبال ۔طاہر بشیر چیمہ ،رانا قاسم نون ،باسط بخاری ،سمیع اللہ چوہدری ،نصراللہ دریشک شامل ہیں حیران کن امر یہ ہے کہ مسلم لیگ ن پہلے اس بات کا اندازہ نہیں لگا سکی کہ توہین رسالت کے قانون میں تبدیلی کی کوشش پر کتناشدید رد عمل ہوگا یہ جو پارٹی چھوڑ کر گئے ہیں وہ اپنے اپنے حلقے میں عوامی دباؤ سے بہت حد تک آگاہ تھے 2013کے الیکشن میں ضلع لودھراں سے شہید کانجو گروپ ،علی پور سے گوپانگ گروپ ،خانیوال سے ہراج ،ڈیرہ غازیخان سے لغاری سمیت متعدد مٹکے کے نشان پر کامیاب ہوئے تھے اور سارے کا سارا مٹکا بعد میں مسلم لیگ کی آبیاری کرنے لگ گیا غالب امکان ہے کہ آئیندہ الیکشن کے بعد جنوبی صوبہ محاذ کے پلیٹ فارم سے جیتنے والے تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کریں گے اور رہا مسلم لیگ ن کا معاملہ تو 30سال سے زائد عرصہ تک اختیارات اور حکمرانی انجوائے کرنے والی اس پارٹی کو حکومت ملنا تو درکنار حکومت بنانے کیلئے کامیاب اُمیدوار بھی جنوبی پنجاب سے نہیں ملیں گے میاں غفار احمد کے بقول 2018کے انتخابی نتائج بتادیں گے کہ توہین رسالت قانون میں تبدیلی کی کوشش ،اورنج لائن ٹرین لاہور منصوبہ اور ملتان میں بڑی طرح ناکام ہونے والے 88ارب روپے کے میٹرو پراجیکٹ کا کتنا شدید رد عمل سامنے آتا ہے جنوبی پنجاب سے اب اور بہت سے ممبران اسمبلی بھی ن لیگ کو چھوڑ جائیں گے۔
میاں نجیب الدین اویسی مسلم لیگ ن کے ایم این اے ہیں انہوں نے اپنے مضمون ’’کاش ہم ایسے نہ ہوتے ‘‘میں میاں شہباز شریف کے انداز حکمرانی کے بارے میں لکھا کہ وہ اختیارات کی مرکزیت کے قائل ہیں اختیارات کی تقسیم ان کے نزدیک خطا عظیم ہے بیورو کریسی پر مکمل اعتماد کرتے ہیں بیورو کریسی کے ہر لفظ کو سچ اور اپنے منتخب عوامی نمائندوں کی ہر بات کو جھوٹ اور غلط سمجھتے ہیں ہمارے ضلع کے پانچ ممبر قومی اسمبلی دس ممبر صوبائی اسمبلی یک زبان ہیں کہ ایک کمزور ترین آفیسر کمشنر ،ڈپٹی کمشنر ،آر پی او ،ڈی پی او وہ نوری مخلوق ہیں جن کی لغزشوں ،کوتاہیوں ،کمزوریوں کے بارے میں سوچنا بھی گناہ کبیرہ کے مترادف ہے ماضی بعید میں ہمارے ہاں ایک خاتون ای ڈی او ایجوکیشن تعینات تھیں ہمارے بہاولپور کی تمام منتخب اشرافیہ نے کم از کم تین بار وزیر اعلیٰ کی خدمت میں اس کے تبادلے کی استدعا کی مگر وہ خاتوں اس وقت تبدیل ہوئی جب اس کی ترقی ہوئی اپر پنجاب میں اس کے گریڈ کے مطابق سیٹ خالی ہوئی تب وہ بہاولپور سے روانہ ہوئی شکایت سے پہلے وہ معزز اراکین پارلیمنٹ کو کم گالیاں دیتی تھیں مگر اراکین کی شکایت کے باوجود جب اس کا تبادلہ نہ کیا گیا تو اس نے معزز اراکین پارلیمنٹ کی شان میں جو دشنام طرازی کی وہ پہلے سے دس گنا زیادہ تھی وہ اپنے مرد ماتحتوں کو اتنی غلیظ گالیاں دیتی تھی جنہیں سن کر بہت سے بے شرم لوگوں کو بھی شرم آجاتی ہے وہ لکھتے ہیں کہ میرے ملک کی بد قسمتی یہ ہے کہ یہاں کبھی آمر نہ جمہور محب وطن آیا محب وطن سے خدا نخواستہ میری یہ مراد نہیں کہ ہمارے ماضی کے سارے حکمران غدار ہیں عوام کی طاقت کے زور پر منتخب ہونے والے عوام سے کوسوں دور بھاگ جاتے ہیں توپ و تفنگ کے زور پر آنے والے اپنے ساتھ اقتدار کے بھوکے ،حرص و ہوس کے متوالے سویلین کو ملاکر اپنے آپ پر جمہوری لبادہ اوڑھنے کی طرف گامزن ہو جاتے ہیں میرے لئے سب سے حیران پریشان کن یہ بات تھی کہ تمام اراکین اسمبلی چڑیا گھر کے ایک ہیڈ کے خلاف یک زبان ہوکر شکوہ گزار رہے اس میں ایسی ایسی برائیان گنوائیں جنہیں سن شاید ابلیس بھی شرمایا ہوگا مگر اس کی بھی ایسی کوئی تگڑی سفارش تھی اسے ذرا بھی آنچ نہ پہنچی میرے چند دوستوں نے بتایا کہ وہ شخص 2016میں بہاولپور سے باعزت ریٹائر ہوکر اپنے وطن سدھارا ۔
جنوبی پنجاب کے اراکین اسمبلی کی بڑی بغاوت کا ایک پس منظر یہ بھی ہے کہ میاں شہباز شریف نے ہمیشہ بیوروکریسی کو اختیارات دیکر بیورو کریسی کے ذریعے حکومت کی اور اراکین اسمبلی کو بری طرح نظر ابداز کیا جنوبی پنجاب سے شائع ہونے والے اخبار روزنامہ داور نے اپنی اشاعت میں لکھا ہے کہ ملتان میانوالی روڈ جس کا کثیر حصہ پاک چائنا تعاون کا مرہون منت ہے ابھی تک سنگل روڈ ہے اس روڈ پر آئے روز کے حادثات سے عوام اسے قاتل روڈ قرار دیتے ہیں جبکہ اس روڈ کے ساتھ سابق وزیر اعلیٰ چوہدری پرویز الٰہی دور میں فتح پور شہر میں ٹراما سنٹر کا قیام ہوا جو جدید طبی سہولیات سے مزین ایک بڑا ہسپتال تھا لیکن ایک سابق صوبائی وزیر نے اسے تحصیل ہیڈ کوارٹر کا درجہ دیکر اس کی افادیت تک کو ختم کردیا اس روڈ کو ڈبل بنانے کیلئے چوک اعظم اور فتح پور کے شہروں میں ایک بڑی عوامی تحریک جنم لے چکی ہے جو آنے والے دنوں میں مزید ابھر کر سامنے آئے گی اخبار مزید لکھتا ہے کہ گندم کی کٹائی شروع ہوچکی ہے اور باردانہ کے حوالے سے کسانوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے ۔


ای پیپر