علامہ اقبالؒ اور مجلہ صوفی
13 اپریل 2018 2018-04-13

میرے گزشتہ کالم میں مجلہ ’’ صوفی ‘‘میں لکھنے والے نامور اکابرین کی فہرست کا ذکر تھا جس پر میرے قارئین کا کہنا تھا کہ مجلہ ’’ صوفی ‘‘کا بھی تفصیلی تعارف دیا جائے کہ یہ مجلہ کتنا عرصہ شائع ہوا اور اس کے بند ہونے کی وجوہات کیا تھیں‘سو یہ کالم لکھنا پڑا۔
بیسویں صدی کے ربع اول میں تصوف اور ویدانیت کے موضوع سے دلچسپی رکھنے والی صحافتی کوششوں کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ تصوف کے موضع پر کوئی ہفت روزہ یا پندرہ روزہ تو شائع نہیں ہوتے رہے تاہم ماہوار رسائل اشاعت پذیر ہوئے۔جن میں ’’سادھو‘‘، ’’درویش‘‘، ’’مساتنہ جوگی‘‘ ،’’الف‘‘ ،’’طریقت‘‘ ،’’ نظام المشائخ‘‘،’’معارف‘‘،’’انوار الصوفیہ‘‘،’’طلوعِ آفتاب‘‘، ’’پریم بیلاس‘‘،’’ اسوہ حسنہ‘‘، ’’نظام‘‘، ’’پرہم‘‘،’’ست اپدیش‘‘، ’’گلدستہ طریقت‘‘،’’القمر‘‘ اور ’’ صوفی ‘‘ کے نام سامنے آتے ہیں۔یہ ہندو مسلم عقائد کا پرچار کرنے والے رسائل تھے جو اپنے اپنے حلقہ اثر میں رہتے ہوئے قارئین کو بہترین راہنمائی فراہم کرتے تھے۔ان رسائل میں مجلہ ’’ صوفی ‘‘کی خاصیت یہ ہے کہ اس نے تصوف اور اہل تصوف کو اپنا شعار بنایا۔ماہنامہ’’ صوفی ‘‘کا اجراجنوری ۱۹۰۹ عیسوی میں عمل میں آیا‘اگر چہ اس کے اجرا ء کا منصوبہ ۱۹۰۸ء میں طے کر لیا گیا تھا اور مواد کی ترتیب و کتابت اور تیاری کا کام بھی ۱۹۰۸ء میں ہی انجام دے لیا گیا تھا تاہم ’’ صوفی ‘‘کے پہلی جلد کے شمارے کی طباعت اور اشاعت ۱۹۰۹ ء ہی میں عمل میں آئی گوکہ پہلے شمارے کے ہر صفحے پر تاریخ اشاعت یکم جنوری ۱۹۰۹ ء ہی درج ہے لیکن ایسے شواہد سامنے آئے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ پہلا شمارہ یکم جنوری ۱۹۰۹ ء کو شائع اور تقسیم نہیں ہوا۔اولاََیہ کہ یکم جنوری ۱۹۰۹ء تک ڈیکلریشن ہی نہیں ملا تھا ‘اس زمانے میں حکومت ہی پریس پر جتنی کڑی نگاہ ہوتی تھی ‘کوئی بھی شخص بغیر ڈیکلریشن پرچہ طبع یا شائع کرنے کا تصور بھی نہیں کر سکتا تھا اور اگر ایسا ہوتا تو ’’ صوفی ‘‘میں کہیں نہ کہیں اس بے قاعدگی کا ذکر لازمی کیا جاتا۔ صوفی کو ۱۱ جنوری ۱۹۰۹ء کو ڈیکلریشن ملا اور اس کے بعد طباعت کے تمام مراحل سر ہوئے۔یہ رسالہ مدیر ملک محمدالدین اعوان نے اپنے پیر سید غلام حیدر شاہ جلالپوری کی یاد میں جاری کیا تھا‘ یہ مجلہ ’’ صوفی ‘‘پنڈی بہاء الدین ضلع گجرات سے جاری ہوا جو منڈی بہاء الدین سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ملک محمد الدین اعوان ’’ صوفی ‘‘ کے اجراء سے تقریبا اڑھائی سال قبل یعنی ۱۹۰۶ء کے دوران کسی وقت پنڈی بہاؤالدین میں آ کر آباد ہوئے۔ انہوں نے اگرچہ ’’ صوفی ‘‘ ایک چھوٹے سے قصبے سے جاری کیا لیکن معیار اور موضوع کی بدولت اس نے پورے برصغیر میں بھرپور پذیرائی حاصل کی۔پوری دنیا میں جہاں کہیں مسلمان آزادی کے لیے کو شاں ہوئے یا دنیا کے کسی کونے میں مسلمان مصیبت میں مبتلا نظر آئے تو’’ صوفی ‘‘ نے اپنے صفحات کے ذریعے ان کو اخلاقی مدد فراہم کی اور ان کی حوصلہ افزائی کی۔’’ صوفی ‘‘نے جہاں اسلام کے حق میں غیر مسلموں کی تحریروں کو تلاش کرکے شایع کیا وہیں برصغیر میں آباد مسلم قوت کا اس نے جائزہ لیا اور اس کی کمزوریوں کو رفع کرنے کی مہم کا آغاز کیا تاکہ وہ مضبوط سماجی کردار اد ا کرنے کے لیے تیار ہو جائیں چناچہ انہیں مئے خواری سے روکا اور صنعت و تجارت کی طرف مائل ہونے کا مشورہ دیا۔’ ’ صوفی ‘‘نے برصغیر میں انگریزوں کے کردار پر بھی بہت نگاہ رکھی‘اس نے برصغیر میں انگریزوں کی مسلم مخالف پالیسیوں کا نہ صرف پردہ چاک کیا بلکہ ہر سطح پر اس کو للکارا۔ ’’ صوفی ‘‘کو انگریز کے اخلاقی تفاوت کا حال بھی معلوم تھا اوروہ اس بات کا کھل کر اظہار کرتا تھاکہ اگر خدا نخواستہ انگریز یہاں ایک صدی اور حکومت کر گئے تو ہندوستان دوزخ کا نقشہ پیش کرنا شروع کر دے گا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ انگریز مخلصانہ طور پر حکومت نہیں کر رہے۔
یوں تو ’’ صوفی ‘‘نے اپنے مضامین میں بہت نپے تلے تجربات پیش کیے جن کی حقانیت بعد میں ثابت ہوئی مثلا دسمبر ۱۹۲۱ء میں’’ صوفی ‘‘نے پیشن گوئی کر دی تھی کہ جنگ عظیم دوم ہو گی اور وہ پہلی سے زیادہ خطرناک ہو گی ۔حقیقتاً جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی بلکہ فریقین نے اپنی اپنی قوتوں کو مجتمع کرنے کے لیے مہلت حاصل کی اور اب پوری قوت اور پورے وسائل سے جنگ ہو گی۔بعد میں ’’ صوفی ‘‘کی پیشن گوئیاں ہو بہو سچ ثابت ہوئی ۔اسی طرح دسمبر ۱۹۲۱ء میں ’’ صوفی ‘‘نے پیش گوئی کی کہ مستقبل میں دنیاوی ترقی کا مرکز برطانیہ سے امریکہ کو منتقل ہونے والا ہے اور ایسا ہو کر رہا۔تاہم حیرت کی بات ہے کہ ’’ صوفی ‘‘برصغیر میں مسلم سیاست کے رخ کو پہچان نہ سکا اور اس بات کا ٹھیک ٹھاک اندازہ نہ کر سکا کہ برصغیر میں مسلم سیاست کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا۔ رسالہ ’’ صوفی ‘‘کی طرف سے اچھے لکھاریوں کو مائل کرنے کے لیے مدیر ’’ صوفی ‘‘بے دریغ روپیہ صرف کرتے اور اچھے لکھنے والوں کو اچھا معاوضہ فراہم کرتے تھے۔سید محمد ارتضی واحدی حلقہ نظام المشائخ کی رپورٹ میں لکھتے ہیں: ’’جناب پروفیسر محمد الدین صاحب مالک رسائل نے دبیر الحلقہ جناب خواجہ حسن نظامی سے دراخواست کی تھی کہ آپ صوفی رسالہ کے لیے مضمون لکھیے‘ہر مضمون کا معاوضہ ایک پونڈ پیش کیا جائے گا ۔چناچہ دبیر الحلقہ صاحب نے پہلا مضمون ’’فرید بابا‘‘ان کو لکھ کر دیا اور معاوضہ کے پندہ روپیہ ایڈیٹر صاحب سے لے کرحلقہ نظام المشائخ کو دے دیئے‘‘۔پھر ۱۹۱۷ء میں ایسا وقت تھا کہ ’’ صوفی ‘‘ پنجاب کی تمام زبانوں کے اخبارات و رسائل میں تیسرے نمبر پر اور مسلم صحافت کے اخبارات و رسائل میں پہلے نمبر پر تھا گویا مسلم صحافت کے افق پر اس کا کوئی ثانی نہیں تھا‘اسی بنا پر وقتاََ فوقتاََ خواجہ حسن نظامی اور علامہ اقبال نے اپنے خطوط میں اس رسالہ کو ’’قلم الفقراء‘‘ کا خطاب دیا جس کے ٹائٹل پر لکھا گیا۔اسی امتیاز کو پیش نظر رکھتے ہوئے نظام حیدر آباد دکن نے مدیر’’ صوفی ‘‘کی خدمات اور کتب تصوف و اسلام کی اشاعت کے صلہ میں یکم شوال ۱۳۳۶ھ سے ماہ وار سو روپے عطیہ بطور وظیفہ مقرر کیا۔جس کا ذکر ستمبر ۱۹۱۹ء سے ’’ صوفی ‘‘کے سرورق پر کیام جانے لگا۔’’ صوفی ‘‘جنوری ۱۹۱۹ء سے دسمبر ۱۹۴۰ء تک شائع ہوتا رہا‘پانچ دفعہ اس کو وارننگ لیٹر بھی ملا اور دو دفعہ اس کی اشاعت بند بھی ہوئی جب کہ ایک دفعہ انگریز حکومت نے اس پر انتشار پھیلانے والا مواد شائع کرنے کا الزام لگا کر اس کی ڈیکلریشن بھی ختم کردی‘تین دفعہ اس کو بلیک لسٹ بھی کیا گیا۔یہ علمی و ادبی مجلہ مختلف عروج و زوال سے گزرتا ہوا ۱۹۴۰ء میں مکمل طور پر بند ہو گیا۔مگر اس کی تحریروں سے برصغیر اور بالخصوص منڈی بہاؤالدین میں مسلم تشخص کو ابھارنے اور انہیں نئی دنیا سے روشناس کروانے میں اہم کردار ادا کیا۔


ای پیپر