سوچ نگر میں حبس کا موسم !!
13 اپریل 2018 2018-04-13

آگہی کو عذاب کہنے والوں نے درست ہی کہا تھا ۔ سوچ نگر میں حبس کا موسم اترے تو لاعلمی بہت بڑی نعمت معلوم ہوتی ہے۔ بدقسمتی سے ہم ایسا معاشرہ تخلیق کر چکے ہیں جہاں سوچنا اور حق بات کہنا جرم ہے ۔یہ معاشرہ نہ تو حضرت قائد کا معاشرہ ہے اور نہ ہی یہاں فکری آبیاری کے نام پر اگنے والے خوردرو پودے فکر اقبال کی نمائندگی کرتے ہیں ۔بات وہی ہے کہ ہمارے درمیان رسم اذاں تو رہ گئی مگر روح بلالی نہ رہی اور فلسفہ رہ گیا لیکن تلقین غزالی نہ رہی۔ ہم یہ تو جانتے ہیں کہ جمہوری معاشروں میں احتجاج ہر شہری کا بنیادی حق ہے لیکن یہ بھول جاتے ہیں کہ بنیادی حقوق کا مطلب دوسروں کے حقوق پامال کرنا ہرگز نہیں ۔ جمہوری معاشروں میں احتجاج کے بھی قوانین اور ضابطہ اخلاق ہوتے ہیں ۔ ہمارے یہاں فکری مباحثے ختم ہوئے تو احتجاج بھی جلاو گھیراو اور سڑکیں بند کرنے کا نام بن گیا ۔ ہم چائے خانوں میں بیٹھے یہ سوچ کر جی جلاتے رہتے ہیں کہ ٹی وی چینلز پر دانشوروں اور تجزیہ نگاروں کی اکثریت سیاسی بھونپو معلوم ہوتی ہے اور متعدد تجزیہ نگاروں کا علم سطحی مطالعہ تک محدود ہے ۔ سوال یہ نہیں کہ ایسا کیوں ہے بلکہ سوال یہ ہے کہ ہم نے صاحبان علم کو کتنی عزت دی اور مفکروں کے لئے کیا سہولیات پیدا کیں ۔ ہم ’’رائیٹ ٹو انفارمیشن ‘‘ کا نعرہ لگاتے ہیں لیکن ہم میں سے کتنے لوگ ہیں جنہوں نے کوئی خبر شیئر کرنے سے پہلے معلومات تک رسائی کی عملی کوشش کی ہے ۔ سوشل میڈیا کی جذباتی اور جعلی اعداد و شمار پر مشتمل پوسٹ جس طرح صدقہ جاریہ سمجھ کر اپ لوڈ اور شیئر کی جاتی ہے اس کا علم سبھی کو ہے ۔ میں جس بستی میں رہتا ہوں یہاں جذباتیت کا چورن ہاتھوں ہاتھ بکتا ہے لہذا علم و دانش اور تحقیق ایسے کھوٹے سکے سمجھے جاتے ہیں جن کے بدلے خاک پھانکنے کو بھی نہیں ملتی ۔ یہاں جعلی ڈگری کے لئے بڑی سے بڑی قیمت لگائی جاتی ہے اور اعلی ملازمتوں کے لئے ہونے والے امتحان کے سوال ناموں کی خرید و فروخت ہوتی ہے لیکن مفت دینی تعلیم کے لئے والدین اپنے سب سے نکمے بچے کا انتخاب کرتے ہیں ، اس کے بعد ہم ہی شکوہ کرتے ہیں کہ ہمارے مذہبی راہنما قوم کی ویسی تربیت نہیں کر پا رہے جو کہ ان کا فرض بنتا ہے ۔ چند ہفتے قبل ایک خبر ٹی وی چینلز پر چلتی رہی ۔ ہوا کچھ یوں کہ فیصل آباد میں لبیک یا رسول اللہ کا نعرہ لگا کر احتجاج کیا گیا ۔ اس احتجاج کی حقیقت معلوم ہوئی تو یہ درویش بھی سر پکڑ کر رہ گیا ۔ کہانی یہ تھی کہ ایک تحریک کی جانب سے احتجاجی بینر لگائے گئے جنہیں متعلقہ محکمہ نے ٹیکس یا فیس کی عدم ادائیگی کی وجہ سے معمول کے مطابق اتار دیا۔ تحریک والوں نے اسے سرکاری ظلم قرار دیتے ہوئے پولیس سے مطالبہ کیا کہ بینر اتارنے والے محکمہ کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے اور اس مطالبہ کے ساتھ ہی پولیس کو جانب دار قرار دیتے ہوئے تھانے کا گھیراؤ کر لیا ۔ سوال یہ نہیں تھا کہ اپنا فرض ادا کرنے والے سرکاری ملازمین کے خلاف فرض کی ادائیگی پر مقدمہ کیسے درج کیا جا سکتا ہے بلکہ سوال یہ تھا کہ آقا دو جہاں ﷺکے نام پر تحریک چلانے والے راہنماؤں کو اس بات کا علم کیوں نہیں تھا کہ سرکاری فیس ادا کیے بنا بینر لگانا جرم ہے اور وہ قانون کی خلاف ورزی کے مرتکب ہونے کے ساتھ ساتھ پولیس پر غلط مقدمہ درج کرنے کے لئے ناجائز دباؤ ڈالنے کی کوشش کر رہے تھے۔ یہ صرف ایک مثال ہے ورنہ ہمارے یہاں ہر دوسرے دن غلط مقدمات کے اندراج کے لئے پولیس پر دباو ڈالنے کی کوشش معمول کا حصہ ہے ۔ایسی صورت حال میں اندازہ ہوتا ہے کہ کم علمی کسی نعمت سے کم نہیں ہے ۔
ایک طالب علم کی حیثیت سے جاننا چاہتا ہوں کہ کیا اسلام میں یہ ممکن ہے کہ شرعی فتوی اور حدود کا تعین شخصی یا تنظیمی بنیادوں پر کیا جا سکے ۔ فیض آباد میں دھرنا ہوا تو پورے پنجاب میں جلاؤ گھیراو کا سلسلہ شروع ہو گیا ۔ مشتعل ہجوم نے منظم انداز میں بعض وزرا کے گھروں پر بھی حملے کئے تھے ۔ سوال یہ ہے کہ کیا اسلام ہمیں اس طرح کے جلاؤ گھیراؤ کی اجازت دیتا ہے ۔ اس سے بھی بڑا المیہ یہ تھا کہ ایک ہی تحریک کے قائدین میں پھوٹ پڑ گئی ۔ ایک نے دھرنا ختم کرنے کا اعلان کیا تو دوسرے نے جاری رکھنے کا اعلان کر دیا ۔ اس حوالے سے بھی بہت سے ایسے ’’انکشافات‘‘ اور الزامات ان کے اپنے مریدین لگاتے نظر آئے جو شرمندگی کا باعث ہیں ۔ سوال یہ بھی اٹھا کہ کیا کوئی شخص یا جماعت شرعی فتوی نہ لگانے کا فیصلہ کر سکتی ہے ؟ اس کی وجہ یہ تھی کہ ایک معاہدے میں مذہبی قائدین کی جانب سے ایک وزیر کے خلاف ’’شرعی فتوی‘‘ جاری نہ کرنے کا معاہدہ کیا ۔ ایک طالب علم کی حیثیت سے ہمارے خیال میں اگر کہیں شرعی فتوی لگتا ہے تو اسے روکنے کا اختیار کسی فرد واحد کو نہیں ہوسکتا اور اگر شرعی فتوی نہیں لگتا تو پہلے جو فتوی دیا گیا اس پر سوال اٹھتے ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ مذہبی راہنماؤں سے ہی رہنمائی کی امید ہوتی ہے لیکن اکثر واقعات میں اشتعال پسندی یا عوامی املاک کی توڑ پھوڑ کے واقعات مذہبی معاملات سے جڑ جاتے ہیں ۔ یہ لازم ہے کہ ہمارے علماء کرام اس جانب توجہ دیں ۔ عدالت کی جانب سے مولانا خادم رضوی کو گرفتار کرنے کا کہا گیا جس پر انہوں نے ایک بار پھر دھرنا دینے کااعلان کر دیا یہ الگ بات کہ دھرنے کا مقصد کچھ اور بتایا جاتا ہے۔ سوال مولانا خادم رضوی یا ان کی تحریک کا قطعا نہیں ہے بلکہ سوال ریاست کی رٹ اور عدالت کے احکامات کی اہمیت کا ہے ۔ کیا ریاست کسی بھی شخص کو یہ اجازت دے سکتی ہے کہ وہ عدالتی فیصلے پر عمل درآمد روکنے کے لئے ایک ہجوم اکٹھا کر کے سڑکوں کو بند کر دے ؟ مولانا خادم رضوی بے قصور ہیں تو انہیں عدالت میں پیش ہو کر اپنے اوپر لگے الزامات کا دفاع کرنا چاہئے کیونکہ غلط روایت پڑ گئی تو پھر خطرناک مجرم بھی عدالتوں کا سامنا کرنے کی بجائے چوراہوں پر دھرنا دینے لگیں گے ۔ کہا جاتا ہے کہ پولیس اور دیگر ریاستی ادارے اپنی طاقت کا استعمال کرتے ہوئے انہیں گرفتار نہیں کرتے لیکن کہنے والے بھول جاتے ہیں کہ ہم نے خود ہی ماڈل ٹاون سانحہ کے بعد پولیس کے پر کاٹ دیئے ہیں ۔ اب پولیس ایسی شخصیت کے خلاف کارروائی نہیں کرتی جس کی گرفتاری کی صورت میں اس کے مرید یا ورکرز کے ساتھ تصادم کا خطرہ ہو کیونکہ ہم جو معاشرہ تشکیل دے چکے ہیں اس میں وردی پر حملہ کرنا جرم نہیں سمجھا جاتا لیکن جواباًً وردی والا حملہ آور کا مقابلہ کرے تو اسے ریاستی جرم قرار دیا جاتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ عدالتی وارنٹ کے باوجودمتعدد سیاسی و مذہبی راہنماؤں کو گرفتار نہیں کیا گیاکیونکہ عدالت گرفتاری کا تو کہہ دیتی ہے لیکن اس گرفتاری کے دوران ہونے والی مزاحمت سے نمٹنے کے لئے کوئی گائیڈ لائن نہیں دیتی دوسری جانب اداروں کے وسائل اتنے کم ہیں کہ ترقی یافتہ ممالک کی طرح مشتعل ہجوم پرقابو پانا ممکن نہیں ہوتا ۔
دنیا بھر میں احتجاج کا ایک طریق کار ہے اوراحتجاجی اپنے مظاہروں کے دوران دیگر شہریوں کے حقوق کا خیال رکھتے ہیں۔ ہمارے یہاں صورت حال یہ ہے کہ لاہور کی مال روڈ اور شہر اقتدار کا فیض آباد چوک سمیت بعض سڑکیں اور چوراہے لگ بھگ ہر دوسرے دن بند رہتے ہیں۔ سوال صرف اتنا ہے کہ کیا اسلام ، قانون اور معاشرتی اخلاقیات ہمیں یہ اجازت دیتے ہیں کہ ان لوگوں کے حقوق سلب کیے جائیں جن کا پورے فسانے سے کوئی تعلق ہی نہ ہو ۔ان شاہراہوں اور چوراہوں کے ارد گرد موجود کاروباری طبقے کو جو معاشی نقصان ہورہا ہے اس کی ذمہ داری کون قبول کرے گا۔ شاید کوئی بھی نہیں کیونکہ ہم نے جو تربیت پائی ہے اس میں اپنے حقوق کے نام پر دوسروں کے حقوق سلب کرنا ہی درست سمجھا جاتا ہے ۔ شاید اسی لئے سوچ نگر میں حبس کا موسم اترے تو لاعلمی بہت بڑی نعمت معلوم ہوتی ہے۔


ای پیپر