جب دوسروں کے لئے جال بنے جائیں
12 ستمبر 2018 2018-09-12

مخالفین کے تن بدن میں آگ لگی ہوئی ہے کیوں؟ کیونکہ سیاسی منظر تبدیل ہو چکا ہے جو ان کے دھندوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔ اب وہ لوگ آ گئے ہیں اقتدار میں ، جن کا لیڈر دیانت دار، محب الوطن اور ملک کے لئے کارنامے سرانجام دینے کا خواہشمند ہے اس کی نیت پر شک کر رہے ہیں اور مذاق اڑا رہے ہیں۔ کہتے ہیں کہ بے شک آنکھیں اندر کو دھنسی ہوئی ہوں اور چہرے کی ہڈیاں ٹیڑھی میڑھی ہوں اس سے کچھ نہیں ہوتا مگر منہ سے جو بات نکلے وہ سچی کھری اور صاف ہونی چاہئے تا کہ لوگ اسے غور کے قابل سمجھیں اس امر کا بہت کم لوگوں کو خیال ہوتا ہے لہٰذا وہ اپنے جبڑوں کو مسلسل حرکت میں رکھتے ہیں۔ دراصل وہ خوش اخلاقی کا نہیں خوش خوراکی کا خیال رکھتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ان کی زبان میں مٹھاس نہیں ہوتی ان کی سانسوں میں بدبو اور سوچوں میں تعفن ہوتا ہے!
خیر پچھلے تیس چالیس برسوں میں ملکی مال کھا کھا کر ’’پِھٹ‘‘ جانے والا مافیا آج عوامی منتخب حکومت کے خلاف صف آراء ہے اس کو اپنی بقا (سیاسی و معاشی) خطرے میں نظر آ رہی ہے۔ اس کے دانت آپس میں ملتے ہیں تو کچکچا جاتے ہیں ان کا گمان ہے کہ اگر وہ عمران خان اور اس کی حکومت کے خلاف منفی پروپیگنڈا کا محاذ گرم نہیں رکھیں گے تو ان کی خیریت نہیں۔۔ بھولے بادشاہو! ’’جدر گئیاں بیڑیاں اودر گئے ملاح‘‘ اب تو ملک کی باگ دوڑ عوام دوست اور خدمت گار کے ہاتھوں میں ہے جسے صرف اور صرف اس دھرتی کے لئے روز و شب محنت کرنا ہے لہٰذا وہ اپنے ذہن سے مضر صحت مواد کو نکال باہر پھینکیں ہو سکتا ہے انہیں تھوڑی تسکین مل جائے وگرنہ تھانہ کچہری اور سلاخیں ان کو یاد کر رہی ہیں اور کہتی ہیں تجھ بن سونا ہے ان کا آنگن لہٰذا حقائق کو مان لیں انہیں تسلیم کئے بنا چارہ نہیں۔۔ مگر کون سنا ہے کسی کی نصیحت اور تجویز کو ۔۔ چلیئے مچائیں شور کریں مظاہرے اور کریں احتجاج دیکھتے ہیں ریاست کامیاب ہوتی ہے یا یہ مافیا۔۔۔ مگر 
مجھے پورا یقین ہے کہ ہاریں گے۔۔ ان کے ہاتھ میں کچھ نہیں آنے والا۔کیونکہ ان کی سیاہ کاریوں کے کھاتے کھل چکے ہیں۔ عدالتیں پہلی بار حکومت پہلی بار اور مقتدر حلقے بھی پہلی بارلنگر لنگوٹ کس کر خدمت وطن کے اکھاڑے میں کود چکے ہیں لہٰذا خوشیوں اور خوشحالیوں کا سورج طلوع ہو گا یہ اندھیرا اور اندھیر بھاگے گا بھاگ رہا ہے۔ کہ اب تبدیلی کا آغاز ہو چکا ہے ہر شعبے کے اندر پائی جانے والی خرابیوں اور نحوستوں سے گلوخلاصی کے لئے کپتان کے کھلاڑی خلوص وفا کی چھڑی لیکر انہیں ہنکارنے لگے ہیں اسی لئے ہی ریلوے کے سابق مبینہ طور سے اربوں کی دیہاڑی لگانے والے آپے سے باہر ہوئے جا رہے ہیں ان کے ساتھی جو بیٹھے بٹھائے لکھ پتی اور کروڑ پتی بن گئے بھی اپنی اپنی سرحدوں پر کھڑے رولا ڈال رہے ہیں اور خود کو پوتر ثابت کرنے کی کوشش میں ہیں مگر وہ بھی قانون کی کمان سے محفوظ نہیں رہ سکیں گے انہیں بھی حساب دینا ہو گا۔!
قوم کا پیسہ ڈکارنے کے بعد وہ اب بھی مافیا کے مخصوص ٹھکانوں پر نظر آ رہے ہیں جہاں بھاری معاوضے وصول کر کے منفی پروپیگنڈے کی مشینیں چلا رہے ہیں۔ ایک نہ ایک روز لوگ دیکھیں گے کہ وہ کٹہرے میں کھڑے ہوں گے پھر ان کی نظریں جھکی ہوں گی اور بیتے دنوں کو یاد کر رہے ہوں گے۔۔؟ فی الحال وہ سمجھ رہے ہیں کہ ہنگامہ آرائی کر کے بچ جائیں گے لہٰذا ان کے سرپرست دھاندلی دھاندلی کھیلنا چاہتے ہیں جبکہ وہ خود دھاندلی کر کے اقتدار میں آتے رہے ہیں اور یہ بھی دیکھے کہ کہہ رہے ہیں کہ وہ عوام کو مہنگائی کی نذر نہیں ہونے دیں گے۔؟
سبحان اللہ! وہ بتائیں کہ اگر انہوں نے عوام کے لئے کچھ اچھا بہتر سوچا ہوتا بھاری قرضے لیکر معیشت کو برباد نہ کیا ہوتا کھربوں کے کمیشن نہ لیے ہوتے۔ کھربوں ملک سے باہر نہ لے جائے گئے ہوتے چند لوگوں کی سہولت کے لئے کسی بھی طور غیر موزوں و غیر مناسب پراجیکٹ تیار نہ کئے ہوتے اور کمپنیوں کو ضرورت سے زیادہ فنڈز جاری نہ کئے ہوتے تو آج پی ٹی آئی کی حکوٍمت کو سخت فیصلے نہ کرنے پڑتے مگر انہیں اس کا ذرا بھر بھی احساس نہیں وہ لگاتار بولے جا رہے ہیں اور گمراہ کن تقریریں کر رہے ہیں عوام بیوقوف ہیں ، کم علم ہیں انہیں نہیں معلوم کہ خزانہ لوٹنے والے کون ہیں اور اسے بھرنے والے کون؟ انہیں سب پتا ہے لہٰذا وہ کسی صورت ان کے جھوٹے بے بنیاد اور غیر صحت مند بیانات سے متاثر نہیں ہوں گے۔۔۔!
سابق حکمرانو اور ان کے بغل بچو! موجودہ حکومت پچھلی تمام خرابات و خرافات سے نڈھال اور بدحال۔۔ عوام کو تم ایسے بہرپیوں کے مظالم سے نجات دلانے کے لئے آئی ہے اسے اس دھرتی کو بانجھ نہیں بنانا وہ اس میں سے سونا اگلوانے کے لئے اقتدار کے ایوانوں میں داخل ہوئی ہے۔ وہ دیکھ سکیں تو دیکھیں تعلیم مساوی اور ایک زبان میں دی جانے والی ہے اب غریب و امیر کے بچے یکساں نصاب سے مستفید ہوں گے ۔ روزگار کے مواقع پیدا کئے جانے کی بھرپور کوشش کی جاری ہے ۔ سب سے اہم پہلو یہ کہ مقامی حکومتوں کا نظام جس کے پنجاب میں وزیر علیم 
خان ہیں کا کہنا ہے کہ وہ بنیادی ترقی میں ان حکومتوں کے ذریعے ایک انقلاب برپا کر دیں گے ۔ لوگوں کو اس قدر سہولتیں دستیاب ہوں گی کہ وہ حیران رہ جائیں گے اس طرح وہ ۔۔۔ احساس محرومی کو ختم کر دیں گے!
ادھر بیورو کریسی کی حکمت عملیوں کو ناکام بنانے کے لئے نئے قواعد و ضوابط بنائے جا رہے ہیں اور افسر جو عوام کے خادم ہوتے ہیں کو واضح ہدایت جاری کر دی گئی ہے کہ وہ اپنے دروازے کھلے رکھیں۔ آمرانہ طرز عمل و فکر اب رخصت ہوا پولیس اصلاحات لائی جا رہی ہیں اور امید واثق ہے کہ پنجاب پولیس بھی کے پی کے کی طرح اپنا رویہ تبدیل کر لے گی۔ بصورت دیگر اسے جواب دینا ہو گا بعد ازاں حساب بھی!پس ثابت ہوا کہ سابق تاجر حکمرانوں کی بے چینی میں اس لئے ہی اضافہ ہو رہا ہے لہٰذا وہ ’’وارو واری‘‘ پریس کانفرنس کر رہے ہیں انہیں کوئی اگلا پچھلا پی ٹی آئی کا سکینڈل تو دکھائی نہیں دے رہا۔ عمران خان کے کھڑے ہونے بیٹھنے یا گفتگو کرنے کے انداز پر ہی اعتراض کئے جا رہے ہیں۔ علاوہ ازیں انہیں ڈیم چندے پر بڑا غصہ آ رہا ہے کہ انہوں نے تو پانی کی قلت پیدا ہونے پر اپنی سیاست کو مچان پر بٹھانا تھا کہ جب یہ شدید ہو جاتی تو وہ مودی سرکار سے کہتے کہ یار پانی دے دو کہ اس سے ان کی مقبولیت میں اضافہ ہو گا اور انہیں بادشاہت قائم کرنے میں سہولت ہو گی مگر الٹی کھوپڑی والے نے ان کے خوابوں کو بکھیر دیا۔ یہاں مجھے اپنے دوست حیدر رضا حیدر جو پنجابی کے شاعر ہیں کا ایک شعر یاد آ رہا ہے۔ 
اوہدی قسمت ویوچہ کھڑناں کھڑکے سکناں جھڑجانا
کدی نئیں سہریاں دیوچہ سجیا یارو پھل کریراں دا 
جو لوگ دوسروں کے لئے جال بنتے ہیں وہ کبھی نہ کبھی ایک روز خود اس میں پھنس جاتے ہیں اس سے آزاد ہونے کی کوشش کرتے ہیں مگر ناکام رہتے ہیں کیونکہ انہوں نے نجات دلانے والوں کو ’’ساہواں دی سولی‘‘ پر لٹکایا ہوتا ہے !


ای پیپر