کامیابی کا انحصار……!
12 اکتوبر 2020 (09:21) 2020-10-12

پرسوں جمعہ کے روز وزیراعظم عمران خان اپنی حکومت کے مخالف اور نوزائیدہ سیاسی اتحاد کے خلاف کھل کر سامنے آئے…… تاثر دیا انہوں نے چیلنج قبول کر لیا ہے…… ڈٹ کر مقابلہ کریں گے…… اپوزیشن لیڈروں کو متنبہ کیا کسی غلط فہمی میں نہ رہیں …… اگر انہوں نے جلسوں اور جلوسوں کے دوران قانون کی خلاف ورزی کی تو جیل میں پھینک دیئے جائیں گے…… جہاں کسی قسم کی خصوصی مراعات (وی آئی پی)نہیں دی جائیں گی…… عام قیدیوں کا سا سلوک ہو گا…… خان بہادر وزیراعظم نے اپنی جماعت کی وکلاء تنظیم کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے شدید غصے کے عالم میں مخالفین پر تابڑ توڑ حملے کئے…… ان کے اندر پایا جانے والا اضطراب چہرے پر نمایاں تھا…… اسی سانس میں اعلان کر ڈالا جمہوریت میں ہوں اپوزیشن ڈاکوؤں کا ٹولہ……برملا کہا فوج اور ریاستی ایجنسیاں پوری طرح ان کے ساتھ ہیں …… وجہ اس کی یہ ہے فوج اور ایجنسیوں سے کسی سیاستدان کی کرپشن چھپی نہیں رہتی…… میرے بارے میں چونکہ انہیں یقین ہے کرپٹ نہیں ہوں اس لئے مجھے ان کی پشت پناہی حاصل ہے…… گویا کہہ رہے ہوں فوج کی موجودگی میں مجھے ڈر یا خطرہ کس بات کا…… زعیم حزب اختلاف اور سابق وزیراعظم نوازشریف کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نواز دور کے ڈی جی ’آئی ایس آئی‘ جنرل ظہیر الاسلام نے ان سے استعفیٰ اس لئے طلب کیا کہ نوازشریف کا بدعنوان ہونا ان کے علم میں تھا…… فوج اور ایجنسیاں کرپٹ آدمی کو پسند نہیں کرتیں لہٰذا جنرل ظہیرالاسلام نے ان سے استعفیٰ طلب کر لیا…… نوازشریف کو بقول عمران خان جواب دینے کی جرأت نہ ہوئی…… جبکہ مجھ سے میری شفافیت کی وجہ سے کوئی مستعفی ہونے کے لئے کہہ نہیں سکتا…… جواب میں اپنا بھرپور مؤقف پیش کرنے میں چوٹی کے اپوزیشن لیڈروں نے بھی لمحہ بھر کی تاخیر نہیں کی…… پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو مسلم لیگ (ن) کے نواز اور شہباز کے بعد سب سے سینئر لیڈر اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور نوازشریف و مریم کے ترجمان سابق گورنر سندھ محمد زبیر نے اپنی اپنی جگہ پریس کانفرنس یا ٹیلی ویژن پروگراموں میں جو مؤقف پیش کیا اس کا خلاصہ یہ ہے فوج کا یہ کام ہرگز نہیں وہ سیاستدانوں کی کرپشن کی چھان بین کرے…… اس کی ذمہ داری سرحدوں کا تحفظ اور بھرپور دفاع ہے لہٰذا اسے اپنی توجہات اسی آئینی فریضے پر مرکوز رکھنی چاہئیں …… نہ آئی ایس آئی کو مینڈیٹ حاصل ہے کہ وہ اپنی سرگرمیاں بدعنوانیوں کا سراغ لگانے پر صرف کرے…… یہ ذمہ داری نیب، ایف آئی اے اور دوسرے ریاستی اداروں کی ہے…… ڈی جی ’آئی ایس آئی‘ کو اس کا اختیار بھی حاصل نہیں کہ وہ وزیراعظم سے استعفیٰ طلب کرے…… یہ آئینی حدود سے تجاوز اور پیشہ وارانہ مینڈیٹ کی خلاف ورزی ہے…… ہماری جدوجہد کا ماحصل ہی یہ ہے تمام اداروں کو اپنی آئینی حدود کی پابندی کرنی چاہئے…… ہماری ساری جنگ اسی نکتے پر ہے آئین کی بالادستی کو تسلیم کیا جائے اس کے تحت کوئی ادارہ یا اس کا عہدیدار سختی کے ساتھ طے شدہ دائرہ کار کے اندر رہتے ہوئے فرائض ادا کرے…… شاہد خاقان عباسی نے مزید کہا جیل کی دھمکیاں دینا بزدل آدمی کی آخری آواز ہے…… یوں گزشتہ جمعہ کی سہ پہر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان پہلے سے گرم شدہ ماحول کے شعلوں کو مزید ہوا دینے کا باعث بن گئی…… زوردار مباحثہ ہوا اور یوں کہئے پی ڈی ایم کی تحریک باقاعدہ شروع نہیں ہوئی کہ فریقین ایک دوسرے کے سامنے آن کھڑے ہوئے ہیں …… محاذ آرائی یا تصادم پورے جوش کے ساتھ جنم لیتا نظر آ رہا ہے…… وزیراعظم عمران خان کا سارا بھروسہ موصوف کو ان کے یقین اور اعتماد کے مطابق فوج اور ایجنسیوں جیسے طاقت ور ریاستی اداروں پر ہے…… جبکہ اپوزیشن والے سمجھتے ہیں وہ باہر نکلے تو عوام کا اتنا بڑا ریلا ساتھ ہو گا کہ سب کچھ بہا کر لے جائے گا……

گزشتہ 20 ستمبر کو منعقدہ ’اے پی سی‘ جس میں ملک بھر سے تعلق رکھنے والی اپوزیشن جماعتوں کے قائدین نے شرکت کی…… اس میں لندن سے تین مرتبہ منتخب ہونے والے اور اتنی بار مقتدر قوتوں کے ہاتھوں برطرف شدہ وزیراعظم کی ویڈیو لنک کے ذریعے جملہ ایوان ہائے اقتدار اور حکومت کے اندر زلزلے کی سی کیفیت پیدا کرنے والی تقریر نے آن 

واحد میں ملکی سیاست کا رُخ بدل کر رکھ دیا…… اسی اجلاس کی کوکھ سے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے اتحاد نے جنم لیا…… زوردار قسم کا اعلامیہ جاری ہوا…… ملک بھر میں مشترکہ جلسوں اور جلوسوں کے انعقاد کا فیصلہ کیا گیا…… خیال کیا جا رہا ہے مولانا فضل الرحمن کی زبردست سٹریٹ پاور اور مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کا اسٹیبلشمنٹ مخالف زوردار بیانیہ دو آتشیں کا کام دیں گے…… جبکہ عوام کی زندگیوں کو جیتے جی جہنم زار میں پھینک دینے والی مہنگائی اور بے روزگاری جلتی پر تیل ثابت ہو گی…… ہر جلسے کے اندر اپوزیشن لیڈروں کی توقعات اور کئی ایک غیرجانبدار مبصرین کے اندازوں کے مطابق عوام کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر حکومت کو لڑکھڑا کر رکھ دے گا…… کوئی بڑا یا چھوٹا سہارا کام نہ آئے گا…… لیکن کیا واقعی ایسا ہو گا…… حکومت مخالف جماعتیں آئندہ ماہ مارچ میں سینٹ کے انتخابات سے پہلے اپنا ہدف حاصل کر پائیں گی…… اس کا انحصار ایک نہیں کئی عوامل پر ہوگا……

عوام کی بڑی اور متاثرکن تعداد تو شائد حزب مخالف کے لیڈروں کے ساتھ آن کھڑی ہو…… یہاں تک کہ حکومتی وزراء اور مشیران بھی خائف ہیں کل ہفتہ کے روز تین وفاقی وزراء نے یکے بعد دیگرے اپوزیشن سے اپیل کی کہ کورونا کے ڈر سے یا کسی اَن دیکھے خطرے کے پیش نظر جلسے زیادہ نہیں تو تین ماہ کے لئے ملتوی کر دے چنانچہ یقین کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ ملک کی سیاسی فضا آئندہ جمعہ 16 اکتوبر کو گوجرانوالہ میں منعقد ہونے والے زبردست عوامی اجتماع کے بعد بدلنا شروع ہو جائے گی…… لیکن اس کے آگے بہت سی مشکلات آئیں گی اور رکاوٹیں کھڑی ہوں گی…… مقتدر طبقوں کی جانب سے کئی نئی نظر اور نہ نظر آنے والی تدابیر رو بہ عمل آ جائیں گی…… جن سے اعلیٰ درجے کی دوراندیشی، کامیابی اور مدبرانہ حوصلے کے ساتھ نبردآزما ہونے میں اس تحریک کی کامیابی کا راز مضمر ہے…… یہ تحریک اپنے پروگرام یا حتمی نصب العین اور اٹھان کے لحاظ سے ماقبل سیاسی تحریکوں سے مختلف ہو گی…… اگر کامیابی سے چل پڑی تو پہلی تحریک ہو گی جو نہ صرف موجودہ وزیراعظم اور ان کی حکومت کا تختہ جنہیں وہ سلیکٹڈ کہتی ہے اُلٹا کر رکھ دینے کا عزم رکھتی ہے بلکہ نہایت درجہ طاقتور ریاستی اداروں کو بھی آئین کی بالادستی کو عملاً تسلیم کرتے ہوئے انہیں اپنی جائز حدود کی پابندی پر مجبور کرنا چاہتی ہے…… جو ظاہر ہے آسان کام نہیں بلکہ اس راہ میں ایک نہیں کئی آزمائشوں کا سامنا کرنا ہوگا…… جن سے عہدہ برآ ہونے کے لئے کہیں زیادہ اور پختہ تر باہمی اتحاد، مضبوط مشترکہ لائحہ عمل کے ساتھ ہر ہر موڑ پر پوری پامردی کے ساتھ جم کر کھڑا رہنے کی ضرورت ہو گی…… ماضی میں جو سیاسی تحریکیں ہمارے یہاں چلیں ان کا نشانہ سامنے نظر آنے والی حکمران شخصیت ہوتی تھی…… اتحاد ان ادوار میں بھی بنے مگر جب جنرل ایوب نے اپنے استعفے کا اعلان کیا تو یوں سمجھا گیا ہدف حاصل کر لیا گیا ہے…… اتحاد بکھر کر رہ گیا…… نئے اور ہماری تاریخ کے دوسرے مارشل لاء نے اپنے پنجے گاڑھ لئے…… بھٹو کے خلاف اٹھنے والی پاکستان قومی اتحاد کی ملک گیر تحریک کی منزل اگرچہ شفاف ترین اور غیرجانبدارانہ انتخاب کا انعقاد یقینی بنانا تھا…… لیکن عین آخری منزل تک پہنچتے پہنچتے قومی اتحاد کے اندر پھوٹ کے آثار نمایاں ہو گئے…… بھٹو کی گردن کو تیسرے مارشل لاء نے آن دبوچا…… یوں سمجھا گیا کہ مقصد حاصل ہو گیا ہے…… مٹھائیاں تقسیم ہوئیں …… نئے چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر نے نوّے روز کے اندر انتخابات کا وعدہ کیا…… وہ مگر طاقتوروں کانمائندہ تھا…… منحرف ہونے میں دیر نہ لگی…… بھٹو کو تختہ دار پر لٹکا دیا گیا…… شفاف اور آزادانہ انتخابات کا انعقاد خواب شرمندہ تعبیر نہ ہوا…… نوازشریف کے خلاف عمران جمع طاہرالقادری کے دھرنوں کا ایک ہی نعرہ تھا ”گو نواز گو“…… دھرنوں سے کچھ حاصل نہ ہوا تو پہلے پانامہ کے الزامات اور پھر اقامہ جیسے کھوکھلے اور بے معنی ”جرم“ کا مرتکب قرار دے کر عدالت عظمیٰ کے فیصلے کے ذریعے برطرف کرایا گیا…… 

بعدازاں 2018 میں جو انتخابات ہوئے ان کے نتیجے میں پروٹوکول والی حکومت عمران کی جھولی میں ڈال دی گئی اصل اقتدار ہمیشہ کی مانند غیرآئینی قوتوں کے پاس چلا گیا…… آج جو اپوزیشن یہ دعویٰ لے کر سامنے آئی ہے اور نوازشریف کی 20 ستمبر والی تقریر نے اس دعوے کو جلا بخشی ہے کہ وہ خرابی کی اصل جڑ کو اکھاڑ پھینکیں گے…… ان کی اصل لڑائی عمران نہیں اس غیرآئینی اور غیرجمہوری نظام سے ہے جو اس طرح کی حکومتیں قوم کے سروں پر مسلط کرتا ہے…… تو لازم بلکہ اشد لازم ہے ماضی کے تجربات سے سبق سیکھا جائے…… سینٹ کے انتخاب سے قبل استعفے دینے ہیں یا عدم اعتماد کا لائحہ عمل اختیار کرنا ہے (جو ہمیشہ ناکام ہوا ہے) اسے پوری یکسوئی اور کامل یکجہتی کے ساتھ طے کر کے ڈٹ کر کھڑا ہونا چاہئے…… چونکہ نشانہ عمران کے علاوہ طاقتور اور بارسوخ اسٹیبلشمنٹ بھی ہے…… لہٰذا اس کی جانب سے ’پی ڈی ایم‘ کے اتحاد میں پھوٹ ڈلانے کی ہرممکن کوشش کی جائے گی…… اپوزیشن کی قیادت ”اوپر“ والوں کے اس حملے سے کس طرح بچ کر نکلتی ہے اسی میں اس کی اصل آزمائش ہو گی…… عمران خان کو کرسی اقتدار سے نیچے اتار پھینکنا آسان (اگر عوام پی ڈی ایم کا بھرپور ساتھ دینے کے لئے تیار ہو گئے) مگر وہ جو اس سرزمین کے ناخدا بنے بیٹھے ہیں انہیں آئینی حدود کا پابند کرنا سخت مشکل ہو گا…… مقتدر قوتوں جمع عمران حکومت کو شفاف ترین آزادانہ انتخابات کے انعقاد کے قابل عمل سمجھوتے پر آمادہ کرنا اور صحیح معنوں میں انتقال اقتدار کو ممکن بنانا اصل منزل کے حصول کی راہ میں مؤثر اور نتیجہ خیز اقدام ہو گا…… یہی ’پی ڈی ایم‘ کی تحریک کا مطمع نظر ہونا چاہئے نہ کہ محض ایک فرد کو وزیراعظم ہاؤس سے نکال پھینکنا…… مگر یہ جان جوکھوں کا کام اور شیر کے منہ سے نوالہ چھین لینے کے مترادف ہو گا…… جسے سرانجام دے کر پی ڈی ایم ملک کی پہلی کامیاب ترین تحریک کا سہرا اپنے ماتھے پر سجائے گی…… تاہم اس کے لئے اعلیٰ درجے کی حکمت عملی گہرے غوروفکر کے بعد تیارکردہ لائحہ عمل اور قدم قدم پر پیش آنے والی مشکلات اور رکاوٹوں کا مکمل ادراک کر کے انہیں دور کرنے والی مؤثر تدابیر کام میں لانا ہوں گی…… اسی میں نوازشریف، آصف جمع بلاول زرداری اور مولانا فضل الرحمن کا قوم اور تاریخ دونوں  کے سامنے حقیقی  طور پر سرخرو ہونے کا راز پنہاں ہے……


ای پیپر