اقوام متحدہ کا مقبوضہ وادی میں تشدد پر گہری تشویش کا اظہار
12 ستمبر 2019 2019-09-12

5 اگست کو کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کیے جانے کے بعد وہاں کے مسلمانوں کی مذہبی آزادی بھی چھین لی گئی ۔ 5 اگست سے اب تک بھارتی حکام نے کشمیری مسلمانوں کو سرینگر کی تاریخی جامع مسجد اور مقبوضہ وادی کی دیگر مرکزی مساجد میں جمعہ کی نماز پڑھنے کی بھی اجازت نہیں دی۔گذشتہ سالوں کی نسبت اس برس مقبوضہ کشمیر میں محرم کے ماتمی جلوس پر مکمل پابندی رہی ۔ ظالم فوجیوں نے جلوس کے شرکاء پر چھرے والی بندوقوں (پیلٹ گنز) کے فائر کھول دئیے۔ بھارت کو خدشہ تھا کہ یہ جلوس مودی سرکار مخالف مظاہروں میں تبدیل ہو سکتے ہیں۔

عزاداروں پر تشدد اور بربریت کو فلماتے ہوئے کشمیر کا فوٹو جرنلسٹ بھی پیلٹ گنوں کے چھرے لگنے سے زخمی ہو گیا۔بھارتی فورسز نے جلوس کی کوریج کرنے والے فوٹو جرنلسٹ کا نہ صرف کیمرا چھین کر توڑ دیا بلکہ تین صحافیوں کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا جن میں شاہد خان، مبشر ڈار اور بلال بھٹ شامل ہیں۔ گزشتہ چند سالوں میں 8 اور 10محرم کو سرینگر اور مقبوضہ وادی کے دیگر علاقوں میں بہت بڑے جلوس نکالے جاتے تھے تاہم قابض انتظامیہ نے ان جلوسوں پر 1998میں پابندی عائد کر دی تھی۔پھر بھی مذہبی تہواروں پر مسلمانوں کو قدرے مذہبی آزادی تھی مگر اس مرتبہ توکرفیو کی وجہ سے مسجد میں نماز کیلئے جانا بھی ممکن نہ رہا۔

ان حالات میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ادارے کی سربراہ مشیل باشیلے نے مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی حکومت کے اقدامات اور وہاں انسان حقوق کی خلاف ورزیوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بھارت سے مطالبہ کیا کہ مقبوضہ کشمیر میں کرفیو ختم کرکے شہریوں کی بنیادی ضروریات تک رسائی کو یقینی بنایا جائے۔انہوں نے اپنی تقریر میں مقبوضہ کشمیر میں 'انٹرنیٹ اور مواصلاتی ذرائع اور پرامن اجلاس پر پابندی اور مقامی سیاسی قیادت اور کارکنوں کی گرفتاریوں ' کو بھی اجاگر کیا۔مان کا کہنا تھا کہ بھارتی حکومت کے حالیہ اقدامات کے کشمیریوں پر پڑنے والے اثرات پر مجھے گہری تشویش ہے۔ میں بھارت اور پاکستان دونوں ممالک پر زور دیتی ہوں کہ وہ خطے میں انسانی حقوق کی پاسداری اور احترام کو یقینی بنائیں۔ میں خاص طورپر بھارت سے اپیل کرتی ہوں کہ لاک ڈاؤن اورکرفیو میں نرمی لائیں اسے ختم کریں، شہریوں کی بنیادی ضروریات تک رسائی کو یقینی بنائے اور جنہیں گرفتار کیا گیا ہے ان کے حقوق کا احترام کیا جائے۔مسئلہ کشمیر کے حل کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ' مقبوضہ کشمیر کے مستقبل کے حوالے سے کسی قسم کے فیصلے کے حوالے سے وہاں کے شہریوں سے مشاورت اور ان کی شمولیت ضروری ہے'۔

ہمارے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ہیومن رائٹس کمشنر کے مقبوضہ کشمیر بارے بیان کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں سلب کئے گئے بنیادی انسانی حقوق کی بحالی کا مطالبہ انتہائی حوصلہ افزاء ہے۔ آج دنیا دیکھ رہی ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری ظلم و بربریت آہستہ آہستہ بے نقاب ہو رہی ہے۔ترجمان دفتر خارجہ نے کہاکہ اقوام متحدہ انسانی حقوق کمشنر کا بیان مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال، مسلسل پابندیوں، کشمیری عوام کی آزادی اور بنیادی حقوق پر کریک ڈاؤن پر اقوام متحدہ کے نظام کے موقف کے مطابق ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں کیے جانے والے انسانیت سوز مظالم اور مکمل لاک ڈاؤن کو اجاگر کرنے کے لیے نئی آن لائن مہم کا آغاز کردیا۔اس ضمن میں ایمنسٹی انٹرنیشنل نے سماجی رابطوں کی مختلف ویب سائٹس پر نئی مہم بعنوان انسانیت کو اولیت دو، کشمیر کا لاک ڈان ختم کرو مہم کا آغاز کردیا ہے۔انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والے ادارے کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں ایک ماہ سے زائد عرصے کے دوران 80 لاکھ کشمیریوں کی زندگیاں اجیرن ہو گئی ہیں اور پوری وادی میں مواصلاتی نظام مکمل درھم برھم ہو چکا ہے۔ مقبوضہ وادی میں جوان، بچے اور بوڑھے ایک ماہ سے گھروں میں قید ہوکر رہ گئے ہیں۔ بلیک آوٹ کی انسانیت کو قیمت چکانا پڑ رہی ہے جو نظر انداز نہیں کی جاسکتی۔ادارے کا کہنا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں جابرانہ قوانین کے نفاز سے مواصلاتی نظام مکمل بند ہوچکا ہے۔ لامحدود پابندیوں کی وجہ سے لوگ اپنے خاندانوں سے کٹ کر رہ گئے ہیں۔ ایک ماہ سے عوام اپنے پیاروں کی خیریت اور سلامتی سے آگاہ نہیں۔انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والے ادارے کے مطابق پابندیوں کی وجہ سے بیمار اور مصائب میں گھرے کشمیریوں کی مدد کرنے والے ڈاکٹروں اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کام کرنے والے ورکرز کا کام بہت زیادہ متاثر ہوا ہے.ادارے کا کہنا ہے کہ یہ سب درحقیقت کشمیر کے عوام کو اجتماعی سزا کے مترادف ہے اور مقبوضہ وادی کی صورتحال معمول کے مطابق نہیں ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ یو این ایچ آر سی کمشن بنا کر مقبوضہ وادی میں بھارتی مظالم کی تحقیقات کرائے۔ اقوام متحدہ کے پاس اب فیصلوں پر عمل کرنے کا وقت ہے۔ مقبوضہ کشمیر کی صورت حال پر عالمی برادری نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ یو این ہائی کمشنر نے کشمیر کی صورت حال پر اظہار تشویش کیا ہے۔ عالمی برادری کو مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم سے لاتعلق نہیں رہنا چاہئے۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز کے وحشیانہ محاصرے پر آواز اٹھانی چاہئے۔


ای پیپر