قوموں کی ترقی کے عروج و زوال کا راز
13 اپریل 2018

کونسا دکھ لے کر بیٹھوں اور کونسے درد کا درماں کروں؟ لوڈشیڈنگ پر بلا مبالغہ تبصرہ کروں یا دیم بنانے کا قصہ چھیڑوں۔۔۔ ؟ بڑھتی ہوئی آبادی اور سکڑتی ہوئی زمین پر اظہار خیال کروں یا کرپشن اور رشوت خوری پر چار حرف بھیجوں؟ نظم و ضبط کے فقدان کی کہانی چھیڑوں یا بے ہنگم ٹریفک اور آئے روز کے حادثات پر نوحہ کناں ہوں۔ زینب کا واقعہ دہراؤں یا سمندری میں زندہ جلانے والی بیٹی کا ماتم کروں۔ ملاوٹ یا چور بازاری پر قلم اٹھاؤں یا بچوں کو ناقص آئس کریم، قلفیاں، گولے، پاپڑ سر عام بیچنے والوں کو بُرا بھلا کہوں یا پھر ڈسٹرکٹ فوڈ اتھارٹی کو کوسوں۔ جعلی دودھ اور جعلی مشروب بنانے والوں کی خبر لوں یا جعلی منرل واٹر بنانے والوں کی منت سماجت کروں؟ کسانوں کو حوصلہ دوں یا مزدور طبقہ کو کوئی جھوٹا مژدہ سناؤں۔ غربت کی چکی پستے ہوئے لوگوں کو طفل تسلی دوں یا پھر تھر کے لوگوں کیلئے نمازِ استقا ادا کروں۔ اب آپ ہی سوچیں اور آپ ہی بتائیں کوئی ایک مسئلہ یا دیگر مسائل جو ہمارے ملک میں نہ ہوں۔ کوئی راستہ جو سیدھا ہو۔ کوئی ادارہ جو اپنی اصلی حالت میں ہو۔ ہر دور میں حکمرانوں کو اپنی کرسی کی پڑی رہی۔ کسی حکمران نے آج تک عوام اور اس کے مسائل کی طرف توجہ نہ دی۔ایک سے ایک بڑا مسئلہ اور مسائل جنم لیتے رہے۔ مگر کسی حکمران کے کان پر جوں تک نہ رینگی۔ بقول منیر نیازی
اک اور دریا کا سامنا تھا منیر مجھ کو
میں ایک دریا کے پار اُترا تو میں نے دیکھا
قومیں صرف ایک طریقے سے مہذب بنتی ہیں۔ ایماندار بنتی ہیں۔ قانون کی پابندی کرتی ہیں۔ معاشرے کو تہذیب ساختہ بناتی ہیں۔ وہ طریقہ ہے؟ طریقۂ تعلیم۔۔۔؟
آئیے پڑھیے کہ تعلیم کس طرح ملک کو عروج عطا کرتی ہے؟ اور کس طرح زوال پذیری سے نکالتی ہے۔
شمالی یورپ کا ایک چھوٹا سا ملک فن لینڈ بھی ہے جو رقبے کے لحاظ سے 65 جبکہ آبادی کے اعتبار سے دنیا میں 114 ویں نمبر پر ہے۔ ملک کی کل آبادی 55 لاکھ کے لگ بھگ ہے لیکن آپ کمال دیکھیں اس وقت تعلیمی درجہ بندی کے اعتبار سے فن لینڈ پہلے نمبر پر ہے جبکہ ’’سپر پاور‘‘ امریکا 20ویں نمبر پر ہے۔2020ء تک فن لینڈ دنیا کا واحد ملک ہوگا جہاں مضمون ( سبجیکٹ ) نام کی کوئی چیز سکولوں میں نہیں پائی جائے گی۔ فن لینڈ کا کوئی بھی سکول زیادہ سے زیادہ 195 بچوں پر مشتمل ہوتا ہے جبکہ 19 بچوں پر ایک ٹیچر۔ دنیا میں سب سے لمبی بریک بھی فن لینڈ میں ہی ہوتی ہے، بچے اپنے سکول ٹائم کا 75 منٹ بریک میں گزارتے ہیں، دوسرے نمبر پر 57 منٹ کی بریک نیو یارک کے سکولوں میں ہوتی ہے جبکہ ہمارے یہاں اگر والدین کو پتا چل جائے کہ کوئی سکول بچوں کو " پڑھانے" کے بجائے اتنی لمبی بریک دیتا ہے تو وہ اگلے دن ہی بچے سکول سے نکلوالیں۔
خیر، آپ دلچسپ بات ملاحظہ کریں کہ پورے ہفتے میں سکولوں میں محض 20 گھنٹے ’’پڑھائی‘‘ ہوتی ہے۔ جبکہ اساتذہ کے 2 گھنٹے روز اپنی " سکلز " بڑھانے پر صرف ہوتے ہیں۔ فن لینڈ میں ٹیچر بننا ڈاکٹر اور انجینئر بننے سے زیادہ مشکل اور اعزاز کی بات ہے۔ پورے ملک کی یونیورسٹیز کے ’’ٹاپ ٹین‘‘ ماسٹرز کیے ہوئے طالبعلموں کو ایک خصوصی امتحان کے بعد سکولوں میں بطور استاد رکھا جاتا ہے۔ سات سال سے پہلے بچوں کے لیے پورے ملک میں کوئی سکول نہیں ہے اور پندرہ سال سے پہلے کسی بھی قسم کا کوئی باقاعدہ امتحان بھی نہیں ہے کہ جس میں ماں باپ بچے کی نیندیں حرام کردیں۔ ان کے کھیلنے اور بھاگنے دوڑنے پر پابندی لگ جائے، دروازے کھڑکیاں بند کر کے انہیں گھروں میں ’’نظر بند‘‘ کر دیا جائے۔ گھر میں آنے والے مہمانوں سے ملنے تک پر پابندی عائد کردی جائے اور گھر میں مارشل لاء اور کرفیو کا سا سماں بندھ جائے۔ پورے ملک میں تمام طلباء و طالبات کے لیے ایک ہی امتحان ہوتا ہے۔ ریاضی کے ایک استاد سے پوچھا گیا کہ آپ بچوں کو کیا سکھاتے ہیں تو وہ مسکراتے ہوئے بولے ’’میں بچوں کو خوش رہنا اور دوسروں کو خوش رکھنا سکھاتا ہوں، کیونکہ اس طرح وہ زندگی کے ہر سوال کو بآسانی حل کرسکتے ہیں‘‘۔آپ جاپان کی مثال لے لیں تیسری جماعت تک بچوں کو ایک ہی مضمون سکھا یا جاتا ہے اور وہ ’’اخلاقیات ‘‘ اور ’’آداب‘‘ ہیں۔ حضرت علیؓ نے فرمایا ’’جس میں ادب نہیں اس میں دین نہیں‘‘۔ مجھے نہیں معلوم کہ جاپان والے حضرت علیؓ کو کیسے جانتے ہیں اور ہمیں ابھی تک ان کی یہ بات معلوم کیوں نہ ہو سکی۔ بہر حال، اس پر عمل کی ذمہ داری فی الحال جاپان والوں نے لی ہوئی ہے۔ ہمارے ایک دوست جاپان گئے اور ایئر پورٹ پر پہنچ کر انہوں نے اپنا تعارف کروایا کہ وہ ایک استاد ہیں اور پھر ان کو لگا کہ شاید وہ جاپان کے وزیر اعظم ہیں۔ یہ ہے قوموں کی ترقی اور عروج و زوال کا راز ۔اشفاق احمد صاحب کو ایک دفعہ اٹلی میں عدالت جانا پڑا اور انہوں نے بھی اپنا تعارف کروایا کہ میں استاد ہوں وہ لکھتے ہیں کہ جج سمیت کورٹ میں موجود تمام لوگ اپنی نشستوں سے کھڑے ہوگئے اس دن مجھے معلوم ہوا کہ قوموں کی عزت کا راز استادوں کی عزت میں ہے۔ آپ یقین کریں استادوں کو عزت وہی قوم دیتی ہے جو تعلیم کو عزت دیتی ہے اور اپنی آنے والی نسلوں سے پیار کرتی ہے۔ جاپان میں معاشرتی علوم ’’پڑھائی‘‘ نہیں جاتی ہے کیونکہ یہ سکھانے کی چیز ہے اور وہ اپنی نسلوں کو بہت خوبی کے ساتھ معاشرت سکھا رہے ہیں۔ جاپان کے سکولوں میں صفائی ستھرائی کے لیے بچے اور اساتذہ خود ہی اہتمام کرتے ہیں، صبح آٹھ بجے سکول آنے کے بعد سے 10 بجے تک پورا سکول بچوں اور اساتذہ سمیت صفائی میں مشغول رہتا ہے۔دوسری طرف آپ ہمارا تعلیمی نظام ملاحظہ کریں جو صرف نقل اور چھپائی پر مشتمل ہے، ہمارے بچے ’’پبلشرز‘‘ بن چکے ہیں۔ آپ تماشہ دیکھیں جو کتاب میں لکھا ہوتا ہے اساتذہ اسی کو بورڈ پر نقل کرتے ہیں، بچے دوبارہ اسی کو کاپی پر چھاپ دیتے ہیں، اساتذہ اسی نقل شدہ اور چھپے ہوئے مواد کو امتحان میں دیتے ہیں، خود ہی اہم سوالوں پر نشانات لگواتے ہیں اور خود ہی پیپر بناتے ہیں اور خود ہی اس کو چیک کر کے خود نمبر بھی دے دیتے ہیں، بچے کے پاس یا فیل ہونے کا فیصلہ بھی خود ہی صادر کردیتے ہیں اور ماں باپ اس نتیجے پر تالیاں بجا بجا کر بچوں کے ذہین اور قابل ہونے کے گن گاتے رہتے ہیں، جن کے بچے فیل ہوجاتے ہیں وہ اس نتیجے پر افسوس کرتے رہتے ہیں اور اپنے بچے کو ’’کوڑھ مغز‘‘ اور ’’کند ذہن‘‘ کا طعنہ دیتے رہتے ہیں۔آپ حیران ہوں گے میٹرک کلاس کا پہلا امتحان 1858ء میں ہوا اور برطانوی حکومت نے یہ طے کیا کہ بر صغیر کے لوگ ہماری عقل سے آدھے ہوتے ہیں اس لیے ہمارے پاس ’’پاسنگ مارکس‘‘ 65 ہیں تو بر صغیر والوں کے لیے 32 اعشاریہ 5 ہونے چاہئیں۔ دو سال بعد 1860ء میں اساتذہ کی آسانی کے لیے پاسنگ مارکس 33 کردیے گئے اور ہم 2018 میں بھی ان ہی 33 نمبروں سے اپنے بچوں کی ذہانت کو تلاش کرنے میں مصروف ہیں۔ میرا خیال ہے کہ سکولز کے پرنسپل صاحبان اور ذمہ دار اساتذہ اکرام سر جوڑ کر بیٹھیں اس ’’گلے سڑے‘‘ اور ’’بوسیدہ‘‘ نظام تعلیم کو اٹھا کر پھینکیں، بچوں کو ’’طوطا‘‘ بنانے کے بجائے ’’قابل‘‘ بنانے کے بارے میں سوچیں۔ یہ اکیسویں صدی ہے دنیا چاند پر پہنچ رہی ہے اور ہم ابھی تک ’’رٹّا سسٹم‘‘ کو سینے سے لگائے بیٹھے ہیں۔


ای پیپر