کلثوم نواز شریف:ایک باہمت خاتون
12 ستمبر 2018 2018-09-12

پاکستان کی تاریخ پہ نظر ڈالیں تو بہت کم تعداد میں خواتین کے نام سامنے آتے ہیں جنہوں نے نہ صرف سیاست میں حصہ لیا بلکہ اپنی اچھی پہچان بھی برقرار رکھی۔ایسا نہیں ہے کہ مسلم دنیا میں پہلے کبھی کسی خاتون ِ خانہ نے عملی سیاست میں قدم نہ رکھا ہو ۔مسلم خواتین نے ہر دور میں دینی و ملی معاملات میں مردوں کا بھرپور ساتھ دیا ہے ۔حضرت خدیجہؓ وہ پہلی خاتون تھیں جنہوں نے اپنی جرات249بہادری 249معاملہ فہمی249اور تدبر سے دین اسلام کی آبیاری میں کلیدی کردار ادا کیا ۔جب نبی کریمؐ کو نبوت ملی تو یہ حضرت خدیجہ ہی تھیں جنہوں نے سرکار دو عالم حضرت محمدؐ کو حوصلہ دیا ۔اور کہا کہ آپ کا رب آپ کو کبھی تنہا نہیں چھوڑے گا ۔اگر ہم دینی مسائل پہ بات کریں تو خواتین کے بہت حد تک مسائل آج جو ہم جانتے ہیں وہ حضرت عائشہ صدیقہؓ کی وساطت سے ہی ہیں ۔گویا نبی پاک ؐ کی زندگی میں ہی خواتین کا دینی اور دوسرے مسائل میں شامل ہونا طے ہوچکا تھا ۔یہ سلسلہ ہر دور میں کسی نہ کسی روپ میں چلتا رہا اور یہ سلسلہ رہتی دنیا تک کسی نہ کسی رنگ میں چلتا ہی رہے گا ۔بقول شاعر وجودِزن سے ۔۔۔برصغیر دورِ حکومت میں بھی مسلم خواتین کا کردار بہت اہمیت کا حامل رہا ہے ۔رضیہ سلطانہ ہو یا ظہیر الدین بابر کی بیٹی گلبدن بیگم وہ عظیم خاتون تھی جس نے فارسی زبان میں ہمایوں نامہ تحریر کیا ۔شہنشاہ اورنگزیب کی بیٹی زینت النسا کی تعمیر کردہ مسجد زینت المساجد کے نام سے مشہور ہوٹی۔شہنشاہ جہانگیر کی محبوب بیگم کو فارسی ادبیات پہ عبور حاصل تھا ۔وہ شعر و سخن کا خاص ذوق رکھتی تھیں۔جہا ں آراء مغلیہ دور کی سب سے بااختیار شہزادی تھی۔جن کا شمار تہذیب یافتہ خواتین میں کیا جاتا ہے ۔تحریک پاکستان کی بات کی جائے تو بہت سی خواتین کا نام سامنے آتا ہے ۔بیگم محمد علی جوہر جو مسلم لیگ کی ورکنگ کمیٹی کی پہلی خاتون ہونے کا اعزاز رکھتی ہیں ۔انہوں نے اپنے جوشیلے انداز بیاں سے برصغیر کی خواتین میں جوش و جذبہ بیدار پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا ۔بیگم نصرت عبداللہ ہارون آل انڈیا مسلم لیگ شعبہ خواتین کی صدر تھیں۔مسلم گرلز سٹوڈنٹس اور ویمن نیشنل گارڈ جیسے تنظیموں کی بنیاد انہوں نے ہی رکھی تھی ۔بیگم شائستہ اکرم اللہ نے بنگال میں مسلم خواتین کو متحرک کرنے میں اہم کردار ادا کیا ۔زلیخا بیگم زوجہ مولانا آزاد ہر طرح کے مصائب برداشت کرنے کے باوجود اپنے شوہر کے شانہ بشانہ کھڑی رہیں ۔تحریک پاکستان کے کردار پہ جتنی بھی بات کی جائے کم ہے لیکن ہم سے ہر کوئی یہ جانتا ہے کہ قائد اعظم محمد علی جناحؒ کی ہر موقع پہ ساتھی 249ہمدرد249مشیر کا کردار محترمہ فاطمہ جناحؒ ہی رہیں۔محترمہ فاطمہ جناحؒ نے پاکستانی خواتین کے لیے سیاسی میدان میں آگے بڑھنے کی راہیں متعین کردیں۔آپ کی ساری زندگی مسلمانوں اور پاکستان کی بہتری کے لیے کام کرتے ہوئے گزر گئی ۔مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح کی بعد جو گنے چنے نام ہماری سیاست میں پہچانے جانے جاتے ہیں ان میں249بیگم رعنا لیاقت علی خان249بیگم نصرت بھٹو249بے نظیر بھٹو کے آتے ہیں جنہوں نے وقت کے ہر آمر کے سامنے سینہ تان کے کھڑے ہونے کا حق ادا کردیا ۔پاکستان اگر آج ترقی پذیر ملکوں کی صف میں بھی بہت نیچے ہے تو اس کی وجہ صرف اور صرف یہی ہے کہ ہم نے کبھی بھی اپنے محسنین کے ساتھ وہ سلوک روا نہیں رکھا جس کے وہ مستحق تھے ۔ہم تو وہ گنہگار لوگ ہیں جنہوں نے گدلی سوچ سے ہر خاتون کے دامن پہ کیچڑ اچھالنے کی ہر ممکن کوشش کی۔پاکستان اس حال میں ہے کہ دشمن ہر وقت پاکستان کو کمزور کر رہے ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے اس ملک کہ خانوں نے ہمیشہ ملکی سیاست میں اہم کردار ادا کرنے والی خواتین پہ گھٹیا الزامات لگائے ہیں ۔اور عوام نے گھٹیا لوگوں کو پھر بھی سر آنکھوں پہ بٹھایا ہے ۔گوجرانوالہ کے غلام دستگیر خان صاحب وہ ہستی ہیں جنہوں نے مادر ملت کی شان میں گستاخیوں کی حد کردی تھی ۔میرے قلم میں وہ ہمت کہاں جو غلام دستگیر نے مادر ملت کے لیے کام کیا لکھ سکے ۔لیکن آفریں ہے گوجرانوالہ کے لوگوں کی جنہوں نے اس گستاخ کو ہر دور میں ووٹ دے کے اسمبلی کی زینت بنایا ۔اس کے بعد اس کے بیٹے کو بھی اپنا رہبر مان چکے ہیں ۔گوجرانوالہ میں ہی بیگم نصرت بھٹو جب شیرانوالہ باغ میں تقریر کرنے آئیں تو ملکہ عمارتوں میں موجود کچھ بگڑے نوجوانوں نے گھٹا ترین حرکتوں کا ایسا مظاہرہ کیا کہ اس کی کہیں کوئی مثال نہیں مل سکے گی ۔نصرت بھٹو کے بعد بے نظیر بھٹو عملی سیاست میں قدم رکھنے والی کم عمر مسلم خواتین کہلائی جنہوں نے اقتدار بھی حاصل کر لیا ۔لیکن ہمیں یاد ہے ہمارے کہ شیخ رشید جیسے سیاست دانوں نے بے نظیر کے بارے کیا کیا باتیں کی تھیں ۔یہ ہماری سوچ ہے جو ہر دور میں چلتی رہی ہے اور چل رہی ہے ۔آج بھی میرے ملک کا مرد کسی عورت کو خود سے آگے بڑھتے دیکھ ہی نہیں سکتا ہے ۔ہمارے لوگوں کے پاس سب سے آسان کام یہی ہے کہ کسی بھی معزز خاتون پہ الزام لگا کے اسے نیچا دکھایا جائے ۔لیکن بیگم کلثوم نواز کی کہانی ان سب خواتین سے مختلف ہیں ۔بیگ گاماں پہلواں رستم زماں کی دوہتری بیگم کلثوم نواز شریف کی کہانی باقی سب خواتین سے جدا ہے ۔بیگم کلثوم نے اپنا زیادہ وقت ایک گھریلو عورت کے طور ہی گزارنے کی کوشش کی ۔گو ان پہ الزام لگائے گئے ۔یہ کیا ستم ہے ہر بدزبان شخص کسی نہ کسی دور میں مسلم لیگ کے جھنڈے تلے رہا ہے ۔دستگیر خان 249شیخ رشید یا رانا ثنااللہ جیسے لوگ اس ملک میں جب تک موجو د ہیں خواتین پہ الزامات کی بارش ہوتی رہے گی ۔رانا ثنا اللہ کو بے نظیر نے گندی زبان کی وجہ سے پارٹی سے نکالا تو اسے مسلم لیگ نے اپنے دامنِ شفقت میں لے لیا ۔بات ہورہی تھی بیگم کلثوم نواز شریف کی ۔ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ پہلوانوں کے خاندان سے وابستگی کی وجہ سے وہ آہنی اعصاب کی مالک ایک بہادر 249صلح جو اور شوہر پرست خاتون تھیں ۔جنہوں نے ہر حال میں اپنے شوہر کا دامن تھامے رکھا ۔الزام بیگم صاحبہ پہ لگے ہوں یا ان کی زد میں میاں صاحب آئے ہوں 249بیگم کلثوم نواز نے ایک مشرقی عورت کی طرح کبھی اپنے گھر کے مسائل کو تماشہ بنانے کی کوشش نہیں کی تھی ۔لیکن جب ڈکٹیٹر پرویز مشرف نے اقتدار پہ قبضہ کیا اور میاں نواز شریف کو جیل میں بند کردیاتو اس وقت بیگم کلثوم نوازایک شیرنی کی طرح دھاڑتی ہوئی میدان میں نکلیں ۔انہوں نے شعلہ بیانی سے جرات سے اور دانش مندی سے ساری اپوزیشن کو اپنے ساتھ ملا لیا ۔ نواز شریف کو دوبارہ اقتدار ملا لیکن بیگم کلثوم ایک بار پھر گھریلو عورت کا روپ دھار کے گھر بیٹھ چکی تھیں ۔وہ بیمار ہو کے ہسپتال میں تھیں تو میرے ملک کے عوام کے ساتھ بونے قد سیاست دانوں نے ایک بار پھر ان کی بیماری کو لے کے گھٹیا باتیں کرنا شروع کردیں ۔اس دنیاسے سب کو جانا ہی ہے لیکن جب تک پاکستان باقی ہے۔بیگم کلثوم نواز کا نام عزت و احترام سے لیا جاتا رہے گا ۔کاش ہمارے سیاست دان 249ہمارا میڈیا خواتین کی دل سے عزت کرنا سیکھ لے ۔کاش ہم اپنی لڑائی میں گھر بیٹھی خواتین کو گالیاں دینی بند کردیں ۔کاش ہم سیاست میں ایک نام بنانے والی دنیا میں پاکستان کو عزت دلانے والے اپنی ماوں بہنوں کو دل سے عزت دینے لگیں ۔ایسا کرنا ہوگا ۔بدزبانوں کو سیاست سے ہر صورت نکال باہر کرنا ہوگا ۔


ای پیپر