نگورنو کاراباخ، نئے علاقائی آرڈر کی جانب قدم
12 اکتوبر 2020 (12:24) 2020-10-12

ماسکو مذاکرات میں آذربائیجان اور آرمینیا نے جنگ بندی پر اتفاق کر لیا ہے۔ اس جنگ کے حوالے سے اب تک صرف یہ بات واضح ہے کہ اس کی سب سے بڑی گونج نئے علاقائی فریم ورک کی صورت میں سامنے آئے گی، علاقائی تنازعات سے نمٹنے کیلئے اس پر کام جاری ہے۔ 1990ء کے دہائی سے نگورنو کاراباخ تنازعے کا بات چیت کے ذریعے حل کرنے کا معاملہ منسک گروپ میں پھنسا ہوا ہے، یورو اٹلانٹک فریم ورک جس میں روس اور ترکی بھی شامل ہیں، کئی اجلاسوں کے باوجود قابل ذکر نتائج دینے میں ناکام رہاجس نے آذربائیجان میں اس تاثر کو تقویت دی کہ منسک گروپ نگورنو کاراباخ کا تنازع موثر طور پر حل نہیں کر سکتا۔

نگورنو کاراباخ کی لڑائی پر روس اور ترکی کے سرکاری ردعمل کا جائزہ اس بات کا اشارہ دیتا ہے کہ علاقائی تنازعات کے حل کے فریم ورک میں تبدیلی قریب ہے، کیونکہ ترکی جانب سے آذربائیجان کی کھل کا حمایت اور فوجی موجودگی کے برعکس روسی ردعمل زبانی جمع خرچ سے زیادہ کچھ نہ تھا، جس میں وہ دونوں فریقین پر تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیتا رہا۔ اس روسی ردعمل سے صرف یہ تاثر زائل ہوا کہ وہ آرمینیا کا سٹریٹجک اتحادی ہے۔ مزید براں، ایک ایسے خطے میں ترکی کی براہ راست فوجی مداخلت جیسے روس اپنے دائرہ اثر کا لازمی حصہ قرار دیتا ہے، سے ظاہر ہوتا ہے کہ خارجہ پالیسی کے مختلف محاذوں پر انقرہ اور ماسکو ایک دوسرے کے قریب آ رہے ہیں۔ شام اور لیبیا کی خانہ جنگی میں دونوں ملکوں کا موقف ایک دوسرے کے برعکس ہے، مگرکئی معاملات میں دونوں کے مفادات مشترک ہیں، جیسے کہ مغربی حتیٰ کہ نیٹو اتحاد سے فاصلے رکھنا وغیرہ۔ ماسکو کے رویئے میں اس تبدیلی کو پریماکوف ڈاکٹرائن بحال کرنے کی کوشش قرار دیا جا سکتا ہے جس میں اس بات پر زور دیا گیا ہیکہ روس کو امریکی غلبے سے نمٹنے کیلئے علاقائی اتحاد تشکیل دینے چاہئیں۔

بعض حلقوں کی نظر میں نگورنو کاراباخ جیسے مسئلے کا دوبارہ چھڑنا دراصل خطہ کوہ قاف میں ماسکو اور انقرہ کی پرانی پراکسی لڑائیوں کے نئے باب کا نقطہ آغاز ہے۔ مگر باریک بینی سے جائزہ بتاتا ہے کہ دراصل دونوں خطے میں اپنے اثرورسوخ کو منوانے کیلئے مل کر کام کر رہے ہیں، تاکہ اس معاملے میں مغربی طاقتوں کو کوئی موقع نہ ملے۔مغرب سے متعلق مخاصمانہ موقف کے علاوہ ترکی اور روس نے دوطرفہ تعاون میں اضافے کیلئے گزشتہ چند سالوں کے دوران خطے میں رونما ہونیوالے مختلف واقعات اپنے حق میں استعمال کئے، جس میں سرفہرست جنوبی کوہ قاف کے معاملات ہیں۔یوں امریکی خارجہ پالیسی کی تنہائی، خطے میں یورپی ممالک کی عدم دلچسپی اور کووڈ 19 جیسی عالمی وبا جس کی وجہ سے تمام ممالک نے اپنی توجہ صحت کے داخلی مسئلے پر مرکوز کر رکھی ہے، ان تمام عوامل نے روس اور ترکی کو موقع دیا کہ وہ نگورنو کاراباخ کے مسئلے کو منسک عمل کی ٹوکری سے نکال کر اسے علاقائی سطح کی کوششوں کا حصہ بنا دیں۔ کثیر جہتی منسک عمل کے بجائے نگورنو کاراباخ کے تنازعے کو علاقائی سطح پر لانے کے دوررس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ اس سلسلے میں روس کی ”انتظار کرو اور دیکھو“ پالیسی اس صورت میں کارآمد ثابت ہو سکتی ہے کہ آذربائیجان اور آرمینیا دونوں خود کو ایسی صورتحال میں پائیں جس میں وہ کچھ نہ کچھ فتح کے دعویدار بھی ہوں اور مزید فوجی کارروائیوں سے بھی دور رہیں۔

اس منظرنامے میں روس آرمینیا اور آذربائیجان دونوں پر اپنی جنگ بندی کی شرائط قبول کرنے کیلئے ہر ممکن دباؤ ڈال سکتا ہے، متنازعہ علاقے میں روسی امن فورس کی تعیناتی مجوزہ شرائط کا حصہ ہو سکتی ہے۔اس منزل کے حصول کیلئے چار روز قبل روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے اعلان کیا کہ ماسکو جنگ بندی اور تنازعے کے حل پرمذاکرات کیلئے آرمینیا اور آذربائیجان کی میزبانی کرنے کا تیار ہے،یہ مذاکرات منسک گروپ کے فریم ورک کے تحت بھی ہو سکتے ہیں۔ روس کی جانب سے یکطرفہ طور پر تنازعے کے ممکنہ حل کو انقرہ کے حوالے سے دیکھا جائے تواس کا ترکش حکومت دو حوالوں سے فائدہ اٹھا سکتی ہے، یعنی صدر طیب اردگان فوجی اور سفارتی فتح کے علاوہ آذربائیجان کے سرپرست ملک کی حیثیت مزید مضبوط بنانے کا دعویٰ کر سکتے ہیں۔ 

سکیورٹی کونسل کے اصرار کے باوجودمنسک گروپ کو نظر انداز کرنے کا مطلب ہے کہ روس اور ترکی اپنے حلقہ اثر میں مغرب کو ایک فریق سمجھنے کیلئے تیار نہیں۔ اسے حسن اتفاق کا نام دیا جائے یا کچھ اور، دونوں علاقائی طاقتیں خطے میں سلامتی کی اپنی حکمت عملی کی تعریف اور اس پر عمل درآمد چاہتے ہیں، مغرب کے علامتی اور نیم دلی کیساتھ کئے گئے اعتراضات کو دونوں اہمیت دینے کیلئے تیار نہیں۔

(اسبد کوچکیان، بشکریہ الجزیرہ)


ای پیپر