آئیں اور سِدّھو بنیں
12 ستمبر 2018 2018-09-12

نو جوت سنگھ سدھو نے جو کیا وہ صوفیانہ بھی تھا، دلیرانا بھی تھااور شاعرانہ بھی تھا۔ 
انھوں نے عمران خان سے اپنی محبت کا اظہار کیا ہے۔ اس اظہار محبت میں انھوں نے صوفیوں والا طرز عمل اپنایا ہے۔ صوفی مذہب سے بالا تر ہو کر محبت بانٹتے ہیں۔ مثبت پہلو اجاگر کرتے ہیں اور ان کی صحبت میں بیٹھے لوگ ان سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے۔ عمران خان سے ملاقات کے فیصلے نے سِدّھو پا جی کی ان صوفیانہ خوبیو ں کو اجاگر کیا ہے۔
نوجوت سنگھ سِدّھو نے پیغام دیا ہے کہ وہ دلیر انسان بھی ہیں۔ بھارت ایسا ملک ہے جہاں آپ روٹی اور پانی کے بنا تو رہ سکتے ہیں لیکن انتہا پسند ہندوؤں کی مرضی کے خلاف جا کر زندہ نہیں رہ سکتے۔ سِدّھو پا جی نے خود پر غداری، ملک دشمن اور جاسوس ہونے کے فتوے لگوا لیے ہیں لیکن جس امر کو وہ صحیح سمجھتے ہیں انھوں نے وہ کیا ہے اور ڈنکے کی چوٹ پر کیا ہے۔ جس پاکستان آرمی کے خلاف بھارتی سرکار اور میڈیا پوری دنیا میں پروپیگنڈا کرتا پھرتا ہے اس آرمی کے چیف کے ساتھ وہ گلے ملے ہیں، 
سینہ تان کر اور میڈیا کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا کہ آرمی چیف نے تو بن مانگے مجھے سب کچھ دے دیا ہے۔اگر ہم یہ کہیں کہ سِدّھو پا جی نے جو کیا وہ انڈیا پاکستان کی ستر سالہ تاریخ میں کوئی کرکٹر نہیں کر سکا۔ تو یہ غلط نہیں ہو گا۔ یہ حقیقت ہے کہ تنقید کرنا آسان ہے اور تعریف کرنا مشکل ترین عمل ہے۔ لیکن سدھو پا جی نے جس طرح دل کھول کر عمران خان کی تعریف کی ہے اور انھیں پاکستان کے لیے اور اس خطے کے لیے امید کی کرن کے طور پر پیش کیا ہے اس کی مثال ماضی میں نہیں ملتی۔ مورخ لکھے گا کہ جو کام دونوں ملکوں کے سیاستدان ستر سال میں نہیں کر سکے وہ نوجوت سنگھ سِدّھو نے ایک ملاقات میں کر دکھایا ہے۔ نوجوت سنگھ سِدّھو کی نیک نیتی اور امن کی خواہش کا احساس اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ انھوں نے بذریعہ سڑک واہگہ بارڈر کراس کر کے پاکستان آنے کو ترجیح دی۔ جس بارڈر پر قومی پرچم اتارنے کی تقریب میں نفرت اوردشمنی ہمیں روزانہ دیکھنے کو ملتی ہے اسی بارڈر سے محبت، امن اور بھائی چارے کا پیغام لے کر پاکستان آنا نوجوت سنگھ سِدّھو کا ہی کمال ہے۔ سِدّھو پا جی چاہتے تو بذریعہ جہاز بھی پاکستان آسکتے تھے لیکن انھوں نے واہگہ بارڈر کا استعمال کر کے نفرت کو کم کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہ عام آدمی کے بس کی بات نہیں ہے یہ سب ایک بہادر انسان ہی کر سکتا ہے۔
تیسرا اور سب سے اہم پہلو ان کی شاعری ہے۔ 
پاکستان میں جب بھی وہ میڈیا کی سامنے آئے ہیں شاعرانہ انداز میں ہی آئے ہیں۔ ان کی کوئی بھی میڈیا گفتگو شاعری سے خالی نہیں تھی۔ مجھے ان کی شاعری سے ہمیشہ اختلاف رہا ہے لیکن اس مرتبہ حیران کن حد تک ان کی شاعری میں وزن بھی تھا اور سچے جذبات بھی تھے۔ شعر کہتے ہوئے وہ یہ بھول گئے تھے کہ پاکستان اور ہندوستان نظریاتی طور پر مخالف ہیں۔ انھوں نے احساس دلایا کہ نظریہ اور دھرم مختلف ہونے سے آپ دشمن نہیں بنتے بلکہ ایک دوسرے کی خوشی اور غم میں ساتھی نہ بننے سے دشمن بنتے ہیں۔
نوجوت سنگھ اگر پاکستان نہ آتے تو کیا ہوتا؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب جاننا ہم سب کے لیے ضروری ہے۔ سِدّھو پا جی اگر پاکستان نہ آتے ہندوستان پاکستان کی تعلقات یونہی جمود کا شکار رہتے۔ مودی حکومت آنے کی بعد جو مایوسی پاکستان اور ہندوستان کی عوام کے چہروں پر چھائی ہوئی تھی اس مایوسی کے بادل مزید گہرے ہوتے جاتے۔ پاکستان میں نئی حکومت آنے کے بعد وزیراعظم عمران خان نے ہندوستان کو ایک قدم آگے بڑھنے کے بدلے دو قدم آگے بڑھنے کا جو یقین دلایا تھا وہ صرف ایک نعرہ بن کر رہ جاتا۔ہندوستانی عوام جس پاکستانی میزبانی اور ہندوستانی محبت کو بھول چکی تھی اسے دنیا کو دوبارہ دکھانے کا موقع ہر گز نہ ملتا۔ سِدّھو پا جی اگر پاکستان نہ آتے تو دنیا ہندوستان کا مثبت چہرہ نہ دیکھ سکتی۔ ان کے آنے سے دنیا کو یہ پیغام ملا ہے کہ ہندوستان پاکستان سے اچھے تعلقات قائم کرنا چاہتا ہے۔ ہندوستانی عوام اور فلمی ستاروں کی طرف سے جو پذیرائی سِدّھو صاحب کو ملی ہے اس سے عوام کی رائے سے متعلق شک و شبہات کے گہرے بادل چھٹ گئے ہیں۔ 
سِدّھو پا جی کے پاکستان آنے کے کیا فوائد ہیں اس کا اندازہ آپ اس بات سے لگا لیں کہ ہندوستان اور پاکستان کے میڈیا میں ایک مرتبہ پھر دوستی محبت اور پیار کی باتیں ہونے لگی ہیں۔ میڈیا ٹاک شو میں ہندوستان اور پاکستان کے سینیر صحافی دوبارہ اس مدعے کو زیر بحث لا رہے ہیں کہ دشمنی کی وجوہات کیا ہیں اور انھیں ختم کیسے کیا جا سکتا ہے۔ پوری دنیا کا میڈیا یہ بحث کر رہا ہے کہ اقوام متحدہ کو دونوں ممالک میں کس طرح ثالث کا قردار ادا کرنا چاہیے۔دنیا ایک مرتبہ پھر گڑھے مدعوں کو اکھاڑنے لگی ہے۔ سِدّھو صاحب کی آمد نے دونوں ملکوں میں سیاسی بیٹھکوں، ڈارہینگ روم کی گفتگو ، فلم انڈسٹری، پارلیمٹ اور گلی محلوں میں ہندوستان پاکستان تعلقات کی اہمیت کے قصے کو چھیڑ دیا ہے۔ سِدّھو صاحب نے امید کی شمع کو چنگاری دکھا دی ہے۔ اب یہ دونوں ا طرف کی عوام اور سیاستدانوں کا فرض ہے کہ وہ اس چنگاری کو بجھنے نہ دیں۔ اس چنگاری سے امن کی شمع کو روشن کریں۔ اس چنگاری سے ایسی مشعل کو روشن کریں جسے لے کر ہم پوری دنیا کا چکر لگائیں اور دنیا کو سکھائیں کہ امن کس طرح قائم کیا جا سکتا ہے۔ 
سِدّھو پا جی آئے اور چلے گئے لیکن جاتے جاتے دوستی، محبت، پیار اور حسن اخلاق کی نئی راہیں کھول گئے ہیں۔اب یہ ہمارا فرض بنتا ہے کہ ہم ان راہوں کو کبھی بند نہ ہونے دیں اور یہ صرف اسی وقت ممکن ہے جب ہم اپنے اندر کے سدھو کو تلاش کریں اور دوسروں کو بھی دعوت دیں کہ آئیں اور سِدّھو بنیں ۔


ای پیپر