بغاوت، غداری کے مقدمات
12 اکتوبر 2020 (13:14) 2020-10-12

کیا کہا زہر خریدنے کے لئے نکلے ہو یہ دکانوں پر نہیں زبانوں پر اصلی ملتا ہے، زبانیں زہر اگل رہی ہیں۔ زباں شیریں ملک گیری کا محاورہ تو 2014ء میں ہی ختم ہوگیا تھا جب کنٹینر والوں نے برسوں کی تہذیب، شائستگی اور مروت و محبت کو خیر باد کہہ کر گالم گلوچ اور دشمنی کا کلچر متعارف کرایا تھا۔ اب یہی کلچر نافذ العمل ہے۔ دیکھا نہیں 50 سے زائد ملکی و غیر ملکی زبانیں دن رات زہر اگل رہی ہیں۔ اصلی زہر کے لیے غیر ملکی ”ماہرین“ بطور خاص درآمد کیے گئے ہیں۔ لمبی زبانوں والوں کی اپنے یہاں بھی کمی نہیں تھی لیکن ان کا زہر ہلاکت خیز نہیں تھا تریاق مل جاتا تھا۔ باتوں کے گھاؤ تلوار کے زخم سے زیادہ گہرے یہ فن غیر ملکی ماہرین ہی جانتے ہیں۔ایک صاحب نے پوچھا ہے کہ کیا ملک تقریروں، ٹوئٹس اور زہر بھری باتوں سے چلتے ہیں؟ روزانہ کی بنیاد پر اجلاسوں سے چلتے ہیں؟ بے شمار اور لا تعداد اعلانات سے ترقی کی راہ پر گامزن ہوتے ہیں؟ قومی اسمبلی اور سینیٹ کے ہر اجلاس میں سوتنوں کی طرح لعن طعن الزامات در الزامات ذاتی حملوں، گالم گلوچ بلکہ جوتم پیزار اور گتھم گتھا ہونے سے اقوام عالم کی صفوں میں با عزت مقام حاصل کرتے ہیں؟ انا کے خول میں بند ہو کر فیصلے کرنے سے خوشحالی آتی ہے یا پھر…… یقین کیجیے اسی پھر میں ملکی ترقی، سیاسی استحکام اور خوشحالی کا راز پنہاں ہے کسی نے دکھی لہجہ میں کہا گزشتہ دو سالوں میں ایک دن بھی ایسا نہیں گزرا جب کوئی خیر کی خبر سنائی دی ہو، دل دہلانے والی خبریں، خون رلانے والے واقعات روز کا معمول، اسی کو لیجیے اپوزیشن کی گیارہ جماعتوں کا اتحاد بننے کے بعد سے روزانہ زلزلے کے جھٹکے، ترجمانوں کے منہ سے جھاگ نکل رہی ہے، بقول ان کے سارے چلے ہوئے کارتوس مگر ان چلے ہوئے کارتوسوں سے خطرہ کیوں محسوس ہو رہا ہے، رات دن اجلاس،کیا کیا جائے کیا نہ کیا جائے، فری ہینڈ دیا جائے، نا بابا نا، شہروں میں پھیل جائیں گے شہروں سے باہر روک دیا جائے، وزیر اعظم جیلیں بھرنے پر بضد، وزیر داخلہ ریلیوں کی اجازت دینے کے مخالف، اپوزیشن کیا چاہتی ہے؟کیا متبادل کیا لائحہ عمل؟ تحریک چلی تو کیا خطرات ہوں گے؟ سخت حکمت عملی سے کیا صورتحال ہوگی؟ ایسا کچھ کیا جائے کہ اپوزیشن کے سارے ”سانپ“ مرجائیں اور جمہوریت کی دیمک زدہ لاٹھی بھی نہ ٹوٹے، اوپر تلے کئی اجلاسوں میں ”حکمت عملی“ طے کرلی گئی، حکمت حکومت کی تھی عملی اقدام ایک ”نایاب ہیرے“ نے انجام دے دیا۔ راوی ٹاؤن کا ایک شخص بدر رشید رات کو دو بجے گھر سے نکلا تھانے پہنچا اور نواز شریف سمیت 43 مسلم لیگیوں کے خلاف بغاوت اور غداری کے مقدمات درج کرنے کی درخواست دے دی۔ راوی کے اس پار گجر پورہ واقعہ کے ملزم عابد کو چند گز کے فاصلے سے گرفتار نہ کرنے والی ”فرض شناس پولیس“ نے معاملہ کی سنگینی پر سوچے سمجھے بغیر جھٹ سے ایف آئی آر درج کرلی، سوال اٹھ کھڑے ہوئے ن لیگ ایگزیکٹیو کمیٹی کا اجلاس ماڈل ٹاؤن میں ہوا مقدمہ شاہدرے میں درج کیا گیا، ایسا سنگین مقدمہ ایک عام شہری کی درخواست کی بجائے وفاقی یا صوبائی حکومت کا افسر درج کراتا، نامزد ملزموں میں 3 سابق جرنیل اور آزاد کشمیر کے وزیراعظم فاروق حیدر بھی شامل بھارت کا میڈیا چیخ اٹھا کہ پاکستان کے کشمیر کا وزیر اعظم غداری کا ملزم ٹھہرایا گیا، کس با اثر شخصیت کے کہنے پر ایسی خطرناک دفعات لگائی گئیں جن پر عمر 

قید (بقول سپریم کورٹ عمر بھر کی قید) یا سزائے موت بھی ہوسکتی ہے۔ شور مچا تو ہر طرف سے لا تعلقی کا اظہار، چند لمحوں میں گورنر پنجاب اور دیگر کے ساتھ ہیرے کی تصاویر وائرل، انکشاف ہوا ہیرا کوئی غیر یا عام شہری نہیں اپنا ہی ”گوہر نایاب“ہے۔ پارٹی کا تنظیمی عہدیدار، راوی ٹاؤن یوتھ کا صدر، کریمنل ریکارڈ یافتہ، 15 مقدمات میں نامزد، فرض شناس پولیس کا کمال کہ ایک ملزم کی درخواست پر 43 ملزم بنا دیے گئے، پی ٹی آئی کے سنجیدہ وزیر اور ارکان اس پر رنجیدہ کہ ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا۔ مستقبل کسی کا نہیں چرخ نیلگوں کے انقلاب نرالے رنگ نیارے ہوا کا رخ کون متعین کرے بقول منظر بھوپالی۔

کوئی بچنے کا نہیں سب کا پتا جانتی ہے

کس طرف آگ لگانی ہے ہوا جانتی ہے

وزیر اعظم نے نا پسندیدگی کا اظہار کیا سیاسی انتقام کے حق میں نہیں ہوں اس کے باوجود پولیس کی جے آئی ٹی تشکیل، گورنر پنجاب نے کہا کہ تحقیقات کی جائے ایف آئی آر کیسے درج ہوئی صوبائی حکومت نے گرفتاریوں کا راستہ اختیار کرلیا۔ لوگوں نے کہا غداری ملکی دشمنی کے فتوے، الزامات نئے نہیں محترمہ فاطمہ جناح سے اب تک ملکی تاریخ ان ہی الزامات سے سیاہ ہوئی ہے۔ ایسے ہی اقدامات سے ملک دو لخت ہوا۔ الزامات لگانے والوں کے ہاتھ کیا آیا؟ سیاستدان بدنام اور قابل نفرت ٹھہرے، ایک ذمہ دار لیڈر نے کہا ایف آئی آر سے کیا ہوتا ہے ایک درد مند نے جواب دیا۔ ایک منجمد (Sealed) ایف آئی آر پر ذوالفقار علی بھٹو تختہ دار پر جھول گئے۔ ان کی شہادت پر آج تک ہمالیہ رو رہا ہے۔ ان اقدامات سے معاشرہ انتہا پسندی کے راستے پر گامزن ہوجائے گا، ہوگیا ہے، سیاسی اختلافات بغاوت نہیں، عوام دشمنی پر تنقید غداری نہیں، ہر پانچ میں سے چار پاکستانی حکومتی سمت کو غلط قرار دیتے ہیں۔ ملکی معیشت جس تیزی سے تباہی کی جانب گامزن ہے۔ 56 فیصد شہریوں نے آئندہ 6 ماہ میں مزید تباہ ہونے کے خدشات ظاہر کردیے 69 فیصد نے ملکی حالات پر عدم اطمینان کا اظہار کیا، کیا سب میں غداری اور بغاوت کے سرٹیفکیٹ تقسیم ہوں گے ماضی میں بہت سے کام قومی مفاد پس پشت ڈال کر کیے گئے اب بھی ہو رہے ہیں یہ جمہوریت کا حسن نہیں تاریک پہلو ہے بغاوت اور غداری کے مقدمات سے ریاست کو کیا فائدہ ہوگا؟ یقینا کچھ نہیں بلکہ ان سے اور اس قسم کے اقدامات سے ملک آئین اور جمہوریت کو نقصان پہنچے گا۔ اس قسم کے ہتھکنڈوں سے ملک مزید دلدل میں پھنس جائے گا۔ نتیجہ معلوم ہے خلق خدا میں مایوسی پھیلے گی۔ پھیل رہی ہے پیچھے مڑ کر دیکھنے کی بجائے آگے کی سوچیں دو سالوں سے صرف الزامات کی سیاست ہو رہی ہے۔ 24 ماہ 24 اسکینڈل، لیڈر مفرور، لیڈر اشتہاری، لیڈر چور ڈاکو، الزامات کے ثبوت کہاں ہیں، زہر اگلتی زبانوں نے عوام کو کیا دیا ہے؟ مہنگائی، آئی ایم ایف کے شکنجے میں گیس بجلی مزید مہنگی کرنے کے اقدامات۔ گھی، آٹا، چینی کی قیمتیں کنٹرول سے باہر عوام کو صرف دلاسے کہ  6 ماہ میں قیمتیں کم ہوجائیں گی کیا 6 ماہ میں چینی 104 روپے سے 54 روپے کلو ملنے لگے گی۔ آٹا 84 روپے کلو، افواہیں گرم ہیں کہ آٹا  100 روپے کلو ہوجائے گا۔ افواہیں پھیلانے والوں کے منہ میں خاک لیکن درجہ حرارت بڑھنے یا بڑھانے سے ریت اڑنے لگی ہے۔ بقول قمر زمان کائرہ حکومت ریت کی دیوار پر کھڑی ہے۔ ریت سرکتی رہی تو ”آئے گا کون ریت کی دیوار تھامنے“ عالمی بینک نے وارننگ دی ہے کہ پاکستان میں غربت بڑھے گی ایک کروڑ محنت کشوں کے بیروزگار ہونے کا خطرہ منڈلانے لگا ہے۔ اندرونی قرضوں میں اضافہ ہوسکتا ہے بیرونی قرضوں کی ادائیگی میں مشکلات کا سامنا ہوگا۔ کیا کریں گے”لے کے قرضے پھنس گیا ہے دے کے قرضے چھوٹ جا“ والا کوئی اقدام قابل عمل نظر نہیں آتا۔ مہنگائی ڈبل ڈیجٹ میں چلی گئی۔ لوگ افراط زر کی شرح کا ذکر کرتے گھبرانے لگے ہیں۔ شرح نمو نہ ہونے کے برابر، غربت سے تنگ سرکاری ملازمین پارلیمنٹ ہاؤس تک پہنچ گئے حکومت دو سال سے چور ڈاکو ڈھونڈ رہی ہے۔ غداری اور بغاوت کے مقدمات سے سیاسی افق پر کہکشاں نہیں پھوٹے گی۔ دھواں چھا جائے گا۔ ان اقدامات سے اپوزیشن اتحاد کی تحریک کو کامیابی کا راستہ ملے گا ایک ڈیڑھ کروڑ بیروزگار اور کروڑوں غربت کے مارے خاموش شہریوں کو زبان مل گئی تو اب تک حمایت کرنے والے 31 فیصد بھی جائے پناہ کی تلاش میں اِدھر اُدھر کھسکنے لگیں گے۔ اس وقت قیامت کی گھڑی ہوگی غیر ملکی ماہرین فن کام نہیں آئیں گے۔ رسی کھنچنے لگی تو کھنچتی چلی جائے گی۔ غداری اور بغاوت کے مقدمات ”چلے ہوئے کارتوسوں“ کو قابل عمل بنانے میں مدد دینے کے مترادف ہیں۔ سب محب وطن ہیں۔ غدار آرٹیکل 6  سے ڈر کر پہلے ہی چلے گئے۔ واپسی مشکل، آنے والے خطرات اور حالات کا ادراک ضروری ہے۔


ای پیپر