آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے
12 ستمبر 2018 2018-09-12

بیگم کلثوام نواز اپنے پیچھے پاکستان میں آمریتوں کا پامردی کے ساتھ مقابلہ کرنے اور ان کے سامنے ڈٹ جانے کی تاریخ پر انمٹ نقوش چھوڑ گئی ہیں۔۔۔ لاہور کے پہلوانوں کے گھرانے میں جنم لینے اور ایک ممتاز صنعتی خاندان کے اندر بیاہی جانے والی اس خاتون نے مدمقابل کے سامنے ڈٹ جانے کی صفت شاید اپنے ننہال سے وراثت میں پائی تھی۔۔۔ پہلے کالج کے اندر سائنس کی طالبہ تھیں۔۔۔ پھر ان کا ذوق مطالعہ نوجوان خاتون کو اردو ادب میں ایم اے کا امتحان پاس کرنے کی جانب لے گیا۔۔۔ ادب و شاعری کے ساتھ شغف نے ان کی شخصیت میں خاص نکھار پیدا کیا۔۔۔ معیاری کتب کے مطالعے نے ذہن کو جلا بخشی اور قلم و قرطاس کے ساتھ رشتہ قائم کیا۔۔۔ بھولی بھالی شکل والے خوبرو اور محنت شاقہ سے ممتاز صنعتکار کے مقام تک پہنچنے والے میاں محمد شریف کے بیٹے نواز کے ساتھ شادی ہوئی تو معلوم ہوا سسرالیوں کے اندر بھی نامساعد حالات کا مقابلہ کرتے ہوئے تمام رکاوٹوں کو دور کر کے اور آگے نکل جانے کا فولادی عزم اور جذبہ پایا جاتا ہے۔۔۔ سیاسی و جمہوری شعور انہوں نے شوہر کی سیاسی و حکومتی جدوجہد کے دوران ان کے شانہ بشانہ کھڑا رہنے کے دوران حاصل کیا تھا۔۔۔ 2007ء میں لندن میں منعقد ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس کے موقع پر میری مرحومہ اور مریم نواز کے ساتھ بھی ان کے فلیٹ پر تفصیلی ملاقات ہوئی۔۔۔ اس سے قبل میں 2008ء میں ان کی ماڈل ٹاؤن والی رہائش گاہ پر ان دنوں مل چکا تھا جب ان کے شوہر اور منتخب وزیراعظم نواز شریف کو مشرف کے فوجی شب خون کے بعد جیل میں ڈال دیا گیا تھا۔۔۔ تب بیگم صاحبہ ایک بپھری ہوئی شیرنی کی مانند میدان میں نکل آئی تھیں۔۔۔ مشرف آمریت کو للکارا اور پھر محاصرے والوں کی آنکھوں میں جھول ڈالتی ہوئی گھر سے باہر آ کر اور خود کو دس سے زائد گھنٹوں تک کار کے اندر مقفل کر کے چوتھے فوجی ڈکٹیٹر کی تمام تر حکومتی اور استبدادی مشینری کے لیے اتنا بڑا چیلنج پیدا کر دیا کہ عالمی سطح کی خبر بن گئی۔۔۔ جی ایچ کیو میں بیٹھا اور ناجائز طور پر حکمران بنا مشرف اور اس کے مردان کار اس اولی العزم خاتون خانہ کے پایہ استقلال کے آگے ششدر ہو کر رہ گئے تھے۔۔۔ ان کا اقتدار ہلتا ہوا محسوس ہونے لگا تھا۔۔۔ مشرف کو نواز شریف سے زیادہ کلثوم نواز کو بیرون ملک بھجوا دینے کی فکر لاحق ہو گئی ۔۔۔ لندن والی ملاقات کے دوران میں نے مرحومہ سے پوچھا وہ جذبہ وہ ہمت اور اپنی ذات پر اس قدر اعتماد کہاں سے آیا ۔۔۔ کیا آپ میدان کارزار میں محض اپنے شوہر کو رہا کرانے کی خاطر مردانہ وار نکل آئی تھیں خاص طور پر ایسے ماحول میں جب آمریت کا سورج پوری تپش دکھا رہا تھا اور آپ کی پارٹی کی صف اول کے کچھ رہنما بھی اس کے آگے پگھلے جا رہے تھے۔۔۔ وہ بولیں اگر محض نواز صاحب کو جیل سے آزاد کرانا مقصود ہوتا تو یہ آپشن شروع دن سے موجود تھا۔۔۔ جب وزیراعظم کو گرفتار کرنے والے جرنیل اور اس کے ساتھیوں نے ان کے سامنے ٹائپ شدہ کاغذ کا ایک ٹکڑا رکھا۔۔۔ کہا اس پر دستخط کر دیجیے تا کہ اسمبلیوں کی تحلیل کا نوٹیفکیشن جاری ہو جائے۔۔۔ آپ کو کچھ نہیں کہا جائے گا۔۔۔ لیکن میرے شوہر نے اسی وقت جب ان کے سامنے فوجی بندوقیں تانے کھڑے تھے جواب دیا Over my dead body۔۔۔ ہم نے تو پہلی وزارت عظمیٰ کے دوران آمریت کی حامی قوتوں کا اصل روپ دیکھ لیا تھا۔۔۔ طے کر لیا تھا اقتدار کے اندر یا باہر رہ کر ہر حالت میں ان کا مقابلہ کریں گے اور پاکستانی قوم و ملک کو قائداعظمؒ کے اصل تصور جمہوریت سے روشناس کرائیں گے۔۔۔
لندن کی اسی ملاقات کے دوران بیگم کلثوم نواز نے بتایا جب جنرل مشرف نے کارگل کی ناکام مہم جوئی کی۔۔۔ دنیا بھر میں ملک اور فوج کو بدنام کر دیا۔۔۔ بھارتی ایئر فورس کی کارپٹ بم باری کی وجہ سے اپنے اتنے فوجی جاں بحق کرا لیے کہ تعداد ان کی 65ء اور 71ء کی جنگوں کے شہیدوں کو ملا کر بھی زیادہ تھی۔۔۔ میں نے اس موقع پر نوا زشریف صاحب کو مشورہ دیا اس خطرناک مہم جو کو بلاکسی تاخیر کے برطرف کر کے کورٹ مارشل کرائیں ورنہ یہ اپنی ناکامیوں کا بدلہ آپ اور جمہوریت دونوں سے لینے سے باز نہیں آئے گا۔۔۔ نواز نے فوج کا بھرم اور وقار رکھنے کی خاطر فوراً کچھ نہ کیا۔۔۔ بعد میں 12 اکتوبر کو جب قدم اٹھایا تو وقت گزر چکا تھا اور مشرف نے اپنی پیش بندی کر لی تھی۔۔۔ ہماری حکومت ختم ہو گئی مگر 
نقصان اس کا ملک اور اس کی سلامتی کو ہوا۔۔۔ دیکھ لیجیے نائن الیون کے موقع پر یہ کمانڈو امریکہ کے آگے کیسے بچھ بچھ گیا۔۔۔ دوران گفتگو مریم بی بی مسلسل اپنی والدہ کو لقمہ دیتی رہیں۔۔۔ نواز اور کلثوم کی جواں سال شادی شدہ بیٹی کو حالات واقعات کا مکمل ادراک تھا۔۔۔ وہ اپنی رائے بھی رکھتی تھیں۔۔۔ جس کے اظہار میں کمی نہ رہنے دیتی تھیں۔۔۔ بیگم صاحبہ مرحومہ کی باتوں سے معلوم ہوا وہ اپنے سسر میاں محمد شریف سے بہت متاثر تھیں۔۔۔ ان کے بارے میں بتایا کہ جب 1972ء میں ذوالفقار علی بھٹو نے ہمارے تمام کارخانے چھین لئے۔۔۔ مشرقی پاکستان کا کاروبار پہلے ہی ہاتھوں سے نکل چکا تھا۔۔۔ اب کچھ بھی نہ رہا۔۔۔ کاروباری ابتلاء کے اس نازک موقع پر بھی میاں شریف کے ماتھے پر شکن نہ آئی۔۔۔ اگلے روز اپنے بھائیوں اور بیٹوں سے کہا چلو دفتر کھولتے ہیں۔۔۔ دیکھتے ہیں کیا کرنا ہے۔۔۔ اللہ روزی دینے والا ہے۔۔۔ بڑے میاں صاحب سیاسی آزمائشوں کے دوران بھی آخری دم تک اپنے بیٹوں کے پیچھے کھڑے رہے۔۔۔ ان کا حوصلہ بڑھاتے رہے۔۔۔ حسین کے ساتھ خاص پیار تھا۔۔۔ ہر وقت اپنے ساتھ رکھتے تھے۔۔۔ کاروبار کی تربیت دی اور اس کے اندرنماز ، روزے اور تلاوت قرآن کے ذوق و شوق کی بھی آبیاری کی۔۔۔ اسی گفتگو کے دوران میں نے بیگم کلثوم کو بتایا 12 اکتوبر 1999 کا شب خون ہوا تو میں لاہور کے معروف جریدے ہفت روزہ زندگی کا ایگزیکٹو ایڈیٹر تھا۔۔۔ اسی رات میں نے اور میری اہلیہ نے نماز عشاء کے بعد مصلے پر بیٹھ کر اللہ تعالیٰ سے عہد کیا تھا کہ مارشل لاؤں نے پہلے ہمارے ملک کو بہت نقصان پہنچایا ہے ۔۔۔ پاکستان دولخت ہو گیا، فوج کو سرنڈر کرنا پڑا۔۔۔ تیسرے مارشل لاء کے دوران سیاچن کی چوٹیوں پر بھارت نے قبضہ کر لیا۔۔۔ اب جو چوتھا فوجی راج ہمارا مقدر بنا ہے تو مقدور بھر حد تک اس کی مخالفت کریں گے تا آنکہ آئین اپنی اصل شکل میں بحال ہو جائے۔۔۔ میں نے انہیں بتایا کہ پچھلے سات سالوں کے دوران میرا قلم لگاتار اس مقصد کے لیے وقف رہا ہے۔۔۔ انہوں نے کہا میرے علم میں ہے میاں صاحب بڑے شغف کے ساتھ آپ کی تحریریں پڑھتے ہیں۔۔۔ آپ کے کالم میری نظر سے بھی گزرتے ہیں۔۔۔ اسی لیے میں نے آپ کو خاص طور پر گھر آنے کی دعوت دی ہے۔۔۔ مریم بھی ملنا چاہتی تھی۔۔۔ یہ ملاقات گھنٹہ بھر جاری رہی۔۔۔ چند روز پہلے حسن نواز کے یہاں بیٹے کی ولادت ہوئی تھی۔۔۔ اس کی خوشی میں لڈو بھی کھلائے۔۔۔ مرحومہ کے ساتھ تیسری ملاقات جون 2013ء میں میاں نواز شریف کے تیسری مرتبہ وزارت عظمیٰ کے حلف لینے کے موقع پر ہوئی۔۔۔ 2015ء میں مریم کی بیٹی اور اپنی نواسی کی دعوت ولیمہ پر بلایا۔۔۔ میرا اور میری اہلیہ کا بڑے تپاک کے ساتھ استقبال کیا۔۔۔ اہلیہ کو سٹیج پر دلہن کے ساتھ بٹھایا ہمارا تحفہ وصول کر کے مسرت کا اظہار کیا۔۔۔ میاں صاحب کو بھی دکھایا۔۔۔ اس سے قبل اپریل 2008ء میں نوا زشریف صاحب میری بیٹی آمنہ کی شادی کی تقریب کے کوئی دس روز بعد مبارکباد کے لیے اچھرہ میں غریب خانہ پر تشریف لائے تھے۔۔۔ اپنی اور بیگم صاحبہ کی جانب سے تحفہ دے گئے تھے۔۔۔
مرحومہ کلثوم نواز نے اچھے اور برے دونوں وقتوں میں شوہر کا کھل کر ساتھ دیا۔۔۔ وہ وزیراعظم ہوتے تھے تو برابر مشورے دیتی تھیں۔۔۔ تقریریں لکھتی تھیں۔۔۔ ان کی نوک پلک درست کرتی تھیں۔۔۔ پورے وقار اور اعتماد کے ساتھ خاتون اول کے فرائض سر انجام دیتی تھیں۔۔۔ خاتون خانہ کی ذمہ داریاں بھی نبھاتی تھیں۔۔۔ سیاست کے فرنٹ پر نہ آتی تھیں۔۔۔ لیکن جب جب آزمائشوں کا موقع آیا۔۔۔ ابتلا نے آن گھیرا تو مرد میدان بن جاتی تھیں۔۔۔ سینہ سپر ہو جاتی تھیں۔۔۔ ملک کی جمہوری قوتوں کے اندر اعتماد اور سرشاری کی لہریں دوڑا دیتی تھیں۔۔۔ سیاست و حکومت کے بڑے بڑے سورماؤں کو حیران کر دیتی تھیں۔۔۔ 2000 ء میں گاڑی کے اندر بند ہو کر جس طرح مزاحمت دکھائی، اس نے مشرف آمریت کے قلعہ کی دیواروں میں دراڑیں پیدا کر دی تھیں۔۔۔ اب بھی کینسر کے موذی مرض کی بنا پر ان کا انتقال اس عالم میں ہوا ہے کہ جن الزامات اور مقدمات کی پاداش میں ان کے شوہر، بیٹی اور داماد جیل کی سلاخوں کے اندر بند ہیں، یعنی کرپشن اس کا ایک الزام تمام تر ریاستی اور عدالتی یا نیب کی احتسابی چھان بین کے باوجود ثابت نہیں ہو سکا۔۔۔ سیاسی محاذ آرائی کی موجودہ فضا ختم ہو جائے گی تو معلوم ہو جائے گا کہ کلثوم اور ان کے خاندان کو غیرجمہوری اور غیرآئینی لیکن طاقتور قوتوں نے کس بدترین انتقام کا نشانہ بنایا۔۔۔ پاکستان کی تاریخ میں قائداعظم کی ہمشیرہ محترمہ فاطمہ جناح پہلی خاتون تھیں جنہوں نے خود ساختہ فیلڈ مارشل ایوب خان کی آمریت کو للکارا۔۔۔ 1964ء کے صدارتی انتخاب میں اس کے مقابلے پر آن کھڑی ہوئیں۔۔۔ مشرقی اور مغربی پاکستان کے اندر مقابلے کا نیا جذبہ اور تحرک پیدا کیا۔۔۔ مشرقی پاکستان میں تو انتخاب بھی جیت لیا تھا۔۔۔ کراچی جیسے سب سے بڑی آبادی والے شہر میں بھی بی ڈی ممبران کی اکثریت نے ان کے حق میں ووٹ ڈالے تھے۔۔۔ کامیاب ہوا چاہتی تھیں کہ خاکی اور سول بیورو کریسی نے ہاتھ دکھایا۔۔۔ایوب خان کی کامیابی کا اعلان کر دیا گیا۔۔۔ مگر مادر ملت کی آمریت کے خلاف شاندار جدوجہد نے بظاہر اتنی مضبوط ڈکٹیٹر شپ کے درو دیوار ہلا دیئے تھے۔۔۔ ایوب کو اپنا اقتدار مضبوط کرنے کی خاطر آپریشن جبرالٹر کا جوا کھیلنا پڑا۔۔۔ 65ء کی جنگ کا خطرہ مول لینا پڑا اس کے بعد یہ مسلسل لڑکھڑاتی رہی۔۔۔ تا آنکہ جنرل یحییٰ نے اگلا شب خون مارا۔۔۔ دوسری دو خواتین جو آمریت کے سامنے آن کھڑی ہوئیں وہ نصرت اور بینظیر بھٹو تھیں۔۔۔ ان ماں بیٹی نے جنرل ضیاء الحق کے مارشل لاء کو اس کے گیارہ سالہ دبدبے کے باوجود ایک دن چین اور سکھ کا سانس نہ لینے دیا۔۔۔ ان کے بعد کلثوم نواز نے باری سنبھالی ہے۔۔۔ تو وہ تاریخ رقم کر ڈالی کہ مزاحمت کے نئے اور ولولہ انگیز باب کا اضافہ ہوا۔۔۔ بستر مرگ پر بھی اس ہزیمت کا مظاہرہ کیا کہ ہماری جمہوری تاریخ کے اوراق روشن کر دیے۔۔۔ ان کے انتقال کی خبر نے پوری قوم کو سوگوار کر دیا ہے تو اس کی وجہ مرحومہ کا تین بار خاتون اول بننا نہیں بلکہ تین بار اقتدار چھن جانے پر پامردی اور استقامت کا مظاہرہ کرنا ہے۔۔۔ انہیں تادیر یاد رکھا جائے گا۔۔۔ انہوں نے پاکستان کی تاریخ اور سیاست میں اپنا مقام خود بنا دیا ہے۔۔۔ یہ مقام ہماری قوم کے طاق پر جمہوریت کے روشن چراغ کا ہے جو آنے والے ادوار میں روشنیاں بکھیرتا رہے گا۔۔۔ اگلی نسلوں کے لیے رہنما خطوط استوار کرتا رہے گا۔


ای پیپر