گورنر ہاﺅس کھولنے کا عوا م کو کیا فائدہ؟
12 ستمبر 2018 2018-09-12

مجھے گورنر ہاﺅس مری میں اپنی فیملی کے ساتھ رہنے کا اتفاق ہوا ہے، جہاں میری ہاتھ کی مہنگی گھڑی جو میں نے بیرون ملک خریدی تھی بلکہ میرے بہنوئی وحید غیاث صاحب نے مجھے تحفتاً عنایت کر دی تھی اس کی داستان بھی داستان سرائے جیسی اس لئے ہے کہ دنیاوی زندگی میں ان مہنگی چیزوں کی ضرورت تو بے شک ہوتی ہے مگر اس کو اتنی اہمیت نہیں دینی چاہئیے۔
میں بیرون ملک سے وطن واپسی پر دوحہ (قطر) چند دنوں کے لئے جہاں میری ہمشیرہ اپنے میاں اور اور بچوں کے ساتھ مقیم تھیں وہاں رکا تو واپسی پر بھائی صاحب نے مجھے دو گھڑیاں دکھائیں اور کہا کہ ایک جو آپ کو پسند ہو وہ آپ رکھ لیں۔
میں نے اپنی طرف سے الٹ پلٹ کر کے دیکھنے کے بعد ایک گھڑی رکھ لی توانہوں نے تحریک انصاف کے جیتنے کے بعد جیسا قہقہہ گورنر سدھ عمران اسماعیل نے لگایا تھا ویسے قہقہہ لگایا اور بولے مجھے سوفیصد یقین تھا، کہ تم یہی گھڑی پسند کرو گے، واضح رہے کہ اس وقت وحید غیاث صاحب قطر میں پاکستانی کمیونٹی کے صدر اور حکومت قطر سے ایوارڈ یافتہ شخص تھے، اور پاکستان کے ملی نغمے، اور گیت لکھنا ان کا اوڑھنا بچھونا ہے، ان کی میزبانی سے حکمران پاکستان سے لے کر امجد اسلام اسلام، عطاءالحق قاسمی، محمود شام، جمیل الدین عالی اور بے شمار پاکستانی علم و ادب کے اور دوسرے شعبوں کے سرکردہ افراد شامل ہیں۔
انہوں نے مجھے بتایا کہ امیر قطر پر کسے نے گولی چلا دی تھی تو قریب کھڑے محل کے کسی ملازم نے انہیں فوراً دھکا دے کر قتل ہونے سے بچا لیا تو امیر قطر نے اس خوشی میں اپنی مہنگی ترین گھڑی ہاتھ سے اتار کر اسے دے دی، وہ بدو یہ گھڑی لے کے بازار میں جا رہاتھا راستے میں ہی میرا ان سے آمنا سامنا ہو گیا اور میں نے اس سے اسکو مطلوبہ رقم ادا کر کے یہ گھڑی خرید لی تھی۔ ناظرین گو وہ گھڑی لاکھوں درہم یا ریال کی تھی مگر اس کی شکل اور شناخت بالکل میرے نزدیک بدوضع تھی، وہ سونے کی بنی ہوئی تھی اور اس پر ہیرے جڑے ہوئے تھے اب مجھ جیسے قدرشناس نے اپنی عملی زندگی کا ستیاناس کر کے رکھ دیا، اور دوسری گھڑی جس کی قیمت تین ہزار ریال تھی اس کی فرمائش کر دی کہ مجھے یہ دے دیں۔
شاید میں نے ہمیشہ سے یہ سن رکھا تھا کہ ہر چمکتی ہوئی چیز سونا نہیں ہوتی مگر میں یہ بھول گیا تھا کہ یہ کہاوت تو ”انگریزوں“ کی ہے، میری بدقسمتی یہ ہوئی کہ وہ بدوضع گھڑی نہ تو چمک رہی تھی، اور نہ مجھے ہیروں کی پہچان تھی اب تحریک انصاف کے ”ہیرے“ جو آئے بھی انگریزوں کے ملک سے ہیں، گورنر پنجاب جناب سرور صاحب، جب وہ پچھلی دفعہ گورنر تھے تو وہاں ایک فنکشن میں پہلی دفعہ ملاقات ہوئی مجھے سٹیج پر بلایا گیا جہاں اور لوگ بھی موجود تھے میں نے ان سے ہاتھ ملایا تو اچانک انہوں نے اس قدر اونچی چھلانگ لگائی کہ اولمپک میں سولہ سالہ جمناسٹک کھلاڑی نادیہ کمانچی نے کیا لگائی ہو گی، اور فوراً اپنا ہاتھ میرے سے کھینچ لیا۔ مگر میں نے خدا کا لاکھ لاکھ شکر ادا کیا کہ گورنر نیچے کی طرف نہیں گرے اور کہا اوہو آپ کے ہاتھ میں کیا ہے؟ دراصل میں نے انگلی میں ڈیجیٹل کاﺅنٹر لگائی ہوئی تھی اس سے قبل کہ وہ مجھے دہشت گرد قرار دے کر اپنی سکیورٹی پر مامور اہلکاروں کو تالی مار کے بلواتے میں نے انہیں بتایا کہ آپ کے قریبی دوست حاجی بشیر صاحب، لاہور میں میرے ہمسائے ہیں تو پھر یکدم ان کا درجہ حرارت نقطہ انجماد سے بھی گر گیا۔
قارئین محترم! گورنر ہاﺅس مری تو مجھے اپنی گھڑی کی وجہ سے یاد ہے جو میں کمرے سے ملحقہ باتھ روم میں وضو کرتے ہوئے بھول گیا تھا، مگر وہاں میں نے کوئی ایسی چیز نہیں دیکھی کہ جو قابل دید ہو۔ گورنر ہاﺅس سے ملحقہ اراضی پر جہاں جنرل منیجر صاحب، بھکر کے ایک ایم این اے اور تہمینہ دولتانہ اور پرانے کسی چیف جسٹس کا گھر ہے تہمینہ دولتانہ تو اپنے گھر کو کرایے پر دے کر پیسے کما رہی ہیں مگر مجھے اپنا مہنگا پلاٹ کوڑیوں کے بھاﺅ بیچنا پڑ گیا تھا کیونکہ لاہور میں اپنے ایک مقدمے کو بچانے کے لئے جو میرے مخالف نے ”ازخود“ نوٹس لے کر مجھ پر گزشتہ بیس سال سے مسلط کیا ہوا ہے یہ قدم اٹھانا پڑا تھا۔
میں بات کر رہا تھا گورنر ہاﺅسز کو عوام کے لئے اتوار کے دن کھول دینے کے انتہائی دانشمندانہ، فیاضانہ، عقلمندانہ اور میرے نزدیک بچگانہ فیصلے کی، قارئین آج کل جو ہڈحرامی کے دور میں، ٹیبل پر پانی کا گلاس اٹھانے کے لئے بھی چپڑاسی کو آواز دی جاتی ہے، صابن کو پانی میں ڈال دیا جاتا ہے کہ خود گھلانا نہ پڑے، نوعمری میں، انرجی ڈرنکس لے کر تروتازہ رہنے والے فاسٹ فوڈ کے شوقین نوجوان اور دوشیزائیں جو آج کل کے تیزہواﺅں کے موسم میں اگر بال الجھ جائیں تو باغ جناح یا ریس کورس پارک میں جا کر ”لٹ الجھی سلجھا جا رے بالم“ گانا شروع کر دیتی ہیں، کہ میں خود ہاتھ نہیں لگاﺅں گی، مگر خدا کا شکر ہے، کہ میکڈونلڈ اور کے ایف سی کے رسیا، راتوں کو دو اڑھائی بجے برگر، رائس، کوکا کولا، فرائیڈ چکن، رائیڈر کے ذریعے منگوا کر دوسرے دن بھوکے مرتے رہتے ہیں، اور گھنٹوں واک کر کے وزن گھٹانے کی ناکام کوشش کرتے رہتے ہیں اور ناظرین آجکل رمضان شریف میں روزے رکھنے کا جو رجحان ہے اس کے پیچھے بھی یہ ایک ٹکٹ میں دو مزے لیتے ہیں، آخر میں میں آپکو یہ حقیقی واقعہ بتاتا ہوں جو ایک سرکاری محکمے کے چیئرمین جو جنوبی پنجاب کے دیہاتی علاقے سے تعلق رکھتے ہیں انہوں نے مجھے خود یہ بات بتائی کہ تمہارے دیہات میں ایک شخص جو اسلام آباد سے یا لاہور سے آیا تھا ان کا گاﺅں اس جگہ واقعہ ہے، جہاں گاﺅں کے ساتھ نہر بہتی ہے، وہ شخص صبح سویرے وہاں حسب عادت جاگنگ کر رہا تھا بلکہ تیزی سے بھاگ رہا تھا گاﺅں کے ایک شخص نے اس کو بھاگتے ہوئے دیکھ کے لوگوں کو آواز دے دی تو سارا گاﺅں منہ اندھیرے منہ اٹھا کر بھاگنے والے شخص کے پیچھے سرپٹ بھاگنا شروع ہو گیا کہ پتہ نہیں اس بے چارے کو کیا مصیبت آئی ہے کہ اس بری طرح بھاگ رہا ہے۔
دوستوں مگر آج کل تو یہ واکنگ و جاگنگ ایک فیشن ہی نہیں صحت کے علم نے عمل کی شکل اختیار کر لی ہے، اور سیروتفریح ایک ضرورت بن گئی ہے، گورنر ہاﺅس تو میاں اظہر صاحب کے دور میں بھی عوام کے لئے کھلا ہوتا تھا، یہ کونسی عوام کے لئے ”نئی بات“ ہے، اور گورنر ہاﺅس میں سوائے وسیع و عریض کھلے میدان کے علاوہ اور کیا ہے اس کے قرب و جوار میں لارنس گارڈن یعنی باغ جناح، اور جیلانی باغ کے میدان، اور جاگنگ ٹریکس تو کہیں زیادہ بہتر ہیں تحریک انصاف کا تو انتخابی نعرہ ہی یہ تھا کہ گورنر ہاﺅس کو درسگاہ میں تبدیل کر دیں گے، اگر تحریک انصاف قرضوں کی موجودگی کا رونا رونے کے باوجود گیارہ کروڑ روپے پارلیمنٹ کی تزئین و آرائش پر خرچ کر سکتی ہے گورنر ہاﺅس کی عمارت تو موجود ہے پروفیسرز رکھ کر یونیورسٹی کیوں نہیں بنا سکتی؟ حضور نے فرمایا کہ جب تمہارے حکمران (اخلاق و کردار) کے لحاظ سے اچھے لوگ ہوں، تمہارے معاشرے کے خوشحال افراد فیاض اور سخی ہوں تمہارے معاملات باہمی مشاورت سے طے پاتے ہوں تو یقیناً تمہارے لئے زمین کی پشت (زندگی) زمین کے پیٹ (موت) سے بہتر ہے، اور جب تمہارے معاملات تمہاری بیگمات کے حوالے ہوں تو پھر زمین دا پیٹ، زمین کی پشت سے بہتر ہے (راة الترمذی) میں نے اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ حکمرانوں کے سامنے کلمہ حق قرآن و حدیث کے حوالے سے ادا کرنے کی کوشش کروں گا، میں خدا کا شکرگزار ہوں کہ بیس کروڑ مسلمانوں کا صدر اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اس شخص کو نہیں بنایا جس کو ”قل شریف“ بھی نہیں آتا اور نہ دیگر احکامات اسلامی کا پتہ ہے، نجانے کس وجہ سے وہ ایک چیف جسٹس کا ڈرائیور اور دوسرے چیف کے بچوں کا چچا بن جاتا ہے۔ جن کی عدالت میں داﺅد چوہان جیسے بزرگ کے منہ پر پڑنے والے زور دار طمانچوں اور تھپڑوں کی گونج پاکستان سے باہر دنیا بھر کے میڈیا نے دکھائی، ازخود نوٹس پہ طلبی ہوئی تحریک انصاف کے ایم این اے کو 30 لاکھ کا جرمانہ ہوا، مگر وہ رقم ”ڈیمز“ کی مد میں جمع کرانے کا حکم دے دیا گیا، نہ نجانے کس قانون کے تحت؟ اور مظلوم عدالت میں آبدیدہ ہو کر اپنے آنسو پونچھتا رہ گیا.... ڈیم میں پانی بھرنے والے جج داﺅد چوہان کو کم از کم واپسی کا پٹرول اور اس کی گاڑی کا پانی ہی چیک کرا دیتے کیونکہ مظلوم کی آنکھوں سے بہتے ہوئے آنسو تو ”طوفان نوح“ کا سبب بن جاتے ہیں کیونکہ اس کی عزت نفس کی کوئی قیمت نہیں ہوتی۔


ای پیپر