پنجاب پولیس سازشوں کی زد میں!
12 ستمبر 2019 2019-09-12

ہم شاید فطری طورپر ہی ایسے ہیں اور ظاہر ہے فطرت کسی صورت میں تبدیل نہیں ہوتی، ہم کمزور کے پیچھے لٹھ لے کر پڑ جاتے ہیں، ایک شخص کسی گرے ہوئے شخص پر پتھر برسا رہا ہو دس لوگ بغیر یہ جانے اُس پر پتھر برسانا شروع کردیں گے کہ اس گرے ہوئے شخص کا جرم یا قصور کیا ہے؟ پنجاب پولیس کے ساتھ بھی اِن دنوں یہی کچھ ہو رہا ہے، پولیس تشدد کے دوچار واقعات کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والوں کے حق میں اتنا شور اُٹھا پوری پنجاب پولیس اس کی زد میں آگئی، جس شخص کا پولیس سے کبھی کوئی واسطہ نہیں پڑا وہ بھی پولیس کے خلاف بولنے کے عمل کو باقاعدہ ”کارثواب“ سمجھ رہا ہے، ایک جاننے والے نے اپنی فیس بک وال پر پولیس کو بہت غلیظ الفاظ سے یاد کیا، میں نے فون پر اُن سے پوچھا ” آپ کو محکمہ پولیس کی جانب سے کبھی کوئی نقصان پہنچا؟ یا پولیس نے کبھی آپ کے ساتھ کوئی زیادتی کی ؟ فرمانے لگے ” نہیں ایسا کوئی واقعہ نہیں ہوا“ .... میں نے عرض کیا ”پھر آپ نے اپنی وال پر پولیس کے خلاف اتنا زہر کیوں اُگلا؟ کہنے لگے ” سارے ہی اُگل رہے تھے میں نے سوچا میں بھی اپنا حصہ ڈال دُوں“.... اِسی طرح اگلے روز میں دیکھ رہا تھا پولیس تشدد کے نتیجے میں جاں بحق یا زخمی ہونے والوں کے حق میں اپنی فیس بک وال پر ایک ایسے شخص نے پولیس کو گالی دی ہوئی تھی جو خیر سے خود چار افراد کا قاتل ہے اور کچھ روز پہلے ہی ”شک کے فائدے“ میں ” باعزت بری“ ہوا ہے، ....پاکستان میں کون سا شعبہ ایسا ہے جس میں کالی بھیڑیں نہیں؟ بلکہ ”بھیڑوںکا تو ایسے نام ہی بدنام ہے، وہ بے چاری تو بڑی معصوم سی جانور ہوتی ہیں، اصل میں ہمیں ”کالے بھیڑیے“ کہنا چاہیے۔ سب سے بڑا ” کالا بھیڑیا “ میں خود ہوں۔ کوئی انتہائی دیانتدار اور نیک نیت پولیس یا سول افسر میری مرضی اور مفاد کے مطابق میرا غلط کام نہ کرے مجھے اُس وقت تک سکون نہیں ملتا جب تک میں اپنے کالم میں دنیا بھر کے غلیظ الزامات اُس پر نہ لگادوں، سچ پوچھیں کبھی کبھی مجھے محسوس ہوتا ہے میڈیا خصوصاً سوشل میڈیا نے پولیس کے خلاف اِن دنوں جو مہم شروع کی ہوئی ہے اُس کی وجہ کہیں یہ نہ ہو کہ ہمارے کچھ صحافی دوستوں کے پولیس نے ناجائز کام کرنے بند کردیئے ہوں؟ البتہ فوج اور عدلیہ واحد ادارے ہیں جن میں موجود کالی بھیڑوں یا کالے بھیڑیوں کے خلاف کچھ لکھتے یا کہتے ہوئے میں ہزار بار سوچتا ہوں کیونکہ میں اُن کی طاقت سے اچھی طرح واقف ہوں۔ میں جانتا ہوں میں نے اُن کے خلاف کچھ لکھا یا کچھ کہا تو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے غائب کردیا جاﺅں گا، یا ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جیل میں ڈال دیا جاﺅں گا ۔سو اُن کے خلاف لکھتے ہوئے میرا قلم تھر تھر کانپتا ہے، میں تو کینٹ میں لگے ہوئے فوج کے ناکوں سے بھی ”بھیگی بلی“ بن کر گزرتا ہوں جبکہ پولیس ناکوں سے گزرتے ہوئے میں دوبارہ شیربن جاتا ہوں ، ہماری پولیس یا پولیس افسروں کا کسی کو کوئی ڈرخوف ہی نہیں رہا، پولیس کو بطور ایک ادارہ تباہ کرنے میں صرف ہمارے سیاسی واصلی حکمرانوں نے ہی اہم کردار ادا نہیں کیا، خود پولیس بھی اس معاملے میں پیچھے نہیں رہی، پولیس کے بڑے بڑے افسران محض اپنے چھوٹے چھوٹے مفادات کے لیے، خصوصاً اپنی اپنی سیٹیں بچانے کے لیے سیاسی واصلی حکمرانوں کا پالتو تک بننے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے، یہ بات میں ایسے نہیں کہہ رہا، چند برس قبل میری موجودگی میں ایک حکمران اعلیٰ نے ایک پولیس افسر سے کہا ”تم ہروقت چیختے رہتے ہو“ جواباً پولیس افسرنے فرمایا ”سر ہم آپ کے وفادار جو ہوئے“ ....صرف دوروز بعد اُس پولیس افسر کو ایک رینج میں بطور آرپی او تعینات کردیا گیا تھا، ایسے پولیس افسروں کی وجہ سے پولیس بطور ایک ادارہ تباہی کے اُس مقام پر پہنچ گیا جہاں سے واپسی اب ناممکن دیکھائی دیتی ہے۔ مجھے تو لگتا ہے ہمارے شاعر منیر نیازی نے پنجابی کی یہ نظم ایسے پولیس افسروں کے لیے ہی لکھی تھی ” کجھ انج وی راہواں اوکھیاں سن.... کجھ گل وچ غم داطوق وی سی .... کجھ شہر دے لوک وی ظالم سن .... کچھ ساہنوں مرن دا شوق وی سی “ .... یہ سب باتیں اپنی جگہ درست ہیں، مگر میں رونایہ رو رہا ہوں اس ملک میں کون سا ادارہ ہے جو اپنے فرائض انتہائی نیک نیتی سے، صرف اور صرف

قومی مفاد میں ادا کررہا ہو؟۔ پولیس کا قصور صرف یہ ہے وہ ”ایزی ٹارگٹ“ ہے، ایک عوام اسے اپنی جائز ناجائز تنقید کا نشانہ بناتے رہتے ہیں اُوپر سے سی ایس پی کلاس، پی ایس پی کلاس کے خلاف ہمیشہ سازشیں کرتی آئی ہے، سچ پوچھیں مجھے تو پولیس کے خلاف چلائی جانے والی حالیہ کمپین بھی سی ایس پی کلاس ہی کی ایک سازش معلوم ہوتی ہے جس کا مقصد یہ ہے پولیس کو اتنا گندہ کردیا جائے کہ حکمران اُسے ایک بار پھر ”انتظامیہ“ کے ”سپرد خاک“ کرنے پر مجبور ہو جائیں ، ہمارے کچھ انتظامی افسروں نے ہر شعبے ہر محکمے میں جتنا گند آج تک ڈالا ہے وہ پولیس افسروں کے ڈالے ہوئے گند سے زیادہ ہی ہوگا، اللہ جانے میڈیا خصوصاً سوشل میڈیا کو یہ گند دیکھائی کیوں نہیں دیتا؟۔ فرق صرف اتنا ہے پولیس لوگوں کو یا ملزموں کو تشدد کرکے مار دیتی ہے اور انتظامی افسران لوگوں کو چکر دے دے کر ماردیتے ہیں، ایسے ہی تو کسی نے نہیں کہا ”زمین کا انتقال کرواتے کرواتے بندے کا اپنا انتقال ہو جاتا ہے“ ....ابھی شریف برادران کو کرپشن کیسز کا سامنا ہے، اُن کی کرپشن میں اُن کا ساتھ دینے والے جن افسران کو گرفتار کیا گیا ان میں کوئی پولیس افسر شامل نہیں، احد چیمہ اور فواد حسن فواد کون ہیں؟، میں سمجھتا ہوں اگر پولیس افسران بھی ڈی ایم جی افسران کے خلاف ویسی ہی سازشیں شروع کردیں جیسی سازشیں اور شرارتیں کچھ ڈی ایم جی افسران، پولیس افسران کے خلاف کرتے ہیں تو سول محکموں پر پڑے ہوئے بہت سے پردے چاک ہونے لگیں گے ،.... میں ہرگز، ہرگز یہ نہیں کہنا چاہتا ”ساری کی ساری پولیس فرشتوں سے بھری ہوئی ہے“، میں صرف یہ عرض کرنا چاہتا ہوں ہر شعبہ ہر ادارہ ہی خرابیوں اور بُرائیوں سے لبالب بھرا ہوا ہے، انفرادی طورپر کوئی اُسے ٹھیک کرنے کی کوشش بھی کرتا ہے تو اُس کی راہ میں اتنی رکاوٹیں آتی ہیں یا وہ فوت ہو جاتا ہے یا ویسے ہی تھک ہار کر بیٹھ جاتا ہے، .... فرق یہ ہے ہم سب کو صرف دوسروں کی خرابیاں اور خامیاں ہی نظر آتی ہیں، اور اپنی خرابیاں بھی ”خوبیاں“ نظر آتی ہیں، میں خود پولیس کا بہت بڑا نقاد ہوں، ایک سابق آئی جی سمیت پولیس کے بے شمار بدنیت، بدتمیز اور بددیانت افسروں کے خلاف بہت کچھ لکھ چکا ہوں، مگر پچھلے کچھ دنوں سے اجتماعی طورپر پنجاب پولیس کو جس انداز میں گندہ کیا جارہا ہے وہ باقاعدہ ایک پلاننگ ہے ایک سازش ہے!!


ای پیپر