سرد مہری کا شکار پاک امریکہ تعلقات
12 ستمبر 2018 2018-09-12

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو اپنا چند گھنٹے پر محیط دورہ پاکستان مکمل کر کے بھارت پہنچے جہاں انہوں نے تین دن گزارے انہوں نے اسلام آباد میں اپنے پاکستانی ہم منصب شاہ محمودسقریشی کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس بھی نہ کی۔ البتہ بھارت میں انہوں نے امریکہ کے روایتی موقف کو دہرایا اور پاکستان سے دہشت گرد گروپوں کے خلاف مزید اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا۔
پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اس دورے کے حوالے سے جو پریس کانفرنس کی اس میں انہوں نے اپنے مخصوص انداز میں یہ بھر پور تاثر دینے کی کوشش کی کہ جیسے پاک امریکہ تعلقات میں موجود سرد مہری ختم ہونے کو ہے اور تعلقات کا ایک نیا دور شروع ہوا چاہتا ہے۔ ان کی گفتگو سے یہ تاثر بھی ابھرا کہ جیسے امریکہ پاکستان اور بھارت کے درمیان مشرقی سرحد اور لائن آف کنٹرول پر موجود تناؤ کو کم کرنے کے لیے بھی کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔ شاہ محمود قریشی کی پریس کانفرنس کا سب سے دلچسپ پہلو یہ تھا کہ انہوں نے اپنی گفتگو میں سے شروع کی اور میں پرہی ختم کی۔ انہوں نے پوری کوشش کی کہ وہ اس دورے کو کامیاب قرار دیں اور اسے پاک امریکہ تعلقات میں ایک نیا موڑ اور آغاز قرار دیں۔ حالانکہ وہ اچھی طرح سے جانتی ہیں کہ ان تعلقات میں سنجیدہ نوعیت کے مسائل موجود ہیں اور سرد مہری بر قرار ہے۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات مشکلات کا شکار ہیں۔ امریکہ اپنے ڈومور کے موقف پر قائم ہے اور مختلف امریکی عہدیدار وقتاً اس موقف کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ جب امریکی صدر ٹرمپ اس موضوع پر گفتگو کرتے ہیں تو غیر سفارتی زبان استعمال کرتے ہیں اور سفارتی آداب کا زیادہ خیال نہیں رکھتے۔ جبکہ امریکی وزیر خارجہ اسی امریکی موقف کو زیادہ سفارتی انداز اور رکھ رکھاؤ سے پیش کرتے ہیں۔ ان کا لب و لہجہ زیادہ مہذب اور شائستہ ہوتا ہے مگر اس سے یہ تاثر نہیں لیا جانا چاہیے کہ امریکی موقف میں کوئی لچک یا تبدیلی واقع ہو گئی ہے۔ یہ بھی سچ ہے کہ امریکہ اور پاکستان کے درمیان ایک دوسرے کے حوالے سے عدم اعتماد موجود ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان جو کہ جنگ کے عہد میں ایک دوسرے کے قابل اعتماد اتحادی اور دوست تھے اب تعلقات کی نوعیت تبدیل ہو چکی ہے۔ اس خطے میں امریکی مفادات تبدیل ہو چکے ہیں۔ ایشیاء میں غلبے اور بالادستی کی کشمکش اور کوشش اب ڈھکی چھپی نہیں رہیں۔ امریکہ اور چین کے درمیان صرف تجارتی جنگ ہی شروع نہیں ہوئی بلکہ اس خطے پر اپنی بالادستی اور غلبے کی کشمکش بھی کھل کر سامنے آ چکی ہے۔ امریکہ چین کو اپنے مفادات کے لیے ایک سنجیدہ خطرہ اور رکاوٹ گردانتا ہے۔ چین کے اثرورسوخ کو محدود کرنا اور ایشیاء میں اس کے بڑھتے ہوئے عمل دخل کو روکنا امریکی چالیسی کا اہم ترین جزو ہے۔ اس تناظر میں امریکہ کے لیے بھارت کی اہمیت اور ضرورت بڑھتی جا رہی ہے ۔ بھارت خود بھی ایشیاء میں اپنے اثرورسوخ میں اضافے کا خواہاں ہے اور جنوبی ایشیاء پر اپنی بالادستی اور غلبے کو قائم کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ چین کے معاملے پر انڈیا اور امریکہ کے مفادات اور تحفظات یکساں نوعیت کے ہیں۔ جس طرح سرد جنگ کے دوران سودیت یونین کے خلاف امریکہ اور پاکستان مشترکہ مفادات اور خطرات رکھتے تھے۔ اس وقت کی صورت حال نے دونوں ممالک کو قریب لانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ 
آج کی دنیا سرد جنگ کے زمانے کی دنیا سے مختلف ہے۔ عالمگیریت ( گلوبلائزیشن) کی وجہ سے عالمی تجارت اور معیشت بہت زیادہ جڑی ہوئی ہیں۔ مختلف ممالک کا ایک دوسرے پر انحصار پہلے سے بڑھ گیا ہے۔ سرد جنگ کے زمانے میں دنیا دو واضح بلاکوں میں بٹی ہوئی تھی۔ دوست اور دشمن کی تفریق بہت واضح تھی مگر اب ایسا نہیں ہے۔ عالمی تعلقات پہلے سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہو گئے ہیں۔ دونوں ممالک کئی مرتبہ اعلیٰ سطح پر اپنے تحفظات اور تشویش کا ایک دوسرے سے اظہار کر چکے ہیں مگر مسئلہ حل ہونے کی بجائے مزید بحرانی کیفیت اختیار کر گیا۔ اس سے یہ تو ظاہر ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان عدم اعتماد نہ صرف موجود ہے بلکہ کافی گہرا بھی ہے۔اس عدم اعتماد اور شک کے ہوتے ہوئے میز پر بیٹھ کر باہمی بات چیت کے ذریعے معاملات میں بہتری کا امکان بہت کم ہے۔
جب تک دونوں ممالک ایک دوسرے کے تحفظات اور تشویش کو عملی طور پر دور نہیں کرتے اس وقت تک سفارتی کشیدگی اور تعلقات میں یہ خرابی موجود رہے گی۔ تعلقات میں خرابی ایک ٹویٹ یا چند دنوں اور مہینوں میں پیدا نہیں ہوئی بلکہ کئی سالوں کے تجربات کا نتیجہ ہے۔ جب تک باہمی مفادات کا ٹکراؤ جاری رہے گا تب تک تعلقات کے بہتر ہونے کے امکانات بہت کم ہیں۔
پاکستان اور امریکہ کے درمیان دوستی اور قریبی تعلقات کی دو بڑی وجوہات تھیں۔ ایک تو دونوں ترقی پسندی، سوشلزم کے نظریات اور سودیت یونین کی خطے میں بڑھتی ہوئی طاقت سے خائف تھے۔ دوسرا پاکستان کو ہندوستانی بالادستی اور غلبے کے خلاف امیریکی مدد درکار تھی۔ جبکہ امریکہ کو بھی سودیت یونین کے خلاف اس خطے میں اتحادی چاہیے تھا لہٰذا دونوں کے درمیان دوستی ہو گئی جو کہ ظاہر ہے کہ باہمی مفادات کے تحت تھی۔ سودیت یونین کے الزام کے بعد مفادات تبدیل ہو گئے۔ آج امریکہ کے لیے بھارت کی وہی اہمیت ہے جو کبھی سودیت یونین کے خلاف سرد جنگ کے دوران پاکستان کی تھی۔ امریکہ کو اس خطے میں اپنی بالا دستی اور غلبہ برقرار رکھنے کے لیے بھارت کی ضرورت ہے۔ جبکہ امریکہ افغانستان میں بھی طویل عرصے تک اپنی موجودگی بر قرار رکھنا چاہتا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ اس سارے معاملے میں پاکستان کا کیا کردار ہے؟
امریکہ آخرپاکستان سے کس قسم کے کردار کا تقاضا کر رہا ہے جو کہ تعلقات میں خرابی کا باعث بن رہا ہے۔ امریکہ در اصل یہ چاہتا ہے کہ پاکستان خطے میں اس کے اتحادی کا کردار ادا کرے مگر پہلے والی حیثیت سے نہیں بلکہ امریکہ اور بھارت کے جانیئر پارٹنر کے طور پر ۔ دوسرے لفظوں میں امریکہ یہ مطالبہ کر رہا ہے کہ پاکستان اس خطے میں بھارتی بالادستی اور غلبے کو قبول کر لے اور چین کے خلاف امیریکہ مفادات کے لیے کھڑا ہو جیسا کہ پاکستان سودیت یونین کے مفادات کے خلاف امریکہ کے ساتھ کھڑا ہو اتھا۔ اس معاملے میں امریکہ نے پاکستان کی حساسیت کو نظر انداز کیا یا اسے زیادہ اہمیت نہیں دی۔ پاکستانی فوج بھارتی بالادستی اور غلبے کے حوالے سے جو خیالات اور جزبات رکھتی ہے وہ امریکہ سے پوشیدہ، تو نہیں ہیں۔ یہ بات تو بہت واضح ہے کہ پاکستانی + مقتدد قوتیں کبھی بھی بھارتی بالادستی اور غلبے کو تسلیم کر کے اس کی جونیئر پارٹیز بننے پر تیار نہیں ہوں گی۔ ایسا کرنا کسی سیاسی جماعت کے لیے بھی ممکن نہیں ہے اور خاص طور پر کشیدگی کی موجودہ فضاء اور مودی سرکار کی جارحانہ پالیسیوں کی وجہ سے ایسا ممکن نہیں ہے۔
پاکستان کے لیے نہ تو یہ ممکن ہے کہ وہ چین کو چھوڑ کر امریکہ اور بھارت کے اتحاد میں شامل ہو جائے اور نہ ہی اس کے لیے بھارت کی بالادستی کو قبول کرنا ممکن ہے۔ اسی طرح پھارتی موجودگی میں پاکستان کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ افغانستان کے حوالے سے اپنے مفادات سے دستبردار ہو جائے۔ مفادات سے میری مراد ہر گز ’’ گزوہراتی گرائی ‘‘ نہیں ہے۔ تذویراتی گہرائی کے خواب اور منصوبے تو 9/11 کے بعد چکنا چور ہو چکے۔
اس وقت مسئلہ یہ ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ افغانستان اور بھارت کے حوالے سے پاکستانی تحفظات کو سننے اور دور کرنے کے لیے تیار نہیں ہے ۔ ٹرمپ انتظامیہ کا اگردونوں ملک باہمی تعلقات کو کشیدگی سے بچانا چاہتے ہیں اور انہیں بہتر بنانے کے خواہاں ہیں تو دونوں کو اس حقیقت کا سامنا پڑے گا کہ ان کے درمیان افغانستان کی حکمت عملی کے حوالے سے سنجیدہ نوعیت کے اختلافات موجود ہیں۔ اگر امریکہ کو یقین ہے کہ پاکستان حقانی نیٹ ورک اور دیگر افغان طالبان گروپوں کو مدد فراہم کر رہا ہے تو دوسری طرف پاکستان کو بھی اس بات پر پورا یقین ہے کہ بھارت افغانستان کے ذریعے پاکستان میں عدم استحکام پھیلانے کی کوشش کر رہا ہے اور اس مقصد کے لیے وہ بلوچ علیحدگی پسندوں اور پاکستانی طالبان گروپوں کو استعمال کر رہا ہے۔ اگر حقانی نیٹ ورک اور افغان طالبان کی موجودگی امریکی مفادات کے لیے خطرہ ہے تو اسی طرح بھارت کی موجودگی پاکستانی مفادات کے لیے خطرہ ہے یہ موجودگی اور بڑھتا ہوا کردار پاکستان کے لیے باعث تشویش ہے۔


ای پیپر