منز ل نہیں سرا ب ہے یہ
12 ستمبر 2019 2019-09-12

میر ے پچھلے کا لم میں عمر ان خا ن حکو مت کی ایک سا لہ کا رکردگی پہ اٹھا ئے گئے سوا لا ت پہ بہت سے قا رئین نے خطوط کے ذریعہ تشنگی کا اظہا ر کیا ہے ۔ ان کے خطو ط پہ نظر دو ڑا تا ہو ںتو وہ پو چھتے نظر آ تے ہیں کہ سو ئس بینکو ں سے ر قو م وا پس لا نے کے وعدے کا کیا بنا؟قارئین کے نز دیک اس سوال کی اہمیت اس لیئے بھی ز یا دہ ہے کہ انہیں یقین دلا یا گیا تھا کہ رقو م کی وا پسی کے نتیجے میں ملک کی معا شی صو رتِ حا ل میں بہتری آ ئے گی۔ کہا تو یہ بھی تھا کہ احتسا ب سب کا ایک جیسا ہو گا، مگر یہا ں تو صرف دو مخصو ص پا رٹیو ں ہی کے لو گ احتسا ب کے شکنجے میں کستے دکھا ئی دے رہے ہیں۔ عو ا م کی تو جہ اصل حقا ئق سے ہٹا نے کی غر ض سے اِدھر اْد ھر کی غیر ضر وری با تو ں پہ مبذ و ل کر انے کی کو شش کی جا تی ہے ۔ ٹھیک ہے کہ بھارت کا چا ند پہ را کٹ اتا رنے کا مشن چند ریا ن ٹو ناکامی سے دو چا رہو گیا، مگر جس طو ر حکو متی سطح پر اس پہ خو شی منا ئی جا رہی ہے ، کیا بھا رتی خلا ئی ادارے کی اس نا کا می سے ہما رے عو ام کی غر بت میں کچھ کمی آ سکے گی؟ ما ضی کی حکو متو ں کی کر پشن کا مسلسل رو نا رو تے رہنے سے کیا عوا م کے حا لا ت بہتر ہو سکیں گے؟عوا م کے حا لا ت بہتر ہو جا تے اگر آپ پچا س لا کھ گھرو ں اور ایک کر وڑ نو کر یا ں مہیا کر نے کے راستے پہ گا مز ن نظر آ تے۔ پھر تھا نہ کلچر تبد یل کر نے اور سب طلباء کے لیئے یکسا ں تعلیم فرا ہم کر نے کے وعد ے کا کیا بنا ؟ سوا ل پو چھا جا سکتا ہے آ یا خو د وز یرِ اعظم عمر ان خا ن اپنی حکو مت کی کا رکر دگی سے مطمئن ہیں؟ کیو نکہ اگر وہ مطمئن ہوتے تو وزیراعظم آفس کی جانب سے 27 وزارتوں کو ریڈ لیٹر جاری نہ کرنا پڑتے۔ یہ اس امر کا ثبوت ہے کہ کچھ بھی ٹھوس نہیں ہورہا۔ محض باتیں ہی باتیں ہیں۔ ان سے بہتر کون جانتا ہے کہ اپنے 22 سالہ سیاسی سفر کے دوران انہوں نے اپنے خیرخواہوں میں کیسی کیسی امیدیں بیدار کیں اور ان کی آنکھوں کو کیسے کیسے رنگین خواب دیکھنے کی ترغیب دی۔ وہی بہتر جانتے ہیں کہ ان کی جانب سے اجاگر کی گئی امیدوں اور خوابوں نے کس حد تک حقیقت کا روپ دھارا اور کتنے تشنہ تکمیل رہ گئے۔ سبھی یہ جانتے ہیں کہ اس ایک سال کے دوران عوام کی مشکلات میں جتنا اضافہ ہوچکا ہے ، اس کے نتیجے میں اب اُن کی امیدیں اور خواب ٹوٹنے کا عمل شروع ہوگیا ہے ۔ عوام حکومت کی زبانی سابق حکومتوں کے جرائم کے بارے میں سنتے سنتے تھک چکے ہیں۔ یہ کہانیاں پرانی ہوچکی ہیں۔ عوام اب تحریکِ انصاف کے کارناموں کے بارے میں سننا چاہتے ہیں۔ اور صرف سننا ہی ہنیں چاہتے، ان کارناموں کو اپنی زندگیوں میں محسوس کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن ایسا ہونہیں رہا اور وہ اب یہ سوچنے پر مجبور ہورہے ہیں کہ ان کی زندگیوں میں ’’تبدیلی‘‘ آنے والی نہیں ، ’’نیا پاکستان‘‘ اگر بننا ہے تو ان کی زندگیوں میں بنتا نظر نہیں آتا۔ ہمارے ملک میں سنگین مسائل کی ایک لمبی فہرست ہے جو یقینا سابق حکومتوں کا ہی ترکہ ہیں، لیکن ان میں سے ایک اُمّ المسائل کی طرف اکثر توجہ نہیں دی جاتی، جو بہت سی خرابیوں کی جڑ ہے اور یہ واضح ہے کہ جب تک اس خرابی کو جڑ سے اکھاڑا نہیں جاتا، یہاں کوئی بہتری آنا ممکن نہیں ۔ اُمّ المسائل یہ ہے کہ سابق حکومتوں نے ہر شعبے میں کام کرنے والے ملازمین کی فوج ظفرموج، نہیں عرف عام میں سول سرونٹس کہتے ہیں، کی پوری نسل تبدیل کرکے رکھ دی۔ چنانچہ آج کی سول سروسز سے وہ انصاف، میرٹ، اعلیٰ کارکردگی، غیرجانبداری کی توقعات باندھنا ناممکن ہوچکا ہے ، جو آزادی کے وقت اور اس کے بعد شاید مارشل لاء تک عوام ان سے اپنا حق سمجھتے تھے۔ وہ اعلیٰ معیار قصۂ پارینہ بن چکے ہیں۔ سول سرونٹس، وہ جس سطح کے بھی ہوں اور جس شعبے سے بھی تعلق رکھتے ہوں، کا کام اگر دیکھا جائے تو بہت سیدھا سادہ اور سہل ہونا چاہیے۔ ان کے فرائض اور ذمہ داریاں بڑی صراحت کے ساتھ تحریری شکل میں ان کے پاس موجود ہوتی ہیں۔ ان ذمہ داریوں کو قوانین اور قواعد کی روشنی میں سرانجام دینا ہوتا ہے ۔ اس سے زیادہ سادہ کام کا تصور ممکن نہیں ۔ لیکن کام اب ایسا نہیں رہا۔ اب کارِ سرکار میں مداخلت بہت بڑھ گئی ہے ۔ اب کام قانون، قاعدے کے مطابق کرنے کے راستے میں طرح طرح کی رکاوٹیں ہیں۔ ہر کام میں اب یا تو بے جا مداخلت کی جاتی ہے یا پھر سول سرونٹس کی کیمیائی ہیئت ایسی ہوچکی ہے کہ انہوں نے اپنے مقاصد کے لیے قانون اور قواعد کو موم بنالیا ہے ۔ جناب وزیر اعظم کو اس بات کا بہت اچھی طرح اندازہ اور احسا س تھا اور اب بھی ہے ، اسی لیے وہ میرٹ کی اور محکموں کو مداخلت سے پاک کرنے کی بات کرتے رہے ہیں۔ لیکن انہیں اب شاید اندازہ ہوچکا ہے کہ یہ سب کہنا آسان، کرنا قریب قریب ناممکن ہے ۔ آج سول سروس میں سیاسی مداخلت جس سطح پر ہے ، ، اچھی یادداشت رکھنے والے مبصرین کی رائے میں، کبھی اس قدر نہ تھی۔ خادمِ اعلیٰ میں پائی جاے والی تمام تر مبینہ خامیاں اپنی جگہ، لیکن ان کے دور میں کارِ سرکار میں مداخلت نسبتاً بہت کم تھی۔ اس کی وجہ آسانی سے سمجھ آنے والی ہے ۔ وہ اپنے بارے میں ایک مضبوط منتظم ہونے کا تاثر قائم کرنا چاہتے تھے۔ ان کی نظر میں پنجاب سے آگے بھی منزلیں تھیں۔ مداخلت کا استحقاق وہ سختی سے صرف اپنا سمجھتے تھے۔ جب بھی کسی منتخب نمائندے کو ضرورت آن پڑتی تو اس کے پاس صرف ایک ہی راستہ ہوتا تھا کہ وہ ایوانِ وزیر اعلیٰ کے چکر لگائے۔ اس وقت صورتِ حال یکسر مختلف ہے ۔ اب ہر نمائندہ اپنے حلقے کے لیے وزیر اعلیٰ ہے ۔ کلیدی عہدوں پر فائز سرکاری افسروں کو یہ باور کرایا جاتا ہے کہ منتخب نمائندوں کو پورا ’’پروٹوکول‘‘ دینا ہے اور انہیں ہر صورت ’’مطمئن‘‘ رکھنا ہے ۔ لفظ پروٹوکول کے ہمارے ہاں وسیع معانی ہیں۔ جنہوں نے یہ لینا اور دینا ہوتا ہے وہ اس کا مفہوم اور تقاضے بہت اچھی طرح سمجھتے ہیں۔ اسی طرح مطمئن کرنے کا مفہوم بھی وہ سول سرونٹس اور سیاستدان بہت اچھی طرح جانتے ہیں۔ جو بات پاکستان تحریک انصاف کی حکومت سمجھ نہیں رہی، یہ ہے کہ یہ پالیسی انتظامی ڈھانچے کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوسکتی ہے ۔ اسی وجہ سے سول سروسز اس وقت ایک دیمک زدہ ڈھانچہ ہے ۔ یہ اس کام کی اہلیت کھو چکی ہیں جو گزرے وقتوں میں ان کا امتیاز ہوا کرتا تھا اور اس وقت اہم ترین قومی تقاضا ہے ۔ پتا نہیں ان حالات کو کیسے بہتر بنایا جاسکے گا؟ حکومت سے کئی اس سے کہیں زیادہ آسان کام تو ہو نہیں رہے، سول سروسز کی احیاتو مشکل کاموں میں سے بھی مشکل ہے ۔ اور جب تک ہماری سول سروسز پاکستان میں ’’تبدیلی‘‘ کی ضمانت بننے کے قابل نہیں ہوتیں، جاگتی آنکھیں نئے پاکستان کا خواب تو دیکھتی رہیں گی، لیکن ان کی تعبیر کہیں نہیں مل سکے گی۔


ای پیپر