پولیس کی غنڈہ گردی اور پولیس ریفارمز‘چند تجاویز
12 ستمبر 2019 2019-09-12

ہمارا ملک جس میں اقتدار کے ایوان‘ قانون کی کتاب‘ سیاست کے دیوان اور انصاف کی دکان سے ایک مخصوص کلاس مستفید ہوتی ہے ایسی صورت میں ہمارے ریاستی سسٹم میں یہ رواج عروج پر ہے کہ ملک کے غریب اور عام طبقے کے ساتھ ہونیوالی زیادتی اور ناانصافی کی کہانی جب سوشل میڈیا کی کوریڈور میں پہنچ کر شدید عوامی ردعمل کا سبب بنتی ہے تو تب جا کر اقتدار اور انصاف کے ایوانوں تک اس کی ہلکی سی گونج پہنچتی ہے پھر جا کر کہیں ریاستی مشینری حرکت میں آتی ہے اسی طرح جب صلاح الدین کا انسانیت سوز وقوعہ بھی سوشل میڈیا پر شدید عوامی احتجاج کے بعد حکومتی ایوانوں تک پہنچا تو تب جا کر قانون کے رکھوالوں نے جھوٹی وضاحت پیش کرنے کو غنیمت جانا۔

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی پولیس تشدد کی ویڈیو اور صلاح الدین جیسے ذہنی معذور کی کہانی کو معاشرتی سفاکیت کانام دیا جائے یا انسانی درندگی کا اسے حیوانیت کے ہاتھوں انسانیت کا قتل قرار دیا جائے یا اسے وردی کی طاقت کے نشہ میں سرعام غنڈہ گردی کہا جائے‘ اسے انصاف کے منہ پر طمانچہ مارنے کے مترادف قرار دیا جائے یا پھر اسے اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے بے حس حکمرانوں کی غفلت کا نتیجہ کہا جائے‘ اب اس بار اس وقوعہ کو ریاست میں ریاستی اداروں کی لاقانونیت کی انتہا سمجھا جائے یا پھر ایوان عدل کا امتحان…! فیصلہ وقت کرے گا۔ بہرحال اسے جو بھی کہا جائے؟ یہ بات طے ہے کہ نہ مارنے والے انسان ہو سکتے ہیں اور نہ ایسے واقعات کو برداشت کرنے والے انسان کہلوانے کے حقدار ہیں۔ ایسا ملک جہاں بدقسمتی سے غربت جرم‘ سیاست اقتدار تک پہنچنے کا دروازہ‘ پیسہ فیشن‘ سرکاری عہدہ اور وردی طاقت کی علامت بن گئے ہوں وہاں بڑے بڑے فراڈ کرنے والے صادق و امین ٹھہرتے ہیں اور صلاح الدین جیسے ذہنی معذور اور مجبور چور بن کر پولیس ٹارچر سے زندگی کی بازی ہارتے ہیں ایسے سسٹم میں عام آدمی کے لیے انصاف کی توقع رکھنا اور مجرمان کو کیفرکردار تک پہنچانا ایک کٹھن مرحلہ ہے۔

ہم اگر ماضی قریب میں ظلم و زیادتی‘ پولیس تشدد‘ غیرقانونی قید‘ جعلی پولیس مقابلوں کی فہرست میں بذریعہ سوشل میڈیا رپورٹ ہونے والے وقوعے جن میں نقیب اللہ محسود کیس‘ سانحہ ساہیوال‘ عامر مسیح کی مبینہ پولیس ہلاکت وغیرہ کے احوال پر نظر دوڑائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ سانحے میڈیا پر لیڈنگ سٹوریز بھی بنے بھرپور عوامی احتجاج بھی ریکارڈ ہوا حکومت نے مجرمان کو کیفرکردار تک پہنچانے کا وعدہ بھی کیا لیکن درحقیقت میں تفتیشی اداروں نے کیسوں کی انکوائریاں مکمل کیں نہ حکومت نے پولیس ریفارمز پر دھیان دینے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے اور نہ ہی عدالتوں نے حکومت اور تفتیشی اداروں پر دبائو ڈال کر مجرمان کو کیفرکردار تک پہنچایا۔ ہمارے ملک میں ایسے 95فیصد کیسوں کا اختتام مدعی کو بھاری معاوضہ دے کر یا ریاستی دبائو ڈال کر مدعی کو خاموش کروا کر مجرمان کو سزا سے بچا کر کیا جاتا ہے۔

ترقی یافتہ اور فلاحی ریاستوں میں جب ایک جرم‘ سانحہ‘ وقوعہ یا ریاستی لاقانونیت کا غیرمعمولی واقعہ رپورٹ ہوتا ہے تو ریاستی مشینری سے لے کر ایوان عدل تک کے تمام ادارے مجرمان کو کیفرکردار تک پہنچانے کے لیے دن رات ایک کر دیتے ہیں اور حکومتی وزارتیں سر جوڑ کر بیٹھ جاتی ہیں کہ ایسے اقدامات کیے جائیں کہ آئندہ ایسا سانحہ یا وقوعہ دوبارہ رونما نہ ہو۔ ہمارے ملک کے پولیس سسٹم میں تھانہ کلچر کی روایات میں جعلی پولیس مقابلے‘ حوالات میں پولیس تشدد‘ غیرقانونی قید‘ رشوت‘ بدتمیزی‘ سیاسی ایماء پر بھرتیاں‘ من پسند تھانوں میں تبادلے‘ سیاسی دبائو پر تفتیشوں میں ردوبدل کروانے کے لیے مقامی سیاسی نمائندے رات کے پہر میں تھانیداروں کو ان کے پرائیویٹ کمروں میں جا کر ملنے کا رجحان روزمرہ کے معمول کا حصہ ہے ریاستی ادارے اور اقتدار کے ایوان پولیس کی اس پریکٹس سے بخوبی آگاہ ہیں لیکن پولیس کی شفافیت کیلئے ریاست نے بھی کوئی خاطرخواہ اقدامات نہیں کیے یہی وجہ ہے کہ پولیس افسران اور اہلکار ریاست کے کمزور قانونی ڈھانچے کا فائدہ اٹھاتے ایسی لاقانونیت اور حیوانیت پر اترتے ہیں اور تھانوں کا پولیس سٹاف کھلے دل مقامی سیاسی نمائندوں کے ڈیروں پر بیٹھ کر چائے جلیبی سے تواضع کرواتا ہے اور ان کے ہر غیرقانونی کام اور جھوٹے پرچے کاٹتا ہے۔

ملک بھر میں اس وقت پولیس ریفارمز کی اشد ضرورت ہے اور حکومت کو ترجیحی بنیادوں پر پولیس سسٹم اور تھانہ کلچر کو بدلنے کیلئے فوراً عملی اقدامات کرکے سیاسی سایہ سے آزاد کرکے ایک سخت قانونی ضابطے کے اندر لانا ہو گا اور پولیس ریفارمز کے بنیادی قانونی ڈھانچے میں ان پوائنٹس پر سختی سے عمل کروانا ہو گا۔

(1) مقامی تھانوں کے ایس ایچ او اور عملہ پر سیاسی لوگوں سے رابطوں اور سفارش پر ہر طرح کی پابندی عائد ہونی چاہیے۔ سیاسی رابطہ رکھنے والے ایس ایچ او اور پولیس اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کا قانون ہونا چاہیے۔

(2) سیاسی نمائندوں کے تھانوں میں سفارشی داخلے پر مکمل پابندی عائد اور سیاسی ڈیروں پر بیٹھ کر چائے جلیبی سے تواضع کروانے والے اہلکاروں کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی ہونی چاہیے۔

(3) ہر تھانے یا تحصیل سرکل کی سطح پر پولیس کا ایک آفیسر صحافیوں کو کیسوں‘ تفتیشوںمیں ضروری معلومات دینے اور مجرمان سے پریس ٹاک کروانے کیلئے اسپیشل تعینات ہونا چاہیے۔

(4) پولیس ریڈ‘ انکوائری‘ پوچھ گچھ کیلئے تفتیشی عملہ کی جیکٹوں پر کنٹرولڈ کیمرہ نصب ہونا چاہیے جس کی ریکارڈنگ کا فولڈر ڈائریکٹ ضلعی پولیس آفس کے پاس ہو۔

(5) ٹرانسفر اور ترقی کا خفیہ الیکٹرونک سسٹم متعارف کروانا ہو گا ایس ایچ او اور انسپکٹروں کی تعیناتی اس خفیہ الیکٹرونک سسٹم کے تحت سنیارٹی اور کارکردگی کی بنیاد پر آٹومیٹک سسٹم سے ہونی چاہیے۔

(6) غلط تفتیش کرنیوالے پولیس اہلکاروں کو معطل کرکے بھاری جرمانے اور غیرقانونی سزا یا چالان بھگتنے والے ملزم کو ریاست کی جانب سے رقم کی فراہمی ہونی چاہیے۔

(7) پولیس تشدد کر کے تفتیش کرنے والے پولیس اہلکاروں کو قرار واقعی سزائیں دی جائیں اور تفتیشی عملہ میں سائیکالوجسٹ تفتیشی ماہر رکھے جائیں۔

(8) عام شہری کے قانونی مدد کیلئے تھانہ میں داخلے کو آسان بنانے کیلئے عوام میں بذریعہ میڈیا آگاہی مہم شروع کرنی چاہیے۔

صلاح الدین کے انسانیت سوز وقوعہ کے بعد بھی آج اگر حکومت پولیس ریفارمز کیلئے قانون تبدیل کرکے پولیس کو قانونی ضابطوں میں قید نہیں کرتی تو عوام کو پولیس ریفارمز کروانے کیلئے سڑکوں پر نکل کر خود ہی اپنے حقوق کی جنگ لڑنی چاہیے۔ یہ نہ ہو کہ اس لاقانونیت میں کسی اور ماں کا لال پولیس تشدد کا نشانہ بن کر زندگی ہار جائے۔


ای پیپر