دم تو ڑ تی معیشت اور مہنگا ئی
12 اکتوبر 2020 (12:36) 2020-10-12

ورلڈ بینک کی تازہ رپورٹ میں ایشیائی ممالک کی معیشت پر کورونا وائرس کے جن منفی اثرات کا جائزہ پیش کیا گیا ہے اس سے پاکستان کی معیشت کو درپیش خطرات کا اندازہ بھی ہوجاتا ہے۔ ”ساؤتھ ایشیا اکنامک فوکس“ رپورٹ کے مطابق 2021ء میں ملک کی اقتصادی شرح نمو 0.5 فیصد رہنے کا امکان ہے، جبکہ پچھلے تین برس کے دوران یہ اوسط چار فیصد رہی۔ رپورٹ میں ہوش ربا مہنگائی کا ذکر بھی کیا گیا جو مالی سال 2019ء میں اوسطاً 6.8 فیصد سے بڑھ کر سال 2020ء میں اوسطاً 10.7 فیصد تک پہنچ گئی۔ مہنگائی کی بلند شرح میں خوراک اور توانائی کی مہنگائی کا بنیادی کردار ہے۔ اس صورتحال میں جب مستقبل قریب میں نمو کا بظاہر کوئی امکان نظر نہیں آتا، حکومت کے معاشی منیجرز کے لیے صورتحال کو سنبھالنا کسی بڑے امتحان سے کم نہیں۔ آسانی کا بظاہر ایک راستہ یہ ہوسکتا ہے کہ صنعت کا پہیہ تیز چلانے کی کوشش کی جائے۔ حکومت کی جانب سے اس سلسلے میں تعمیراتی صنعت پر توجہ دی گئی ہے۔ چونکہ تعمیراتی صنعت کے ساتھ قریب دو درجن صنعتوں کے متحرک ہونے کا اندازہ لگایا جاتا ہے، اس لیے کہا جا سکتا ہے حکومت کا یہ فیصلہ خوش آئند ہے،بشر طیکہ اس پہ عمل کیا جا ئے۔تا ہم یہا ں لوگوں کی مالی دشواریوں کا ذکر کر نا ضر وری ہے۔ کیو نکہ اْن کی ما لی د شو ا ریا ں تعمیراتی صنعت کی تیزی میں ایک رکاوٹ ہیں۔ ان حالات میں جب لوگوں کے کاروبار متاثر ہیں، بہت سی ملازمتیں ختم ہوچکی ہیں، لوگ محض خواہش کے بل بوتے پر گھروں کی تعمیر شروع نہیں کرسکتے، اس لیے حکومت کو کچھ ایسے اسباب پید اکرنے میں دلچسپی لینا ہوگی جو فنانس کے مسائل کو آسانی سے حل کرنے میں مدد دے سکیں۔ جیسا کہ بینکوں سے فنانس کی سہولیات۔ جب تک فنانشل سہولیات موجود نہیں ہوں گی حکومت کی جانب سے تعمیراتی صنعت کے لیے مراعات کے باوجود اس میں وہ اُبھار نہیں آسکے گا جو معیشت میں تیزی لاسکے۔ اشیائے خورد و نوش کی مہنگائی کا مسئلہ بھی عوام کے لیے سخت تشویش کا باعث ہے اور غربت کے اضافے میں بنیادی عنصر کے طور پر کام کرتاہے۔ مگر یہ باعث افسوس حقیقت ہے کہ حکومت اس جانب کوئی توجہ نہیں دے رہی۔ اگر خوراک کی مہنگائی کے معاملے میں ہم حکومت کے اقدامات کو گننا چاہیں تو ”سخت نوٹس لینے“ یا ”گراں فروشوں کے خلاف کارروائی“ کے بیانات کے سوا کچھ نہیں ملتا۔ حکومت نے جتنا وقت اس معاملے کو ٹالنے یا دبانے میں صرف کردیا ہے، اگر یہی وقت دانشمندانہ اقدامات میں صرف کیا جاتا تو یقینا خوراک کی قیمتوں میں توازن پیدا کیا جاسکتا 

ہے۔ منڈیوں کے معاملات کو درست کرنے اور سرکاری نرخ نامے پر عمل کروانے کے لیے ضروری ہے کہ حکومت ملک میں سبزیوں اور اناج کی پیداوار بڑھانے کے منصوبوں پر توجہ دے۔ واقعہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں ایک عام آدمی کا سب سے بڑا مسئلہ یہی ہے کہ اس کے وسائل آمدنی پر خوراک کے اخراجات کا بوجھ تیزی سے بڑھتا جارہا ہے۔ لوگوں کے چھوٹے کاروبار، جو چھوٹے سرمائے اور حکومتی سرپرستی سے رواں ہوسکتے ہیں، جمود کا شکار ہیں اور گھریلو صنعتوں کا برا حال ہے۔ اگرچہ ورلڈ بینک اس معاشی صورتحال کا ذمہ دار کووڈ 19 کو قرار دیتا ہے، مگر ہمیں اس جواز کو اپنی کوتاہیوں کی پردہ پوشی کے لیے استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ شاید یہ سمجھنا غلط نہ ہوکہ ہماری معیشت کو اتنا نقصان کووڈ سے نہیں پہنچا جتنا ہماری منصوبہ بندی اور فیصلہ سازی کی ناکامیوں سے ہوا، کیونکہ لاک ڈاؤن کی پابندیاں تو ہمارے ہاں دیگر دنیا کے مقابلے میں بہت کم عرصے کے لیے 

تھیں۔ آنے والے کم از کم دو برسوں کے لیے غربت میں اضافے کا جو عندیہ اس رپورٹ میں دیا گیا ہے، حکومت کو اس پر الرٹ ہوجانا چاہیے۔ حکمران جماعت اور اتحادیوں کیلئے یہ بہت اہم وقت ہوگا۔ غربت میں اضافہ جاری رہا، مہنگائی پر قابو نہ پایا جاسکا اور سماجی بے یقینی اور بددلی بڑھتی گئی تو اس کے نتائج اچھے نہ ہوں گے۔

تاہم وطنِ عز یز میں مہنگا ئی کو جلد ختم کر نے کے اعلانا ت تو با ر با ر کیئے جا تے ہیں،اور نا جا ئز منا فع خو روں کو حکو مت کی جا نب سے سخت سے سخت سزا دینے کی دھمکیا ں دینے کا عمل بھی مسلسل جا ری ہے۔مگر افسو س اس پہ عمل ایک با ر بھی نہ ہو سکا۔ چنا نچہ اب یہ عا لم ہے کہ کو ئی بھی سبز ی سو روپے کلو سے کم پہ دستیا ب نہیں مثلاً پند رہ رو پے کلو ملنے والا ٹما ٹر ایک سو اسی رو پے کلو مل رہا ہے۔ اور ابھی جبکہ سر دیا ں آ ئی بھی نہیں ہیں، انڈے ایک سو چھپن رو پے فی در جن بِک ر ہے ہیں۔ یہ صورتحال بلاتفر یق پو رے ملک کی ہے۔ہما رے معزز ارکان اسمبلی اندرون سندھ، اندرون پنجاب، بلوچستان، فاٹا اور سرحد کے علاقوں سے منتخب ہوکر آتے ہیں۔ یہ لوگ اپنی اپنی پارٹیوں کے لیے کٹ مرنے کا اسمبلی کے فلور پر یقین تو دلارہے ہوتے ہیں مگر اپنے حلقوں کی معاشی زبوں حالی کی تصویر کشی کبھی پیش نہیں کرتے۔ چھوٹے چھوٹے قصبوں اور دیہاتوں کو تو ایک طرف رکھیئے، بڑے شہروں کے عوام بھی کھانے کے گھٹیا معیار سے جانتے بوجھتے سمجھوتہ کرنے پہ مجبور ہیں۔ چند سال پہلے ایک ایماندار اور محنتی بیوروکریٹ خاتون نے ہوٹلز اور ریسٹورنٹس میں کھانے کے معیار کو بہتر کرنے کا بیڑہ اٹھایا تھا، مگر وہ یہ کار خیر جاری نہ رکھ سکی۔ اس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ حفظانِ صحت کے اصولوں کو پوری طرح لاگو کرنے کی صورت میں کھانے کی تیاری میں پیش آنے والے اخراجات بڑھ جاتے اور عوام کی جیب اسے برداشت کرنے سے قاصر ہوجاتی۔ اب خاموشی سے جانتے بوجھتے نہ صرف غیر معیاری، بلکہ صحت کے لیے مضر کھانوں پہ سمجھوتہ کرلیا گیا ہے۔اب ذرا جنوبی پنجاب، تھر، سرحد اور سندھ کے اندرونی علاقوں میں جا کر ملاحظہ کریں۔ لوگ کھلے عام ننگے پیروں گھوم پھر رہے ہوتے ہیں۔ اس لیے کہ ایک جوتا تک خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ اگر جوتا ہوتا ہے تو انہوں نے اسے پلاسٹک کے لفافے میں ڈال کر گھسنے سے بچانے کے لیے بغل میں دبایا ہوتا ہے۔ مگر اسی ملک کے حکو متی اکا بر ین پوری قوم کو زرمبادلہ کے ذخائر تاریخ کی بلند ترین سطح پہ پہنچ جانے کی نوید سناتے نہیں تھکتے۔ پھر انہیں یقین دلاتے ہیں کہ ان کی غربت کے دن بس کل تک ختم ہوجائیں گے۔وہ کہتے ہیں کہ حکو مت کی جا نب سے کیئے گئے اقدا ما ت ان کے ہر دن کو روز عید اور ہر رات کو شب برات میں تبدیل کرد یں گے۔ان کے اس دعو یٰ پہ رو نا تو آ تا ہی آ تا ہے، مگر سا تھ ہی ہنسی بھی آ تی ہے!


ای پیپر