سپریم کورٹ نے نواز شریف کو تاحیات نااہل قرار دیدیا
13 اپریل 2018 (11:27)

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے نواز شریف نا اہلی کیس کا فیصلہ سنانا شروع کر دیا۔ جسٹس عمرعطا بندیال نے فیصلہ تحریر کیا  ہے اور فیصلے میں جسٹس عظمت سعید نےاضافی نوٹ لکھا ہے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں سابق نواز شریف کو تاحیات نااہل کر دیا ہے اور تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین کو بھی تاحیات نااہل قرار دے دیا ہے۔ 

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس عظمت سعید شیخ، جسٹس عمر عطاء بندیال، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس سجاد علی شاہ پر مشتمل 5 رکنی لارجر بنچ نے مذکورہ کیس کی سماعت کی تھی۔

خیال رہے کہ 14 فروری 2018 کو آرٹیکل 62 ون ایف کی تشریح سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران اٹارنی جنرل اشتر اوصاف نے اپنے دلائل مکمل کیے تھے جس کے بعد سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت مکمل کرتے ہوئے فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔

واضح رہے سپریم کورٹ کورٹ نے پاناما کیس سے متعلق 28 جولائی 2017 کے فیصلے میں سابق وزیراعظم نواز شریف کو نااہل قرار دیا تھا جس کے بعد وہ وزارت عظمیٰ کے عہدے سے سبکدوش ہو گئے تھے۔ دوسری جانب گذشتہ برس 15 دسمبر کو عدالت عظمیٰ نے تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین کو بھی نااہل قرار دیا تھا۔

سابق وزیراعظم نواز شریف اور تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل جہانگیر ترین کو آئین کی اسی شق یعنی آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نااہل کیا گیا تھا۔ جس کے بعد اس بحث کا آغاز ہوا کہ آیا سپریم کورٹ کی جانب سے ان افراد کو تاحیات نااہل قرار دیا گیا یا یہ نااہلی کسی مخصوص مدت کے لیے ہے۔ اس شق کی تشریح کے حوالے سے سپریم کورٹ میں 13 مختلف درخواستوں پر سماعت کی گئی۔ سپریم کورٹ میں یہ درخواستیں دائر کرنے والوں میں وہ اراکینِ اسمبلی بھی شامل تھے جنہیں جعلی تعلیمی اسناد کی بنیاد پر نااہل کیا گیا۔ ان درخواستوں میں مطالبہ کیا گیا کہ آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت تاحیات نااہلی کا قانون ختم کر کے اس کی مدت کا تعین کیا جائے۔ تاہم سابق وزیراعظم نواز شریف نے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نااہلی کی مدت کی تشریح کے لیے عدالتی کارروائی میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیا تھا۔

6 فروری کو عدالت عظمیٰ میں جمع کروائے گئے اپنے جواب میں نواز شریف نے موقف اختیار کیا تھا کہ کئی متاثرہ فریق عدالت کے روبرو ہیں وہ ان کے مقدمے کو متاثر نہیں کرنا چاہتے۔


ای پیپر