جو عقل کا غلام ہو وہ دل نہ کر قبول
12 اکتوبر 2020 (09:15) 2020-10-12

موجودہ دور صرف ایٹمی دھماکوں کا دور نہیں بلکہ علم کے نت نئے دھماکوں، علم کی دھوم دھام، رعب داب اور حکمرانی کا دور ہے۔ اشاعت علم ہمہ نوع ہے۔ سائنسی علوم، دانشوریاں، فلسفہ ہائے زندگی۔ ہر کہ ومہ سقراط بقراط بنا بیٹھا ہے۔ اقبال کے دور میں ہندوستان پر انگریز کی حکمرانی میں اس علم وہنر نے بڑے بڑوں کی آنکھیں چندھیا، دھندلا رکھی تھیں۔ مسلمان صرف بندوق سے مسخر نہیں ہوا، اسے علمی، فکری مار دے کر بھی زیر کیا گیا۔    ؎

آیا ہے مگر اس سے عقیدوں میں تزلزل

دنیا تو ملی، طائرِ دیں کر گیا پرواز

 دنیاوی تعلیم کا سحر پھونک کر فرنگی نے چپکے سے مسلمان کی متاع ایمان چرالی۔ اس دور کے علماء و مشاہیر اس کے مرثیے پڑھتے رہے۔ اقبال اور اکبرالہ آبادی نے ہر رنگ میں یہ مضمون باندھا مسلمانوں کو باور کروانے کے لیے کہ وہ کیا پاکر کیا کھو رہے ہیں۔    ؎ 

محسوس پر بناء ہے علوم جدید کی

اس دور میں ہے شیشہ عقائد کا پاش پاش

 مگر تمام تر انتباہ کے باوجود تقاضائے شکم اتنے بلند آہنگ تھے کہ جب انتخاب کا یہ مرحلہ آیا کہ: فیصلہ تیرا ترے ہاتھوں میں ہے دل یا شکم، تو فیصلہ شکم کے حق میں ہوا۔ بے خدا عصری علوم چھا گئے۔ دل خود ہی حکمرانی کی مسند سے رضاکارانہ دستبردار ہوگیا۔ دل کی دھڑکنیں بھی شکم کو منتقل ہوگئیں جو دانہ د نکا، چارہ دیکھ کر بڑے بڑے فیصلے کرتا ہے! جو فصل ایک صدی پہلے کاشت ہوئی، اس کے جھاڑ جھنکار آج دیکھے جاسکتے ہیں۔ جو علم ہمیں بیچا گیا وہ زندگی کی حرارت، خیال بلند سے عاری بندہئ درہم ودینار بنا دینے والا علم تھا۔ اقبال نے اسے خوب برتا، جانچا، پرکھا اور کہا: یورپ میں بہت روشنیئ علم وہنر ہے، حق یہ ہے کہ بے چشمہ حیواں ہے یہ ظلمات! اور یہ بھی کہ: تیرے محیط میں کہیں جوہر زندگی نہیں، ڈھونڈ چکا میں موج موج، دیکھ چکا صدف صدف۔ یعنی یہ علم زندگی سے محروم ہے۔ 

اقبال نے قرآن سے جو روشنی مستعار لے کر لکھا، اس نے ان کے کلام کو دوام عطا کیا۔ موازنہ موجودہ علم وہنر کی مصنوعی روشنی کا وحیئ الٰہی اور سراج منیرؐ کے حیات بخش نور سے کر دیکھیئے۔ واللہ یہ موجودہ علمی غلغلے (مغرب کی تہذیبی مماثلث میں) بحر مردار کی مانند ہیں۔ بحر مردار! زندگی سے محروم، تکذیبِ حق کی مجرم، (قوم مجرمین) اخلاق کی اسفل ترین گراوٹ میں مبتلا قوم پر چھا جانے والے عذاب کی علامت ہے۔ جس طرح وہ سطح سمندر سے 1300 فٹ نیچے ہے۔ دریائے اردن سے جو پانی اس میں مچھلیاں لے کر آتا ہے وہ اس میں گرتے ہی مرجاتی ہیں۔ بحر مردار سے پہلے درخت ہیں، سبزہ ہے، زیتون، کھجور ہیں۔ قریب جاتے جائیے صرف ریت کے میدان باقی رہ جاتے ہیں، پرندے عنقا، حیات ختم! یہی حال ہمہ نوع عصری علوم کا ہے۔ قریب جاتے جاتے، گہرائی میں اترتے روح سلب ہوتی جاتی ہے۔ خیال نازک اور فکر بلند سے محروم خالی معلومات (علم نہیں، Information) کا کمپیوٹر نما ڈبارہ جاتا ہے۔ جیتے جاگتے روبوٹ میں انسان ڈھل جاتا ہے۔ یہ بھی مصنوعی ذہانت (AI) ہی کی ایک جہت ہے۔ گوہر زندگی سے محروم۔ انسانیت سے عاری! ماسوا سائنس، ٹیکنالوجی، مشینی شعبدوں، مادی سہولیات کی فراوانیوں، عیش وعشرت کے لوازمات کے، انسانی سطح پر حال یہ ہے کہ اس عیشِ فراواں میں ہے ہر لحظہ غمِ نو! اور یہ کہ: دل سینہئ بے نور میں محرومِ تسلی!

اپنی علمیت کے نشے میں چور گلوبل ولیج میں یہ کیا ہوا کہ کورونا نے آکر پوری دنیا پر ایک سناٹا طاری کر دیا۔ سائنس خود گنگ ہوگئی۔ سارے علوم بے زبان ہوگئے۔ آسمان پر تھگلیاں لگانے والے دم بخود مقید ہوگئے۔ سرجھکائے قبریں کھودتے رہ گئے۔ علم کی مہیب دنیا کے سامنے اتنی چھوٹی چیز نے اتنا بڑا چیلنج کھڑا کردیا کہ حیرت اور تذبذب میں سر کھجاتے سائنسی برادری کے سر گنج ہوگئے عقدہ حل نہ ہوا۔ ویکسین تک نہ بن سکی دس ماہ گزر جانے کے باوجود! ہر آن کورونا کے نت نئے پہلو سامنے آتے ہیں۔ محققین نے کہا کہ سوئی کے سرے سے 100 بار دبانے کے باوجود وائرس نے اپنی شکل برقرار رکھی! ٹس سے مس نہ ہوا۔ یہ تو وہی بات ہوئی گویا اسلام والی! اسلام کی فطرت میں قدرت نے لچک دی ہے، اتنا ہی یہ ابھرے گا جتنا کہ دبا دوگے! 

غیب کا انکار کرنے والی محسوسات اور مشاہدات پر جدید زندگی کی پوری بنیاد رکھنے والی اقوام کے سامنے جو دشمن حملہ آور ہوا، وہ بھی اربوں انسانوں کے لیے عالم غیب ہی سے تعلق رکھتا ہے۔ اندھیروں میں ٹامک ٹوئیاں مارتے 7 ارب انسانوں کا کورونا بارے معلومات کا تمام تر گنتی کے چند سو سائنس دانوں کی اس قبیل پر ہے جو الیکٹرون مائیکرو اسکوپ سے اس کا مشاہدہ کرکے اس کے وجود بارے معلومات فراہم کریں اور وجود بھی وہ جو مسلسل چکما دیتا رہے Mutate کرنے، جون بدلنے کی 

صلاحیت، نہ دبنے نہ جھکنے، نہ قابو آنے والا! لیکن سبھی بن دیکھے کورونا پر ایمان لے آئے؟ ایسا ایمان (بالغیب) کہ ان سائنسی ”پیغامبروں“ کی ہر ہدایت کو (خواہ نفس پر کتنی ہی گراں کیوں نہ ہو) حرز جاں بنایا۔ باوجودیکہ یہ سائنس دان مخبر صادق نہیں۔ یہ ذاتی زندگیوں میں شراب نوشی، خنزیر تا چمگاڈر خوری، اخلاقی عیوب میں مبتلا عام انسان ہیں۔ علم بھی (کورونا بارے) یقینی نہیں، آئے دن بدلتا رہا۔ یہ وہی ساری دنیا ہے جس کے سائنس دان اور دانشوروں نے مل کر پوری دنیا سے خدا چھینا اور انسان کو خدائی کا مقام دیا۔ (ہیومنزم) انبیاء کا انکار کیا۔ ایمان بالغیب کا تمسخر اڑایا۔

جھوٹے خطاکار گناہوں میں لت پت ہمہ نوع سائنس دانوں پرسبھی اندھا ایمان لائے! (کیونکہ اسلام اور سائنس میں کوئی جھگڑا نہیں، ہمارے رب کی تخلیقات، اصول وضوابط کا علم ہے) ہم نے بیکٹریا وائرس آنکھوں سے نہیں دیکھا لیکن ہم قبول کرتے اور ان کی مجوزہ دوائیں کھاتے ہیں۔ لیبارٹری ٹسٹوں کی جو رپورٹ بناکر وہ دے دیں ہم سراپا اطاعت ان کے کہے پر نمک، چینی، چکنائی بلکہ جو وہ کہیں چھوڑ دیتے ہیں۔ سارے ذوق ذائقوں سے محرومی گوارا کرتے ہیں۔ ان سے بحث نہیں کرتے انہیں تنگ نظر اور اپنے مزوں کا دشمن نہیں گردانتے۔ لیکن اسی علم کا دوسرا دائرہ ہے جو ہمارے روحانی وجود سے تعلق رکھتا ہے۔ جس کی گواہی مختلف انسانی ادوار میں تسلسل سے آنے والے چنیدہ انسانوں نے دی۔ فطرت انسانی کے عین مطابق۔ اس کی فلاح وبقا کا پروگرام دینے والے روحانی سائنس کے ماہرین آئے۔ سبھی اپنے معاشروں کے مؤقر، کاملیت کے حامل صادق وامین انبیاء تھے۔ آخری دور انسانی مادی علم سے لیس تھا، سو نبی آخر الزمان محمد صلی اللہ علیہ وسلم اسی ذی شان، ذی علم گروہ کے امام بن کر تشریف لائے۔ علم الانسان مالم یعلم…… انسان کو اس علم تک رسائی دینے کو حق تعالیٰ کی طرف سے جو اس کی دسترس سے باہر تھا۔ اس علم کو دنیا کے لیے لانے والا عام انسان کی نگاہوں سے اوجھل تھا۔ جن کو الصادق، الامین نے سر کی آنکھوں سے دیکھا۔ کلام اللہ، اعلیٰ ترین علم وصول کیا۔ یعنی جبریل امینؑ۔ بدترین دشمنوں نے بھی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ان القاب کو قبول کیا، بلکہ یہ القاب دینے والے ہی قبل از نبوت، یہی کفار تھے! 

کورونا پر ایمان لانے والو، ذرا دیکھو تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے جو علم پوری دنیا کو دیا وہ کس ہستی سے وصول کیا۔ ’وہ (محمد صلی اللہ علیہ وسلم) اپنی خواہش نفس سے نہیں بولتا، یہ تو ایک وحی ہے جو اس پر نازل کی جاتی ہے۔ اسے زبردست قوت والے (جبریل امین) نے تعلیم دی ہے جو بڑا صاحب حکمت ہے۔ (عقلی، جسمانی کمالات والا) وہ سامنے آکھڑا ہوا جبکہ وہ بالائی افق پر تھا۔ پھر قریب آیا اور اوپر معلق ہوگیا، یہاں تک کہ دو کمانوں کے برابر یا اس سے کچھ کم فاصلہ رہ گیا۔ (دور سے نہیں دیکھا، خوردبین سے نہیں دیکھا کہ اشتباہ ہو، دھندلاہٹ ہو!) تب اس نے اللہ کے بندے کو وحی پہنچائی جو وحی بھی اسے پہنچانی تھی۔ نظر نے جو کچھ دیکھا دل نے اس میں جھوٹ نہ ملایا۔ اب کیا تم اس چیز پر اس سے جھگڑتے ہو جسے وہ آنکھوں سے دیکھتا ہے؟‘ (النجم، 3-12) محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا مشاہدہ پوری بیداری میں تھا۔ نظر کا دھوکا نہ تھا۔ جو ہستی سامنے تھی وہ تصوراتی، تخیلاتی نہ تھی۔ ایسی عظیم، ایسی شاندار وحسین، اتنی منور کہ انسانی وہم وخیال سے ماورا۔ فرستادہئ الٰہی۔ اللہ نے اپنے چنیدہ نمایندہ بندوں کو کائنات کے سربستہ رازوں کی خبر دی۔ خالق کا پتا بتایا۔ مقصد حیات وممات اور زندگی بعد موت، آخرت کی خبر دی۔ جزا سزا کا قانون پڑھایا۔

زندگی کے ہر شعبے کے لیے اصول وضوابط، قاعدے قوانین نازل فرمائے۔ لاریب کتاب، سارے علوم کی جامع، انسانیت کی ازلی ابدی فلاح کا مکمل پروگرام قرآن کے ذریعے عطا ہوا۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج پر بلاکر پس پردہ حقائق کا مشاہدہ کرواکر مخبر صادق کو عین الیقین عطا فرمایا۔ ’اب کیا تم اس چیز پر اس سے جھگڑتے ہو جسے وہ آنکھوں سے دیکھتا ہے؟‘ کتنا برمحل سوالہے! ہم تو تم سے نہیں جھگڑتے جب تم کورونا بارے بتاتے ہو۔ ہم نے اس ننھی سی حقیر لال پھندنوں والی (رب تعالیٰ ہی کی تخلیق) کو بن دیکھے مان لیا۔ علمی رویہ یہی درست تھا کہ ہم نے ہاتھ دھوئے، ماسک لگائے، احتیاط برتی۔ (جبکہ ہم جانتے ہیں تمہاری شراب نوشی عقل زائل بھی کرسکتی ہے۔ حقائق اس سے مختلف بھی ہوسکتے ہیں جو تم کہو!)

ہمارے نبیئ صادق نے تو روشن دن میں کھلی آنکھوں سے فرشتے کو دیکھا۔ وحیئ الٰہی وصول کی مسلسل 23 برس تک! یہ ہے ہمارے شفاف، مصفا، مقدس اور یقینی علم کی بنیاد۔ کامل واکمل دنیا وآخرت کی جامع!


ای پیپر