file photo

چین کشمیریوں کو خصوصی حیثیت دلائے گا، فاروق عبداللہ
12 اکتوبر 2020 (10:23) 2020-10-12

سرینگر: مقبوضہ جموں وکشمیر کے سابق وزیراعلیٰ فاروق عبداللہ نے امید ظاہر کی ہے کہ چین آرٹیکل 370 کو بحال کرکے کشمیریوں کو خصوصی حیثیت دلائے گا۔

خیال رہے کہ سابق وزیراعلیٰ سمیت دیگر سیاسی رہنما بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے 5 اگست 2019 کے اقدام کو یکسر مسترد کر چکے ہیں۔

یاد رہے کہ 5 اگست 2019ء کو بھارت نے مقبوضہ جموں وکشمیر میں کرفیو نافذ کر دیا تھا۔ پارلیمنٹ سے آرٹیکل 370 اور 35 اے کو ختم کرکے کشمیر کو تقسیم کرنے کا فارمولا پیش کیا اور قرارداد اکثریت کی بنیاد پر منظور کر لی گئی تھی۔ بھارتی صدر نے آرٹیکل 370 اور 35 اے کے خاتمے کے لیے آرڈیننس پر دستخط کیے تھے تاہم اس کا نفاذ گزشتہ سال ہی اکتوبر میں کر دیا گیا تھا جس کے بعد کشمیر کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔ 30 اکتوبر رات 12 بجے سے بھارتی حکومت کے احکامات پر عمل درآمد کا آغاز ہو گیا تھا جس کے ساتھ مقبوضہ جموں و کشمیر 2 وفاقی اکائیوں میں تبدیل ہو گیا جس میں ایک مقبوضہ جموں وکشمیر اور دوسرا لداخ کا علاقہ شامل ہے۔ بھارتی حکومت نے احتجاج کے پیش نظر مقبوضہ وادی میں اضافی فوجی اور پیراملٹری فورسز تعینات کردی تھی، جبکہ گزشتہ ایک برس کے دوران سیکڑوں کشمیریوں کو قتل کیا گیا۔

اب مقبوضہ جموں وکشمیر کے سابق وزیراعلیٰ فاروق عبداللہ نے اپنے ایک اہم بیان میں کہا ہے کہ ہر کشمیری یہ یقین رکھتا ہے کہ نئے ڈومیسائل قوانین ہندو اکثریت کو خطے میں بڑھانے کے لیے ہیں۔ کشمیریوں اور باقی بھارت کے درمیان جو خلا پہلے سے تھا اب مزید بڑھتا جا رہا ہے۔ بی جے پی کا یہ دعویٰ کرنا کہ کشمیری عوام نے اگست 2019ء میں کی جانے والی اس ترمیم کو مان لیا ہے اور کوئی احتجاج نہیں ہوا یہ مکمل بکواس ہے۔

مقبوضہ جموں و کشمیر کے بھارت کے ساتھ الحاق اور لداخ میں کی گئیں تبدیلیوں کی وجہ سے چین پہلے ہی غصے میں ہے۔ کچھ عرصہ قبل انہوں نے ایک بیان دیا تھا کہ کشمیری خود کو بھارتی شہری نہیں سمجھتے اور نہ ہی وہ بھارتی شہری بننا چاہتے ہیں، وہ غلام ہیں اور چاہیں گے کہ چین حکمرانی کرے۔

اب حالیہ بیان میں انہوں نے کہا ہے کہ 5 اگست 2019ء کو جو کچھ ہوا وہ ناقابل قبول ہے اور مجھے جموں و کشمیر کے مسائل پر پارلیمنٹ میں بولنے کی اجازت نہیں ہے۔ چین نے مقبوضہ جموں و کشمیر سے متعلق آرٹیکل 370 کی منسوخی کو تسلیم نہیں کیا اور امید ہے کہ چین کی مدد سے اس کو بحال کریں گے۔ جو کچھ وہ لائن آف ایکچوئیل کنٹرول میں کر رہے ہیں، وہ سب آرٹیکل 370 کی وجہ سے ہے کیونکہ انہوں نے اس کو تسلیم نہیں کیا۔ مجھے امید ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں ان کی مدد سے آرٹیکل 370 بحال ہوگا۔


ای پیپر