حکومت جنوری سے پہلے ہی چلی جائے گی ،مریم نواز کا دعویٰ
12 اکتوبر 2020 (21:12) 2020-10-12

لاہور :مریم نواز نے اپنے ایک انٹرویو میں دعویٰ کیا کہ حکومت جنوری سے پہلے ہی چلی جائے گی ،اگر کوئی ڈیل ہوئی ہوتی  تو معاملات اس نہج پر نہ آتے ، نواز شریف علاج کے فورا بعد وطن واپس آجائینگے ۔

مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نوا ز کاکہنا تھا کہ نواز شریف کا شاندا ر سیاسی کیرئیر ہے اب وہ پاکستان کیلئے کھڑے ہوئے ہیں ،میاں صاحب صرف ایک والد ہی نہیں ان پر قوم کی بھی ذمہ داری ہے ،میرے والد کے بیانیے کو غلط کہنے والے اپنا معائنہ کروائیں ،ہمارا مقابلہ جن لوگوں سے ہے انہیں رشتوں کی اہمیت نہیں وہ انتقام میں اندھے ہیں ،میاں صاحب آئین اور قانون کی بات کرتے ہیں ،حتمی طور پر بات پاکستان کے عوام سے ہی ہوگی ،عوام کا حق ہے انہیں پتا لگے کہ کیا ہو رہا ہے سب سے بڑے اسٹیک ہولڈرز عوام ہی ہیں ۔

مریم نواز نے کہان لیگ میں کوئی تقسیم نہیں بس اپروچ کا فرق ہے ،پچھلے کچھ برسوں میں ن لیگ کیساتھ جو زیادتیاں کی گئیں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی ،پوری ن لیگ میاں صاحب کیساتھ کھڑی ہے ،شہباز شریف میرے والد کی طرح ہیں میں انہیں اپنے والد سے الگ نہیں سمجھتی ،شہباز شریف کی اپروچ مختلف ہے جو پہلے بھی رہی ہے ،  میاں صاحب نے اپنا ذاتی مفاد قوم کے مفاد پر قربان کیا ، نواز شریف کا بیانیہ قائد اعظم کا بیانیہ ہے ،اگر کسی نے نواز شریف کے بیانیے کی حمایت نہیںکی تو اس کی مجبوری ہو گی ۔

مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے کہا اختلاف کی باتیں کرنیوالے کئی آئے اور کئی چلے گئے دونوں بھائی ہمیشہ ایک ہیں ،شہباز شریف ہمیشہ اپنے بھائی کیساتھ کھڑے ہیں اور رہینگے ،شہباز شریف جیل اسی لیے گئے کہ انہوں نے اپنے بھائی کو نہیں چھوڑا ،شریف برادران کو لڑانے والوں کو ہمیشہ ناکامی ہوئی ہے ،شہباز شریف سے میرا کوئی اختلاف نہیں ،شہبا زشریف کا معاملات ہینڈل کرنے کا طریقہ مختلف ہے ،شریف برادران ہمیشہ سے ایک صفحے پر تھے اور رہنگے ،میاں صاحب کو پتا ہے کہ کون سی بات کب کرنی ہے ،ن لیگ کو کسی کی اشیر باد نہیں ،میاں صاحب نے اپنا ذاتی مفاد قوم کے مفاد پر قربان کیا ، نواز شریف کا بیانہ قائد اعظم کا بیانیہ ہے ۔

نوازشریف کی صحت اور علاج سے متعلق سوالا ت کا جواب دیتے ہوئے مریم نوا ز نے کہا میاں صاحب کی طبیعت اب بہتر ہے ،تاہم ان کا علاج اب بھی جاری ہے،انہوں نے نواز شریف کو ہمدردی میں نہیں اپنے آپ کو بچانے کیلئے با ہر بھیجا ،میرے والد کو کچھ ہوتا تو اس کے اثرات بہت بُرے ہونے تھے ،میاں صاحب صرف ایک والد ہی نہیں ان پر قوم کی بھی ذمہ داری ہے ، نواز شریف کی بیماری کا علاج پاکستان میں نہیں تھا ،لندن میں گھر پر میاں صاحب کا چیک اپ ہوتا رہتا ہے ،ڈاکٹر ز کے مشور کےبعد ہی میاں صاحب واپس آئینگے ،جیسے ہی میاں صاحب کی سرجری ہو جاتی ہے وہ واپس آجائینگے ،

نواز شریف لندن میں علاج کرا رہے ہیں ہسپتال میں داخل ہونا ضروری نہیں ،میاں صاحب کی ہارٹ سرجری ہو گی ،کوئی خطرہ نہ ہوا تو وہ وطن واپس آجائینگے ۔


ای پیپر