یہ ڈیم ہماری لائف لائن ہے
12 ستمبر 2018 2018-09-12

قومی طرز اخراجات میں بچت، سادگی، بدعنوانی کا خاتمہ اور لوٹی ہوئی قومی دولت کی واپسی کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے ایجنڈے کا سب سے اہم نقطہ جس کا طوفانی انداز میں آغاز کیا جا چکا ہے وہ اس وقت دیا مر بھاشا ڈیم کی تعمیر کا پروگرام ہے جس کے لیے حکومت نے بیرونی قرضہ لیے بغیر قومی سطح پر بچتوں کو چندے کی مدد سے مکمل کرنے کا پلان دیا ہے ۔ اس اعلان کے ساتھ ہی انڈیا والوں کی نیندیں حرام ہو چکی ہیں کیونکہ پاکستان کو بھوکا پیاسا مارنے کی دھمکی دینے والے نریندر مودی کو خطرہ ہے کہ کہیں سچ مچ ہی عمران خان جو کہہ رہا ہے وہ کر نہ دکھائے۔ 
اس منصوبے کے لیے مالیاتی Feasibility پر بات کرنے سے پہلے اس کا پس منظر اور کچھ ٹیکنیکل حقائق کا ذکر کرنا مناب ہو گا۔ بہت کم لوگوں کو یاد ہو گا کہ اس منصوبہ کا اعلان سب سے پہلی بار ایک ایسی شخصیت نے کیا تھا جسے اس وقت پاکستان میں غداری کے مقدمات کا سامنا ہے جس کی وجہ سے وہ خود ساختہ جلا وطنی اختیار کیے ہوئے ہے ۔ جی ہاں یہ سابق صدر جنرل پرویز مشرف ہیں جنہوں نے 17 جنوری 2006ء کو اس منصوبے کا باقاعدہ اعلان کیا تھا یہ دریائے سندھ کے اوپر بنایا جائے گا جس کا محل وقوع طے یوں ہے کہ یہ تربیلا ڈیم سے 315 کلومیٹر پیچھے (up stream) اور گلگت سے 165 کلو میٹر آگے (down Stream) چلاس سے تقریباً 40 کلو میٹر دیامر کے مقام پر ہے اس ڈیم کی مجوزہ اونچائی 7,500,000 مکعب ایکڑ فٹ ہو گی جس کے spillways 9 ہوں گے جس میں ہر ایک کا سائز 16.5 میٹر ہے ۔ یہ دنیا کا سب سے بڑا roller compacted concrete dam ہو گا جو ساؤتھ ایشیا کا مہنگا ترین ڈیم ہے جس پر لاگت کا خرچہ 8.5 بلین ڈالر ہے ۔ اس کا رقبہ 200 مربع کلو میٹر پر پھیلا ہو گا جس سے 100 کلو میٹر کے ایریا میں شاہراہ قراقرم بھی متاثر ہو گی اور 35 ہزار کے قریب لوگ نقل مکانی پر مجبور ہوں گے تقریباً 20 ہزار کی افرادی قوت 8 سال تک کام کرکے اس کو پایۂ تکمیل تک پہنچائے گی سب سے بڑی خبر یہ ہے کہ اس منصوبے سے پاکستان کی 4500 میگاواٹ بجلی حاصل ہو گی اس وقت ہمارا بجلی کا شارٹ فال 5000 میگاواٹ ہے اور یہ شاٹ فال گرمی کے موسم کا ہے جب بجلی کی کھپت بہت زیادہ ہوتی ہے ۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ عوام اس وقت 10 روپے یونٹ کے حساب سے بل دیتے ہیں۔ ڈیم سے حاصل ہونے والی بجلی کی پیداواری لاگت 2 روپے یونٹ ہو گی ہم اس وقت ڈیم نہ ہونے کی وجہ سے پٹرول سے بجلی بناتے ہیں جو 5 سے 6 گنا مہنگی ہے اور ہمارے قیمتی زرمبادلہ کا سب سے بڑا حصہ پٹرول کی در آمدات پر خرچ ہو جاتا ہے ۔
ان اعداد و شمار کے بعد شاید ہی کوئی محب وطن پاکستانی ہو گا جو اس منصوبے کی مخالفت کرے گا کیونکہ اسا کے ذریعے ملک میں لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ اور سستی بجلی کا حصول ممکن بنایا جا سکتا ہے ۔ اس منصوبے کی راہ میں بہت سی رکاوٹیں ہیں جن میں سب سے بڑی رکاوٹ یہ ہے کہ کوئی ملک یا ادارہ اس کے لیے ہمیں قرضہ دینے پر راضی نہیں ہے اور اگر کوئی دے گا بھی تو سود اور دیگر شرائط اس طرح کی ہوں گی کہ ہماری قومی خود مختاری اور وقار گروی رکھنا پڑیں گے۔ پاکستان کا ہر پیدا ہونے والا بچہ اس وقت ایک لاکھ 17 ہزار روپے کا مقروض ہے اور ہم اپنی آنے والی نسلوں کے لیے وسائل چھوڑنے کی بجائے ان کے لیے مزید قرضہ چھوڑ کر جا رہے ہیں گزشتہ کئی سال 
کی حکومتوں کا تسلسل اس حقیقت کا گواہ ہے کہ ہر آنے والی حکومت مزید قرضے لے کر قوم کو پہلے سے زیادہ مقروض کر کے چلی جاتی ہے ۔
یہ وہ پس منظر اور حالات ہیں جس کی بناء پر پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے وزیر اعظم عمران خان کی قیادت میں یہ فیصلہ کیا ہے کہ چونکہ کوئی ملک اس کے لیے ہمیں قرضہ نہیں دے گا لہٰذا قومی سطح پر چندا اکھٹا کر کے اس کے لیے فنڈز مہیہ کیے جائیں عمران خان نے چیف جسٹس فنڈ اور وزیر اعظم فنڈ کو یکجا کر کے اس مہم کا آغاز کر دیا ہے جس میں اطلاعات کے مطابق دو ارب روپے جمع ہو چکے ہیں امریکہ میں مقیم ایک پاکستانی مکینیکل انجینئر نے ایک ارب ڈالر ( 124 ارب روپے ) دینے کا اعلان کیا ہے ۔ عمران خان نے اپنی قوم سے خطاب میں اوورسیز پاکستانیوں کو ایک ہزار ڈالر فی کس پھیجنے کا کہا ہے ۔ اگر بیرون ملک مقیم ہر پاکستانی اتنی رقم بھیج دے تو مزید کسی چندے یا بیرونی قرضہ کی ضرورت ہی نہیں رہتی۔ تاریخی طور پر دیکھا جائے تو قیام پاکستان 20 ویں صدی کا بہت بڑا معجزہ تھا علامہ اقبال کے دو قومی نظریے کو () مخالفین نے دیوانے کا خواب کہا تھا۔ مگر دنیا نے دیکھا کہ قائد اعظم کی قیادت میں دنیا کے نقشے پر ایسی تبدیلی آئی جس کی دنیا میں آج تک مثال نہیں ملتی۔ پاکستان آج اسی طرح کی نازک صورت حال سے دوچار ہے جہاں اسے بقاء کی خاطر ڈیم بنانا پڑے گا پاکستان میں 1960 ء سے لے کر آج تک نیا ڈیم نہیں بن سکا جس کی وجہ سے ہمارے گزشتہ نصف صدی کی سیاسی قیادت کی کوتاہیاں ہیں جو قومی خیانت کے زمرے میں آتی ہیں۔ ہم ایٹمی طاقت ہونے کے باوجود قوموں کی صف میں اس لیے نا معتبر ہیں کیونکہ ہماری معیشت کا سارا نظام ہی قرضے پر چل رہا ہے ۔
چائنہ واحد ملک ہے جس نے کسی اور ملک کا کوئی قرضہ نہیں دینا اور آپ کو سن کر حیرت ہو گی کہ دنیا کی سپر پاور کہلانے والا امریکہ چائنا کا 1.7 ٹریلین ڈالر کا مقروض ہے ۔ اگر پاکستان نئے قرضے حاصل کیے بغیر ڈیم کے لیے فنڈز کا بندوبست کر لیتا ہے تو آنے والے وقت میں یہ کچھ ہی عرصے میں اپنے باقی قرضے اتار کر معاشی طور پر ایک آزاد ملک بن سکتا ہے ۔قوموں پر اچھے اور برے وقت آتے رہتے ہیں۔ تاریخ کے اس موڑ پر قدرت نے پاکستان کی باگ ڈور ایک ایسے شخص کا ہاتھ میں دیدی ہے جس پر آپ جتنی چاہے تنقید کریں لیکن اس کی حب الوطنی اور ایمانداری پر شک و شبہ سے بالا تر ہے یہی وجہ ہے کہ عوام الناس خصوصاً سمندر پار پاکستانی اس کے لیے چندہ اکھٹا کرنے اور اس مہم میں اس کے دست و بازو بننے کے لیے تیار ہیں۔ یہ پہلے ہو چکا ہے شوکت خانم کے نام پر سمندر پار پاکستانیوں نے اربوں روپے اس پراجیکٹ میں فنانس کیے ہیں اسی طرح NUML یونیورسٹی کے قیام میں بھی عمران خان کی آواز پر محب وطن پاکستانیوں نے اپنی بساط سے بڑھ کر رقوم جمع کروائیں۔عمران خان نے اوورسیز پاکستانیوں کو ایک ایک ہزار ڈالر فی کس کا مطالبہ کیا ہے حقیقت میں اگر وہ 5000 ڈالر بھی دیدیں تو یہ کام مکمل ہو سکتا ہے ۔ جو دو ارب روپے اب تک اکھٹے ہوئے ہیں اس کا 80 فیصد پاکستان کے اندر سے دیا گیا ہے ۔ پاکستان کے اندر مخیر حضرات کی کمی نہیں ہے ۔
البتہ اس منصوبے کی راہ میں اور طرح طرح کی رکاوٹیں آئیں گی خطے کے سیاسی حالات کے پیش نظر انڈیا کی طرف سے اس میں مداخلت کا خطرہ موجود ہے ۔ منصوبے کی سائٹ پر انڈیا اعتراض کر سکتا ہے اور اس معاملہ کو لے کر بین الاقوامی عدالت میں جا سکتاہے۔ اس سے قبل سی پیک منصوبے مین نریندر مودی نے یہ کہہ کر شمولیت سے ان نکار کیا تھا اور چائنا کے ساتھ احتجاج کیا تھا کہ سی پیک کشمیر کے جن علاقوں سے گزر رہا ہے وہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان متنازعہ ہیں۔ پاکستان کے امریکہ کے ساتھ تعلقات کی کشیدگی کے پیش نظر امریکہ اس معاملے میں ہوا بھر کر اس کو عالمی سطح پر ایک HYPE پیدا کر کے اس میں رختہ اندازی کر سکتا ہے ۔
دوسری بات یہ ہے کہ دیا مر بھاشا ڈیم کی ابتدائی منصوبہ بندی میں یہ فرض کر لیا گیا ہے کہ اس منصوبے کی مالیاتی فنانسنگ چائنا نے کرنی ہے جن کی بناء پر ابتدائی طور پر یہ تاخر دیا گیا تھا کہ اس کا ٹھیکہ چائنا کی کمپنیوں کو دیا جائے گا اور اس میں چینی انجینئرز کام کریں گے ۔ یہ ایک MYTH ہے جسکا حکومت کی طرف سے فوری طورپر رد کیا جاناچاہیے۔ اس منصوبے سے کما حقہ طورپر استفادہ کرنے کے لیے ناگزیر ہے کہ اس کے سارے ٹھیکے پاکستانی کمپنیوں کو دیے جائیں تاکہ ہمارے ملک کا پرائیویٹ سیکٹر مضبوط ہو اور پیسے کی گردش پاکستان کے طبقوں کے اندر ہو گی تو معیشت پر مثبت اثرات ہوں گے اس منصوبے میں Labour intensive پالیسی اختیار کی جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہوں اور ملک سے بے روزگاری کا خاتمہ ہو۔ پورے ملک سے نوجوان انجینئرز اور ٹیکنیشنز اور ہنر مند لیبر کو اس منصوبے میں انٹرن شپ دی جائے جو منصوبے اور ملازمین دونوں کے لیے فائدہ مند ہو گی۔ ملک میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری کو دور کرنے کے لیے اس میں volunteers بھرتی کیے جائیں جن کو تنخواہ کی بجائے اعزازیہ دیے جانے کے ساتھ ساتھ انہیں تقریضی اسناد دی جائیں جو ایمپلائمنٹ مارکیٹ میں ان اسناد کے انٹرویو کے ٹائم مخصوص نمبر دیے جائیں۔
یہ پاکستان کے لیے win win situation ہے جس سے ملک میں خوشحالی کے نئے دور کا آغاز ہو گا ۔ جب اس پیمانے پر ملکی خزانے میں زر مبادلہ جمع ہو گا تو ہماری معاشی ریٹنگ خود بخود اوپر چلی جائے گی جس سے ملک مین باہر سے سرمایہ کاری میں اضافے کے امکانات روشن ہوں گے بالفرض اگر حکومت کے فنڈز میں 50 فیصد پیسہ بھی جمع ہو جاتا ہے تو چائنا جیسا کوئی دوست ملک باقی رقم کے لیے ہمیں قرض دے سکتا ہے ۔ یہ کسی طرح سے بھی ہمارے لیے خسارے کا نہیں بلکہ فائدے ہی فائدے کا کام ہے ۔
امریکہ کا یہ خیال تھا کہ نئی حکومت نے ابھی تک آئی ایم ایف جانے کی بجائے متبادل ذرائع ڈھونڈنے کا طریقہ استعمال کیے ہے جسکے بعد اب امریکہ وقتی طور پر پاکستان کے معاملے میں سفارتی طورپر بیک فٹ پر چلا گیا ہے ۔ اس کے پاکستان کے لیے مستقبل میں مشکلات میں اضافہ بھی ہو سکتا ہے ۔ لیکن قومی وقار کے لیے یہ ناگزیر تھا۔
پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتوں نے عمران خان کے اس منصوبے کی مخالفت کا فیصلہ کیا ہے ۔ جسکی وجہ یہ ہے کہ اگلے 5 سال میں اگر عمران خان دیا مر بھاشا ڈیم کی تعمیر کے لیے مطلوبہ رقم جمع کروانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں اور منصوبے کا باقاعدہ آغاز کر دیا جاتا ہے تو 2023 ء کے عام انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف کا راستہ روکنا کسی پارٹی کے لیے ممکن نہیں ہو گا اور عمران خان مزید 5 سال کے لیے با آسانی وزیر اعظم بن جائیں گے۔


ای پیپر