تجھ کو منصب پہ ہمیشہ تو نہیں رہنا
12 ستمبر 2020 2020-09-12

شاید نہیں یقینابحیثیت قوم ہم تہزیب اور انسانی اقتدار سے بہت دور چلے گئے ہیں۔

اپنی نااہلی، غفلت اور کوتاہی کو چھپانے کے لیے جس دھڑلے سے جھوٹ بولتے ہیں کبھی اس کا صرف 20 فیصد ہی سچ بول لیتے تو یوں شرمندگی کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔

لاہور پولیس کے سربراہ عمر شیخ کا کہنا اگر مان لیا جائے کہ خاتون رات بارہ بجے گھر سے کیوں نکلی تو پھر اس کا کیا جائے کہ خود وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار کے حلقہ تونسہ شریف کی بستی لاشاری میں دو بچوں کی ماں کی گھر میں گھس کر اجتماعی آبروریزی کی گئی۔یہ تو اب گھر کی چاردیواری کے اندر موجود تھی اب تو یہاں گھر بھی محفوظ نہیں رہے درندوں سے۔ تو کیا قبروں میں جا کر لیٹ جائیں؟ویسے وزیر اعظم تو پہلے ہی کہہ چکے ہیں سکون تو قبر میں جا کر ہی آتا ہے لیکن دکھ اور افسوس اور کرب کی انتہا کہہ لیں کہ انسانوں کے جنگل میں تو قبروں سے نکال کر بھی آبرو ریزی کی جاتی رہی ہے۔

بقول سعادت حسن منٹو

"ہمارے ہاں عزت کی حقدار صرف گھر کی عورتوں کو سمجھا جاتا ہے۔باقی عورتیں ہمارے لیے گوشت کی دکانیں ہیں جن کے باہر ہم کتوں کی طرح زبان لٹکائے کھڑے نظر آتے ہیں"کیا ہمارے ارد گرد ایسا نہیں ہے؟ ن لیگ کے دور میں سب سے پہلے لاہور میں خواتین کی آسانی کے لیے موٹرسائیکل چلانے کی نا صرف حوصلہ افزائی کی گئی حکومت کی طرف سے خصوصی اسکیم چلا کر انھیں اسکوٹیاں فراہم کی گئیں۔کیا یہ بھی غلط تھا کیا اب ان تمام خواتین اور لڑکیوں سے جو موٹر سائیکل چلانا چاہتی ہیں کہہ دیاجائے کہ نہیں تم باہر نہیں جا سکتیں۔گھر میں رہ کر صرف کڑھائی سلائی کا کام کرو خبردار گلی میں جھانکنا تک نہیں۔ باہر انسانی بھیڑئے پھر رہے ہیں اور جو ان بھیڑیوں پر نظر رکھنے کے لیے تعینات ہیں وہ بھی یا تو خود بھیڑیے ہیں یا ان بھیڑیوں سے خوفزدہ ہوکر انہیںدیکھ کر پتلی گلی سے نکل جاتے ہیں۔اسی ذہنی آلودگی نے عوام کے محافظوں کو بھی اپنی زنجیروں میں جکڑ لیا ہے۔ اسی لیے تو لاہور پولیس کے سربراہ فرماتے ہیں خاتون کو رات گئے گھر سے نہیں نکلنا چاہیے تھا۔

اگر خاتون گھر سے نہ نکلی تو یہ واقعہ رونما نہیں ہوتا اور ہمارے اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان بھی نہیں اٹھتے۔نہ ہی سی سی پی او کے ناقابل معافی بیان پر ان کی برطرفی کا مطالبہ کیا جاتا اور ان کے چہرہ پر دبنگ پولیس افسر کی مکروہ نقاب پڑی رہتی۔اگر ہم پولیس افسر کا فرمان شاہی تصور کرتے ہوئے اسی طرح سڑکوں پر باہر اپنی گاڑیاں ہی نہ نکالیں تو حادثات کی شرح یکدم صفر پر آجائے گی۔پولیس کو نہ ہی شاہراہوں پر تعینات کرنے کی ضرورت ہو گی اور ٹریفک سگنلز پر بھی اہل کاروں کو زحمت دینے پڑے گی۔بالکل اسی طرح اگر شہری اے ٹی ایم سے پیسے نکالنے نہیں جائیں گے تو لوٹ مار بھی نہیں ہو گی۔بالکل اسی طرح اگر کوئی شخص ہاتھ میں یا جیب کے بجائے اپنے موبائل فونز گھروں میں چھوڑ کر نکلیں گے تو موبائل بھی نہیں چھینیں گے۔چھوڑیں جی ان سب چیزوں کو اتنی زحمت کیوں کریں نہ رہے گا بانس اور نہ ہی بجے گی بانسری کے مصداق کسی کو گھروں سے نکلنا ہی نہیں چاہیے۔

انسان اور باالخصوص خواتین ہی کو ہمارے معاشرے میں فساد کی جڑ بنا دیا گیا ہے۔پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بنیادی اور اولین زمہ داری شہریوں کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔لیکن بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں ان اداروں کے سربراہان ہمیشہ سے بے بنیاد اور جذباتی بیانات کے پیچھے چھپنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جرم کی بنیادی وجوہات جاننے اور اس کے مرتکب افراد کو نشان عبرت بنانے کے بجائے واقعہ پر پردہ ڈالنے کے جال بننے لگتے ہیں۔ 

کیا یہی ہے ہمارے معاشرے کا اصل چہرہ؟

کیا ہم بے حس اور اتنے بے بس ہو چکے ہیں؟

ہمیں ایسی حرکتوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔

آخر کہیں سے تو آغاز ہو گا اور کسی کو تو ذمہ داری لینی ہو گی؟ 

کیا سیاست انسانیت سے بڑھ کر ہے کیا کرسی ہی سب کچھ ہے۔

ظلم کے دور کو ایسا تو نہیں رہنا ہے 

تجھ کو منصب پہ ہمیشہ تو نہیں رہناہے


ای پیپر