دگر گوں ہے جہاں…
12 اکتوبر 2019 2019-10-12

بھارت دوستی کا مشرفی خمار اترا تو تلخ حقائق کا سامنا ہے ۔ ہم نے محبوب ترین تجارتی شراکت کار بنا کر بھارتی مصنوعات کے لیے دروازے چوپٹ کھول دیئے تھے۔ ہم سانپ اور کتے کے کاٹے تک کی ویکسین بھارت سے منگواتے ہیں بشمول دیگر ادویات کے۔ نتیجہ یہ کہ جب سے بھارت نے ( کشمیر کی بنا پر ) غراّنہ شروع کیا ہے ہسپتالوں میں مریض سسکتے رہ جانے کی خبریں تواتر سے آ رہی ہیں۔ اسی تجارت کے ہاتھوں یہ بھی تو ہوا کہ ہمارا پانی بھارتی ڈیم پی گئے اور ہم لہسن پیاز ٹماٹر تک کے لیے بھارت کے محتاج ہو گئے۔ خشک دریائوں میں بچے کرکٹ کھیل رہے ہیں۔ ( تاکہ وزیر اعظم بن سکیں) اور زراعت بھارت کا منہ تک رہی ہے ۔ تاجروں کا ٹینٹوا طرح طرح سے دبانے کا نتیجہ تو عوام بھگت رہے ہیں۔ لوٹ مار پر کوئی کنٹرول نہیں ہمہ نوع ٹیکسوں کا رخ عوام کی جان نا تواں پر ہے ۔ دال میں سے چار کنکر نکال کر اسے دگنی قیمت پر بیچ رہے ہیں۔ پلاسٹک بیگ کی آڑ میں قیمتیں مزید بڑھا دیں۔ یورپ میں پلاسٹک بیگ بتدریج ختم کرنے کی سہولت دی گئی۔ یہاں راتوں رات حکم نافذ کر کے نئی افراتفری بپا کر دی۔ سب سے بڑا مسئلہ درجن انڈے مہین کاغذ کے لفافے میں گھر لانے کا کھڑا کر دیا۔ نت نئے شو شے گھمبیر سیاسی ، عالمی، معاشی صورت حال کے علی الرغم چھوڑے جاتے ہیں آئے دن ۔ اب بیٹری سے چاند نکالنے والے وزیر فواد چوہدری نے بیٹری سائیکلوں اور بیٹری رکشوں کی خوشخبری دی ہے جس سے ترقی کی منزلیں مزید تیزی سے سر ہوں گی۔ کھلونے دے کے بہلایا گیا ہوں۔ ہر صبح ڈرتے ڈرتے اخبار اٹھاتے ہیں کہ کونسا نیا جرمانہ، نیا ٹیکس، نیا مہنگائی بم نازل ہونے کو ہے ؟ پچھلے دنوں اسلام آباد دی بیوٹی فل میں کچرے کے ڈھیر لگنے لگے۔ کوڑا اٹھایا نہیں جا رہا تھا کیونکہ صفائی کے عملے کو کئی ماہ سے تنخواہ نہیں دی گئی تھی۔ جب سب کی چیں بول گئی اور چیں بچیں ہو کر ناک منہ لپیٹے متعفن ہوائوں سے پناہ مانگنے لگے تو عملہ لوٹ آیا۔ مبلغ 4 تا 400 ہزار ماہانہ صفائی ٹیکس کا مژدہ لے کر۔ اسلام آباد ٹریفک پولیس بھی شرحِ جرمانہ میں اضافہ کرنے کو ہے !دبے پائوں پٹرول بجلی کی قیمت بھی بڑھنے جا رہی ہے ۔ بجلی کے جھٹکے تو تبدیلی سرکار کے آفٹر شاکس کا حصہ ہے ۔ موم بتی مارکہ والوں کی حکومت قوم کو بھی موم بتیوں پر لے آئی ہے ۔ لوگ بلبلا بلبلا کر ایک دوسرے کی خیریت پوچھنے کی بجائے بلوں کا احوال پوچھتے ہیں۔ ٹیکس نچوڑ کر عوام کو سوکھی گنڈیری بنانے کی بجائے سرکاری پرنالوں کی مرمت کیوں نہیں کرتے؟ مثلاً پی آئی اے کی 46 پروازیں بغیر کسی مسافر کے خالی پرواز کرتی رہیں تآنکہ با کمال لوگوں کی لا جواب سروس کی معاشی روح پرواز کر گئی۔ 18 کروڑ 40 لاکھ کا نقصان ، عوام کی جیبیں اور جان تک نچوڑ کر قومی خزانہ بھرنے والوں کو نظر نہ آیا! ادھر اسلام آباد کا 15 ارب روپے کا سیف سٹی پراجیکٹ ناکام ہو گیا۔ 95 فی صد ادائیگی کے با وجود 50 فیصد سے زائد کام باقی ہے ۔ جسے مکمل کرنے کی 3 سالوں میں کوئی پیش رفت مزید نہ ہو سکی۔ کیمرے آدھے سے زیادہ ناکارہ ہیں۔ باقی اندھیرتا کی بیماری میں مبتلا ہیں، رات میں دیکھنے کی صلاحیت سے عاری۔ دن میں بھی کانے دجال کی سی بینائی والے ! ادھر پاکستان کی تجوریاں خالی کر کے قارون کے خزانے بھرنے والی قائم خانی، کہانی بھی ہوشربا ہے ۔ قوم کی باقر خانی بنا دینے والے 18 سال یہ سب جا بجا کر ہے تھے۔ یہ آج ’ نبینے‘ والے کل بھی تو اسی ملک میں تھے۔ کیا کچھ نہ ملک کے مقدر سے کھیلا گیا ۔ قوم کی عقل و دانش سے کھلواڑ ہوا۔ لوٹ مار سے لے کر قتل و غارت گری تک ۔ اب یکا یک انکشافات ہونے لگے؟ ملین ڈالر سوال تو بنتا ہے ! خیر ! ہم تو بے چار ے مسکین تیسری دنیا کے باسی ہیں۔ ادھر برطانیہ استعماری عالمی سلطنت جہاں سورج کبھی غروب نہیں ہوتا تھا ، اب طلوع ہونا مزید مشکل ہو رہا ہے ۔ پریگزٹ کے ہاتھوںسالمیت تک دائو پر لگی ہے ۔یورپین یونین سے بلا معاہدہ اچانک نکل جانے پر ٹوائلٹ رول کے بھی لالے پڑ رہے ہیں! تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ برطانوی ایم پی نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ ضروریات زندگی کی در آمدات بالخصوص در آمد کیے جانے والے ٹائلٹ پیپر ( جیسی حوائج ضروریہ کا بنیادی لازمہ !) کی فراہمی کی گارنٹی بھی بلا معاہدہ بریگزٹ پر شاید حکومت نہ دے سکے۔ ( ہمیں تو سمندر پار سے بو کے بھبھکے آنے لگے ہیں)۔ گورا چونکہ پانی کا استعمال نہیں جانتا ڈرائی کلیننگ کا قائل ہے سو یہ بحران تو بہت کڑا ہے ! رول کی ایجاد سے پہلے مغربی ممالک میں پچھلے دن کا اخبار 4 ٹکڑے کر کے ایئر پورٹوں کے بیت الخلائوں میں پایا جاتا تھا ! ہمیں پتھر کے زمانے میں پہنچا دینے کی مشترکہ دھمکی بش اور ٹونی بلیئر نے دی تھی۔ ہم اس حال میں بھی برطانیہ سے گویا بہتر ہی ہیں کہ مذکورہ رول تو فراوانی سے میسر ہے ! شہزادہ شہزادی آنے کو ہیں، ہم تحفتہً بھر بھر بھیجنے کو تیار ہیں ! یہ بد شگونی شاید وہاں سے شروع ہوئی کہ پچھلے دنوں ونسٹن چرچل کی سونے کی فلش ( Toilet ) سیٹ چوری ہو گئی تھی۔ یہ سونا پچھلے وقتوں میں ہندوستان ہی سے چرایا گیا تھا۔ سو چوروں کو پڑ گئے مور۔! فلش سیٹ کے بعد اب رول ختم ہونے کو ہیں۔ ادھر سکاٹ لینڈ بریگزٹ پر برطانیہ سے علیحدگی کی تحریک پر پھر پر تول رہا ہے ۔ برطانیہ مزید سکڑ جائے گا اگر ایسا ہو گیا ! ویسے 9 اکتوبر کو ذہنی صحت کا عالمی دن تھا ۔ بریگزٹ کے علاوہ ( نیز بورس جانسن کی احمقانہ حرکات و سکنات ، جنرل اسمبلی کی تقریر سمیت) بھی یہ عالمی دن برطانیہ کے لیے تشویش کے کئی پہلو رکھتا ہے ۔ مثلاً 6 سال کی عمر کے معصوم بچوں پر حکومت کی جانب سے مسلط کیے جانے والی شرمناک جنسی تعلیم ( RSE ) پر خود برطانوی بھی چلاّ اٹھے اس پاگل پن پر۔مغربی ممالک کو ترس ترس کر دیکھنے اور وہاں جانے کے شائقین مطلع رہیں کہ پریشان والدین اس دیوانی حیا باختہ تعلیم کی نئی یلغار کے ہاتھوں سر پر پائوں رکھ کر بچے اٹھائے وہاں سے نکل رہے ہیں۔ ڈیلی میل کی 22 ستمبر کی رپورٹ صرف واروِک شائر کائونٹی کے 241 ننھوں کے سکولوں میں اس کے نفاذ کا ذکر کر ہی ہے ۔ یہ دیوانگی کی آخری انتہا ہے جو ان کے ہاں ملک بھر میں لاگو ہونے کو ہے ۔ دیگر مغربی ممالک کا حال اس سے کچھ کم نہیں ! دجال کے قدموں کی چاپ بلند آہنگ ہوتی جا رہی ہے ! ادھر مولانا فضل الرحمن کا دھرنا ناشہ سرخیوں میں ہے ۔ اس پر خدشات کا مختلف ہمدرد حلقوں کی جانب سے اظہار توجہ طلب ہے ۔ پچھے دھرنوں پر قیاس کر کے یہ دھرنا دینا ( کم سے کم الفاظ میں ) خوش فہمی ہے ۔ وہ سپانسرڈ دھرنے تھے۔ تمامتر قانون شکینوں، طوفانِ بد تمیزی ، ملکی معیشت کی تباہی کے با وجود قانون منہ موڑے، ہم ہنس دیئے ہم چپ رہے کیفیت میں رہا۔وہاں ڈی جے کی موسیقی بھری رنگین شامیں تھیں اور زور آوری حیران کن تھی ! سی پیک بھی دائو پر لگانے کی نوبت آ گئی۔ یہاں مدارس، طالبان دین، داڑھی کی تقدیس ہمراہ ہے ۔جس کا خاکم بد ہن مثلہ دشمن کو مطلوب رہتا ہے ۔ خدانخواستہ FATF کو کارکردگی دکھا کر کامیابی کے جھنڈے گاڑنے کا اسے نادر موقع سمجھ لیا گیا تو ناقابل تلافی نقصان ہو گا۔ وزارتی ٹیم مشرف کی ہے ۔ جولائی 2007 ء کے المیے بھیانک خواب بن کر سر سرا رہے ہیں۔ ہماری پوری تاریخ پر امن، نیک مقاصد لیے جلوسوں، تحریکوں میں شر پسند عناصر داخل کر کے مطلوبہ نتائج حاصل کرنے کے حکومتی ہتھکنڈوں سے بھری پڑی ہے ۔ مصر، فلسطین، الجزائر میں اہل ِ دین کی مقبول جمہوری حکومتوںپر چنگیزی حربوں کی المناک داستان سامنے ہے ۔ دینی قوت کو ضائع ہونے سے بچانا اکابر کی ذمہ داری ہے ۔ سیاسی جماعتیں ، چڑھ جا بیٹا سولی رام بھلی کرے گا، کہہ کر دینی سٹریٹ پاور کو استعمال نہ کریں۔ کچا پھل مت توڑیے۔ حکمت، تدبر، ملکی حالات، کشمیر کے لیے مؤثر بہتر اقدامات کا تقاضا ہے کہ فی الوقت صبر کیا جائے۔ حد سے حد کشمیر کے المیے پر بیداری، ملک کی معاشی صورت حال پر عوام دوست اقدامات کے لیے دبائو بڑھانے اور شفاف انصاف کی خاطر ریلی کا انعقاد مناسب ہے ۔ فتنۂ قادیانیت کے فروغ کے خلاف عوامی شعور بیدار کرنا اور بھارت کی مبنی بر دشمنی نئی صورت حال پر قومی یک جہتی وقت کی اہم ترین ضرورت ہے ۔ مثبت، سنجیدہ ، پر امن پیش قدمی اور نظریۂ پاکستان کی مکمل بحالی کا مطالبہ ریلی کا مقصد ہو۔ تصادم سے بچیئے۔ دینی قوت کو کچلنے کی دشمن کی دیرینہ مراد بر آئے گی۔ خدانخواستہ !


ای پیپر