ساکھ ہی تو ہوتی ہے
12 ستمبر 2018 2018-09-12

دعوت،خالد چوہدری کی جانب سے آئی۔خالد چوہدری ایک شخصیت کے کئی روپ ہیں۔ گویا اپنی ذات میں انجمن۔دوست بھی برادر،بزرگ،محسن ومربی بھی۔سماجی خدمتگار،گویا سارے جہا ں کا درد انہی کے جگر میں ہے ۔ اسلام آباد چیمبر کی سیاست ان کا اوڑنا بچھوناہے۔جب سے وفاقی دار الحکومت کی صحافت میں بطور نو آموز ٹرینی صحافی کے طور پر قدم رکھا تب سے آج تک ان کو چیمبر کے الیکشن کیلئے ہلکان ہی دیکھا۔پہلے الیکشن جیتنے کیلئے سرگرداں۔گروپ جیت جائے تو پھر اس کی کامیابی،سرگرمیوں کی کوریج،اور تشہیرکیلئے چوبیس گھنٹے وقف۔ اسلام آباد میں کروڑ سے لیکر ارب پتی تاجر چیمبر کی سیاست میں آئے ہیں۔ خالد چوہدری نسبتاً درمیانے درجہ کے سفید پوش تاجر ہیں۔بچے ان کے ماشا اللہ صحافی بھی ہیں اور کاروباری بھی۔پہلے بھی عرض کیا کہ خالد چوہدری کے ساتھ کئی رشتے ناطے ہیں۔ انہوں نے کئی سال پہلے چیمبر اور پریس کلب کو باہمی تعاون کی مضبوط لڑی میں پرودیا۔ اب یہ تعاون دن بدن تو انا ہو رہا ہے ۔ دوسرا رشتہ یہ ہے کہ وہ خارجہ اور دفاعی امور کے بین الاقوامی تجزیہ گار،برادرم نوید اکبر کے سگے ماموں ہیں۔ نصف رات بیت چکی تھی جب جناب خالد چوہدری صاحب کا واٹس ایپ اور ایس ایم ایس بیک وقت موصول ہوئے۔خلق خدا اس وقت تک اپنی نصف نیند پوری کر چکی ہوتی ہے جب قلم کیمرہ کا مزدور لیٹ نائٹ شو ختم کر کے گھر واپس پہنچتا ہے ۔ سو فور ی طور پر جواب دینا مناسب نہ سمجھا۔اطلاع تھی منگل کی سہ پہر چیئر مین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے دفتر آئینگے۔ تاجروں سے ملاقات کرینگے اور خطاب بھی کرینگے۔ کوئی اور موقع ہوتا تو شائد دوسری دفعہ سوچنے کی زحمت بھی گوارا نہ کرتا۔لیکن یہ احباب دیرینہ کی دعوت تھی۔ چیمبر کے موجودہ چیئر مین شیخ عامر وحید سے دیرینہ تعلق خاطر ہے ۔ ابھی چند ماہ پہلے ہی تو چیمبر کے کھلاڑیوں کے ساتھ پریس کلب کی ٹیم نے کرکٹ میچ کھیلا تھا۔ سنسنی خیز میچ میں جیت تو پریس کلب کی ہوئی لیکن چیمبر کے کھلاڑیوں نے ثابت کیا کہ ان کو صرف ناپ تول ہی نہیں آتا بلکہ وہ میدان کے بھی دھنی ہیں۔ اور پھر وہ میچ کے دوران وقفے میں سرو کیا گیا ظہرانہ تھا جو ابھی نہیں بھولا۔نیب کے چیئر مین آجکل ذرا دباؤ میں ہیں۔ حال ہی میں انہوں نے غلطیوں پر غلطیاں کی ہیں۔ وضع دار میزبانوں نے تصدیق تو نہیں کی۔لیکن قرائن و آثار بتاتے ہیں کہ یہ وزٹ فرمائشی تھا۔ جناب چیئرمین کی خواہش ہو گی کہ وہ کسی سنجیدہ فورم پر جا کر اپنے کارہائے نمایاں بیان کریں۔ اس کیلئے چیمبر آف کامرس سے زیادہ 
مناسب مقام موقع و محل اور کیاہو سکتا تھا۔ جناب چیئر مین نیب کے پبلک ریلیشن ڈیپارٹمنٹ کے پاس یقینی طور پر ادارے کی کارکردگی سے متعلق اعداد و شمار کا انبار کیا ہو گا۔ بہت سے اعدا د و شمار درست بھی ہوں گے۔لیکن کسی بھی ادارے کی نیک نامی اور سا کھ کیلئے صرف کاغذوں پر لکھے ہوئے ہندسے،عبارتیں کافی نہیں ہوتیں۔ نیب کا مسئلہ یہ ہے کہ اسکی دوکان تو بہت اونچی لیکن میسر پکوان بے ذائقہ بھی ہیں اور خوش رنگ بھی نہیں۔ کوئی ایک خوبی تو ہو۔موجو دہ چیئر مین یقینی طور پر ماضی کی کوتاہیو ں کے ذمہ دار ہیں نہ ہی ان غلطیوں کا بوجھ ان کے کندھوں پررکھنا مناسب ہے ۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ نیب کی ساکھ اچھی نہیں۔ ماضی ہو یا حال نیب زدگان شاکی ہی رہے ہیں۔ کون نہیں جانتا کہ ماضی میں نیب کو سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کیا گیا۔کبھی کسی سیاسی مخالف کو دبانے کیلئے،کبھی کسی نیب زدہ کو جھکانے اور منظر عام پر لانے کیلئے۔کئی ایسے سیاست دان ہیں جو چند سال پہلے نیب کی تحویل سے نکلے اورسیدھے جا کر وزارت کا خلف اٹھا لیا۔ کئی موسمی سیاسی جماعتیں تو نیب کی سالخوردہ فائلوں کی گرد سے نکلیں۔نیب کے دائر کردہ مقدموں میں سے کئی تو ایسے ہیں جو دو عشرے گزرنے کے باوجود ابھی تک زیر التوا ہیں۔جن پر ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔ البتہ ایسا ضرور ہوتا ہے کہ بعض مواقع پر الیکشن کے دنوں میں نیب بہت متحرک ہو جاتا ہے ۔ پھر الیکشن گزرتے ہی اچانک پنکچر ہو جانے والی گاڑی کی مانند اس کی رفتار کم ہو جاتی ہے ۔ حالیہ الیکشن میں بھی ایسا ہی ہوا۔ درخواستوں کی بھر مار ہوتی ۔بڑے بڑے سیاسی لیڈر پیشیاں بھگتتے نظر آتے۔کئی کئی گھنٹے سوال و جواب ہوئے۔ ان میں کتنے ریفرنس کی سٹیج تک پہنچتے یہ تو ابھی معلوم نہیں۔ لیکن انتخابی ماحول پر اس کا اثر یقینی طور پر پڑا۔ نیب نے اگر چہ گونگلوؤں سے مٹی جھاڑنے کیلئے ایک وضاحتی بیان جاری کیا کہ نیب کو مطلوب کسی سیاسی امیدوار کو گرفتار نہیں کیا جائے گا۔ لیکن اس سے راولپنڈی کے مضبوط امیدوار قمر الاسلام نیب کے شکنجے میں جا چکے تھے۔ اس گرفتاری کا کوئی فائدہ چوہدری نثارکو نہ ہوا۔ دوران الیکشن ہی موجودہ وزیر اعظم عمران خان کو ہیلی کاپٹر کیس میں نیب کے سامنے تفتیش کیلئے جانا پڑا۔تفتیش میں کیا پوچھا گیا،کیا سامنے آیا،وہ معاملہ کتنا آگے بڑھا،داخل دفتر ہو گیا یا پراسس میں ہے کسی کو معلوم نہیں۔ موجودہ وزیر دفاع پرویز خٹک اور کئی اہم قائدین نیب کے زیر تفتیش ہیں۔ بعض پر تو ریفرنس بھی فائر کیے جا چکے ہیں۔ اس سے قبل چیئر مین نیب منی لانڈرنگ کے ایک بے سروپا معاملہ پر نواز شریف کے خلاف انکوائری کا فیصلہ کر کے اپنی جگ ہنسائی کر چکے ہیں۔ بابراعوان کل تک آصف زداری کی ناک کے بال تھے۔ آج کل وہ وزیر اعظم عمران خان کے مقرب خاص ہیں۔ نیب کی انکوائری چلی نندی پورکے معاملے پر۔آخر کار بابر اعوان بھی اس کی لپیٹ میں آ گئے۔سیاسی بیان تو یہی ہے کہ وہ اس انکوائری کا سامنا کرینگے۔لیکن شنید ہے کہ ان کے حامی و کلاء4 نیب کیخلاف منظم ہو رہے ہیں۔
چیئر مین نیب نے تاجروں کیساتھ دل کھول کر گفتگو کی۔ میزبانوں نے خاکسار کوبھی نمایاں مقام پر نشست دی۔ ان کا شکریہ۔ پوچھنے کیلئے کوئی سوال نہ تھا موقع پر موجود رپورٹروں نے خوب سوال جواب کیے۔ جس کے جواب بھی ٹو دی پوائنٹ تھے۔تاجروں سے خطاب میں بھی کارکردگی بھر پور بیان کی گئی۔ نیب کے پاس 40 ہزار کے قریب شکایات موجود ہیں سینکڑوں انکوائری اور تفتیش کے مراحلہ پر ہیں۔ 2.97دو اعشاریہ ستانویں ملین روپے کی برامدگی بھی کریڈٹ پر ہے ۔ جو قابل تحسین ہے ۔ لیکن کاش جناب چیئر مین وزیر اعظم عمران خان کیساتھ ملاقات نہ کرتے۔ ذرا بھرم ہی رہ جاتا۔ آخر کار نیب خودمختار ادارہ ہے ۔ کیا ہوا جو اس کے اوپر ایک ٹاسک فورس بن چکی ہے ۔ بات کارکردگی کی نہیں بھرم اور ساکھ کی ہوتی ہے ۔ یہ دونوں نہیں تو کچھ بھی نہیں۔


ای پیپر