بشکریہ فیس بک

ثانیہ مرزا کو مسلمان بچی کی حمایت کرنے پر پاکستانی ہونے کے طعنے
13 اپریل 2018 (19:40)

حیدرآباد:بھارتی ٹینس اسٹار اور پاکستانی کرکٹر شعیب ملک کی بھارتی اہلیہ ثانیہ مرزا کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں ریپ کے بعد بیہمانہ انداز میں قتل کی گئی 8 سالہ مسلمان بچی کی حمایت کرنا مہنگا پڑ گیا۔ ثانیہ مرزا نے نیو یارک ٹائمز کی وہ خبر شیئر کی جس میں بتایا گیا تھا کہ جموں و کشمیر کی 8 سالہ آصفہ کے ریپ اور قتل کے واقعے کے بعد ہندو رہنما ملزموں کے حق میں مظاہرے کے لیے سامنے آگئے۔ ثانیہ مرزا نے اپنی ٹوئیٹ میں لکھا کہ اگر ہم 8 سالہ بچی کو انصاف دلانے کے لیے ذات، نسل اور جنس کی تفریق کے خلاف اٹھ نہیں سکتے تو ہم اس دنیا میں کبھی بھی کسی مسئلے یہاں تک کہ انسانیت کے لیے اٹھ نہیں پائیں گے۔انہوں نے لکھا کہ 8 سالہ بچی کے ریپ اور قتل کا واقعہ اور اس پر ہماری سوچ انہیں بیمار بنا رہی ہے .

ثانیہ مرزا کو بھی مسلمان بچی کی حمایت کرنے پر ہندو ٹوئٹر صارفین نے تنقید کا نشانہ بنائے ہوئے انہیں پاکستانی ہونے کے طعنے دیے۔پنک چوہدری نامی صارف نے ثانیہ مرزا کو تجویز دی کہ اگر انہیں بھارت میں رہنے میں مسئلہ ہے تو وہ چین چلی جائیں۔گتا جوالا نے لکھا کہ بھارت میں ثانیہ مرزا جیسے لوگوں کی وجہ سے ہی مسائل ہیں۔راکیش کمار نے ثانیہ مرزا کی ٹوئیٹ پر لکھا کہ جب ہندو مرتا اور ریپ ہوتا تو ان آنٹی کو بہت مزا آتا ہے، اس لیے انہیں اپنی منافقت پر شرمندہ ہونا چاہیے۔کچو کنان نامو نامی صارف نے تو ثانیہ مرزا کو مسلمان بچی کی حمایت کرنے پر غیر بھارتی قرار دیتے ہوئے انہیں پاکستانی ہونے کا طعنہ دے دیا۔

انہوں نے ثانیہ مرزا کو مخاطب ہوتے ہوئے لکھا کہ وہ کس ملک کے بارے میں بات کر رہی ہیں، کیوں کہ انہوں نے تو ایک پاکستانی شخص سے شادی کر رکھی ہے، اس لیے وہ اب بھارتی نہیں۔جب بھارتی ٹینس اسٹار کو پاکستانی ہونے کا طعنہ دیا گیا تو ان سے خاموش رہا نہیں گیا اور انہوں نے بھی تنقید کرنے والوں کو کھری کھری سنادیں۔ ثانیہ مرزا نے لکھا کہ وہ بھارتی ہیں اور بھارتی رہیں گی، ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ انہوں نے صرف ایک شخص سے ہی شادی کی ہے اور انہیں یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے کہ وہ بھارتی نہیں ہیں۔ ثانیہ مرزا نے تنقید کرنے والوں کو کہا کہ وہ تنگ نظری سے ہٹ کر سوچیں، ساتھ ہی انہوں نے امید ظاہر کی کہ ایک دن سب لوگ کسی مذہبی تفریق کے بغیر انسانیت سے متعلق سوچیں گے۔


ای پیپر