کیا ہونے والا ہے؟
12 ستمبر 2019 2019-09-12

ہم یہ باتیں نوے کی دہائی میں کیا کرتے تھے کہ اگلا برس انتخابات کا ہوگا اور وہ ہوبھی جاتا تھا کیونکہ اس وقت صدر مملکت کے پاس اسمبلیاں برطرف کرنے کا اختیار تھا،یوں ہم نے سازشوں کی دھن پرحکومتوں اور اسمبلیوں کی میوزیکل چئیر دیکھی ۔ پرویز مشرف کے مارشل لاءسے قوم کو ایک تحفہ ملاکہ جہاں میر ظفر اللہ جمالی، شجاعت حسین اور شوکت عزیز کی صورت مہرے تبدیل ہوتے رہے مگراسمبلی نے اپنی مدت پوری کی، بعدازاں، پیپلزپارٹی اور نواز لیگ کی حکومتوں میں بھی وزرائے اعظم کی تبدیلی کے باوجود اسمبلیاں برقرار رہیں۔ اب بھی کچھ دوست کئی ماہ سے وزیراعظم کی تبدیلی بارے خیال آرائی کر رہے ہیں مگرباخبر حلقوں کا کہنا ہے کہ اگرمعاشی ابتری کی یہی رفتار رہی تو اگلے بجٹ کے بعد ان ہاو¿س تبدیلی کی صورت چھوٹی قربانی سے کام نہیں چلے گا، پوری اسمبلی کی صورت بڑی قربانی دینی پڑے گی ۔

یہ بات ہرگز نہیں کہ جناب عمران خان مقتدر حلقوں کے لاڈلے نہیں رہے یا ان کی طرف سے کسی بغاوت کا خطرہ ہے۔ وہ اقتدار میں رہنے کے لئے موزوں ترین شخصیت ہیں کہ اگر وہ اسد عمر کی قربانی دے سکتے ہیں تو کوئی قربانی بھی دے سکتے ہیں لہٰذا تبدیلی کی وجوہات ہرگز سیاسی نہیں ہیں، یہ سو فیصد اقتصادی اورمعاشی ہیںجن کی بنیاد پر وزیر خزانہ سمیت دوسرے وزیر تبدیل ہو سکتے ہیں انہی کی بنیاد پوری حکومت بھی تبدیل ہوسکتی ہے۔ پاکستان کی گذشتہ دو برس کی اقتصادی اورمعاشی کارکردگی منفی رہی ہے۔ جی ڈی پی تیزی کے ساتھ سکڑ رہی ہے، ملکی معیشت سے برق رفتاری کے ساتھ اربوں، کھربوں نکلتے جا رہے ہیں جو اتنی ہی تیزی سے روزگار کے مواقع محدود کر رہے ہیں۔ کہاجا رہا ہے کہ پاکستانی روپیہ بہت جلد دنیا کی سب سے زیادہ بے قدر ہونے والی کرنسی کا درجہ حاصل کرنے والا ہے، ایک امریکی ڈالر دو سو روپوں کا ہوجائے گا، سونا نوے ہزار روپے تولہ پر پہنچ چکا ہے۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بے روزگاری سب سے بڑے خطرات ہیں ۔آج کی سیاست ، معیشت کے تابع ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہمارا انتہا پسند پڑوسی نریندرمودی حکمرانی میں کامیاب ہے کیونکہ وہ سو ا ارب سے زائد انسانوں کی منڈی کو کامیابی سے بڑھا رہا ہے۔ اگر ہم بربادی کی وجہ سیاسی انتقام کو سمجھتے ہیں توکہنے دیں کہ بنگلہ دیش ہم سے کہیں آگے ہے جہاں مخالفین کو باقاعدہ پھانسیاں دی جا رہی ہیں مگر وہاں ایک ڈائن نما عورت ریکارڈ جی ڈی پی گروتھ کے ساتھ حکومتی کرسی کو سختی اور مضبوطی سے جکڑے ہوئے ہے۔ پاکستان میں بھی مجوزہ تبدیلی کی بنیادیں بھی سیاسی نہیں ہیں کہ موجودہ اپوزیشن میں اس کی اہلیت ہی نہیں،اپوزیشن کی وہ تمام قیادت جو مسائل پیدا کر سکتی ہے وہ پابند سلاسل ہے، جی ہاں، نواز شریف کے ساتھ ساتھ مریم نواز، حمزہ شہباز، خواجہ سعد رفیق، شاہد خاقان عباسی، رانا ثناءاللہ خان ہی کوئی دھماکا کر سکتے ہیں جبکہ جو باہر ہیں چاہے وہ احسن اقبال ہوں یا خواجہ آصف، یہ وہ کارتوس ہیں جو کبھی کبھار کچھ دھواں کرنے کے سوا کچھ نہیں کرسکتے، شنید ہے کہ شاہد خاقان عباسی نے بھی’ ڈیل‘ کا مشورہ دے دیا ہے۔

موجودہ صورتحال میں نواز شریف اگرمسلم لیگیوں کے خوابوں اور خواہشات کے مطابق رہا بھی ہوجائیں تو بہرصورت وزیراعظم نہیں بن سکیں گے۔ کسی کو اس بارے اگر شبہ ہے تو نواز شریف کے بارے میں آنے والے آخری فیصلے اور ملکی صورتحال کے حوالے سے آخری پریس کانفرنس کو سن لے، فیصلہ بتاتا ہے کہ نواز شریف کو بے گناہ ثابت کرنے والی ویڈیوز کو بطور ثبوت استعمال کرنے کے لئے مزید کیا کچھ درکار ہے اور پریس کانفرنس بتاتی ہے کہ عمران خان کی تمام تر ناکامیاں بھی مقتدر حلقوں کے سامنے جواز رکھتی ہیں۔ مولانا فضل الرحمان عام انتخابات میں فارغ کئے جانے پر ابھی تک شدید غم وغصے کا شکار نظر آتے ہیں اور اگر انہیںجثے سے زائد حصہ نہ دیا گیا تو وہ سیاسی سے کہیں زیادہ ملک کے معاشی مسائل میں اضافہ کر یں گے۔مسلم لیگ نون کے سوشل میڈیائی کارکن اپنی امیدیں مولانا فضل الرحمان کے اعلان کردہ دھرنے اور لاک ڈاو¿ن سے لگا رہے ہیں مگر دیکھنا یہ ہے کہ کیامولانا فضل الرحمان کوئی ایسا کھیل کھیلیں گے جس کی ٹرافی دوسرے لے جائیں۔ مولانا فضل الرحمان نوے کی دہائی والے قاضی حسین احمد ہرگز نہیں بنیں گے کہ دھرنے وہ دیتے تھے اور وزیراعظم کوئی دوسرا بنتا تھا۔

سوال پھر وہی ہے کہ کیا یہ بہتر نہیں کہ ایوان اپنی مدت پوری کرے اور ان ہاو¿س تبدیلی کے ذریعے مقصد حاصل کر لیا جائے تو سوال کو دہرالیتے ہیں کہ مقصد کیا ہے۔ مقصد ریاست کی بقا کویقینی بنانا ہے جو معیشت کی بقاکے ساتھ جڑی ہوئی ہے اور کوئی بھی سرمایہ کار چاہے وہ ذاتی حیثیت میں ہو یا کسی ریاست کی صورت میں ہو، وہ ناکام ہونے والے عمران خان یا ان کے کسی ڈپلیکیٹ پر اعتماد نہیں کرے گا۔ ڈیل کروانے والے کہہ رہے ہیں کہ شہباز شریف یا شاہد خاقان عباسی کے نام قرعہ نکل سکتا ہے مگر سوال یہ ہے کہ کیا ان کی قیادت میں ایک قومی حکومت پر اتفاق رائے ہوسکتاہے ۔ہماری اقتصادی بقا کا فوری انحصار آئی ایم ایف کے پیکج پر ہے مگر ہم پیکج کی شرائط کے مطابق بجٹ کا خسارہ کم اورٹیکسوں کی وصولی کا ہدف پورا کرنے میں ناکام ہوتے نظر آ رہے ہیں یوں جہاں پیکج خطرے میں پڑ رہا ہے وہاں افسوسناک طور پر بدحالی بڑھنے کا اندیشہ ہے۔ اگر آپ کی خواہش ہے کہ موجودہ حکومت اسی طرح اپنے پانچ برس پورے کرے تو ایک محتاط اندازے کے مطابق اس عرصے میں ایک کروڑ سے زائد لوگ بے روزگار ہوجائیں گے جبکہ سکڑتی ہوئی معیشت میں ہمارا سب سے بڑا سرمایہ یعنی ہماری نوجوان نسل ، روزگار نہ ملنے پر ہمارے لئے سب سے بڑا خطرہ بن جائے گی۔

میں نے پہلے بھی کہا کہ جو لوگ کوئی تحریک چلا سکتے ہیں وہ اس وقت جیلوں میں ہیں یہی وجہ ہے کہ حکومت سے ناراض اورمایوس لوگوں کو منظم کرنے والی کوئی قوت موجود نہیں۔اب یہاں ایک دوسرے خطرے کے بارے میں سوچئے کہ اگر مہنگائی، غربت اور بے روزگار ی اسی رفتار سے بڑھتی رہی اور لوگوں کو کوئی قیادت اور امید بھی نظر نہ آئی تو ماں باپ کی ادویات اور بچوں کی خوراک تک سے محروم غم و غصے سے بھرے مایوس لوگ کتنی بڑی تباہی لا سکتے ہیں اس کا انداہ لگانا چنداں مشکل نہیں۔ لہٰذا تبدیلی تو ناگزیر ہے مگر اس تبدیلی سے گھبرانے والے سوال کرتے ہیں کہ کیا مقتدر حلقے اپنے پیارے عمران خان کے سوا کسی دوسرے کو برداشت کر لیں گے تو اس کا جواب بھی تاریخ میں ہے کہ کیا ضیاءالحق کے مارشل لاءکے بعد بے نظیر اور مشرف کے مارشل لا کے بعد پہلے زرداری اور پھر نواز شریف کو برداشت نہیں کیا گیا تھا۔ اگر آپ 2020 میں انتخابات نہیں چاہتے تو آپ کے پاس اکتوبر سے اگلے برس جون تک نو ماہ موجود ہیں، نو ماہ میں ڈیلیور کیجئے۔ موجودہ حکمرانوں کی ایک برس کی کارکردگی دیکھتے ہوئے ناممکن لگ رہاہے کہ یہ ملکی معیشت کو پر لگا دیں۔ دوسرا طریقہ یہی ہے کہ نواز شریف اور آصف زرداری کی سپورٹ کے ساتھ ایک قومی حکومت بنا لیجئے جس کی کامیابی کے امکانات ففٹی ففٹی ہیں مگر یہ سو فیصد یقینی ہے کہ اگلے بجٹ کے بعد بھی اگر یہی حکمران رہے تو انہیں گھروں سے باہر نکلتے ہوئے شناخت چھپانے کے لئے برقعے پہننے ہوں گے یا سڑکوں ، چوکوں ، چوراہوں پرخود غیض و غضب سے بھرے عوام سے بچانے کے لئے بکتر بند گاڑیاں استعمال کرنا ہوں گی۔ تیسرا اور آخری طریقہ یہی ہے کہ اگلے برس فئیر اینڈ فری عام انتخابات کروا دیجئے اور اس قوم کو اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنے دیجئے۔ یہ طریقہ پوری دنیا میں کارگر سمجھاجاتا ہے۔


ای پیپر