وزیر اعلیٰ بزدار اور سرکاری افسران
12 اکتوبر 2020 (12:42) 2020-10-12

پنجاب کا وزیر اعلیٰ بننے کے بعد جتنی مشکلات کا سامنا سردار عثمان بزدار کو کرنا پڑا،اس پر پی ایچ ڈی کا مقالہ لکھا جا سکتا ہے، انہوں نے بڑے صبر اور تحمل کے ساتھ مشکلات اور تنقید کا سامنا کیا،اب لوگ ان کے کاموں کے معترف ہو رہے ہیں۔ اسی طرح وفاقی سروس کے پنجاب میں تعینات جس افسر کو وزیر اعلیٰ کی طرح تنقید اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، ان کا نام طاہر خورشید ہے،ان دنوں وہ وزیر اعلیٰ معاینہ ٹیم کے سربراہ اور مقامی حکومتوں کے محکمہ کے سیکرٹری ہیں۔سردار عثمان بزدار کی شرافت اور طاہر خورشید کی محنت،دونوں کو اب مشکلات سے نکال لائی ہے۔طاہر خورشید پر بہت الزامات لگے،صوبہ بدری کے احکامات بھی ملے جن پر وزیر اعلیٰ بزدار نے عمل درآمد نہ ہونے دیا۔ یہ درست ہے کہ وہ وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کے دوست ہیں، ان کی تعیناتی ڈیرہ غازی خان اور اس کے قریبی اضلاع میں اس وقت بھی رہی جب عثمان بزدار وزیر اعلیٰ نہیں تھے۔ وزیر اعلیٰ عثمان بزدار سے تعلق ہونا کوئی جرم نہیں ہے،مگر طاہر خورشید نے اس جرم بے گناہی کی بھی سزا کاٹی ہے بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ انہیں،،جرموں ود سزاواں ملیاں،،۔ وزیر اعلیٰ تو سیاست دان ہیں وہ کسی نہ کسی طریقے سے اپنا ما فی الضمیراور وضاحت دے دیتے ہیں،اصل حقیقت بتا دیتے ہیں مگر ایک سرکاری افسر ہونے کے ناطے طاہر خورشید تو یہ بھی نہ کر سکے اور ویسے بھی وہ افسروں کے جس قبیل سے تعلق رکھتے ہیں ان کے بارے میں یہ شعر درست بیٹھتا ہے کہ 

کج شہر دے لوگ وی ظالم سن 

کج سانوں مرن دا شوق وی سی 

ہم جیسوں نے بھی طاہر خورشید کی ہر تعیناتی اور کام کو خوب چھنجالا اور اسکے تانے بانے کہیں کے کہیں ملا دیے۔طاہر خورشید ایک اچھے اور محنتی افسر ہیں اور اب تو خود وزیر اعظم پاکستان عمران خان ان کے کاموں اور محنت کے معترف ہو گئے ہیں۔گزشتہ دنوں پنجاب کے مختلف پراجیکٹس کے بارے میں انہوں نے وزیر اعظم کو بریفنگ دی تو وزیر اعظم عمران خان بڑے متاثر ہوئے اور انہوں نے بڑی حیرانگی سے پوچھا آپ ہی طاہر خورشید ہیں؟ طاہر خورشید نے لوکل باڈیز ایکٹ اور دوسرے معاملات میں بھی بڑی محنت اور چابکدستی سے کام کو سنبھال لیا ہے۔ایک بات جو بڑی اہم ہے وہ کسی بھی انتظامی عہدے پر بیٹھے ہوئے افسر کا رویہ ہوتا ہے،طاہر خورشید بڑے مثبت اور عوام دوست افسر ہیں۔وہ جونیئر افسروں کو ساتھ لے کر چلتے ہیں۔ طاہر خورشید سے پہلے لوکل گورنمنٹ میں تعینات سیکرٹری عقل کل بنے ہوئے تھے وہ بھی میاں شہباز شریف کی طرح جونیئر افسروں کی بے عزتی کرنا اپنا حق سمجھتے تھے۔اپنے آپ کو سو کالڈ ایماندار بنا کر ایسے افسران کی گردن میں سریا آجاتا ہے۔عوام سے ملنا انہیں پسند ہی نہیں ہوتا، میں ان جیسے کئی ریٹائر افسروں کو جانتا ہوں جو اب اس انتظار میں رہتے ہیں کہ ان کو کوئی ملنے آئے مگر ان کے ساتھ وہی ہوتا ہے جو انہوں نے کرسی پر بیٹھنے کے بعد عام لوگوں کے ساتھ کیا ہوتا ہے۔ 

کسی بھی صوبے کی ترقی کیلئے اس صوبے کی بیوروکریسی بہت اہم کردار ادا کرتی ہے۔ وزیر اعلیٰ بزدار کی مشکلات صوبے کے افسران بھی رہے ہیں،حالانکہ وہ افسر فرینڈلی وزیر اعلیٰ ہیں،وہ سابق وزیر اعلیٰ میاں شہباز شریف کی طرح افسران کی بات بات پر عزت نہیں اچھالتے بلکہ انہیں عزت اور احترام دیتے ہیں۔ وزیر اعلیٰ بزدار اب آہستہ آہستہ پنی ایڈمنسٹریٹو ٹیم کو بہتر بنا رہے ہیں وہ ایسے افسر تعینات کر رہے ہیں جو محنتی ہیں۔ وزیر اعلیٰ کے سیکرٹری کا عہدہ وزیر اعلیٰ اور افسران کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کرتا ہے مگر اس عہدے پر اولین تعینات راحیل صدیقی پل کا کردار ادا نہ کر سکے۔وہ وزیر اعلیٰ سے اپنے سوا کسی افسر کا انٹر ایکشن ہی نہیں ہونے دیتے تھے اور خود بھی کسی افسر سے ملنا کم ہی پسند کرتے تھے۔ان کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ ایوان وزیر اعلیٰ میں تعینات ایڈیشنل سیکرٹری تک کے افسران کو بھی نہیں ملتے تھے۔انکی وجہ سے وزیر اعلیٰ اور کئی چیف سیکرٹریوں کے درمیان فرینک کی بجائے ٹینس ماحول رہا،دوریاں بڑھیں جس کے نتیجے میں انتظامی اور سیاسی معاملات خراب ہوئے۔

 اداروں اور افراد میں بد گمانی ہو یا ایک دوسرے کے ا ختیارات کو تسلیم کرنے میں تامل ہو تو اداروں کی کارکردگی آدھی سے بھی کم رہ جاتی ہے اور اگر فیصلوں پر اعتراض اور تسلیم کرنے میں حیل و حجت ہو تو ملکی ادارے عضو معطل بن کر رہ جاتے ہیں، وزیر اعلیٰ بزدار کے ابتدائی عرصہ میں یہی کچھ پنجاب میں ہوا۔یوسف نسیم کھوکھر اور میجر اعظم سلیمان بہترین افسر تھے مگر وزیر اعلیٰ کے دفتر اور چیف سیکرٹری کے دفتر کے درمیان غلط فہمیوں کا خاتمہ نہ ہو سکا،یہ کام وزیر اعلیٰ کے سیکرٹری کا تھا جو نہ ہوا،دونوں افسران کے جانے سے پنجاب اور وزیر اعلیٰ بزدار کا نقصان ہوا۔ 

ڈاکٹر شعیب کے سیکرٹری ٹو وزیر اعلیٰ بننے سے معاملات میں بہتری آئی، دیگر اعلیٰ افسران اور وزیر اعلیٰ کے درمیان ورکنگ ریلیشن شپ بہتر ہوئی مگر وہ سازشوں کی نذر ہو گئے،ان کے ساتھ ہی ایک اور اچھے افسر آصف بلال لودھی کو بھی ہٹا دیا گیا۔بعدازاں بتایا گیا کہ ڈاکٹر شعیب اورآصف بلال لودھی دونوں بے قصور تھے،بے قصور تھے تو ان کو واپس کیوں نہیں لایا جا رہا۔ 

موجودہ سیکرٹری ٹو وزیر اعلیٰ افتخار سہو شروع میں اتنے موثر نہیں تھے مگر اب انکی گرپ بہتر ہو رہی ہے، ضرورت اس بات کی ہے کہ وہ مختلف انتظامی معاملات میں اپنا ایکٹو رول ادا کریں۔ پنجاب میں ترقی اور تعمیر کا دور اب واپس آ رہا ہے۔ وزیر اعلیٰ کو اس سلسلے میں کام کرنے والے اچھے اور محنتی افسروں کی ٹیم بنانا ہو گی۔ 


ای پیپر