ڈیل یا نو ڈیل
12 ستمبر 2019 2019-09-12

مولانا فضل الرحمٰن اس بات پر مصر ہیں کہ اکتوبر میں اسلام آباد لاک ڈائون دھرنا دیا جائے جو موجودہ حکومت کے خاتمے تک جاری رہے۔ مسلم لیگ (ن) نے اس دھرنے کی حمایت کا تو اعلان کیا ہے لیکن یہ نہیں معلوم کہ وہ کس حد تک اس کے ساتھ جائے گی۔ جبکہ پیپلز پارٹی نے تقریباً اس دھرنے سے خود علیحدہ کردیا ہے۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پارٹی اس دھرنے میں شرکت نہیں کرے گی اور کہا کہ ان کی دعائیں مولانا کے ساتھ ہیں۔

ایسا لگ رہا ہے کہ مولانا اکیلے ہی یہ دھرنا دینا چاہ رہے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ پی ٹی آئی حکومت کے خلاف عوام میں موجود بے چینی کو کوئی شکل دی جاسکتی ہے۔ خواہ دوسری جماعتیں ساتھ نہ دیں، یہ دھرنا کامیاب ہو سکتا ہے۔ مولانا کے لئے اس طرح کی پہلکاری اور احتجاجی پاور شو اس لئے بھی ضروری ہے کہ خیبرپختونخوا میں ان کی پارٹی کے لئے بقا کا مسئلہ ہے۔ جس کو گزشتہ دو انتخابات میں کونے سے لگایا جارہا ہے۔ان کے سامنے یہی ایک مقصد ہے کہ اپنے بقا برقرار رکھے۔حالات و واقعات بتاتے ہیں کہ مولانا کی سیاست خطے کی تبدیل شدہ صورتحال میں فٹ نہیں بیٹھتی۔ مذہبی سیاست جس رنگ اور حکمت عملی کے لئے چاہئے اس کی نئی اشکال بنا دی گئی ہیں۔ جے یوآئی(ف) 2013 کے بعد مسلسل پی ٹی آئی کے سیاسی دبائو میں ہے۔ فاٹا حالیہ صوبائی انتخابات میں ان کی جماعت ہار گئی۔ لہٰذا مولانا جو ماضی میں مصلحت کی پالیسی کے لئے جانے جاتے تھے اب مزاحمتی فارمولے پر اترآئے ہیں۔ جے یو آئی اور اے این پی جو ستر اور اسی کے عشرے میں صوبے میں بڑی سیاسی قوتیں تھیں، اب پرانی پارٹیاں ہو گئی ہیں۔ اے این پی بھی سڑکوں پر آکر پی ٹی ٹی آئی کے خلاف احتجاج نہیں کرنا چاہتی۔ اگرچہ جے یو آئی اے این پی، پیپلزپارٹی، جماعت اسلامی اور نواز لیگ کے ساتھ مختلف وقتوں میں حکومت اور اپوزیشن میں ساتھ رہی لیکن آج کوئی بھی جماعت اس کا ساتھ نہیں دے رہی۔ ممکن ہے کہ یہ جماعتیں علامتی شرکت کریں اور دسرے درجے کی قیادت دھرنے میں اظہار یکجہتی کے لئے آجائے، وہی صورتحال بنے جو اے پی سی کی ہے۔

مولانا 2018کے انتخابات کے نتائج کو یکسر مسترد کرنے والے ہیں انہوں نے آصف زرداری اور نواز شریف کو مشورہ دیاتھا کہ ان کے اراکین اسمبلی حلف نہ اٹھائیں۔ اس صورتحال میں ایک بحران پیدا ہو سکتا تھا اور پی ٹی آئی حکومت نہیں بناسکتی تھی۔ پی پی پی اور مسلم لیگ کی یہ دلیل تھی کہ اس صورت میںآئین سے بالاتر کارروائی کا راستہ کھلے گا۔ پی ٹی آئی قیادت کو یقین تھا کہ شریف اور زرداری کا دور کھا کر آگئی ہیں، ان کی اقتدار میں واپسی کا امکان نہیں۔

مولانا فضل الرحمان جانتے ہیں کہ پیپلزپارٹی اور شہباز شریف اس وجہ سے خود کو دھرنے سے دور رکھے ہوئے ہیں کہ وہ ریلیف چاہتے ہیں ۔مولانا فضل الرحمن اکتوبر میں اسلام آباد لاک ڈائون چاہتے ہیں اور اس مقصد کے لئے انہوںنے کے لئے رابطے شروع کردیئے ہیں انہوں نے آفتاب شیرپائو اوراسفندیار سے رابطہ کیا ہے۔ بلاول بھٹو، محمود اچکزئی،سراج الحق اور حاصل بزنجو کیساتھ رابطے کریں گے ۔ اسلام آباد دھرنے کے دوران حکومت کے خاتمے، وزیر اعظم کے استعفیٰ اور90دنوں میں نئے انتخابات کے انعقاد کا مطالبہ کیا جائیگا جبکہ حکومت کے خاتمے تک دھرنا جاری رہے گا۔ نواز شریف کے بیانیہ کے ساتھ کھڑے پارٹی رہنما احسن اقبال نے بھی نئے انتخابات کی بات کی ہے۔

یہ حقیقت ہے کہ دو بڑی سیاسی جماعتیں احتساب کے عمل کی زد میں ہیں۔ ان کی قیادت ہر طرح کے دبائو میں ہے۔ وہ مزاحمت سے زیادہ کچھ لو کچھ دو یا مصالحت کے راستے تلاش کر رہی ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں پیدا ہونے والی نئی صورت حال نے مزید پیچیدگی پیدا کردی ہے۔

اصل معاملہ پیپلزپارٹی اور نواز لیگ سے نمٹنا ہے۔ اسلام آباد کے معتبر ذرائع کا خیال ہے کہ حکومت جب نواز شریف اورآصف زرداری کو گرفتار کر سکتی ہے ، اس صورتحال میںحکومت جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کی گرفتار ی کو خارج ازامکان قرار نہیں دیا جاسکتا۔

نواز لیگ کے پاس ہارنے کے لئے کچھ زیادہ نہیں کیونکہ پارٹی کی اعلیٰ قیادت بشمول سابق وزیر اعظم اور پارٹی کے سربراہ نواز شریف ایک اور سابق وزیر اعظم، شاہد خاقان عباسی،نوازشریف کی صاحبزادی، مریم نواز،خواجہ برادران خواجہ سعداورسلمان رفیق،مسلم لیگ پنجاب کے صدررانا ثناء اللہ اورسابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل گرفتار ہیں،لیکن پھر بھی پارٹی کے صدر اور اپوزیشن لیڈر شہباز شریف مولانا فضل الرحمٰن کامکمل ساتھ دینے کے حق میں نہیں۔ جبکہ نواز شریف چاہتے ہیںکہ مولانا فضل الرحمٰن کا اسلام آباد لاک ڈاؤن میں مکمل ساتھ دیا جائے۔ نواز شریف نے کیپٹن صفدر کے ذریعے مولانا کو دھرنے کی حمایت کا پیغام دیا ہے ۔شہباز شریف اور دوسری قیادت سمجھتی ہے کہ اس صورت میں پارٹی پربڑے پیمانے پر کریک ڈائون ہوگا۔ سیاسی مارکیٹ میں یہ افواہیں بھی گشت کر رہی ہیں کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی قیادت مبینہ طور پر ڈیل کے لیے راضی ہو گئی ہیں۔اس امر کے بعض اشارے بھی مل رہے ہیں، جس کی کسی مستند حلقے سے تردید بھی نہیں ہورہی۔

پیپلزپارٹی کے پاس کھونے کے لئے بہت کچھ ہے۔ سب سے بڑھ کر سندھ حکومت۔ لاک ڈائون میں شرکت اس مصالحتی کوششوں کو زک پہنچا سکتی ہیں۔ بلاول بھٹو کاحالیہ دورہ سندھ کے دوران بیان کہ پارٹی مولانا کے لاک ڈائون کی اخلاقی حمایت کرے گی ، اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کسی نہ کسی سطح پر مصالحت کا عمل جاری ہے۔ لہٰذا پیپلزپارٹی اوردوسرا فریق مذاکرات میں اپنی سودے بازی کی پوزیشن مضبوط رکھنا چاہتے ہیں۔ شہباز شریف کے بیانیہ پر کھڑی نواز لیگ چاہتی ہے کہ پیپلزپارٹی کے ساتھ ڈیل ہو تو صورتحال واضح ہوگی، اور اس کی روشنی میں پارٹی اپنا راستہ بناسکتی ہے۔


ای پیپر